دشمنان اسلام کی دسیسہ کاریاں اور ہماری حکمت عملی

تحریر: صفات عالم محمد زبیر تیمی

ایک طویل وقفہ کے بعد تجلیات کے اس کالم میں آپ سے ملاقات ہو رہی ہے، مجھے بذات خود اس بات کا اعتراف ہے کہ گذشتہ تین شمارے منظرعام پر نہ آسکے اور ایک لمبا وقفہ گذر گیا،  لیکن ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا جس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں البتہ اس عرصہ میں ہمیں جتنے فون آئے اور جتنی گذارشات موصول ہوئیں ،اس سے یہ اندازہ ضرور ہوا کہ رسالہ کے شائقین کی تعداد تصور سےبالاتر ہے،کبھی کبھی تو بعض قارئین کے جذبات سن کر  میں خود تلملا اٹھتا اور سوچنے لگتا کہ کب شمارہ منظرعام پر آجائے کہ شائقین کی پیاس بجھ سکے، اللہ کرے کہ دیار غیر سے شائع ہونے والا یہ رسالہ آپ کے ذہنی تسکین کا سامان بن سکے، بلا کسی توقف کے لگاتار جاری رہے  اور اپنے مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں پورے طور پر کامیاب ہو سکے۔ آمین

آج عالمی سطح پر مسلمانوں کے سامنے بیشمار مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں اور آئے دن نت نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، ایک مسئلہ کو سلجھاتے ہیں تو دوسرا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے اور ان سارے مسائل کا تعلق محض اس بات سے ہے کہ دین حق اورعقیدہ صحیحہ کو مخدوش کردیا جائے اور اس کے  راستے میں ایسی رکاوٹ کھڑی کردی جائے کہ انسانیت اس تک پہنچ نہ سکے اورامن وسکون کی زندگی سے محروم رہ جائے۔ اور اس کے لیے اندورنی اور بیرونی سازشوں کے جال بڑی پلاننگ کے ساتھ بنے جا رہے ہیں۔ ملکی سطح پر اپنے حالات دیکھیں تو تقریبا وہاں بھی وہی صورتحال دکھائی دیتی ہے، کبھی مسلمانوں کو بانٹنے کی سازشیں ہوتی ہیں، کبھی نصاب تعلیم کو زعفرانی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی اقلیتی اداروں کو مشکوک نظر سے دیکھا جاتا ہے، کبھی مسلم پرسنل لا پر حرف گیری کی جاتی ہے اور کبھی دہشت گردی کے نام پر معصوم نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ اپنوں اور غیروں کی سازشوں کے نتیجے میں مسلمانوں کی جو ناگفتہ بہ صورتحال ہوتی جا رہی ہے اس پر ماہرین اور مبصرین اپنے اپنے حساب سے تجزیہ کرتے رہتے ہیں اور اس کے پیچھے جو اسباب وعوامل کارفرما ہیں  وقتا فوقتا ان کی بھی تشخیص کی جاتی  رہتی ہے اور ضرورت بھی ہے کہ ایسے مسائل پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، لیکن اگر اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ مسائل کوئی نئے نہیں ہیں اس سے بھی بڑے بڑے مسائل اور مشکلات سے امت کو  ہر دور میں دوچار ہونا پڑا ہے  ، اور کیوں نا ہونا پڑے کہ جو چیز جس قدر نفع بخش اور قیمتی ہوتی ہے اسی تناسب سے اس سے دشمنی بھی کی جاتی ہے۔ ہم اس دین کے ماننے والے ہیں جو ہمارے پاس ایسا قیمتی  سرمایہ ہے کہ دنیا ومافیہا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ، البتہ ہم میں اور ہمارے اسلاف میں بنیادی فرق یہی پاتا جاتا ہے کہ ہم مسائل سےنمٹنے میں ویسی ہی پامردی نہیں دکھاتے جیسے ہمارے اسلاف دکھاتے تھے، ہمارے اسلاف کے رگ ویشے میں یہ شعور بیٹھ چکا تھا کہ یہ دین ہی ان کی عزت اور سربلندی کا سبب ہے کیونکہ یہ وہ شریعت ہے جسے اللہ نے تا صبح قیامت جن وانس کے لیے پسند کیا ہے، یہ وہ شریعت ہے جو نہایت متوازن، ماڈرن اور اپ ٹو ڈیٹ ہے، جس خطے اور جس زمانے میں اسے لاگو کیا گیا اس کے سایہ تلے انسانیت نے امن وسکون کا سانس لیا،  انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ صحیح معنوں میں یہی طرز زندگی ہے اور اس زندگی کی کوئی قیمت نہیں جو اللہ کے منہج اور اس کی مراد سے خالی ہو۔  لہذا وہ اس کے بینر تلے اکٹھا ہوئے، اس کا دفاع کیا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالا، چنانچہ وہ قائد اور رہبر بنے، ملکوں اور قوموں کو فتح کیا، عدل وانصاف کو عام کیا اور دھرتی کو امن وسکون کا گہوارہ بنا دیا جسے دیکھ کر انسانیت انگشت بدنداں رہ گئی اور یہ کہتے ہوئے اس دین کو گلے لگا لیا کہ جس دین کے ماننے والے ایسے ہوں گے وہ دین کتنا عظیم ہوگا۔

لیکن آج ہماری اکثریت نے شریعت کو نظر انداز کیا، اس کی ہمہ گیر اور آفاقی تعلیمات سے پہلو تہی برتی، مغرب سے درآمد تہذیب پر فریفتہ ہوگیے اور اس کی نقالی کو لذت کام ودہن کا سامان سمجھا، اسے مکمل طور پر اپنا طرز حیات بنا لیا اور اس پر فخر کرنے لگے چنانچہ زوال ہمارا مقدر بن گیا، ہم حاکم کے بجائے محکوم بن گیے اور ہمارے دین کو بھی مطعون کیا جانے لگا بلکہ ہمیں صفحہ ہستی سے بھی مٹانے کی پلاننگ ہونے لگی۔

لیکن جو لوگ ملت کا درد رکھنے والے ہیں انہیں حالات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، جہاں دشمنوں کی سازشوں کو بے نقاب کرنے اور صحیح دین اور صحیح منہج کے فروغ کے لیے عالمی سطح پر منظم پلاننگ کی ضرورت ہے وہیں ملکی سطح پر اسلام کے فروغ اور دشمنوں کے شبہات کا جواب دینے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا، بھارت میں دشمن نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرکے دیکھ لیا اب وہ ہماری صفوں میں انتشار پیدا کرکے اپنا مفاد حاصل کرنے کی پلاننگ کر رہے ہیں، آر ایس ایس اور اس کی ہمنوا تنظیموں نے کبھی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں مسلک کی تفریق نہیں کی، ان کو دشمنی ہے تو ہمارے اسلام، ہمارے قرآن، ہمارے نبی، ہماری اذان، ہماری نماز اور ہمارے پرسنل لا سے، اس لیے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد لانا بیحد ضروری ہے۔

اسی کے ساتھ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ مسلمانوں میں دینی شعور پیدا کرنے کے لیے دعوتی کاز کو آگے بڑھائیں کہ ارتداری سرگرمیاں تیز ہوتی جا رہی ہیں، مدارس وجامعات کے اساتذہ و ذمہ داران تدریس کے علاوہ دعوتی محاذ کو بھی سنبھالیں، دعوتی مراکز اپنے ہاں ریاستی زبانوں میں ایسے ماہرین پیدا کریں جو غیرمسلموں کی زبان میں لکھ اور بول سکتے ہوں تاکہ دشمنوں کے شبہات کا تشفی بخش جواب دے سکیں اور اسلام کی بالادستی کو عام کر سکیں کہ آج  ہمارے سارے مسائل کا حل دعوت میں پوشیدہ ہے۔

“ایک مشرکانہ نعرہ”

اگر ’’ بھارت ماتا کی جئے ‘‘ کا معنی صریح اور متعین طورپر وطن کو معبود قرار دینے کا نہ ہو تب بھی اس فقرہ میں وطن کی معبودیت کا اشارہ ضرور پایا جاتا ہے اور اس کے کئی قرائن ہیں :

اول:

یہ کہ یہ اس بدنام زمانہ ناول میں درج کیا جانے والا نعرہ ہے ، جسے ۱۸۸۲ء میں بنگال کے بنکم چندرا چٹرجی نے آنندا مٹھ کے نام سے لکھا،  اس ناول کا مرکزی خیال ہی یہی ہے کہ وطن کو خدا کا درجہ دیا جائے۔

دوسرے :  

ہندوستان میں بنارس اور ہری دوار کے بشمول کم سے کم چار مندر بھارت ماتا کے نام سے بنائے گئے ہیں ، بنارس کے مندر کی بنیاد گاندھی جی نے رکھی تھی ، جس میں کوئی مورتی نہیں ہے اور دوسرے مندر کی اندرا گاندھی نے ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس بھارت ماتا کی تعبیر میں ملک کو معبود کا درجہ دیا گیا ہے۔

تیسرے :  

ماتا کے معنی اگرچہ ماں کے ہیں ؛ لیکن ہندو دیویوں کو بکثرت ماتا کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ، جیسے درگا ماتا ، کالی ماتا ، لکشمی ماتا ، یاگائے کو گئو ماتا ۔

چوتھے :

’ماتا ‘ کا ترجمہ سنسکرت میں ماں باپ ، لڑکی اور سرپرست کے ساتھ ساتھ درگا کے پاس آنے والے سے بھی کیا گیا ہے ، نیز اس کو سنسکرت الفاظ گھٹاکا (Ghataka) اور وسوا (Visva) کا مترادف قرار دیا گیا ہے ، گھٹاکا کے معنی مارنے والے کے اور ’وسوا ‘ کے معنی یقین و بھروسہ کئے جانے کے لائق کے ہیں ، یہ وہ صفات ہیں جو مختلف مذاہب میں خدا کے لیے ذکر کی جاتی ہیں ۔

پانچویں :  

بھارت ماتا کو مختلف شکلوں میں ہی پیش کیا گیا ہے ، اس وقت آر ، ایس ، ایس جو تصویر پیش کررہی ہے ، اس کے مطابق اس کے ایک ہاتھ میں تلوار یا ترشول ہے اور وہ شیر پر بیٹھی ہوئی ہے ، دوسرے ہاتھ میں بھگوا جھنڈا ہے اور بعض تصویروں میں اس کے کئی کئی ہاتھ ہیں ، یہ تقریباً اسی طرح کی تصویر ہے ، جو ہمارے ہندو بھائیوں کی دیویوں اور دیوتاؤں کی ہوتی ہے ۔

چھٹے :

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ’ بھارت ‘ کا نام جس راجہ کے نام پر ہے ، وہ مرد تھا نہ کہ عورت ، اس لیے بھارت ماتا میں اس راجہ کی نسبت نہیں ہوسکتی ، یہ کسی مذہبی دیوی ہی کی جیت کا نعرہ ہوسکتا ہے۔

ساتویں :

جئے کے معنی زندہ باد کے بھی ہیں اور اسی معنی کے لحاظ سے ’’جئے ہند ‘‘ کہا جاتا ہے ؛ لیکن چوں کہ جئے میں زندہ رہنے کے معنی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفت ’’ حیٌ‘‘ (ہمیشہ زندہ رہنے والے) کے معنی میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا کرتا ہے ، شاید اسی لیے ہمارے ہندو بھائی ’’ جئے شری رام ، ہنومان جی کی جئے ، جئے بجرنگ بلی ، وغیرہ ‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ، خود سنسکرت لغت میں اس کا ایک ترجمہ ’’ اِندر کی جیت ‘‘ سے کیا گیا ہے ، (ماتا اور جئے کے یہ ترجمے “Sir Monier Villiams” کی سنسکرت ، انگلش ڈکشنری سے لیے گئے ہیں ) ۔

اس لیے غالب گمان یہی ہے کہ اس فقرہ میں وطن کی معبودیت کا ذکر ہے نہ کہ صرف محبوبیت کا ، اگر ایسا نہ ہوتا تو سنگھ پریوار کے لوگوں کو اس لفظ پر اتنا اصرار نہ ہوتا ؛ اس لیے کہ ان کے یہاں حب الوطنی مقصود نہیں ، اگر وہ محب وطن ہوتے تو شروع سے ترنگا لہراتے اور ملک کے دستور پر یقین کا اظہار کرتے ؛ لیکن انھوں نے بمشکل تمام کچھ عرصہ پہلے سے یہ کڑوا گھونٹ اپنے حلق سے اُتارا ہے ، ان کا مقصد اپنے مذہبی تصورات کو دوسری قوموں پر مسلط کرنا ہے ؛ اس لیے مسلمانوں کو کسی بھی قیمت پر ایسے مشرکانہ یا کم سے کم شرک آمیز نعروں کو قبول نہیں کرنا چاہئے ، یہ ان کو آزمانے کی اور بتدریج اس مقام تک لانے کی کوشش ہے جو فرقہ پرست تنظیموں کا منصوبہ ہے ۔

ہم وطن سے محبت اس لیے رکھتے ہیں کہ ہمارے پیغمبر ﷺنے ہمیں اس کی تعلیم دی ہے ، ہمیں اس کے لیے کسی کی سر ٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے ؛ لیکن کوئی بھی مسلمان جانتے بوجھتے ایسے نعروں کو قبول نہیں کرسکتا ۔

(مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی تحریر سے اقتباس)

فضائل صحابہ کرام

 ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (سورة الفتح: 29)

ترجمہ:

”محمد ﷺ اﷲ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں، آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ رکوع اور سجدے کررہے ہیں، اﷲ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، سجدوں کے اثر سے ان کی نشانی ان کی پیشانیوں پر عیاں ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور انجیل میں ان کی مثال اس کھیتی کی مانند بیان کی گئی ہے جس نے پہلے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے سہارا دیا تو وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی ، وہ کھیت اب کاشتکاروں کو خوش کررہا ، ( اﷲ نے ایسا اس لیے کیا ہے ) تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑ آئے ، ان میں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیا ان سے اﷲ نے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔ “

تشریح:  

اس آیت مبارکہ میں اﷲ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے کئی اوصاف بیان فرمائے ہیں:

وہ کافروں پر سخت ہیں۔

آپس میں رحم دل ہیں ۔

رکوع وسجود کی حالت میں رہتے ہیں ۔

اﷲ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طالب رہتے ہیں۔

سجدوں کی وجہ سے ان کی پیشانیوں پر ایک نشان نمایاں ہے۔

صحابہ کرام  کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ ان کے شرف وفضل کے تذکرے پہلی آسمانی کتابوں میں بھی موجود تھے

ان کی مثال اس کھیتی کے مانند ہے جو پہلے کمزور اور پھر آہستہ آہستہ قوی ہوتی جاتی ہے، اسی طرح صحابہ کرام پہلے کمزور تھے، پھر طاقتور ہوگئے اور ان کا اثر ورسوخ بڑھتا چلا گیا، جس سے کافروں کو چڑ تھی اور وہ غیظ وغضب میں مبتلا ہوتے تھے۔

مذکورہ بالا صفات کے حامل اور ایمان وعملِ صالح کے مجسم صحابہ کرام سے اﷲ تعالیٰ نے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اﷲ نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں ایسے کئی آثار نقل کئے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان نمازی ہو اور خصوصا تہجد پڑھنے والا ہو تو اس کی وجہ سے اس کے چہرے پر نور آجاتا ہے اور اگر اس کا باطن پاک ہو تو اﷲ تعالیٰ اس کی ظاہری حالت کو خوبصورت بنا دیتا ہے جس سے وہ لوگوں میں محبوب ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں :

”صحابہ کرام کی نیتیں خالص تھیں اور ان کے اعمال اچھے تھے، اس لیے جو بھی انہیں دیکھتا ان کی شخصیت اور سیرت سے ضرور متاثر ہوتا۔ اور امام مالک رحمہ اﷲ کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ جن صحابہ کرام نے شام کو فتح کیا تھا انہیں جب نصاریٰ دیکھتے تو ان کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکل جاتے کہ:”اﷲ کی قسم! یہ لوگ ہمارے حواریوں سے بہتر ہیں“ اور وہ اپنی اس بات میں یقینا سچے تھے کیونکہ اس امت کی عظمت تو پہلی کتابوں میں بیان کی گئی ہے اور اس امت کے سب سے افضل لوگ صحابہ  کرام ہی ہیں۔“ ( تفسیر ابن کثیر : 4/ 261)

میرا کرنٹ اکاونٹ ؟

شیخ مقصود الحسن فیضی

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قال: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ (صحيح مسلم : 1631)

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، صدقہ جاریہ، یا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جارہا ہو، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔

تشریح : یہ دنیا دار العمل ہے، جب انسان کو موت آجائے گی تو اس کی نیکیوں اور بدیوں کا سلسلہ ٹوٹ جائے گا، البتہ اللہ تعالی نے اپنے فضل و کرم سے تین ایسے عمل رکھے ہیں جن کا سلسلہ وفات کے بعد بھی چلتا رہتا ہے ، زیر بحث حدیث میں انہی تینوں کا ذکر ہے:

[1] صدقہ جاریہ: صدقہ جاریہ سے مراد اپنی زندگی میں نکالا گیاوہ صدقہ ہے جس سے وفات کے بعد بھی لوگ مستفیدہو رہے ہیں، جیسے قرآن مجید کے نسخےجنہیں پڑھ کر لوگ مستفید ہورہے ہیں، یا مسجدیں اور مدرسے وغیرہ جن سے اللہ کے بندے فائدہ اٹھارہے ہیں ۔

ان تمام چیزوں سے جب تک فائدہ اٹھایا جاتا رہے گا اس کا اجر بندے کو پہنچتا رہے گا۔

[2] مفید علم : یعنی انسان ایسا علم چھوڑ کر جائے جس سے اس کے بعد بھی فائدہ اٹھایا جائے، جیسے وہ علم جسے طالب علموں کو سکھایا ہے، یا وہ علم جسے لوگوں میں دعوت وغیرہ کے ذریعہ عام کیا ہے یا دینی علوم میں کتابیں تالیف کی ہیں، اس طرح جس علم کا فائدہ مسلسل جاری ہے اس کا اجر بھی جاری رہے گا، چنانچہ آج کتنے عالم ہیں جو سینکڑوں سال پہلے وفات پاچکے ہیں لیکن ان کی کتابیں پڑھی جارہی ہیں اور ان کے طلبہ کا سلسلہ جاری و ساری ہے، اس طرح ان کے نیک عمل کا سلسلہ بھی بفضلہ تعالی جاری ہے۔

[3] نیک اولاد : خواہ بیٹا ہو، یا پوتا ہو یا نواسا، خواہ مرد ہو یا عورت،اگر نیک ہیں تو ان کے والد کو ان کی نیکی اور دعا کا اجر ملتا رہتا ہے، اولاد اگر نیک ہے تو وہ ہر وقت اپنے والدین کے لیے مغفرت و رحمت اور درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کرتی رہتی ہے۔

اس اعتبار سے مردوں کے لیے ایصال ثواب کا مسئلہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ صدقہ، یا میت کی طرف سے صدقہ جاریہ، علم نافع اوردعا ایصال ثواب کے یہ مسنون طریقے ہیں ان کے علاوہ میت کے ذمہ اگر حج اور فرض روزے ہیں تو حدیثوں سے ان کی ادائیگی کا بھی ثبوت ہوتا ہے، اسی طرح میت کے اوپر اگر قرض ہے تو اس کی ادائیگی کا بھی میت کو فائدہ پہنچتا ہے،ان کے علاوہ کسی بھی بدنی عبادت کا اجر میت کو نہیں پہنچتا اور نہ ہی ایصال ثواب کا کوئی اور طریقہ شریعت سے ثابت ہے۔

فوائد:

1) ہر مسلمان کو اپنے اخروی اکاونٹ کی فکر کرنی چاہئے۔

2) کچھ ایسے بھی ذرائع آمدنی اختیار کریں کہ موت کے بعد بھی آمدنی جاری رہے۔

3) صدقہ جاریہ کیلئے علم کی ترویج و اشاعت میں حصہ لینا چاہئے۔

4) ایصال ثواب کیلئے وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو مسنون ہے۔

سیرت طیبہ کی جھلکیاں (تیرھویں قسط)

     صفات عالم تیمی

نبی ﷺ طائف سے لہولہان ہوکر لوٹ چکے ہیں، اس سے پہلے بیوی خدیجہ اورچچا ابوطالب بھی فوت پا چکے ہیں، ہر طرف دشمن ہی دشمن ہے، مکہ کی گلیاں اوروادیاں گویا آپ کو کاٹ کھا رہی ہے، کوئی ظاہری سہارا نظر نہیں آرہا ہے….اِنہیں دنوں ایک رات اللہ کے رسول ﷺ اپنے بستر پر سورہے تھے کہ ایک عجیب واقعہ پیش آیا….واقعہ کیا تھا؟ اچانک آپ کے گھر کی چھت کھول دی گئی، ایک آدمی اندر آیا، آپ کو بیدارکیا، کعبہ کے پاس لے گیا، آپ کا دل چیرا، اسے زمزم سے دھویا،علم وحکمت اورایمان سے بھردیا اور سلائی کردی، پھر ایک سواری  پیش کی …. ایسی سواری جس کا رنگ سفید تھا، بجلی کی رفتار سے چلتی تھی، اس پر آپ کو سوار کیا، اورلے کر چلے  یہاں تک کہ چند لمحوں میں مکہ سے فلسطین پہنچ گئے…. یہ تھے جبریل امین اور جوسواری پیش کی گئی تھی اس کا نام تھا براق۔ اس طرح اللہ کے رسول ﷺ بیت المقدس پہنچ جا رہے ہیں، وہاں اترتے ہیں، بُراق کو مسجد کے ایک حلقے سے باندھ دیتے ہیں اور وہیں پر انبیائے کرام کی امامت کراتے ہیں۔ یہ وہ قصہ ہے جسے سیرت طیبہ میں ہم ”اسراء“ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کے بعد ایک دوسرے معجزے کا ظہور ہوا، جسے ہم تاریخ میں معراج کے نام سے جانتے ہیں، یہ دوسرا سفر فضا اور خلا کا سفر تھا، جبریل امین نے آپ ﷺ کو بیت المقدس سے ساتوں آسمان کا ایک ایک کرکے سفر کرایا، پہلے آسمان میں حضرت آدم عليہ السلام  سے ملاقات ہوئی، دوسرے آسمان میں حضر ت عیسی  اور حضرت یحیی عليہما السلام  سے ملاقات ہوئی، تیسرے آسمان میں حضرت یوسف عليہ السلام  سے ملاقات ہوئی، چوتھے آسمان میں حضرت ادریس عليہ السلام  سے ملاقات ہوئی، پانچویں آسمان میں ہارون عليہ السلام  سے ملاقات ہوئی، چھٹے آسمان میں حضرت موسی عليہ السلام  سے ملاقات ہوئی، ساتویں آسمان میں حضرت ابراہیم عليہ السلام  سے ملاقات ہوئی، سبہوں کو سلام کیا سبہوں نے سلام کا جواب دیا اورخوش آمدید کہا اورآپ کی نبوت کا اقرار کیا، اس کے بعد آپ کو سدرة المنتہی تک لے جایا گیا، پھر آپ کے لیے بیت المعمور کو ظاہر کیا گیا….یہ وہی بیت المعمور ہے جو خانہ کعبہ کے بالکل سامنے میں ہے جس میں ستر ہزار فرشتے ایک بارزیارت کے لیے داخل ہوتے ہیں تو دوبارہ پھر انہیں داخل ہونے کا موقع نہیں ملتا… پھر اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کواللہ کے دربارمیں پہنچایا گیا اوراللہ تعالی سے اِتنے قریب ہوئے کہ دوکمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا، اس کے بعد اللہ تعالی نے اپنے بندے پر وحی فرمائی اور پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں۔

اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ واپس ہوئے تو موسی عليہ السلام  کے پاس سے گذرے، انہوں نے پوچھا: اللہ تعالی نے آپ کو کس چیز کا حکم دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: پچاس نمازوں کا۔ انہوں نے کہا: آپ کی امت اِس کی طاقت نہیں رکھتی۔ اللہ تعالی کے پاس جائیے اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کیجئے۔ جبریل آپ کو اللہ تعالی کے حضور لے گیے، چنانچہ دس نمازیں کم کردی گئیں، پھر نیچے لائے گئے، جب موسی علیہ السلام سے گذرہوا تو انہیں اس سے مطلع کیا، موسی علیہ السلام نے ان سے کہا کہ آپ اپنے رب کے پاس دوبارہ جائیے اور تخفیف کا سوال کیجئے، اس طرح موسی علیہ السلام اور اللہ تعالی کے پاس آپ ﷺ کی آمد ورفت ہوتی رہی یہاں تک کہ اللہ تعالی نے پانچ نمازیں باقی رکھیں… پانچ وقت کی یہ نمازیں معراج کا تحفہ ہیں جنہیں اللہ پاک نے اپنے حبیب ﷺ کو اپنے پاس بلا کرعطا فرمایا۔ افسوس کہ آج یہ تحفہ ہمارے بیچ ناقدری کا شکار ہوکر رہ گیا ہے۔

اِس سفرمیں پیارے نبی ﷺ کو دوسری کئی چیزیں دکھائی گئیں، آپ ﷺ کے سامنے دو پیالے پیش کئے گئے، ایک میں دودھ دوسرے میں شراب تھی، آپ نے دودھ کا پیالہ اٹھا لیا، حضرت جبریل عليہ السلام  نے مبارک باد دی کہ آپ نے فطرت کو اختیارفرمایا۔ آپ نے جنت میں چار نہریں دیکھیں، آپ نے داروغہ جہنم مالک کو دیکھا، وہ بالکل ہنستا نہ تھا اور نہ اس کے چہرے پر خوشی اوربشاشت تھی۔ آپ ﷺ نے جنت اور جہنم بھی دیکھی۔ آپ نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جو یتیموں کا مال ظلماً کھاتے ہیں، اُن کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹ کے جیسے تھے، وہ اپنے منہ میں پتھر کے ٹکڑوں جیسے انگارے ٹھونس رہے تھے جو دوسری جانب ان کے پاخانے کے راستے سے نکل رہے تھے۔ آپ نے غیبت کرنے والوں کے انجام کو بھی دیکھا کہ ان کے ناخن تانبے کے ہیں اوروہ ان سے اپنے چہرے اور سینوں کو نوچ رہے ہیں۔

جب اللہ کے رسول ﷺ نے صبح میں قریش کو ان نشانیوں کی خبر دی جو اللہ پاک نے آپ کو دکھائی تھیں تو قریش نے اِسے ہوا بنا لیا۔ زور زور سے ہنسنے اور ٹھٹھا کرنے لگے، انہوں نے کہا کہ اگر آپ واقعی بیت المقدس گئے تھے تو ذرا بیت المقدس کی کیفیت بیان کردیں۔ اس پر اللہ تعالی نے آپ کے لیے بیت المقدس کو ظاہر کردیا اور وہ آپ کی نگاہوں کے سامنے آگیا، چنانچہ آپ نے قوم کو اس کی نشانیاں بتلانا شروع کیں، لیکن کیا اُنہوں نے اسے تسلیم کرلیا؟ وہ قوم ماننے والی تھی نہیں کہ مانتی….جب ابوبکر صدیق ؓ  کو اس کی خبر دی گئی تو فوراً آپ نے اس واقعہ کی تصدیق کی۔ اِسی موقع پر آپ ﷺ کو صدیق کا خطاب دیا گیا۔

عزیز قاری! اسراء ومعراج کا یہ واقعہ نبی پاک ﷺ کا ایک معجزہ تھا جس میں ہمارے اور آپ کے سامنے بے شمار حکمتیں ظاہر ہوتی ہیں، تب ہی تو اللہ تعالی نے فرمایا:  لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا (الإسراء 1:)۔ اس سفر کا مقصد یہ ہے کہ ہم آپ کو اپنی کچھ نشانیاں دکھلائیں تاکہ آپ کے اندر یقین پیدا ہوجائے۔ جی ہاں! انبیائے کرام پیشانی کی آنکھوں سے کسی چیزکو دیکھ لیتے ہیں توان کو عین الیقین حاصل ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام وہ پریشانیاں جھیل لیتے تھے جسے دوسرے نہیں جھیل پاتے۔

پھر اللہ پاک نے اپنے حبیب کو اسراء ومعراج ایسے وقت کرایا جب دنیا والے آپ کو قبول کرنے سے انکاری تھے گویا اسراء ومعراج دنیا والوں کے نام یہ پیغام تھا کہ اگر تم ہمارے حبیب کو قبول کرنے سے انکار کررہے ہو توآسمان والے ان کا استقبال کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ اس سفر میں اللہ پاک نے انبیائے کرام سے ملاقات کرائی، جنت کے مناظر دکھائے، جہنم کے مشاہدات کرائے تاکہ ان چیزوں کا آپ پیشانی کی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں اورآپ کواپنی دعوت پر عین الیقین حاصل ہوجائے۔

اسراء و معراج کے اس سفر میں مسجد اقصی کی اہمیت بھی نکھر کر سامنے آتی ہے کہ اللہ پاک نے اپنے حبیب کو مسجد اقصی پہنچایا، جوبہت سارے انبیائے کرام کا مدفن ہے، جس میں برکتیں اترتی ہیں، اس کا دفاع گویا اسلام کا دفاع ہے، زمین کے ہرگوشے کے مسلمان پراس کی حفاظت فرض ہے اوراس کی حفاظت میں کوتا ہی کرنا گویا اسلام کے سلسلے میں کوتاہی کرنا ہے۔

اس واقعے سے اللہ کے رسول ﷺ کی عظمت کا اظہار بھی مقصود تھا کہ آپ جس دعوت کو پیش کرنے والے ہیں وہ ایک عالمی دعوت ہے  تب ہی تو آپ ﷺ نے انبیائے کرام کی امامت کرائی اورآپ کو اس مقام تک پہنچنے کا شرف بخشا گیا جس تک کوئی مخلوق نہ پہنچ سکی، یہاں تک کہ سدرة المنتہی کو پار کرگئے جس سے آگے ملاے اعلی کو بھی پر رکھنے کی ہمت نہیں۔ (جاری ہے)

قوم کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار

                                     ثمینہ ضیاء

  ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کسی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے ایک سوال کیا کہ اگر تم سے یہ کہا جائے کہ تم اپنی کسی خواہش کا اظہار کرو تو تم کس خواہش کا اظہار کروگے؟ ایک ساتھی کہتے ہیں کہ اگر مجھے اللہ تعالی یہ کمرہ بھر کر سونا چاندی عطا کریں تو میں اس کو اللہ کی راہ میں قربان کردوں گا۔ دوسرے ساتھی بولے کہ اگر مجھ کو اللہ تعالی یہ کمرہ بھر کر ہیرے و جواہرات عطا کرے تومیں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کردوں گا۔

ظاہر ہے کہ یہ دونوں خواہشیں بڑی اچھی تھیں، بڑی مبارک خواہشیں تھیں کہ سونا چاندی ہیرے جواہرات حاصل کرنا چاہتے تھے، اپنی ذات کے لیے نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت کے لیے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جو سوچ، جو گہرائی یا جو دوررس نگاہ حاصل تھی اس کی وجہ سے انہوں نے بھی اس محفل میں اپنی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر مجھے اپنی خواہش کے اظہار کی دعوت دی جائے تو میں اللہ سے کہوں گا کہ مجھے اگر عبد اللہ بن مسعود، معاذ بن جبل اور حذیفہ الیمان جیسے نوجوان مل جائے تو میں انہیں اسلام کی خدمت میں لگا دوں گا۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی خدمت کے لیے جو سرمایہ چاہیے وہ یہ نو جوان ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خدمت یا ترقی کے لیے  Symbolized  کیا معاذ بن جبل، عبد اللہ بن مسعود، اور حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہم کو ۔

جس کسی نے بھی اسلامک ہسٹری کا مطالعہ کیا ہوگا اسے یہ ضرور پتہ ہوگا کہ وہ نو جوان تھے جنہوں نے اسلام کو اپنا ٹالنٹ دیا، اپنا تن من دھن لگا دیا۔ ان نوجوانوں نے اپنا وقت مال پیسہ اور اپنی صلاحیت حتی کہ اپنی جا ن بھی لگادی۔

ابتدائے اسلام جسے مکی دور بھی کہا جاسکتا ہے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے ساتھ یہ نوجوانوں کی ٹیم کھڑی تھی۔ صفا پہاڑی کے ساتھ لوگوں کے ہجوم میں جس نو جوان نے علی الاعلان اپنی کم سنی کے باوجود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کا دم بھرا وہ علی رضی اللہ عنہ جیسے نوجوان تھے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایسے نوجوانوں کی wish کی، ایسے نوجوانوں کی ڈمانڈ کی، ایسے نوجوانوں کی قدر فرمائی۔ ایسے نوجوان صرف اس دور ہی میں نہیں بلکہ ہر دور میں قیمتی سرمایہ رہے ہیں جن کا مقابلہ نہ کوئی سونا چاندی کر سکتا ہے اور نہ ہیرے جواہرات اور نہ ہی کوئی اور قیمتی چیز کر سکتی ہے، نہ ہی کو ئی پروپیگنڈا اورنہ کوئی طوفان کر سکتا ہے۔

یہ نوجوان ہمیشہ تبدیلی کی علامت رہے ہیں، ہر آئڈیالوجی Ideology نے انہیں اہمیت دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خواہش کی، یہ وہ کم سن نوجوان تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے ” انک غلام معلم“ ( تم معلم لڑکے ہو ) کہا۔ یہ خوش نصیبی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی۔ فقیہ الامت انہیں کہا گیا، امین الامت انہیں کہا گیا۔ قرآن کی کونسی آیات کہاں نازل ہوئی اس کا علم اس نوجوان کو تھا۔ ہجرت کی سعادت تین بارحاصل کی، دو بار حبشہ اور ایک بار مدینہ۔

اور تو اور اس نوجوان کی طاقت اور ہمت کو سلام کیجئے جس نے وقت کے فرعون‘ ابو جہل کا سر قلم کیا‘ یہ وہ نو جوان تھا جس کی پتلی ٹانگوں کو دیکھ کر صحابہ کرام کو ہنسی آگئی، پیارے نبی ﷺ نے اس روشن ستارے کی چمک بڑھا دی کہ یہی پتلی ٹانگیں حشر کے دن میزان میں کوہ احد سے بھی زیادہ بھاری ہوں گیں۔

جب بھی تاریخ نوجوانوں کی بہادری کے گن گائے گی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام سنہرے لفظوں سے گوندھا جائے گا کہ ہجرت کے موقع پر بستر رسول کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا‘ حالانکہ سب جانتے تھے کہ وہ اک قاتل رات تھی۔

کم سن پندرہ سال کے زید بن حارث رضی اللہ عنہ جن کی نوجوانی کے خصائل واطوار رسول اللہ ﷺ کو اتنے پسند آئے کہ آپ ﷺ نے انہیں حضرت خدیجہ سے مانگ لیا‘ اتنی چھوٹی سی عمر میں ایک ایسی مقدس ہستی بارگاہ میں غلامی کی سعادت نصیب ہوئی کہ اپنے سگے ماں باپ کے پاس جانا گوارہ نہ کیا:

تھام کر دامن سرکارکو آخر یہ کہا

لاکھ آزادیاں اک تیری غلامی پہ نثار

محبت رسول میں حب رسول کا لقب پانے والے زید نے اپنی جوانی، اپنی زندگی، اپنی سوچ و فکر اور پھر اپنی جان اسلام پر قربان کردی، سبحان اللہ ۔

مکہ کی گود میں پلنے والے السابقون الأولون جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت مل گئی تھی ان ہی مقدس ہستیوں میں اک نام زبیر بن عوام تھا‘ تاریخ انہیں بہادر ماں کے بیٹا کا خطاب دیتی ہے تو رسول اللہ ﷺ انہیں حواری رسول کا خطاب دیتے ہیں۔ نوجوانی میں یہ ٹائٹل حاصل کرنے والے روشن ستارے عشرہ مبشرہ کے مقام پر پہنچتے ہیں۔

مکی اور مدنی دور میں اسلام کی گود میں پلنے والوں کی طویل فہرست ہے جن میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے۔ نوجوان ہر دور میں تبدیلی کی علامت رہے ہیں، ان کے عزم کے آگے چٹان بھی کمزور ہے۔ نہ صرف صحابہ کرام بلکہ صحابیات کی بھی ہمیں فہرست ملتی ہے جنہوں نے اپنی جوانی، اپنی صلاحیت، اپنا عزم سب کچھ دین کے سپرد کرکے جنت کی خریدار بنیں، ہر دور میں بوڑھوں کے مقابلہ میں نوجوان لوگ جلد حق کو قبول کرلیتے ہیں، اور جب اس عمر میں کوئی سودا سما جائے تو پھر دین کی راہ میں اپنا ٹیالنٹ اور اپنی صبح و شام دینے سے ان کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اس عمر کی سچائی انہیں مصلحت کا شکار نہیں ہونے دیتی ہے کیونکہ اس عمر میں ان کے پاس جوش، ولولہ اور قوت ہوتی ہے اور مہلت عمر بھی۔

آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سات قسم کے لوگوں کو اپنے عرش کے سایہ تلے جگہ دے گا جس دن اللہ کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہوگا ان میں سے ذکر فرمایا کہ وہ نوجوان جس کی جوانی اللہ کی عبادت میں گزری۔

آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا : پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو غربت سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے۔

 آپ ﷺنے جوانی میں کئے گئے کام کی اہمیت اس طرح بڑھائی کہ آپ ﷺنے فرمایا: قیامت کے دن ابن آدم کا قدم ہل نہ پائے گا جب تک کہ وہ ان سوالوں کے جواب نہ دے: عمر کہاں اور کیسے گزری، جوانی کیسے گزری، مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا،علم پر کتنا عمل کیا۔

 ایک فلسطینی لیڈر تھے محترم شیخ یاسین معذور رہنما انہوں نے اپنے انتقال سے پہلے بڑی قیمتی بات کہی تھی ” فلسطین اور اسرائیل کی پوری جنگ صرف اور صرف ایک بات پراٹکی ہوئی ہے، اسرائیل چاہتا ہے کہ ہم سے ہمارے نوجوان نسل چھین لیں اور ہم اپنی نوجوان نسل کو بچانا چاہتے ہیں“ سارا جھگڑا ساری لڑائی صرف اسی ایک بات پر ٹکی ہوئی ہے، اگر وہ چھیننے میں کامیاب ہوگئے تو فتح ان کی اور اگر ہم بچانے میں کامیاب ہوگئے تو فتح ہماری ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ہماری نوجوان نسل کیسے چھین رہے ہیں؟ کیا وہ رضوان، فہیم اور وسیم کو پکڑ کر ڈیویڈ اور جوزف میں بدل رہے ہیں؟ نہیں بلکہ اس رضوان کو رضوان ہی رہنے دیا جائے، اس سے اس کی جوانی اس کا ٹیالنٹ اس کی سوچ و فکر، اس کا ویژن، اس کا ایمان چھین لیا جائے۔ اس کا پاور، اس کی حیا چھین لی جائے۔ اگر ایک مسلم نوجوان سے اس کی آڈیالوجی چھین لی جائے تو یہ خود بخود ہماری گود میں آگرے گا۔ یہ انالیسس(analyses)  صرف فلسطین اور اسرائیل کی نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے نوجوان نسل کی ہے۔ ہمارے نوجوان کے ٹیالنٹ خریدنے کے کوشش ہورہی ہے، نہ صرف ان کی صلاحیت بلکہ ان کی Dirletion  کو ان کے Atitutede کو ان کے Baviour کو خریدنے کوشش ہورہی ہے ۔

ہمارے نوجوانوں کو اپنی طاقت کا اندازہ ہوگیا ہوگا، نوجوانوں کویہ بات سمجھنا ہے اور ہم کو سمجھانا ہے کہ وہ امت محمدی کا حصہ ہیں۔ قرآن نے ان کو خیرامت کا لقب دیا ہے، ہم اس امت کا حصہ ہیں جسے دنیا کو لیڈ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

آپ نے یہ حدیث تو کئی بار سنی ہوگی کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے، آپ نے جب بھی یہ حدیث سنی ہوگی تو پانچ یا دس روپیے کسی کو دے دیا ہوگا کہ لینے والے سے دینے والا بہتر ہے، لیکن اس حدیث کا اطلاق پانچ یا دس روپئے پر ہی نہیں ہے، بلکہ لینے اور دینے سے اور بھی بڑی چیزیں بھی ہوتی ہیں مثلا value,culture, civilization, ideology,mission of life یہ سب چیزیں دنیا کو دی بھی جاتی ہیں اور لی بھی جاتی ہیں۔ ہم امت واحد ہم امت محمدی دنیا کو دینے والے بناکر پیداکیے گیے ہیں دنیا سے لینے والے نہیں۔

 اس بات کو ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا ہے کہ دنیا چاہے ہمیں کتنا بولے کہ ہم ترقی میں، فیشن میں، آرٹ میں کتنا آگے بڑھ گئے ہیں لیکن مغرب کے تمام دعوے کھوکھلے ہیں‘ باطل کی ترقی کے پیچھے بڑی بڑی تباہیاں بھی آئی ہیں، دنیا کی بظاہر ترقی‘ چمک دمک ایک دھوکہ ہے، آپ غور کریں اس وقت ہمیں ایک سلوگن دیا جارہا ہے کہ یہ صدی freedom of speach صدی ہے ۔ یہ صدی women write کی صدی ہے، یہ سنچری کلچر کی سنچری ہے۔

یہ سلوگن ہم کو دیا جارہا ہے کہ یہ صدی ترقی کی صدی ہے گویا کہ اس سے پہلے کی صدی جہالت کی صدی تھی، گویا اس سے پہلے دنیا اندھیرے میں تھی، سڑکیں بنا لینا‘ بلڈنگ بنالینا‘ آئی ٹی کی ترقی یہ سب Termalogy کے ساتھ ایک گیم ہے۔

جبکہ سچی بات یہ ہے کہ اسلام ترقی کی راہ کھولتا ہے، قرآن سائنس کو ڈسکس کرتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے علم کی روشنی سے جہالت کے پردے چاک کئے، علم کو انبیاء کی میراث قرار دیا گیا، علم کی بناء پرفرشتوں پر فضیلت دی گئی، قرآن کا پہلا حکم ہی اقرأ تھا‘ اقرأ کا حکم کوئی اختیاری نہیں ہے بلکہ لازمی ہے، اسلام نے انسانیت کو جہالت اور بے شعوری کی زندگی سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈالا ہے، تحقیق اور جستجو کی ٹرین پر پہلے مسلمان سائنس دان سوار ہوئے تھے۔ اپنے مسلم ہونے پر فخر کریں۔

سوچنے اور دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کوترقی کے نام پر کن کن چیزوں میں الجھایا جا رہا ہے‘ ایک موبائل کمپنی کا ایک بڑے ہوٹل میں افتتاحی پروگرام تھا جس میں اس موبائل فون کا Introduction  تھا‘ اسی میں انہوں نے ایک بہت بڑا سا بینر لگایا ہواتھا جس کے ایک طرف موبائل کی معلومات تھیں اور باقی جگہوں پر لکھا ہوا تھا: بک بک بک۔ ہماری زبان میں آپ اسے گپ شب chateکہہ سکتے ہیں۔ ذرا سوچئے ہم کو conzumer بنایا جارہا ہے سوائے اس کے کہ ہم ہر وقت فضول قسم کی گپ شپ کرتے رہیں۔ دوسروں کو ڈسکس کریں، اپنے وقت کو غیر محسوس طریقہ پر ضائع کریں اس کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں ہے۔ فون کو اٹھائے کان میں لگائے ہوئے ہیں جس کا ایک الگ نقصان ہے ایسا لگتا ہے کہ وقت کی کوئی اہمیت نہیں ہے، کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ضرورت سے بات بہت آگے بڑھ چکی ہے، وقت سے زیادہ کوئی چیز قیمتی نہیں ہے، وقت پیسے سے زیادہ قیمتی ہے لیکن ہم ہمارے نو جوانوں کو اس طرح کے فون advertisement سے یہ بات سمجھائی جارہی ہے کہ گھنٹوں بات کیجئے، دل بھر کے بات کیجئے، رات دن بات کیجئے بلکہ رات کی کال تو مفت میں کیجئے۔

نیکی اور بدی کا پیمانہ تبدیل کیا جارہا ہے، ترقی کے نام پر پوری سوسائٹی کو تبدیل کیا جارہا ہے، جو چیز پہلے اچھی تھی اب ان کی values بدل رہی ہے۔ اب سمارٹ وہ نہیں ہے جو استاذ کا احترام کرے، والدین کا ادب کرے، نگاہیں نیچے رکھے، جلدی سوئے جلدی اٹھے، بلکہ اب سمارٹ وہ ہے جو فلموں کے نام یاد رکھے، فلمی اسٹاروں کی نقلیں اتارے،  loose talk کرے، دوپٹے سے بے نیاز رہے۔

عزیز نوجوانو! یہ ہے وہ دنیا جس میں ہم اور آپ سانس لے رہے ہیں، اس دنیا میں آپ کو جینا ہے وقار کے ساتھ، سمجھداری کے ساتھ، اور اس سوسائٹی کا رخ تبدیل کرنا ہے کیونکہ دور نبوی میں بھی آپ ہی تبدیلی کی علامت تھے، آ پ کو دوسروں کی جگہ سے اتر کر اپنی جگہ پر کھڑے ہونا ہوگا، آپ کو خود میں تبدیلی لانی ہوگی۔

آپ کو اپنا رول ماڈل پہچاننا ہوگا‘ آپ کا رول ماڈل کون ہے؟ فلموں اور کرکٹر کی دنیا سے باہر نکلو، ڈراموں کی سیاست سے باہر آﺅ، دنیا کی جھوٹی چمک سے باہر نکلو۔ ہمارے رول ماڈل پیارے نبی محمد ﷺ ہیں‘ ہمارے رول ماڈل وہ ہیں جن کی خواہش حضرت عمرؓ نے کی تھی‘ ہمارے رول ماڈل وہ ہیں جنہوں نے معاشرے کو positive change دیا تھا‘ آگے بڑھئے اور ترقی کی تمام سوچوں تک پہنچئے۔ میں آپ کو پیسہ کمانے سے نہیں روک رہی ہوں اور نہ ہی پیسہ بری چیز ہے۔ اسلام غربت کی بات نہیں کرتا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ حضرت عثمانؓ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ ان لوگوں نے خوب دولت کمائی‘ اگر اس دور کے billionare کو دیکھا جائے تو ان لوگوں کا نام آئے گا‘ لیکن ان لوگوں نے اپنی دولت seialeontaet میں حاصل کیا‘ جتنا وقت دولت کمانے میں لگایا اتنا ہی وقت انسانیت کی خدمت میں لگایا‘ دولت کما ضرور رہے تھے لیکن مقصد دولت نہیں تھا۔

آپ نوجوان اعلی تعلیم ضرور حاصل کریں لیکن مقصد اور ویژن کے ساتھ، آپ اپنی values  نہ بھولیں، آپ تعلیم حاصل کرنے میں اپنی ideology  کو نہ بھولیں، ترقی کے نام پر دھوکہ نہ کھائیں، آپ کا وقت بہت قیمتی ہے، آپ سے اپنی جوانی کے بارے میں سوال ہوگا، آپ کی جوانی بہت قیمتی ہے اسے عرش کا سایہ نصیب ہوگا۔ اسے فضول سوچوں، فضول کاموں میں ضائع ہونے سے بچائیں۔ آپ اپنی یونیورسٹی میں ہوں یا کیامپس میں ہوں، اپنا نوٹس بنا رہے ہوں یا دوستوں کے ساتھ ہوں، آپ کو یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ آپ کی شناخت مسلم ہے۔ “جیسے چاہو جیو” کا تصور ہمارا نہیں ہے، زندگی کو انجوائے کے نام سے ہم اپنے تہذیب کو نہیں ختم کرسکتے۔ ایسی ہی ایک صدی تھی جب رومن ایمپائر کا دور دورہ تھا، انہوں نے بھی اپنی صدی کو ترقی کا نام دیا ہوگا، حضرت عیسی علیہ السلام کے ماننے والوں پر زمین تنگ کردی جارہی تھی، وہ کچھ نوجوان تھے جنہیں قرآن نے اصحاب کہف کے نام سے یاد کیا ہے۔ وہ نوجوان تھے جب ان کے دل نے گواہی دی کہ اللہ یکتا ہے، شرک سے بیزار ہے،  جب ان کو یہ بات سمجھ میں آگئی کہ اللہ کون ہے تو پھر وہ اپنے ایمان میں ڈٹ گئے اور اپنے ایمان کی سلامتی کی دعا مانگی، وہ دعا کیا تھی؟ ایک یقین تھا: رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا

یہ دعا رہتی دنیا تک نو جوانوں کو گائڈ کرتی رہے گی کہ جب بھی باطل کے سامنے ڈٹ جانا ہوتو پہلے اللہ سے رحمت مانگو پھر ہدایت مانگو اور پھر استقامت مانگو، اللہ کی رحمت کے نتیجے میں ہدایت اور استقامت خود بخود آئے گی۔

آپ ذرا غور کیجئے کہ پوری سورہ یوسف ایک ایسے نوجوان کے ارد گرد گھومتی ہے جو خاندانی سیاست، بگڑا معاشرہ اور الزامات میں گھرا ہوا ہے، مشکل وقت میں اللہ کو پکارتا ہے، اللہ اسے اپنی برہان دکھاتا ہے اور وہ برائی سے بچ جاتا ہے۔ حالات کی چکی میں پستے پستے وہ جیل پہنچ جاتا ہے، اپنی ویژن، اپنی حکمت، اپنی بصیرت سے بادشاہ وقت تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے، قوم کو قحط سے بچانے کی تدبیر کرتا ہے، خزانے کا مالک بنتا ہے۔ نوجوان اگر صحیح وقت پر صحیح فیصلے کی قوت تک پہنچ جائے تو پھر اللہ کی تائید، نصرت ان کے قدم بقد م ہوتی ہے، بس ذرا حوصلہ کی ضرورت ہے، دنیاوی علوم کے ساتھ دینی علم کی بھی ضرورت ہے، پھریہی نوجوان اسلام کو واپس اس کا مقام دلائیں گے۔ ان شاء اللہ۔

 ماں کا پژمردہ چہرہ

               محمد شاکر عادل تیمی

 ماں تو خوشی سے آج پاگل ہوئی جاتی ہے. پڑوسن پوچھتی ہے کیا بات ہے رحیمن آپا  لگتا ہے کوئی” سونے کا ٹکڑا”ہاتھ لگ گیا ہے! ماں جواب میں کہتی ہے.ان کا چہرہ لائق دید ہے.”میرا لعل دسویں کتھا میں اول نمبر لایاہے” زندگی کس مپرسی میں ہے.اور قرض لے کر شیرینی تقسیم ہورہی ہے کہ “میرا بابو”ثانویہ میں فرسٹ پوزیشن لایا ہے. اب جامعہ کے لئے فیس کا بندوبست.نیا ڈریس بھی تو ہونا چاہئے.کتابیں بھی خریدنی ہوں گی.پرانی کتابیں بھی اسٹالوں سے خریدی جاسکتی ہیں.مگر نہیں. ان کا بیٹا کیسے پرانی کتابوں میں پڑھے گا. جب کہ دوسروں کے پاس نئی کتابیں ہوں گی.بیٹا کہتاہے”ماں!ایک جوتا چمڑے کا ہوتا تو…”ابھی الفاظ پورے بھی نہیں ہوئے کہ اپنی مسکنت کے کرب کو مسکراہٹ میں چھپا کر کہتی ہے”کوئی بات نہیں میرے لعل میں لادوں گی”. گھر سے کالج روانگی کا وقت آن پڑا. ماں نہیں چاہتی کہ اس کے جگر کا ٹکڑا اس سے جدا ہو.مگر کیا کرے! یہ تعلیم و تعلم ضروریات ہیں.واجبات ہیں. زندگی کے تجربات ہیں. جنہیں گھر بیٹھے حاصل نہیں کیا جاسکتا.

اس لیے وہ اپنے لاڈلے کی دوری کے الم کو برداشت کرنے پر مجبور ہے. وہ صبر کرتی ہے.سلامتی کی دعائیں کرتی ہے. اور اس وقت کا انتظار کرتی ہے جب وہ اس کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا.اس کے کمزور بازؤوں کو سہارا دے گا.اس کے لاغر جسم کو قوت بخشے گا.اس کی کمزور بینائی کا بینا بنے گا.اس کاسکھ بنے گا،سکون بنے گا.مشفق ہوگا. لطیف ہوگا.مہربان ہوگا. آج ماں کا حال یہ ہے کہ وہ خوشی سے دوہری ہوئی جاتی ہے کہ اس کی محنت بے رنگ نہ ہوئی. ان کا بیٹا اب پڑھائی مکمل کرچکا ہے. ماشاءاللہ قسمت سے اچھی ملازمت بھی پائی ہے.اور اب ساری فکر اسی بات پر آ ٹکی ہے کہ کوئی پری پیکر اس کے گھر آنگن کی تقدیر بن جائے.رشتوں کا تانتا ہے.اور یہ تو ہونا ہی ہے جب لڑکا ہونہار ہو.وجیہ شخصیت کا مالک ہو. اور سونے پر سہاگہ اس وقت جب کسی اچھی فرم میں ملازم ہو تو ہر لڑکی والا چاہتا ہے کہ اس کی بیٹی کا رشتہ قبول کیا جائے جس کے لیے وہ دعائیں بھی کرتا ہے.سفارشیں بھی لگتی ہیں.ایسا ہی کچھ آج ماں کے اس فرزند کا بھی ہے.

خیر سے رشتہ ہو چکا. اب چند روز میں شادی کی ساری رسمیں ادا ہو جائیں گی.تیاریاں جاری ہیں.آج دعوت نامے تو کل کپڑے کی خریداری. حلوائی کوگلاب جامن اور بالو شاہی کا آرڈر. ماں کے میکے  والے بھی آئے ہیں.لڑکا کے ماموں زادوں اور خالہ زادوں کی بھیڑ ہے. سبھوں پر ذمہ داریاں تقسیم ہیں جسے وہ اچھے انداز میں نباہنے میں مصروف ہیں.شادی کو مثالی بنادینا چاہتے ہیں.ادھر ماں خوش تو ہے پر تھوڑا کھوئی-کھوئی سی ہے.رہ رہ کر بسااوقات وہ کسی انجانے خوف سے ڈر بھی جاتی ہے.مگر کسی کو اس کا احساس نہیں ہونے دیتی.بلکہ مستعدی سے سارے کام انجام دے رہی ہے.جملہ ذمہ داریوں کی نگراں بھی ہے.اور آج چوں کہ بارات کی روانگی ہے.اس لیے لمحہ بھر کو ان کے جسم میں سکون نہیں. کھانا تو دور کی بات شاید چائے پانی بھی پیا ہو.بس وہ لاڈلا کو سہرا میں سجا دیکھنا چاہتی ہے.

ادھر لڑکی والوں نے بھی کسی اچھے ہوٹل کا انتظام کیا ہے جہاں نکاح کے بعد کھانے کی رسم ادا ہوگی اور لڑکی وہیں سے رخصت کردی جائے گی. بہر کیف!اب دلہن گھر آچکی ہے.گاؤں سماج سے دیکھنے والیوں کا تانتا ہے. ماں کی طبیعت آج ناساز ہے مگر وہ اس کا اظہار نہیں کرتی.کہیں دور  سوچوںمیں گم ہے. خود سے باتیں کر  رہی ہیں: ” میں دیکھ رہی ہوں جب سے  دلہن گھر میں آئی ہے بیٹا آفس بہت زیادہ ناغہ کرنے لگا ہے.ایسا ہوا تو ملازمت سے بھی ہاتھ دھونی پڑے گی…اور ہاں!پہلے سے رویے میں بھی بہت تبدیلی آئی ہے.پہلے آفس کے لیے گھر چھوڑتا تو سلام اور دعائیں لیتا..آتا تو ماں!ماں!کی پکار لگاتا گھر میں داخل ہوتا.اب تو جیسے ہفتوں کانیں “ماں”جیسے میٹھے اور انمول شَبد (بول)سننے کو ترس جاتی ہیں..مجھے تو کچھ اچھا نہیں لگتا.بس کبھی کبھار اگر اس کے من میں آیا تو رسمی مسکراہٹ لیے سامنے آجاتا ہے اور پھر چلاجاتا ہے.یہی تقریبا 6 ماہ سے شب و روز کا معمول ہے.میں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی.ایک دن تو اس وقت حد ہوگئی جب آفس سے گھر پہنچتے ہی بَرَس پڑا.اور نہ جانے کن باتوں کو لے کر پورے گھر کو سر پر اٹھا لیا.میں خاموش رہی.چوں کہ میں جانتی ہوں. بچپن سے یہ تھوڑا سخت مزاج ہے اور کچھ میرے لاڈ نے بھی اسے بگاڑ دیا.

اس لیے وہ جب اپنی ننھی زندگی میں بھی کسی ضد اور غصہ کا اظہار کرتا تو میں پیار سے سن لیتی. مگر وہ تو اس کا بچپنا تھا .اب تو وہ شعور والا ہے.کم سنی میں باتوں کی گرفت نہیں ہوتی. بڑا ہونے کے بعد تو ایک ایک نقل وحرکت کی  نگرانی ہوتی ہے.پھر کیوں اس نے ایسا کیا.خیر کیا کروں.اب تو صبر کے علاوہ کوئی دوسری راہ نہیں.اللہ سے اس کی سلامتی کی دعا کرتی ہوں”. اس کے علاوہ بیچاری ماں کربھی کیا سکتی ہے.رو رہی ہے ،بلک رہی ہے،آنکھیں پتھرائی ہوئی ہیں.چہرہ پژمردہ ہے. تنہا سسکیوں میں زندگی کے بچے ایام گزر رہے ہیں.اور لاڈلے صاحب ہیں کہ ان کو فرصت ہی نہیں.طبیعت کی ناسازی کا حال کون دریافت کرے.بہت ہوا تو سامنے سے مسکرا کر گزر گئے جیسے ماں کے احسان کا بوجھ اتار رہے ہوں.کھانے میں کبھی شاید ہی پہلے کھا لیا ہو.بھوک بھی لگی ہو تو مَن مارے بیٹھی ہیں کہ سب کھالے اور رُوکھا سُوکھا کچھ بچے تو ماں بھی کھالے. وہ اس دن کے بعد سے اور بھی ڈرنے لگی کہ ایک دن بہو کے میکے سے کچھ مہمان آنے والے تھے اور اس موقع پر بہت سے پکوان کے ساتھ “شامی کباب” بھی تیار ہوا تھا. اماں بیچاری کو کیا سوجھی کہ انہوں  نے شامی کباب میں سے تھوڑا چَکھ لیا کہ دیکھوں بہو نے کیسا بنایا ہے.اب کیا تھا! ایک پوتا کی نظر اس چکھنے پر پڑ گئی .وہ بچہ ذات اسے کیا معلوم کہ نتیجہ کیا ہوگا.وہ ممی سے کہتا ہے:”مَمّی!مَمّی!میں نے ڈیکھا ڈاڈی ڈان ماموں ڈان کا کپاپ کھا لہی تھیں”.ان باتوں کا سننا تھا کہ بہو پھٹ پڑیں: “کیا؟ان کو ذرا بھی صبر نہیں ہوتا.

انہیں معلوم ہے کہ آج میکے سے مہمان آنے والے ہیں.ایک تو پہلے ہی سے تھوڑا تھا.اور چھوٹا “احمد”بھی بہت پسند کرتا ہے.اور اس پر سے انہوں نے کھالیا.اب کتنا بچا ہی ہوگا.سارا کام بگاڑ دیا. “. سو اب ماں اسی وقت کھاتی ہے جب سارے لوگ کھالیے ہوں.پھر ماں برتن دھل کر رکھ دیتی ہے. اور بستر پر کروٹیں بدلتے ان کے شب وروز کٹ جاتے ہیں.یہی روزانہ کا معمول ہے.نماز کا وقت ہوا نماز ادا کی. بہو کو تو ڈر سے جگاتی ہی نہیں کہ ان پر برس پڑے گی.صبح اٹھیں. نماز کی ادائیگی کے بعد تلاوت کیا.اور یہ بھی کھٹکا لگا ہے کہ بہو کے بیدار ہونے سے پہلے بچوں کے اسکول کا ٹفن تیار کرنا ہے.ورنہ بہو کی روز روز کی بڑبڑاہٹ:”ایک تو سارے دن بستر پر پڑے رہنا ہے. اتنا بھی نہیں ہوتا کہ بچوں کو سکول کے لیے تیار کر دوں”. اس طرح گھر کی “مالکن” ماں اپنے ہی گھر میں اب بہو کی”نوکرانی” ہے. اور ماں کا لاڈلا جیسے اس کو سانپ سونگھ گیا ہو.اطاعت و فرماں برداری کے سارے جذبے اب کتابوں کی لکھاوٹ ہیں.ماں کو ماضی کی یادیں ڈستی ہیں کہ بیٹا کے بڑے بڑے دعوے تھے:”ماں میں پڑھ لکھ کر جب بڑا ہو جاؤں گا تو یہ کروں گا اور وہ کروں گا”.اب جب کہ وہ اچھی تنخواہ دار ہے تو ماں کا کچھ بھی خیال نہیں.وہ  ساری صعوبتوں کو بھول چکا جو اس کی ماں نے اس کی پرورش اور تعلیم وتربیت میں اٹھائیں.اب بس ایک ہی دھن ہے.دولت جمع کرنی ہے ،بچوں کی تعلیم ہے اور بیوی کی نازبرداریاں.

یہ تعلیم یافتہ،اشراف اور مہذب  لوگوں کے سماج کا نقشہ ہے.جن کی اونچی دیواریں بظاہر بلند ہونے کا پتا دیتی ہیں مگر وہ حقیقت میں پست ہیں. آج  ماں کے ساتھ بدسلوکی سماج کی شناخت بن چکی ہے .ماں سے اونچی آواز میں کلام،بات بات پر جِھڑکی، طعنے دینا اور برا بھلا کہنا یہ بہت ہی معمولی بات ہے.بلکہ نوبت تو یہ ہے کہ ہاتھ بھی اٹھانے میں تامل نہیں ہوتا اور مار پیٹ کرتے ہیں.یہ ہے ہمارا سماج جس میں ماں کی حالت یتیم ونادار اور بیواؤوں سے بھی بدتر ہے. استغفراللہ! جب کہ اللہ کا حکم ہے: “جب والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو”. لعن طعن تو بڑی جرأت کی بات ہے. اللہ ہماری ماؤں کے درجات بلند کرے.ان کے سیئات مٹائے اور اس کا نعم البدل جنت الفردوس دے۔

 

لبرل مولانا

   ثناءاللہ صادق تیمی  

مکہ مکرمہ ، سعودی عرب

ہمارے ایک دوست نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے ہمارا ایک جگہ تعارف کراتے ہوئے کہا کہ شیخ ثناء اللہ صادق تیمی لبرل مولانا ہیں۔ مجھے اپنے دوست کی بات پر تعجب ہوا اور میں نے پوچھا کہ آپ لبرل مولانا سے کیا مراد لیتے ہیں؟ ہمارے دوست کا جواب تھا کہ آپ نے جے این یو میں تعلیم حاصل کی ہے، آپ حالات، سیاست اور انٹرنیشنل معاملات سب کو سمجھتے ہیں اس لیے آپ کے یہاں جاہلانہ تعصب نہیں پایا جاتا۔ مجھے محسوس ہوا کہ لبرل لفظ کا مفہوم ان کے یہاں وہ نہیں ہے جو عام طور سے پڑھے لکھے طبقوں میں سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی ہم نے انہيں یہ بتانا ضروری سمجھا کہ اگر انہيں میرا تعارف کرانا ہی ہو تو وہ کہیں کہ وہ جامعہ امام ابن تیمیہ سے فارغ ہیں اور معروف معنوں میں مولانا ہیں۔ لبرل مولانا نہ کہیں کہ میں واقعتا لبرل مولانا نہیں ہوں۔ پھرمیں نے بتلایا کہ میں لبرل تو بالکل نہیں ہوں اور نہ ہی ماڈرن ہوں۔ قرآن و حدیث کو ہی اسلام سمجھتا ہوں اوران پرعمل کرنے کو مسلم ہونے کی حیثيت سے ذمہ داری مانتا ہوں۔ سلف یعنی صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور محدثین کے منہج کو صحیح منہج سمجھتا ہوں۔ اور اس کے علاوہ جو کوئی بھی راستہ ہو، اس کو اختیار کرنا گوارہ نہیں کرتا۔ لبرل ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی زیادہ ترعقل کے رائج اور غالب اثر کو قبول کرلیتا ہے اور اس کے حساب سے دین کی توضیح کرنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک لبرل آدمی آسانی سے اس بات کو مان لیتا ہے کہ مسلم عورت کو آج کے زمانے میں پردہ میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عرب چونکہ ریگستان تھا، وہاں دھول، گردوغبار کی کثرت تھی اس لیے عورتوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھیں۔ مجھے ایسے غیر مسلم اور بعض نام نہاد روشن خیال لبرل مسلمانوں سے بھی ملنے کا اتفاق ہے جو اسی نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ ان میں آپ کو ایسے لوگ آسانی سے مل جائیں گے جو ایمان بالغیب، جنت اور جہنم اور فرشتوں سے متعلق حیس بیس کا شکار نظر آئیں گے۔ وہ یہ مانتے ہوں گے کہ جہاد اس زمانے میں صحیح تھا جب رسول مبعوث ہوئے تھے کہ قبائل میں لڑائی بھڑائی کی سنت چلی آ رہی تھی، لیکن آج جب کہ دنیا مہذب ہوچکی ہے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ اس بات کے قائل ہوں گے کہ مسلمان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ہر معاملے میں دین کو گھسیٹ کر لے آئیں بلکہ وہ کہیں گے کہ ٹھیک ہے نماز روزہ وغیرہ میں دین کی بات کیجیے، یہ کیا کہ آپ سیاست، معیشت، تجارت اور تعلقات کی استواری تک میں دین کو کھینچ لاتے ہیں۔ دراصل ایسے زیادہ تر لوگ اس لیے مسلمان ہوتے ہیں کہ مسلم گھرانے میں پیدا ہوگئے ہیں تو مسلمانوں کا تہوار منانے اور اگر مرجائیں تو قبرستان میں دفن ہونے میں ان کو کوئی مضائقہ نہیں، بقیہ وہ زندگی کے ہر معاملے میں آزاد ہوتے ہیں۔ وہ اس بات کو حماقت سمجھتے ہیں کہ انسان اپنے ازدواجی، سماجی اور دوسرے مسائل کے حل کے لیے ساڑھے چودہ سوسال پہلے کی باتوں کی طرف رجوع کرے۔ میں نے اپنے دوست سے بتایا کہ ان کے علاوہ ایک لبرل ٹائپ وہ لوگ ہیں جو خود کو مولانا بھی کہتے ہیں، انہوں نے دین کا مطالعہ بھی کیا ہے اور دین کی تشریح کا بیڑا بھی اٹھاتے ہیں لیکن وہ ہر معاملے میں اپنی ناقص عقل کو فیصل سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک قرآن حکیم کی تشریح وتعبیر کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے سائنس و عقل کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے۔ اس سے ان کے حساب سے ترقی آئے گی، ذہنی رفعت حاصل ہوگی اور امت کے برے دن ختم ہو جائیں گے۔ یہ لوگ لبرل مولانا ہيں۔ ہم تو بھائی مولانا ہیں۔ اللہ کے دین کو رسول کائنات کی تعلیم و تشریح اور صحابہ کرام کے منہج کے مطابق سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں۔ البتہ ایک بات ہے کہ ہم دین کے نام پر بہت سے غیر دینی رسموں کو قبول نہیں کرتے۔ ہمیں اس بات سے تکلیف ہوتی ہے کہ عوام بدعات و خرافات میں اندر تک ڈوبے ہوئے ہیں اور علماء اپنی دنیا میں مست عوامی رابطے سے دور ہیں ۔ ہم لے دے کر رہنے والی کیفیت کے خلاف ہیں۔ ہم اسے غلط سمجھتے ہیں کہ دین کے معاملے میں کسی بڑے آدمی کی غلطی کو اس لیے قبول کرلیا جائے کہ وہ بہت بزرگ ہیں۔ ہمیں یہ چیز عجیب لگتی ہے کہ یار لوگ دین کے معاملات میں بھی سماج کے ناجائز اور ظالمانہ رسوم و رواج کو حجت سمجھ لیتے ہیں۔ ہم دراصل ہر طرح کے خرافات اور جہالت کے خلاف ہیں۔ تشدد اور جہالت کی کوکھ سے جنمے اس رویے کے خلاف ہیں جو انسان کے اندر صرف برائی دیکھتا ہے اور بھلائی کو نظر انداز کردیتا ہے۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہم علامہ ابن تیمیہ، امام شوکانی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے طریقے کے مطابق چلنے کو پسند کرتے ہیں۔ ہاں یہ ہے کہ ہمیں بچپن سے اخبارات پڑھنے کا چسکا رہا ہے اس لیے ہمیں تھوڑی بہت باتیں ہر فیلڈ سے متعلق معلوم ہیں اور ان تمام میدانوں کے بارے میں اپنی مخصوص رائے ہے جس کا ہم ضرورت پڑنے پر اظہار بھی کرتے ہیں اور صرف اس لیے کہ ہم مولانا ہیں، ہم سے یہ نہیں ہو پاتا کہ چپ رہیں ۔ اگر اس کی وجہ سے کوئی ہمیں لبرل سمجھتا ہے تو دراصل یہ اس کا قصور فہم ہے ۔ اللہ اور اس کے رسول کے دین پر ایمان لانے والا اور اسی کو حق سمجھنے والا ان معنوں میں لبرل ہو ہی نہيں سکتا جن معنوں میں آج یہ لفظ لبرل بولاجاتا ہے لیکن اگر لبرل کا مطلب یہ لیا جائے کہ ایسے لوگ جو حق و صداقت کی راہ پر شعور و آگہی اور علم و دانش کی روشنی میں قدم بڑھاتے ہیں اور توہمات، خرافات اور رسوم و رواج کو صرف اس لیے قبول نہیں کرلیتے کہ وہ کب سے چلے آرہے ہيں تو ان معنوں میں تو ہم سے بڑھ کر کوئی لبرل ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن پھربھی ہمیں اس وقت تکلیف ہوتی ہے جب کوئي ہمیں لبرل مولانا کہتا ہے۔ اس لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم لبرل نہیں ہیں۔ ہم راسخ العقیدہ مسلمان ہیں جس کی نظر میں اسلام ہی نجات کا واحد راستہ ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: ان الدین عند اللہ الاسلام (سورہ آل عمران: 19) اور اللہ نے دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے: ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ ( سورہ آل عمران: 85)

بنو اسرائیل کی بڑھیا کی ہمت

صفات عالم محمد زبیر تیمی

اسلام بلند ہمتی، اولو العزمی اور اونچی سوچ کی حوصلہ افزائی فرماتا  اور پست ہمتی، کوتاہ بینی اور گھٹیا سوچ کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ بلند ہمتی کا سب سے اعلی معیار یہ ہے کہ انسان دنیا میں بہشت کی پرکیف نعمتوں کے حصول کا رسیا بنا رہے۔ غالبا  اسی  بنیاد پر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جب تم اللہ سے مانگو تو جنت الفردوس کا سوال کرو”۔ (بخاری: 2790) اسی قبیل کا وہ واقعہ بھی ہے جس میں بنواسرائیل کی ایک بڑھیا کی بلند ہمتی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ذیل کے سطور میں  ہم اس سبق آموز واقعہ اور اس سے  مستفاد احکام پر غور کریں گے۔

امام ابن حبان نے اپنی صحيح میں اور امام حاكم نے مستدرك میں حضرت ابو مُوسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسولﷺایک سفر میں کسی اعرابی کے ہاں مہمان ہوئے، اس نے آپ کی بیحد خاطر ومدارات کی،  واپسی میں آپ نے اس سے کہا کہ کبھی ہم سے بھی مدینہ میں ملنا، کچھ دنوں بعد اعرابی آپ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺنے اس کی خوب خاطر ومدارات کی، پھر  فرمایا: کچھ چاہیے؟ اس نے کہا: ہاں! ایک تو سواری کے لیے ہودج سمیت اونٹنی دیجئے اور گھر والوں کے لیے ایک بکری چاہیے جو دودھ دیتی ہو، آپ ﷺنے فرمایا: أعجزت أن تكون مثل عجوز بني إسرائيل ؟ کیا تم اس بات سے عاجز ہو کہ بنواسرائیل کی بڑھیا جیسا سوال کرو؟ صحابہ نے پوچھا: بنواسرائیل کی یہ بڑھیا کون ہے اور اس کاقصہ کیا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: جب حضرت موسی علیہ السلام بنو اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو راستہ بھول گئے، ہزار کوشش کی لیکن راہ نہ پا سکے، تب موسی علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کرکے پوچھا: یہ کیا اندھیرا ہے ؟ تو علمائے بنی اسرائیل نے کہا: بات یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے آخری وقت میں ہم سے عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے چلیں تو آپ کے تابوت کو بھی یہاں سے اپنے ہمراہ  لیتے جائیں، حضرت موسٰی علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون جانتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے؟ سب نے کہا کہ ہم میں کی ایک بڑھیا کے سوا اور کوئی ان کی قبر سے واقف نہیں،  موسی علیہ السلام  نے اس بڑھیا کے پاس آدمی بھیج کر اسے بلوایا اور اس سے کہا : مجھے یوسف علیہ السلام کی قبر کا پتہ بتاؤ،  بڑھیا نے کہا: ہاں بتاؤں گی لیکن پہلے مجھے میرا حق دیجئے، حضرت موسٰی علیہ السلام نے کہا: تو کیا چاہتی ہے؟ اس نے جواب دیا: أَكُونُ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ  کہ  مجھےجنت میں آپ کی صحبت  میسر ہو۔  موسی علیہ السلام پر اس کا یہ سوال گراں گذرا، اس وقت وحی آئی کہ اے موسی! اس کی شرط منظور کر لو، جب موسی علیہ السلام نے اس کی شرط منظور کر لی، تو وہ آپ کو ایک جھیل کے پاس لے گئی جس کے پانی کا رنگ بھی بدل چکا تھا: اس نے کہا کہ اس کا پانی نکال ڈالیں، جب پانی نکالا گیا اور زمین نظر آنے لگی تو کہا: اب یہاں کھودیں، لوگوں نے کھودنا شروع کیا تو قبرظاہر ہوگئی، تابوت ساتھ رکھ لیا، اب جو چلنے لگے تو راستہ دن کی روشنی کی طرح بالکل صاف نظر آنے لگا۔ (السلسلۃ الصحيحة  3/477 حدیث نمبر 313 )

اس حدیث پر غور کرنے سے چند فوائد حاصل ہوتے ہیں جنہیں ہم ذیل میں درج کر رہے  ہیں :

مہمان نوازی ایک عمدہ اخلاق ہے:

اسلامی اخلاقیات میں ضیافت اور مہمان نوازی کو بہت اہمیت حاصل ہے، چنانچہ اس حدیث میں ہم دیکھتے ہیں کہ دیہاتی نے اللہ کے رسول ﷺکی خاطر ومدارات کی اور اچھی طرح سے ضیافت فرمائی، مہمان نوازی کی خصلت خود اللہ کے رسول ﷺکے اندر کوٹ کوٹ کر پائی جاتی تھی، تب ہی تو نزول وحی کے بعد جب اللہ کے رسول ﷺ گھبرائے ہوئے اپنی بیوی خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور سارا ماجرا کہہ سنایا تو خدیجہ رضی اللہ عنہا نے تسلی کے کلمات کہے جن میں خاص طور سے آپ کی مہمان نوازی کا تذکرہ کیا۔

احسان کا بدلہ احسان سے دینا چاہیے:

  جب اعرابی نے اللہ کے رسول ﷺکی خاطر ومدارات کی تو آپ نے اس کے بدلے میں فرمایا کہ کبھی ہمارے ہاں بھی تشریف لانا، اور جب آئے تو اس کی بہترین ضیافت فرمائی اورچلتے وقت کہا  کہ  کچھ چاہیے؟ اس سے معلوم یہ ہوا کہ احسان کا بدلہ احسان سے دینا چاہیے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: 

وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفاً فَكَافِئُوهُ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ ( صحيح أبي داود:  1672)

” جو شخص تمہارے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے اسے اس کا بدلہ عنایت کرو، اگر بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے لیے دعا کرو یہاں تک کہ تمہیں احساس ہوجائے کہ تم نے بدلہ چکا دیا“۔

مومن کو   بلند ہمت ہونا چاہیے:

 اعرابی نے کوئی ناجائز سوال نہیں کیا تھا بلکہ وہ دیہات کا  باشندہ تھا، اور دیہاتی زندگی میں سواری کے قابل اونٹ اور دودھ دینے والی بکری کی بہت اہمیت ہوتی ہے، اسی لیے اس نے سواری کے قابل ایک اونٹ  اور ایک دودھ دینے والی بکری کی مانگ کی تھی، لیکن اللہ کے رسول ﷺ کو اس کی مانگ پسند نہ آئی، کیونکہ یہاں اس دیہاتی کی پست ہمتی ظاہر ہورہی تھی، چونکہ اسے سوال کرنے کا  موقع ملا تھا، اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلی سے اعلی چیز کی مانگ کرنی چاہیے تھی نہ کہ دنیائے فانی کے چند روزہ سامان کی مانگ۔ اسی لیے اللہ کے رسول ﷺ نے اعرابی کی رہنمائی کی کہ آخر تم نے ویسا سوال کیوں نا کیا جیسا  موسی علیہ السلام سے بنواسرائیل کی بوڑھیا نے کی تھی کہ موسی علیہ السلام نے اس سے یوسف علیہ السلام کی قبر کی بابت دریافت کیا تو اس نے بتانے سے پہلے یہ شرط رکھا کہ مجھے جنت میں آپ کی معیت نصیب ہو، کہ ایک مومن کی دنیاوی کوششوں کا خلاصہ حصول جنت ہے۔

عزیز قاری! اب آپ اپنے آپ سے سوال کیجیے کہ اگر اس دیہاتی کی جگہ پر آپ ہوتے اور آپ سے اللہ کے رسول ﷺ نے یہ سوال پوچھا ہوتا تو آپ کا کیا جواب ہوتا، آپ کس چیز کی تمنا کرتے؟ دل کو ٹٹولیے اور من سے پوچھیے کہ جب آپ تکیہ پر اپنا سر رکھتے ہیں، جب آپ نیند سے بیدار ہوتے ہیں، جب آپ ڈیوٹی جارہے ہوتے ہیں تو کس چیز کے بارے میں سوچتے ہیں، مال کے بارے میں، کاروبار کے بارے میں، بنک کی سرمایہ کاری کے بارے میں، اولاد کے مستقبل کے بارے میں …. کس چیز کے بارے میں آپ زیادہ فکر مند ہوتے ہیں؟ کس چیز کی فکر آپ کو پریشان رکھتی ہے؟ امت محمدیہ کی فکر، اسلام کی فکر، اسلامی عقیدہ کے فروغ کی فکریا دنیاوی مال ومنال اور وظائف کی فکر؟

بلکہ ہمیں جواب دیجیے کہ جب آپ نماز میں ہوتے ہیں تو کس چیز کی فکر آپ پر حاوی ہوتی ہے؟ کیا آپ نماز میں پڑھی جانے والی آیتوں اور اذکار پر غور کرتے ہیں؟ کیا اللہ سے سرگوشی کا حق ادا کرپاتے ہیں، افسوس کہ ہماری اکثریت کا حال یہی ہے کہ انہوں نے دنیا کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے، دنیا کے لیے ہی جیتے اور مرتے ہیں، دنیا ہی ہماری کوششوں اور محنتوں کا خلاصہ ہوتی ہے۔

لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کو بھول جائیں، مال کی محبت، اولاد کی محبت، کاروبار کی محبت کو دل سے کھرچ دیں؟ نہیں اور ہرگز نہیں، مال کی محبت میں عیب نہیں، اولاد کی محبت میں عیب نہیں، کاروبار کی محبت میں عیب نہیں لیکن یہ ساری محبتیں اللہ اور اس کے رسول ﷺکی محبت کے تابع ہونی چاہئیں۔

ایک بچے کے سامنے معمولی کھلونا اور بیش قیمت ہیرے کا زیور رکھیں تو وہ اپنے تصور سے کھلونا اٹھا لے گا اور بیش قیمت ہیرے جواہرات کی پرواہ نہ کرے گا۔ یہی حال دنیا اور آخرت کا ہے کہ دنیا بازیچہ اطفال ہے اور جنت ایسا ہیرا ہے جس کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی، اس لیے ایک مومن کی سوچ بچے کی سوچ کی سی نہیں ہونی چاہیے۔ سنن ترمذي کی روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:

مَنْ خَافَ أَدْلَجَ وَمَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ أَلاَ إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ غَالِيَةٌ أَلاَ إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ الْجَنَّةُ  (سنن الترمذي:2450) 

جو ڈرا وہ رات کے پہلے پہر میں چل پڑا، اور جو رات کے پہلے پہر میں چل پڑا (یعنی خیر میں سبقت کی) وہ منزل تک پہنچ گیا، یاد رکھو! اللہ کا سامان نہایت گرانقدر ہے، واضح ہو کہ اللہ کا سامان بہشت ہے”۔

جی ہاں! بہشت کوئی گری پڑی چیز نہیں جو ہر ایک کو مل جائے، اس قیمتی شے کو حاصل کرنے کے لیے ریاضت کی ضرورت ہے، تب ہی توصحیح  مسلم کی روایت کے مطابق ربیعہ بن  کعب اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ بسااوقات رات گذارتا تھا، آپ کو وضو کے لیے پانی لاکر دیتا اور آپ کی ضرورت کا کام کرتا تھا۔ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ نے مجھ سے فرمایا: « سَلْ » کچھ مانگنا ہو تو مانگو۔ میں نے کہا: میں جنت میں آپ کی رفاقت کا خواہشمند ہوں۔ آپ نے فرمایا: اور کوئی چیز۔ میں نے کہا: بس یہی۔ تب آپ نے فرمایا:

فَأَعِنِّى عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ (صحیح مسلم: 489)

بکثرت نمازیں ادا کرکے میری مدد کرو”۔

نو مولود کے احکام ومسائل

 مرتب:الشیخ محمد محمود السیلاوی

مترجم:مبصرالرحمن قاسمی

 

 اولاد کی نعمت ایک عظیم نعمت ہے، اس نعمت  پر بندے کو اللہ رب العزت کا شکر بجا لانا چاہیے، شکر کا بڑا درجہ  یہی ہے کہ بندہ؛ اللہ تعالی نے جو اولاد عطا کی ہے اس کے تئیں اللہ تعالی کے بتائے ہوئے احکامات کا پاس ولحاظ رکھے، مسلمان کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں کتاب وسنت سے رہنمائی حاصل کرے، لہذا دیگر احکام وفرائض کی طرح والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے گھر میں نومولود کی آمد کے بعد اس کا نام رکھنے، عقیقہ کرنے، بال مونڈنے، ختنہ کروانے اور اس سے متعلق دیگر شرعی احکام سے آگاہی حاصل کریں، اس حوالے سے والدین پر شریعت کی روشنی میں جو احکام لاگو ہوتے ہیں انہیں ذیل کے سطور میں اختصار کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے:

مبارکباد دینا:

 نومولود کے والدین، رشتہ دار اور اقارب کو مبارکباد دینا مستحب ہے، اللہ تعالی نے اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش سے قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان الفاظ میں خوش خبری دی:

“فبشرناه بغلم حليم” (الصافات:101) ” ہم نے انھیں ایک بردبار بچے کی بشارت دی”۔

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے ایک مجلسی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو ایک شخص نے اسے ان الفاظ سے مبارکباد دی کہ تجھے شہ سوار بیٹا  مبارک ہو، اس پر حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: تجھے کیا معلوم  کہ وہ شہ سوار ہوگا ؟ ممکن ہے وہ بڑھئی یا درزی  ہو، اس شخص نے عرض کیا : پھر میں کن کلمات سے مبارکباد دوں؟ انھوں نے کہا : یہ کلمات کہو :

“شكرتَ الواهِبَ ، وبُورِكَ لكَ فِي المَوهُوبِ، وَبلَغَ أَشُدَّهُ ، وَرُزِقتَ بِرَّهُ”

تو عطا کرنے والے کا شکر کرے، عطا کردہ بچے میں تیرے لیے برکت ہو، یہ  اپنی جوانی کو پہنچے اور تجھے اس کا حسن سلوک نصیب ہو۔ (ورد بسند صحيح عن الحسين رضی الله عنہ)

نومولود کے کان میں اذان دینا :

نومولود کے کان میں اذان دینا سنت ہے، ابورافع سے مروی ہے وہ کہتے ہیں:

“رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن فى أذن الحسن حين ولدتہ فاطمة”

“میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب حضرت حسن کی فاطمہ کے ہاں پیدائش ہوئی تو آپ نے حضرت حسن کے کان میں اذان دی”  )رواه أحمد وأبو داؤد والترمذی وحسنہ الألبانی فی الإرواء(

جہاں تک دوسرے کان میں اقامت کہنے کے حوالے سے وارد شدہ احادیث کا مسئلہ ہے تو ان کے سلسلے میں محدثین نے کہا ہے کہ وہ غیر صحیح ہیں۔

نومولود کو گھٹی دینا اور اس کے لیے خیر وبرکت کی دعا کرنا:

نومولود کی ولادت کے بعد بچے کو گھٹی دینا اور اس کے لیے دعا کرنا مستحب ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

“أن رسول الله ﷺ كان يؤتى بالصبيان فيبرك عليهم ويحنكهم ” (رواه مسلم)

رسول اللہ ﷺ کے پاس (نومولود) بچے لائے جاتے تو آپ ﷺ ان کے لیے برکت کی دعا کرتے اور انھیں گھٹی دیتے تھے۔

نومولود کا عقیقہ کرنا:

تمام محدثین، فقہاء امت اور ائمہ کرام کے نزدیک عقیقہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“كل غلام رهينة بعقيقته، تذبح عنه يوم سابعه، ويحلق ويسمى” (أخرجه أبوداؤد والترمذي والنسائي وابن ماجه)

“ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے (جانور) ذبح کیا جائے، اس کا ( بچہ کا) سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

“يعق عن الغلام شاتان متكافئتان وعن الجارية شاة” (رواه أحمد وأبوداؤد والترمذي والنسائي وصححه الألباني)

“لڑکے کی طرف سے  دو ہم مثل  بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے”

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) کی طرف سے ایک ایک مینڈھا عقیقہ کیا   (رواه أبو داود والنسائي) یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔

لیکن نسائی کے الفاظ اس طرح ہیں: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) کی طرف سے دو دو مینڈھے عقیقہ کیے۔ یعنی دو مینڈھوں کا ذکر ہے۔ ( شیخ البانی نے نسائی کے ان الفاظ کو صحیح کہا ہے)

یہ شریعت کا اصول بھی ہے کہ اللہ تعالی نے مرد وعورت میں ایک دوسرے کو فضیلت دی ہے، مرد کے مقابلے میں عورت کا میراث، دیت، گواہی وشہادت وغیرہ میں نصف حصہ رکھا ہے، لہذا عقیقے میں بھی یہی فرق ملحوظ رکھا گیا ہے، لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری پیدائش کے ساتویں دن اگر آسان ہوتو ذبح کی جائے، اگر ساتویں دن ممکن نہ ہوتو چودہویں دن اور تب بھی ممکن نہ ہوتو 21 ویں دن ذبح کی جائے۔

وقت کی تعیین کے سلسلے میں حضرت بریدہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایات منقول ہیں لیکن یہ استحباب پر دلالت کرتی ہیں، پیدائش کے چوتھے، آٹھویں، دسویں یا کسی اور دن بھی عقیقہ کیا جاسکتا ہے۔

البتہ ساتویں دن عقیقہ کرنے کی حکمت کو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اس طرح بیان کیا ہے:

“ساتویں دن کواس لیے مخصوص کیا گیا ہے کہ ولادت کے بعد ساتویں دن تک گھر کے افراد بچے اور بچے کی ماں کی مصروفیت سے فارغ ہوجاتے ہیں، اسی طرح بسا اوقات کوئی انسان پہلے ہی دن بکری کا نظم کرنے پر طاقت نہیں رکھ سکتا، لہذا ساتویں دن اہل خانہ  کے لیے سارے انتظامات کرلینا آسان ہے”۔

ابن سیرین رحمہ اللہ  کے بقول: عقیقہ کے گوشت کو جیسا چاہو استعمال کرو، دریافت کیا گیا: وہ کیسے؟ کیا پورا خود ہی کھا لیا جائے؟ فرمایا : کھائیں بھی اور کھلائیں بھی۔

 کیا ذبح کریں نر یا مادہ ؟

اس سلسلے میں صریح حدیث وارد ہے، ام کرز الکعبیہ نے رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا توآپ نے فرمایا :

“نعم، عن الغلام شاتان وعن الأنثى واحدة، لا يضركم ذكرانا كن أم اناثا” (رواه أحمد وأبوداؤد وصححه الألباني)

“ہاں! لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری، بکریوں کا مذکر ومونث ہونا تمہارے لیے نقصان دہ نہیں”۔

جمہورعلماء کے مطابق عقیقہ میں ان تمام آٹھ نوع کے جانوروں کو ذبح کرنا جائز ہے جنھیں قربانی میں ذبح کیا جاتا ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ کا کہنا ہے: عقیقہ ایک واجب سنت ہے، لہذا عقیقہ کے جانور میں بھی عیوب کے سلسلے میں وہی شرائط ہیں جو قربانی کے جانوروں کے لیے ہیں۔

نومولود کے سر کے بال مونڈوانا:

بچے کی ولادت کے ساتویں دن بچے کے بال مونڈنا ایک مستحب عمل ہے۔ اس سلسلے میں متعدد احادیث وارد ہیں:

سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : “مع الغلام عقيقة فأهريقوا عنه دما، وأميطوا عنه الأذى”

“بچے کے ساتھ عقیقہ ہے، لہذا اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے میل کچیل دور کرو(یعنی سرمنڈاؤ)”۔ (رواه البخاري معلقا مجزوما به، وأحمد وأبوداؤد وغيرهما)

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کی اور فرمایا :

“يا فاطمة احلقي رأسه وتصدقي بزنة شعره فضة فوزناه فكان وزنه درهما أو بعض درهم”

” اے فاطمہ! اس کا سرمنڈواؤ اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرو، پھر انھوں نے اس کا وزن کیا تو اس کا وزن درہم یا درہم کا کچھ حصہ ہوا” (رواه الترمذي والحاكم، وصححه الألباني في صحيح الجامع)

نومولود کے بال کتروانے کے سلسلے میں جمہور فقہاء کے نزدیک شرعی حکم یہی ہے کہ ساتویں دن نومولود کے بال کترواکر ان بالوں کے وزن کی چاندی صدقہ کرنا مستحب ہے۔

حضرت ابورافع کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب حضرت حسن کی ولادت ہوئی تو  فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: “احلقي رأسه وتصدقي بوزن شعره فضة على المساكين والأوفاض” “اس کا سرمنڈواو اور اس کے بالوں کے وزن کی چاندی مساکین اور فقراء کو صدقہ کرو”۔

ختنہ کرنا:

نومولود کا ختنہ کرانا سنت ہے، اس سلسلے میں آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

“الفطرة خمس: الختان، والاستحداد، وقص الشارب، وتقليم الأظافر ونتف الإبط”

“پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرانا، زیر ناف بال مونڈنا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، مونچھیں کم کرنا اور ناخن تراشنا” (متفق عليه)

حضرت قتادہ الرہاوی سے ایک روایت مروی ہے کہ جب کوئی مسلمان ہوتا تو نبی کریم ﷺ اسے ختنہ کرانے کا حکم دیتے تھے۔ (رواه الطبراني وصححه الألباني في صحيح الجامع)

نومولود کا نام رکھنا:

یہ مستحب ہے کہ بچے کی پیدائش کے ساتویں دن اس کا اچھا نام رکھا جائے، کیونکہ ساتویں دن تک ماں باپ کو یا بچے کے دیگر سرپرست حضرات کو نام پر غوروفکر کرنے کا موقع مل جاتا ہے، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“كل غلام رهينة بعقيقته، تذبح عنه يوم سابعه ويحلق ويسمى”

“ہر بچہ اپنے عقیقہ کے عوض گروی ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے، اس کا سرمونڈھا جائے اور اس کا نام رکھا جائے” (رواه أهل السنن وصححه الألباني في الإرواء)

البتہ پہلے دن یا ساتویں دن تک کسی بھی دن رکھا جاسکتا ہے، نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

“ولد لي الليلة غلام فسميته باسم أبي إبراهيم” (رواه مسلم)

“رات میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا میں نے اس کا نام میرے والد ابراہیم کے نام پر رکھا”۔

والد کے لیے ضروری ہے کہ بچےکا اچھے سے اچھا نام تجویز کرے۔

مردوں کی معلمہ: اماں عائشہ رضی اللہ عنھا

      تحریر: علی الطنطاوی

اردو قالب:سیف الرحمن حفظ الرحمن تیمی

یہ گفتگو ایک ایسی خاتون کے بارے میں ہے جس نے14صدی پہلے دنیا کے سامنے یہ ثابت کردیا کہ عورت بھی مردوں سے بڑی عالمہ ہو سکتی ہے کہ وہ اس کے پاس زانوئے تلمذ تہ کریں، وہ مردوں پر فائق ہو سکتی ہے کہ لوگ اس کے نقش پا کی پیروی کریں، وہ سیاست میں ہنر آزمائی کر سکتی ہے، جنگ میں اپنے جوہر دکھلا سکتی ہے، اور تاریخ کے صفحات پر اپنے کارناموں کی ایسی گونج چھوڑ سکتی ہے کہ جس کی بازگشت صدیوں زمانہ سنتا  رہے۔

یہ خاتون نہ تو کسی یونیورسٹی سے سند یافتہ ہے اور نہ اس کے زمانے میں یونیورسٹیوں کا وجود ہی  تھا، لیکن تب سے اب تک یونیورسٹیوں کے شعبہ آداب وثقافت میں اس کے آثار و مقولات پڑھائے جاتے ہیں اور اس کے ادبی شہ پارے شامل نصاب رکھے جاتے ہیں، دینیات کے شعبہ میں اس کے فتاوی اور اس سے مروی احادیث کی ورق گردانی کرائی جاتی ہے، نیز اسلامی اور عربی تاریخ کا ہر مدرس اس کے کارناموں کی جستجو کرتا اور انہیں قلب وذہن کے قرطاس  پہ نقش کر کے یک گونہ خوشی محسوس کرتا ہے۔

یہ ایک ایسی خاتون کی داستان ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد بھی دنیا ان کے علم وفن سے مستفید ہورہی ہے، اور لوگ ان کے علم کی وسعت اور فکری آفاقیت سے حیران ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو  ایسا ملکہ نصیب ہوا تھا کہ اس میں کوئی ان کا ہمسر نہیں، بچپنے میں جنہوں نے ان کی پرورش وپرداخت کی وہ مسلمانوں میں سب سے افضل ہیں، وہ ان کے والد حضرت ابو بکر صدیق۔ رضی اللہ عنہ۔ ہیں، جوانی میں جنہوں نے ان کی نگہداشت کی وہ ان کے شوہر نامدار، اللہ کے رسول، خاتم الانبیاء اور اکرم البشر ہیں، چنانچہ علم  وفضل اور بلاغت وزبان دانی کا جو حصہ انہیں علم و معرفت کے ان چشموں سے میسر ہوا وہ  کسی  اور خاتون عالم کو نصیب نہ ہو سکا۔

یہ ایک ایسی خاتون ہے کہ جن کے اندر نسوانیت تمام تر اوصاف کے ساتھ موجود تھی، جو اپنے شوہر کے لئے انس ومحبت کا پیکر تھی، جو رشتے داروں کے لئے باعث فرحت تھی، جو علم ومعرفت میں اس قدر بلند مقام پر فائز تھیں کہ علماء ان سے سیکھتے تھے اور مفتیوں کو وہ فتوے دیا کرتی تھیں، زبان دانی اور بلاغت کا یہ عالم کہ بڑے بڑے خطیب زیر ہوتے  تھے اور الفاظ وجمل ان کی زبان کا لمس پاکر فخر کرتے تھے، شخصیت کی قد آوری دیکھئے کہ ہر میدان میں سردار ہوا کرتیں، علم وعمل، سماج ومعاشرہ، سیاست وزعامت اور حرب وضرب ہر جگہ ان کی طوطی  بولتی تھی، رہی بات اسلامی مقام ومرتبہ کی تو وہ عزت واکرام کے بلند ترین مقام پر فائز تھیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ اسلام کسی بھی شخص کو تقدس کا وہ مرتبہ نہیں دیتا کہ اسے انسان اور بشر سے مافوق بنا دے، اسے الوہی صفات کا حامل قرار دیدے، اس کو معصومیت سے متصف کردے اور اسے بلندی کے اس منارے پر چڑھا دے کہ اس کی تنقید میں حق گوئی بھی ظلم ٹھہر جائے۔

وہ خدیجہ اور فاطمہ ۔رضی اللہ عنہما۔ کے بعد اسلام کی افضل ترین خاتون ہیں، خدیجہ اس لئے ان سے فائق ہیں کہ ان کی خوبیاں ساری عورتوں سے منفرد ہیں، دانائی میں بڑے سے بڑا مفکر بھی ان کی برابری نہیں کرسکتا، اصابت رائے  میں ان کی کوئی مثیل نہں،  وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے اس دین کو سہارا دیا، جبکہ ابھی وہ ناتواں پود کی مانند تھا، وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئیں اور یہ بھی نہ دیکھ سکیں کہ کس طرح یہ پود ایک گھنا، سایہ دار و ثمر دار درخت بن کر اس طرح پوری دنیا میں پھیل گیا اور دنیا اس کے چھاؤں تلے آگئی کہ اس کی شاخیں ہمیشگی اور جاودانی کے حدود بھی عبور کر گئیں۔

انہوں نے محمد کو خلوص، پیار، محبت اور وفا دیا، وہ آپ کی سب سے کارگر بیوی تھیں، آپ کے لئے ماں کی طرح تھیں، زندگی کے تیروں سے بچاؤ کے لئے ڈھال کا کام کرتی تھیں۔ رہی فاطمہ ۔رضی اللہ عنہا۔ تو جہاں وہ نادر وکمیاب خصلتوں کے سبب دیگر عورتوں سے ممتاز تھیں وہیں انہیں جگر گوشہ رسول ہونے کا بھی شرف حاصل تھا، وہ آپ کے وجود کا ایک حصہ تھیں، اور تمام خواتین عالم پر برتری کے لئے یہی ایک امتیاز  کافی ہے۔

امام زرکشی نے  الاجابۃ میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی چالیس ایسی خصلت ومنقبت ذکر کی ہے جو کسی اور عورت کے اندر نہیں پائی جاتی، رسول گرامی نے سیاسی مصلحت، ادارتی اور تعلیمی غرض وغایت کے سبب عمر دراز اور شوہر دیدہ عورتوں سے شادی کی، اماں عاشہ ہی واحد خاتون ہیں جن سے آپ نے شادی کی تو وہ کنواری تھیں، وہ آپ کی سب سے زیادہ چہیتی تھیں، تمام بیویوں پر آپ انہیں ترجیح دیا کرتے تھے،حالت مرگ میں انہی کے پاس قیام کرنا پسند فرمایا، ان کی آغوش مبارک میں آپ کی روح پرواز ہوئی، ان  کے ہی حجرہ مبارک میں آپ مدفون ہوئے، ان کی موجودگی میں آپ پر وحی کا نزول ہوتا تھا، آپ ان کا پاس ولحاظ کیا کرتے تھے، جب حبشیوں کی ایک جماعت مسجد کے اندر نیزہ بازی کر رہی تھی تو آپ ان کے لئے کھڑے ہوگئے، انہوں نے آپ کے شانہ مبارک پر اپنا رخسار رکھا تاکہ حبشیوں کی هنر آزمائى کا نظارہ کریں، آپ ان کو سہارا دئے کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ خود ہی ہٹ گئیں، دو مرتبہ آپ نے ان کے ساتھ دوڑ لگایا، پہلی بار وہ آپ پر سبقت لے گئیں، پھر جب اماں عائشہ کا جسم بھاری ہو گیا اور بدن پر گوشت بھر آیا تو آپ ان سے آگے نکل گئے، اور فرمایا: “یہ پہلی بار کا بدلا ہے” ۔ جب حضرت ابو بکر ۔رضی اللہ عنہ۔ ان کے پاس آئے، انہیں نبی اکرم سے کوئی ایسی بات کہتے ہوئے سنا جو بیویاں ناراضگی میں کہا کرتی ہیں، تو وہ انہیں مارنے کے لیے بڑھے لیکن حضور پاک نے ان کی حمایت فرمائی اور بچا لیا، اور جب ابوبکر واپس ہو گئے تو اماں عائشہ سے دل لگی کے لیے کہا: “دیکھا  میں نے اس آدمی سے تمہیں کیسے بچا لیا؟”

آپ اہل خانہ کے ساتھ ایسے ہی پیش آتے تھے، ان کے ساتھ انس ومحبت، خیر وبھلائی اور فرحت وانبساط کا معاملہ فرماتے تھے، آپ کا برتاؤ ایسا نہیں ہوتا جیسا کہ لوگ کہتے ہیں کہ مرد ہونے کا مطلب ہے کہ آدمی اپنے گھر میں ترش رو، چیں بجبیں، گال  پھلائے اور منہ بنائے بیٹھا رہے، فوجوں کی طرح بیوی پر حکمرانی کرے، سرکشوں کی طرح اس پر زور چلائے، ہر گز نہیں، نہ تو ہمارے نبی ایسے تھے اور نہ ہی اسلام کا اس سے کوئی دور کا  واسطہ ہے۔ بلکہ آپ کی تعلیم تو یہ ہے کہ: “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے  اہل خانہ کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں”۔

حضرت عائشہ ۔رضی اللہ عنھا۔ سے آپ کی بے پناہ محبت کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ پردہ واجب ہونے سے پہلے ایک فارسی نے آپ کو ولیمہ کی دعوت دی، آپ نے فرمایا: کیا یہ بھی میر ے ساتھ جا سکتی ہے؟ آپ کی مراد اماں عائشہ تھیں، انہوں نے نفی میں جواب دیا، دوسری مرتبہ بھی اس نے آپ کی دعوت کی تو آپ نے اس بار بھی یہی شرط رکھی اور وہ اس بار بھی راضی نہ ہوسکا، تیسری بار جب وہ آپ کو دعوت دینے آیا  اور آپ نے کہا: کیا یہ بھی میرے ساتھ جائیگی؟ تو اس بار اس نے ہامی بھر دی اور تیار ہو گیا۔ اس واقعے میں جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ لوحی، نرم خوئی اور بے پناہ انسیت کا نمونہ ہے وہیں اس داعی کی صاف گوئی بھی صاف جھلک رہی ہے۔ اس واقعے کے ان دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھیے اور آج لوگوں کی جو صورت حال ہم آپ دیکھ رہے ہیں، ان کا موازنہ کیجئے تو سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

جب آپ پر وہ آیت نازل ہوئی جس میں آپ کو یہ اختیار دیا گیا کہ آپ جن بیویوں کو رکھنا چاہیں، انہیں رکھیں اور جنہیں طلاق دیکر ان کے میکے واپس کرنا چاہیں، انہیں کردیں، اس موقع پر بھی اماں عائشہ کے تئیں آپ کی ہمدردی واضح طور پر دیکھی گئی، آپ نے کہا: جلدی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا پہلے اپنے والدین سے مشورہ کرلینا، آپ کو یہ خدشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عجلت اور جذبات میں اماں  عائشہ دنیا کو ترجیح دینے کی غلطی کر بیٹھیں، انہوں نے جواب دیا: میں اور آپ کے بارے میں کسی سے مشورہ کروں؟ مجھے آپ کے سلسلے میں کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں، انہوں نے حریم نبوت بن کر خانہ نبوی کو روشن رکھنے کا فیصلہ لیا اور ان کے بعد تمام ازواج مطہرات نے بھی اسی فیصلہ کو اپنے اپنے حق میں اختیار کیا۔

علم ومعرفت میں اس قدر عالی مرتبہ رکھتی تھیں کہ ابو موسی  اشعری رضی اللہ عنہ کو کہنا پڑا: “ہم اصحاب رسول جب بھی کسی پیچیدگی میں پڑتے اور ہمیں کوئی اشکال ہوتا تو ہم حضرت عائشہ سے دریافت کرتے”۔

بلاغت اور زبان دانی کا معاملہ بھی علم سے مختلف نہیں تھا، احنف بن قیس کہتے ہیں: میں نے ابو بکر وعمر، عثمان وعلی اور آج تک کے تمام خلفاء کی تقریریں سنی، لیکن کسی انسان کی زبان سے اتنی عظیم اور خوبصورت بات نہیں سنی جو عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی۔

آپ سخی دل اور کھلے ہاتھ کی تھیں، نبی اکرم  کے ساتھ فقرومحتاجگی اور بھوک وفاقہ پر صبر کیا، یہاں تک کہ اسی حالت میں کئی کئی دن گزر جاتے اور گھر میں چولہا نہ روشن ہوتا، پانی اور کھجور پر آپ کا گزر بسر ہوتا،جب مسلمانوں کے اندر فراخی آئی اور دنیا کی نعمتوں نے ان کے ہاں دستک دینا شروع کیا تو ایک مرتبہ اماں عائشہ کے گھر ایک لاکھ درہم کا تحفہ آیا، آپ روزہ سے تھیں، انہوں نے ساری رقم تقسیم کردئے، گھر میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں بچی، ان کی لونڈی نے عرض کیا: کیا آپ اپنے لیے ایک درہم کا گوشت بھی نہیں منگوا سکتی تھیں کہ افطار کرسکیں؟ اماں عائشہ نے جواب دیا: اگر تم نے یاد دلایا ہوتا تو کرلیتی!

نہ تو غربت سے وہ زچ ہوئیں اور نہ مالداری ان میں کوئی اثر پیدا کر سکی، کیونکہ جب ان کے ذہن ودل میں عظمت نے اپنا بسیرا کر لیا تو دنیا ان کے سامنے ہیچ ہو کر رہ گئی، پھر نہ تو دنیا کی آمد سے آپ پر کوئی اثر ہوتا اور نہ ہی دنیا کے روٹھ جانے سے آپ فکر مند ہوتیں۔

 اماں عائشہ کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ عورتوں کے لیے ایک مکمل آئیڈیل  ہیں، عورت کی فطرت وجبلت، اس کی آرزو وتمنا، اس کی صفات اور خوبیاں خامیاں ہر معاملے میں وہ ایک انمول مثال کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ ایک بہترین بیوی تھیں، اور شادی عورت کی سب سے پہلی حصولیابی ہوتی ہے، عورت کی سب سے بڑی خوشی یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی کی بیوی اور کسی کی ماں بنے، چاہے وہ دنیا بھر کے مال ومنال کی مالک ہوجائے، عزت وشرافت میں آسمان کی رفعت کو چھو لے، علم ومعرفت اور زعامت وسرداری میں کوئی اس کی نظیر نہ ہو، یہ سب مل کر بھی اسے شادی اور خانگی زندگی سے بے نیاز نہیں کر سکتے، اور نہ ہی اس کے دل سے اس کی رغبت کم اور میلان ختم کر سکتے ہیں!

آپ ایک خوب رو دوشیزہ تھیں، آپ کو اپنی جوانی اور حسن وجمال کا بھر پور احساس  تھا اور آپ نبی اکرم کی محبت سے خوب محظوظ ہوتی تھیں، بلکہ اپنی سوکنوں پر اس کے ذریعہ  فخر بھی کیا کرتی تھیں، اور حفصہ رضی اللہ عنھا کو اپنا حامی بنا کر زبانی اور عملی ہر دو طریقے سے دیگر امہات المؤمنین پر برتری بھی حاصل کرلیا کرتی تھیں، اگر کسی گھر کے لیے عورت کی ناراضگی  اور نوک جھونک سے خالی رہ  پانا ممکن ہوسکتا تھا تو خانہ نبوت میں کبھی یہ  واقعات پیش نہ آتے، عورتوں کے لیے جہاں ان واقعات میں نمونے اور مثالیں موجود ہیں وہیں ان کے لیے یہاں سے تسلی کے سامان بھی فراہم ہوتے ہیں، کیونکہ یہ عورت کی طبیعت اور سرشت ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتی، لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ان سب کے باوجود رضا وخفا ہر حالت میں آپ کی عزت واحترام میں کوئی کسر نہیں کرتیں، حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے اماں عائشہ سے کہا: “تم کب خوش اور کب خفا ہوتی ہو، مجھے پتا چل جاتا ہے” انہوں نے عرض کیا: یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا:”جب تم خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: محمد کے رب کی قسم، اور جب نالاں  ہوتی ہو تو کہتی ہو: ابراہیم کے رب کی قسم”۔

آپ بہت نازنین بھی تھیں، ناز عورتوں کی فطرت بھی ہے، یہ جمال اور احساس محبت کا پہلا پرتو ہے، ایک دفعہ آپ نے رسول گرامی سے عرض کیا: آپ کو مجھ سے کیسی محبت ہے؟ آپ نے فرمایا: رسی کی گانٹھ کی طرح۔ یعنی اسی طرح مضبوط جس طرح رسی کی گرہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد بارہا وہ آپ سے پوچھا کرتی کہ گرہ کا کیا حال ہے؟ اور آپ جواب دیتے: حسب سابق ہے۔

اماں عائشہ بہت باغیرت بھی تھیں، یہ احساس جمال اور شعور محبت کا دوسرا پرتو ہے، یہ ایسی غیرت ہے جو محبت کو تازگی بخشتی ہے، اسے کم نہیں ہونے دیتی، اس کو ضوفشاں کرتی ہے، اس کی  لو  کو مدھم نہیں ہونے دیتی، جبکہ بسا اوقات گھوڑے کو چوکس کرنے والا اس زور سے ایڑ لگاتا ہے کہ وہ مر ہی جاتا ہے، اور آگ کو روشن کرنے والا ایسی پھونک مارتا ہے کہ شعلہ خاک ہوجاتا ہے!

آپ ذی علم تھیں کیونکہ علم عورت کی طبیعت کے منافی نہیں ہے، عورت ہونے کا مطلب ہرگز نہیں کہ وہ مردوں کی امامت اور راہبری نہیں کر سکتیں، لیکن جب ان سے  طبعی حد سے تجاوز اور فطرت کی مخالفت سرزد ہوئی اور آپ سیاست کی اس بھٹی میں داخل ہو گئیں جس کا مطالبہ آج کی بعض عورتیں کرتے نہیں تھکتیں، تو پھر میں نہیں بتا سکتا کہ کتنی تباہیاں رونما  ہوئیں، تم خود بصرہ کی سرزمین سے پوچھ لو کہ اس کی آغوش میں کتنی لاشیں سو رہی ہیں، تم اس اونٹنی سے پوچھ لو کہ اس کے پہلو پر کتنے خون بہے، تم ان نفوس سے سوال کر لو کہ کس جرم میں انہیں جان گنوانی پڑی، ان روحوں سے دریافت کرو کہ وہ کیوں ضائع کی گئیں؟

میں اماں عائشہ کو ان تمام تباہیوں کا ذمہ دار نہیں ٹھرا رہا اور میری کیا بساط کہ میں ام المؤمنین پر انگلی اٹھانے کی جرأت کروں؟ لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ جب انہوں نے غیر فطری کام میں خود کو مشغول کرلیا، اور اسلام نے جس کا مطالبہ نہیں کیا ہے، اس میں پڑ گئیں، تو یہ افسوسناک امور رونما ہوئے!

یہ بات بھی سمجھنے سے متعلق ہیں کہ ہم جب عورت کو سیاست سے دور رکھنے کی بات کرتے ہیں تو اس کے پیچھے ہمارا  مقصد یہ نہیں ہوتا کہ ہم ان کی آزادی اور سامان دلچسپی سلب کرلیں اور بھلائی کے سارے دروازوں پر اس کے لیے قفل ڈال دیں، بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ عورت کو سیاست کی غلاظت اور اس کی بھٹی سے اٹھنے والے شعلوں سے محفوظ رکھ سکیں!

اس بزرگ وبرتر خاتون کی زندگی کا ایک اہم پڑاؤ وہ بھی ہے جہاں انہیں ایسی ناروا تہمت کا سامنا کرنا پڑا جس کا حقیقت سے اسی قدر فاصلے کا رشتہ ہے جتنا کہ  زمین کا آسمان سے، وہ آسمان جس کی بلندی سے ان کی براءت میں وہ آیتیں نازل ہوئیں کہ جنہیں قیامت تک نمازوں میں دہرایا جاتا رہیگا، انہیں اللہ نے بطور درس وعبرت کے ہمارے لیے جاوداں کردیا تاکہ افضل واکمل ترین عورت کی زندگی کایہ سبق آموز موقف دنیا کی عورتوں کو شبہات اور فتنوں سے دور رہنے کی تلقین کرتا رہے، گرچہ وہ تقوی وپرہیزگاری اور طہارت وپاک دامنی کے اوج ثریا پر ہی کیوں نہ فائز ہوں، انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی جا سکتی ہے تو دنیا کی کوئی عورت بھلا کیسے اس سے بری رہ سکتی ہے!

اماں  عائشہ کی وفات کو 14 صدی سے زائد ہوگئے، لیکن دنیا ان کی ہم مثل نہ دیکھ سکی، اور میں کہتا ہوں کہ اس ارض گیتی پر اماں عائشہ جیسی زیادہ مثالیں نہیں جنم لے سکتیں۔ اللہ ان سے راضی ہو اور جنت میں ان کے درجات بلند فرمائے!

 

جناب اعجاز احمد اسلم سے ایک ملاقات

 محمد خالد اعظمی  ( مقیم کویت )

اعجاز احمد اسلم صاحب مدیر اعلی ہفت روزہ ریڈینس نئی دہلی  1943ء میں شہر بنگلور میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائیہ سے ساتویں کلاس تک کی تعلیم مدراس میں ہوئی۔ جب ملازمت کے سلسلے میں ان کے والد موتی پور، بہار تشریف لے گئے تووالدین کے ساتھ اعجاز صاحب بھی موتی پور چلے گئے اور1969ء میں ایل ایس کالج مظفرپور سے انگلش زبان وادب میں ماسٹرکی ڈگری حاصل کی ۔پھر شہر ویلورتمل ناڈو کے سی عبد الحکیم کالج میں 1969تا1971ءانگریزی کے لکچرر نامزد کیے گیے  ۔ لیکن دوسال کے بعد ہی ملازمت سے سبکدوشی اختیار کرلی اور کچھ سالوں تک تجارت کی۔ چودہ سال کی عمر میں جماعت اسلامی سے متاثر ہوئے تھے اور  1970ءمیں جماعت کے رکن بنے ۔ 1977 میں آپ کو تامل ناڈو کا امیرحلقہ مقررکیا گیا اور آپ اس ذمہ داری کو  1990ءتک بحسن وخوبی انجام دیتے رہے ۔ 1990ءتااپریل2015ءمرکز جماعت اسلامی ہند دہلی میں سکریٹری کی حیثیت سے مختلف ذمہ داریاں انجام دیں ۔موصوف اردوزبان وادب کا اچھاذوق رکھتے ہیں،تقریر اور گفتگو میں اشعار کا برمحل استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ پچھلے دنوں انڈین مسلم ایسوسی ایشن کویت کی دعوت پر جناب اعجازاحمد اسلم صاحب  ہندوستان سے کویت تشریف لائے تھے۔ اس مناسبت سے ہم نے ایک مجلس میں ان کا انٹرویو لیا، جسے قارئین مصباح کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

سوال: آپ کی دعوتی زندگی کا کوئی  یادگار لمحہ ؟

جواب : زندگی میں بے شمارلمحات آتے ہیں اور گزرجاتے ہیں لیکن بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں  جن کابھولنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرورہوتا ہے ۔ ایک واقعہ ان دنوں کا ہے جب میں مظفرپور میں زیر تعلیم تھا۔اس زمانے میں ایک چھوٹے گاؤں مہسی میں ہفتہ وار اجتماع منعقد کرنے کے لیے ٹرین سے سفر کرکے جایاکرتاتھا،اجتماع کے اختتام پرعشاءکے بعد ایک سنسان راستے پرآم کے باغات کے پاس سے اندھیرے میں پیدل چل کرمہسی اسٹیشن پہنچتاتھا۔ کبھی کبھی ٹرین لیٹ رہاکرتی تھی ۔ سنسان اسٹیشن پر لکڑی کی بنچ پر اینٹ کاتکیہ بناکر لیٹ کر ٹرین کا انتظار کرتاتھا۔اللہ کے راستے کے وہ لمحات مجھے زندگی کے قیمتی لمحات میں شمار کرنے کے لائق محسوس ہوتے ہیں ۔

دعوتی زندگی کا  ایک واقعہ بہت ہی مشہور ہے ،بہار کا ایک شخص عبد اللہ اڈیار کے پاس خوشی خوشی آیا کہ میں نے  آپ کی کتاب ” اسلام جس سے مجھے عشق ہے” کو پڑھ کر اسلام قبول کرلیا ہے ۔ اتناسننا تھا کہ اڈیار صاحب اس وقت تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے ۔ وہ سوچنے پرمجبورہوگئے کہ ایک شخص میری کتاب پڑھ کرمسلمان ہوسکتاہے تو میں کتاب لکھ کر مسلمان کیوں نہیں ہورہاہوں،یہی واقعہ ان کی زندگی کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا اور  انھوں نے  اسلام قبول کرلی۔

سوال: آپ نے اب تک کن کن ممالک کا سفر کیا ہے ؟

جواب : میں نے تقریباً 22ممالک کا سفرکیا ہے مثلا پڑوسی ممالک کے علاوہ خلیج کے تمام ممالک۔ اس کے علاوہ ترکی ‘ ملائشیا‘ انڈونیشیا‘ سوڈان ‘ جنوبی افریقہ‘ جاپان اور دیار مغرب میں انگلینڈ‘ کینڈا ‘ امریکا وغیرہ ۔

سوال: امت کے درمیان اتحاد کی کیا شکل پید ا ہوسکتی ہے ؟

جواب : اتحاد امت وقت کا سلگتا ہوا موضوع  ہے کیونکہ اس کے بغیر اپنے مقصد میں کامیابی مشکل ہے ۔ پوری امت اسلامیہ کو امت واحدہ ہوناچاہئے، نقطہ نظرکا اختلاف ہوسکتاہے البتہ اس کی بنیاد پر دل میلا نہیں ہونا چاہیے، اچھے کاموں میں اتحاد ہوناچاہیے ، ہرجماعت دوسری جماعت کی اچھی چیزوں کا کھلے دل سے اعتراف کرے ۔اس طریقے سے اختلاف کی خلیج کو بہت حد تک پاٹا جا سکتا ہے۔

سوال  : برادران وطن میں کام کے طریقے کیاہیں ؟

جواب : ہندوستان ایک ملک ہی نہیں بلکہ یہ ایک براعظم ہے ۔ اس ملک میں مختلف طرح کی اقوام بستی ہیں لہذا مختلف مقامات کے مختلف حالات بھی ہیں۔جنوبی ہند کودیکھیں تووہاں رواداری اوربھائی چارگی کا معاملہ زیادہ دیکھنے کوملتاہے جبکہ شمالی ہند میں کشمکش کاماحول ہے اور مزاجوں میں سختی زیادہ پائی جاتی ہے ۔مقامی حالات اور لوگوں کے مزاج کا لحاظ رکھتے ہوئے کام کرناچاہئے ۔

برادران وطن میں کام کرتے وقت ایک بات کا خاص خیال رکھیں کہ بنیادی   اخلاقی اقدار پر زور دے کر انہیں اسلام سے قریب کریں اوران کے سامنے توحید ‘ رسالت اورآخرت کا تصور پیش کریں۔اور یہ بات سمجھائیں کہ اسلام احساس ذمہ داری ، احترام انسانیت ، عدل وانصاف ،  میانہ روی ، وسیع المشربی ،  عفوودرگزر ، خلوص ومحبت ، ایثاروقربانی کی بنیاد پر  انسانی معاشرے کومنضبط کرتااورعدل اورامن سے معمورسوسائٹی کی تعمیر کرتاہے ۔داعیان دین  ان اصولوں کو  عملی زندگی میں برتیں تو  دلوں کے دروازے خود بخود کھل جائیں گے  اورسخت دلوں میں  نرمی پیدا  ہوسکتی ہے،دعوت کی کھیتی سرسبز وشاداب ہوسکتی ہے اورخداپرستی کامطلوبہ نظام رائج ہوسکتاہے ۔

ایک بڑا مسئلہ نومسلموں کی تربیت کا  بھی ہے،  اس لیے  اگر ہم چاہتے ہیں کہ نومسلموں کی تربیت اچھی ہو تو مسلم معاشرے کو بھی اچھاہوناہوگاورنہ وہ بھی مسلم معاشرے میں ضم ہوکرانہیں کی سطح پر آجائیں گے ۔

س : کویت کے تعلق سے کچھ عرض کرنا چاہیں گے  ؟

ج: کویت میں پہلی مرتبہ 1984ءمیں آیاتھا اب چوتھی یا پانچویں مرتبہ حاضری ہوئی ہے ۔ یہاں آنے کے بعد وہ زمانہ بھی یادآگیا جب عراق نے کویت پر حملہ کرکے  کویت کو تباہ وبرباد کردیاتھا، لیکن الحمدللہ کویت پھر سے آباد ہوگیا، یہاں مخیر افراد کی کثرت اوررفاہی اداروں کاگلی گلی میں موجود ہونا اس بات کا غماز ہے کہ یہاں کے لوگوں میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے ۔ اس امر پر اللہ کا جتنا بھی شکر اداکیاجائے کم ہے۔

سوال  : مسلمانوں کی اہم ذمہ داریاں کیاہیں ؟

جواب : اللہ کا شکر واحسان ہے کہ برصغیر میں دنیاکے چالیس فیصد مسلمان آباد ہیں ،  لہذا مسلمانوں کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں،  ہمیں چاہیئے کہ سب سے پہلے اللہ کا شکر اداکریں  کہ اس نے ہمیں یہ موقع فراہم کیاکہ ہم بدرجہ اتم برادران وطن میں دعوتی  کام کرسکیں ۔ اخلاق وکردار،معاشرت،معیشت ، اطاعت وفرمانبرداری میں لوگوں سے آگے ہوں ۔سب سے بڑی ذمہ داری یہ عائد ہوتی ہے کہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں اور مسلمانوں میں دینی شعور  عام کریں ۔

سوال: میڈیاکے میدان میں کب اورکیسے آئے ؟

جواب: 1962ءمیں جب میں مظفرپور میں تعلیم حاصل کررہاتھا اسی دوران پٹنہ سے ایک انگریزی روزنامہ INDIAN NATION کے نام سے شائع ہوتاتھا اسی میں اخبار میں ایک مراسلہ مسلمانوں کے ساتھ سوتیلاسلوک کیوں ؟اسی خط کو بنیاد بناکر اخبار کے ایڈیٹرنے اپنااداریہ لکھا اوردوران اداریہ یہ بھی لکھا کہ مسٹراعجاز اسلم جیسے نظریات ہندوستان جیسے جمہوری ملک کے لیے مناسب نہیں ۔یہ ہے میرا خط یا مضمون جو کسی اخبار میں شائع ہوا ہو ۔

اس کے بعد جب میں 1984 ءمیں کویت حاضر ہوا تھا تو اس وقت میراپہلاانگلش زبان میں انٹرویو کویت ٹی وی کے لیے ہواتھا۔ اسی سال جب میں ورلڈاسمبلی آف مسلم یوتھ کے جنرل سکریٹری ڈاکٹرمانع حماد الجہنی مرحوم کی دعوت پرریاض سعودی عرب گیاتو سعودی ٹی وی نے بھی میرا انگلش میں انٹرویو لیاتھا۔کافی دنوں سے ذی سلام ٹی وی پرصبح سات بجے ترجمہ قرآن پیش کرنے ساتھ ساتھ پیس ٹی وی پر بھی سیکڑوں لکچرس مختلف موضوعات پر نشر ہوچکے ہیں ۔جماعت اسلامی ہند کی طرف سے نکلنے والاہفت روزہ ریڈینس کا 12سالوں تک ایڈیٹرکی حیثیت سے فرائض انجام دیا لیکن ادھرتین سالوں سے اس کا مدیر اعلی ہوں ۔

س: انگریزی میڈیامیں مسلمانوں کی خدمات ؟

ج: ہماراملک جب آزاد ہواتھاتو اس وقت انگریزی میڈیامیں مسلمان برائے نام تھے اس وقت ایک میگزین CRUENT جناب اکبرصاحب کی ادارت میں حیدرآباد سے نکلتاتھااوراس زمانے میں مقامی زبانوں میں اخبارات برائے نام تھے لیکن اب حالات بہت اچھے ہیں سوائے انگریزی زبان کے ۔ہفت روزہ ریڈینس 53سالوں سے مستقل نکل رہاہے ۔ ایک پندرہ روزہ میگزین ڈاکٹرظفرالاسلام خان کی ادارت میں ملی گزٹ کے نام 2001ءسے دہلی نکل رہاہے ۔اسی طرح سے ایک ماہنامہ میگزین اسلامک وائس بنگلورسے جناب مقبول سراج کی ادارت میں نکل رہاہے ۔اس کے علاوہ چنداور بھی نکل رہاہے لیکن ادھرچند سالوں سے مسلم نوجوان انگریزی میڈیامیں مختلف حیثیت سے شامل ہورہے ہیں چاہے فوٹوگرافر ہوں یا نمائندے یا پھر کچھ اور۔

آپ کے سوالات اور ان کا حل

          صفات عالم مدنی

سوال: کیا بیوی اپنے شوہر کا نام لے کر اسے پکار سکتی ہے؟   ( عبدالجلیل۔ فروانیہ، کویت)

جواب: اگر بیوی اپنے شوہر کا نام لے کر اسے پکارتی ہے تو شرعی ناحیہ سے اس میں کوئی قباحت نہیں، کیونکہ ممانعت کی کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔ تاہم اس معاملے میں عرف کی رعایت ضروری ہے، اگر کہیں یہ عادت ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو اس کی کنیت سے پکارتی ہو، جیسے ابواحمد، ابوعبدالرحمن وغیرہ۔ یا یوں پکارتی ہو: احمد کے ابو، عبدالرحمن کے ابو۔ اور وہاں پر نام لے کر پکارنا بے ادبی سمجھی جاتی ہو، یا شوہر خود نام لے کر پکارنے کو پسند نہ کرتا ہو تو ایسی جگہ بیوی کو چاہیے کہ اس عرف اور عادت کی رعایت کرے۔ کیونکہ بیوی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ شوہر کے ساتھ حسن معاشرت اختیار کرے اور حسن معاشرت میں یہ بات آتی ہے کہ شوہر کو اس کے پسندیدہ نام سے پکارا جائے۔ اور ایسے نام سے پکارنے سے پرہیز کیا جائے جو اسے پسند نہ ہو یا جس میں نقص کا پہلو پایا جاتا ہو۔

کیا کسی زندہ کی طرف سے عمرہ کیا جا سکتا ہے؟ ( آفتاب عالم: مہبولہ، کویت)

جواب:  ایسے شخص کی طرف سے حج اور عمرہ کرنا جائز نہیں ہے جو جسمانی استطاعت رکھتا ہو، البتہ اگر کوئی شخص جسمانی استطاعت نہیں رکھتا اور سفر کرنے سے قاصر ہے تو اس کی طرف سے عمرہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وہی کرسکتا ہے جس نے اپنی طرف سے پہلے عمرہ کر لیا ہو۔ ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ سے استفسار کیا کہ اے اللہ کے رسول! میرے باپ بوڑھے اور سن رسیدہ ہیں، حج اور عمرہ نہیں کر سکتے، تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: حج عن أبيك واعتمر” اپنے باپ کی طرف سے حج اور عمرہ کرو”۔ ( سنن الترمذی: 930)

سوال: جب مصیبت برداشت سے باہر ہوجائے تو کیا ایک آدمی موت کی تمنا کر سکتا ہے؟ ( سلمہ عبدالرحیم۔ خیطان، کویت)

جواب: ایک مسلمان کے لیے موت کی تمنا کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ کے رسولﷺ کی حدیث ہے: خير الناس من طال عمره وحسن عمله (الترمذي : 110) “بہتر انسان وہ ہے جس کی عمر دراز ہو اور اس کا عمل اچھا ہو”۔ اس لیے اگر زندگی میں کسی طرح کی مصیبت اور پریشانی آتی ہے تو اسے انگیز کرتے ہوئے صبر وشکیبائی سے کام لینا چاہیے، اگر صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور معاملہ برداشت سے باہر ہو رہا ہو تو ایسی حالت میں اللہ سے یوں دعا کرنی چاہیے: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي (متفق علیہ) “اے اللہ اگر میرے لیے زندگی میں بہتری ہو تو زندگی عطا فرما اور اگر موت میں بہتری ہو تو موت دے دے”۔

البتہ دو ایسی جگہیں ہیں جہاں موت کی تمنا کی جا سکتی ہے:

1- جب اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا شکار ہوجانے کا اندیشہ ہو۔

2- جب شہادت کی موت ملنے کا موقع ہو۔

سوال: کیا عزیر علیہ السلام نبی ہیں ؟ (عبدالرحمن: کویت)

جواب:  “عزير” علیہ السلام بنو اسرائیل کے نیک آدمی تھے، ان کا نبی ہونا ثابت نہیں جیسا کہ حافظ ابن كثير رحمہ اللہ نے “البداية والنهاية” (2/389) میں وضاحت کی ہے.گو کہ مشہور یہی ہے کہ وہ انبیائے بنو اسرائیل میں سے ہیں، خود سنن ابی داؤد (4674) میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: مجھے پتہ نہیں عزیر نبی ہیں یا نہیں۔ شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ فرماتے ہیں: ” وأما عزير: فلم يأت شيء يدل على أنه نبي “. عزیر علیہ السلام کے حوالے سے کوئی ایسی دلیل نہیں آئی جس سے ثابت ہوسکے کہ وہ نبی ہیں۔

سوال: کیا انسان کے مرنے سے اس کا قرین مرجاتا ہے؟ (محمد سلیم۔ کویت)

جواب:  ہر انسان پر ایک شیطان مسلط کردیا گیا ہے جسے قرین کہتے ہیں، جو انسان کو برائی پر اکساتا ہے، ہاں! اگر اللہ نے کسی بندے پر احسان کیا تو اس کا شر کمزور پڑ جاتا ہے جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ کا قرین آپ کے تابع ہو گیا تھا اور وہ آپ کے اندر کسی طرح کا وسوسہ نہیں ڈال سکتا تھا، یہ قرین انسان کے مرنے سے مرتا نہیں بلکہ اس کے مرنے کے ساتھ ہی اس سے نکل جاتا ہے، کیونکہ اس کا وظیفہ ختم ہوچکا ہوتا ہے، اب وہ کسی دوسرے انسان میں چلا جاتا ہے۔ پھر جب اس کی موت مقدر ہوتی ہے مرتا ہے۔

سوال: اگر کوئی غیر مسلم “السلام علیکم” کہتا ہے تو اس کا جواب کیسے دیا جائے گا؟ (محمد سلیم۔ کویت)  

جواب: غیر مسلم کے سلام کی تین شکل ہو سکتی ہے پہلی شکل یہ کہ آپ کو یقین ہے کہ اس نے “السام علیکم” کہا ہے یعنی ہلاکت کی بد دعا دی ہے، جیسا کہ مدینہ کے یہودیوں کا طرزعمل تھا، تو اس کا جواب “وعلیکم” سے دیا جائے گا، دوسری شکل یہ ہے کہ آپ کو شک ہے کہ اس نے “السلام علیکم” کہا ہے یا “السام علیکم” کہا ہے تو اس کا جواب بھی “وعلیکم” سے ہی دیا جائے گا۔ تیسری شکل یہ ہے کہ آپ کو یقین ہے کہ اس نے آپ کو “السلام علیکم” کہا ہے۔ تو ایسی صورت میں آپ کے لیے مناسب ہے کہ آپ “وعلیکم السلام” سے اس کا جواب دیں۔ اس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا  (النساء: 86) “جب کوئی شخص تمہیں  سلام کہے تو تم اس سے بہتر اس کے سلام کا جواب دو یا کم از کم وہی کلمہ کہہ دو” ۔ اس بارے میں شرعی  قواعد و دلائل  اس بات کے متقاضی ہیں کہ “وعلیکم السلام” ہی کہا جائے، کیونکہ عدل کا یہی تقاضا ہے، اور اسلام ہمیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے۔  یہی فتوی علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا ہے۔ مجموع فتاوى ابن عثيمين ” ( 2 / 97 ) ( تفصیل کے لیے دیکھیے امام ابن قیم رحمہ اللہ کی” أحكام أهل الذمة ” ( 1 / 425 ، 426 )

کوئی رات اتنی طاقتور نہیں کہ وہ صبح کے امکان کو تباہ کردے

محمد آصف ریاض

احمد فراز ( وفات 2008 )  ایک پاکستانی شاعرہیں۔ ان کی نظم کا ایک مشہورشعریہ ہے۔

کہ رات جب کسی خورشید کوشہید کرے

توصبح اک نیا سورج تلاش لاتی ہے

ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ رات صبح پراپنی تاریکی اڑھا دیتی ہے، بظاہرایسا معلوم پڑتا ہے کہ اب یہ تاریکی جانے والی نہیں ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ تاریکی صبح کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کردے، صبح کا حال یہ ہےکہ وہ دوسرے ہی دن اپنے لیے ایک نیا سورج تلاش لیتی ہے اورپھر ایک نئی آب و تاب کے ساتھ نمودارہوجاتی ہے۔

یہی حال انسانی زندگی کا ہے۔ انسانی زندگی میں ہمیشہ اتارچڑھاؤ آتا رہتا ہے، اوریہ اتارچڑھاؤ کبھی ابدی نہیں ہو تا، یہ وقتی ہوتا ہے۔ یہ اتارچڑھاؤ اہل علم کے لیے ایک چیلنج ہوتا ہے، وہ جیسے ہی یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ہاتھ سے ایک موقع نکل گیا، وہ فوراً اپنے لیے ایک دوسراموقع پیدا کرلیتے ہیں، جیسے ہی انھیں یہ لگتا ہے کہ ایک امکان استعمال ہونے سے رہ گیا، وہ اپنے لیے ایک دوسرا امکان تلاش لیتے ہیں، جیسے ہی انھیں لگتا ہے کہ ان کے لیے ایک راستہ بند ہوگیا ، وہ اپنے لیے ایک دوسرا راستہ پیدا کرلیتے ہیں۔

امیتابھ بچن بالی ووڈ کے معروف اداکار ہیں۔ انھوں نے اپنی اداکاری سے خوب شہرت پائی اورخوب پیسہ کمایا۔ لیکن عمرکے تقریباً آخری حصہ میں پہنچ کر وہ دیوالیہ ہوگئے، لیکن انھوں نے اپنا عزم نہیں کھویا، اور کون بنے گا کروڑ پتی میں اپنی ایکٹنگ کی مہارت دکھا کر انھوں نے اپنی کھوئی ہوئی دولت اور شہرت کو پھر سے حاصل کرلیا۔  معروف برٹش فلاسفربرنارڈ ولیم  (وفات 2003)  کا ایک قول ہے: ” کوئی رات یا کوئی مشکل ایسی نہیں جوصبح کی روشنی یا امید کو شکست دے دے۔”

 There was never a night or a problem that could defeat sunrise or hope

قرآن میں رات اوردن کو ایک نشانی بتا یا گیا ہے۔ رات کی آمد یہ بتا تی ہے کہ انسانی زندگی حسرت و یاس سے خالی نہیں، اور دن یہ بتا تا ہےکہ بہت جلد زندگی کی صبح نمودارہونے والی ہے۔

 

علم اور مسلمان

                              محمد آصف ریاض

مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ اگرانھیں جوتا خریدنا ہو تو وہ سب سے اچھا جوتا خریدیں گے۔ اگرانھیں کپڑا خریدنا ہو تو وہ سب سے قیمتی کپڑا خریدیں گے۔ وہ لکژری میں دوسری قوموں کو پیچھے چھوڑ دینا چاہتے ہیں۔ البتہ جب انھیں کتاب خریدنی ہو تو وہ  اس معاملہ میں سب سے بڑے بخیل بن جائیں گے۔

مسلمان جب ایک زندہ قوم تھے تو ان کے یہاں ہرگھرمیں ایک لائبریری ہواکرتی تھی۔ اب لائبریری کی جگہ ان کے گھروں میں بڑے بڑے ٹیلی ویژن ہوتے ہیں، اب کسی گھرمیں کوئی لائبریری نہیں ہوتی ۔ ٹیلی ویژن توغیر مسلموں کے گھروں میں بھی ہوتے ہیں لیکن اس فرق کے ساتھ کہ ان کے یہاں لائبریریاں بھی ہوتی ہیں، تاہم مسلمانوں کا معاملہ بالکل ہی الگ ہے، ان کے یہاں صرف ٹیلی ویژن ہوتے ہیں لائبریریاں نہیں ہوتیں۔

مسلمان ہرچیزپرخرچ کریں گے لیکن اگرپڑھائی پرخرچ کرنا ہو تو وہ سب سے بڑے بخیل بن جائیں گے۔ اگرآپ انھیں پڑھائی پر خرچ کرنے کی ترغیب دیں توایسا معلوم ہوگا کہ گویا آپ گدھے کوتالاب کی طرف کھینچ رہے ہیں۔مسلمانوں کا حال دیکھ کرمجھے اکثربیربل کا ایک واقعہ یاد آجا تا ہے۔

کہا جا تا ہے کہ ایک مرتبہ کسی بات پر ناراض ہوکراکبر نے بیربل کو نوکری سے نکال دیا۔ بیربل نئی نوکری کی تلاش میں ایک نواب کے پاس پہنچا اوراس سے نوکری کی درخواست کی۔ بیربل سے مل کرنواب بہت خوش ہوا۔ اس نے کہا کہ مسٹر بیربل آپ تو بہت پڑھے لکھے انسان ہیں تو ایسا کیوں نہیں کرتے کہ آپ میرے بچوں کو پڑھا دیں! بیربل نے کہا کہ مجھے کوئی قباحت نہیں ہے۔ میں آپ کے بچوں کو پڑھانے کے لیے تیار ہوں البتہ یہ تو بتائیں کہ آپ مجھے کیا دیں گے؟  20 درہم، نواب نے جواب دیا ۔ بیربل نے پوچھا کہ جناب یہ تو بتایئے کہ آپ اپنے کوچوان کو کتنا دیتے ہیں؟  اس نے کہا کہ 100 درہم ۔ بیربل نے جواب دیا کہ پھرآپ اپنے بچوں کو کوچوان بنا لیجئے انھیں پڑھا کیوں رہے ہیں؟

مسلمانوں کا حال یہی ہے۔ مسلمان اپنے بچوں کو کوچوان بنا رہے ہیں اور ہنگامہ کرتے ہیں کہ سماج میں انھیں برابری کا مقام حاصل نہیں ہے۔ انھیں حاشیہ پر ڈالنے کی سازش کی جا رہی ہے، انھیں پست کردیا گیا ہے، وہ دلتوں سے پیچھے ڈھکیل دئے گئے ہیں ، وغیرہ۔

علم پرخرچ کرنا درحقیقت ایک علامتی خرچ ہے۔ انسان بڑی محنت و مشقت سے کماتا ہے، وہ اپنے جسم کا ایک ایک قطرہ خون نچوڑ کرکچھ پیسے جمع کرتا ہے، پھر ان پیسوں کو علم کی طلب پر لگا تا ہے تو گویا  اس سے  ظاہرہوتا ہے کہ آدمی علم کے معاملہ میں حساس ہے۔ علم کے حصول پرخرچ کرنا گویا ایک علامتی قربانی ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ مسلمان اس علامتی قربانی کے لیے بھی تیارنہیں ہیں۔ افسوس ہے اس قوم پرجسے بتا یا گیا ہے کہ اس کی نجات علم میں ہے پھر بھی وہ علم سے گریزاں ہے، وہ ہر چیز کی طلب میں آگے رہتا ہے  لیکن علم کے معاملہ میں اندھا بہرا بنا ہوا ہے۔

وہ بھی گرا نہیں، جو گرا ،پھر سنبھل گیا

یہ دھرتی اللہ کی گراں قدر نعمت ہے جس پر ہم رہتے، بستے اور زندگی گذارتے ہیں، اللہ تعالی نے اسے ہمارے تابع اور مسخر کیا اور اس کی تہہ سے مختلف قسم کے خزانے اور نوع بنوع پیداوار نکالے تاکہ وہ ہمارے لیے سامان زیست بن سکیں۔ پھر اسے ہموار بنایا اور اس کے شکم میں کوہساروں کو جمادیا تاکہ ہم اس کی چھاتی پر بآسانی عمارت بنا کر پر لطف زندگی گذار سکیں۔ پھر اس دھرتی پر انسانوں کو خلافت کی ذمہ داری سونپی اور زندگی گذارنے کا سسٹم  دیا تاکہ انسان دھرتی کو اس کے خالق کی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔ لیکن جب انسان نے اللہ کے قانون سے منہ موڑا، بغاوت پر اتر آئے اور من مانی کرنے لگے تو اللہ تعالی نے اس دھرتی  کے مکینوں کو طوفان، زلزلوں، گرجدار چینخ، بستیوں کا الٹ دینا، زمین میں دھنسا دینا جیسے آفات بھیج کر دنیا کے لیے نشان عبرت بنا دیا۔ نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا،  مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے۔

آج بھی انسان اس دھرتی کے قانون کو پامال کر رہا ہے، اس کے خالق سے لاپرواہی برت رکھی ہے اور دھرتی کو فتنہ و فساد کی آماجگاہ بنا رکھا ہے، جس کی وجہ سے زلزلوں کی کثرت ہے، دن بدن طوفان آرہے ہیں، قتل وخونریزی عام ہے،  گلوبل وارمنگ نے ایسی تباہی مچا رکھی ہے کہ دھرتی پر جینا مشکل ہو رہا ہے، ان دنوں گرمی میں ایسی حدت آئی ہے کہ صرف ہندوستان میں دو ہزار سے زائد لوگ گرمی کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوچکے ہیں۔ اوریہ سب  انسانوں کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، انسان جب نظام الہی  کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگتا ہے تو اللہ تعالی کبھی کبھی اس دھرتی کو حکم دیتا ہے کہ حرکت کر،  بھونچال مچادے اور زلزلے پیدا کر، یہ در اصل  الٹی میٹم ہوتا ہے، تنبیہ ہوتی ہے تاکہ انسان سنبھل جائے، سدھر جائے اور اپنے احوال کی اصلاح کرلے، جی ہاں! یہ آفتیں اور بلائیں جہاں اللہ کی نافرمانی، منکرات کے ظہور اور قانوں الہی سے پہلو تہی برتنے کا نتیجہ ہیں تو دوسری طرف قرب قیامت کی نشانی بھی ہیں۔ سچ فرمایاصادق و مصدوق ﷺ نے: قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا، زلزلوں کی کثرت ہوگی، زمانے قریب ہوجائیں گے، فتنوں کا ظہور ہوگا، قتل وغارت گری عام ہوگی اورمال کی بہتات اور فراوانی ہوگی۔ (صحیح البخاری: 1036)

اس حدیث کے تناظر میں جب آپ دنیا کے حالات کا جائزہ لیں گے تو پتہ چلے گا کہ واقعی قیامت قریب ہے کہ آج علم کی کمی پائی جاتی ہے اور جہالت کی بالادستی ہے، زلزلے بکثرت آرہے ہیں،  زمانے سمٹ رہے ہیں اور وقت بہت تیزی سے بھاگ رہا ہے، نت نئے فتنے سر اٹھا رہے ہیں، قتل وخونریزی اس قدر عام ہے کہ گاجر اور مولی کے جیسے انسانوں کو ذبح کیا جا رہا ہے،جانوروں کی قیمت ہے لیکن خون مسلم کی ارزانی ہے۔  اور مال کی بہتات اور فراوانی ایسی ہے کہ اسراف اور فضول خرچی گویا ہماری زندگی کی پہچان بن چکی ہے۔ حقیقت ہے کہ  قیامت کا زمانہ جتنا قریب ہوتا جائے گا مختلف قسم کے فتنے ابھر کر سامنے آئیں گے۔ اور آج ہمارے زمانے  میں یہ فتنے کھل کر سامنے آرہے ہیں جس میں حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھا جانے لگا ہے، ظالم کو ظلم سے روکنے اور مظلوم کی مدد کو زیادتی کا نام دیا جاتا ہے۔

جب فتنے سر اٹھا رہے ہوں تو ایسے حالات میں ایک مسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، آج کتنے ایسے لوگ ہیں جو شرک میں مبتلا ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو بدعات و خرافات میں پھنسے ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو نماز سے غافل ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو زنا میں ملوث ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو فحاشی کے رسیا، سودی کاروبار کے دلدادہ اور رشوت کے لین دین میں پیش پیش ہیں۔ کیا ایسے لوگ اللہ کے عذاب سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اس کا عذاب اچانک ان پر رات کے وقت آجائے جب کہ وہ نیند میں مست خرام ہوں؟ یا دن میں آ پڑے جب کہ وہ کھیل کود اور موج مستی میں لگے ہوئے؟ جولوگ الٹی میٹم پانے کے باوجود اللہ کی طرف نہیں لپکتے تو اللہ تعالی کے ہاں ایسے لوگوں کی ہلاکت یقینی ہوجاتی ہے۔

 اسی طرح فتنوں کی بالادستی میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ دین پر ثبات قدمی کے وسائل کو پیش نظر رکھیں جن کی بدولت اپنے ایمان کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ابھی رمضان کا مبارک مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے، رحمت، مغفرت، جہنم سے آزادی اور ہمدردی و غم خواری کا تحفہ لیے ہوئے رمضان المبارک کا مہینہ دھوم دھام سے آیا ہے، وہ مہینہ کے جس کے لیے عرش سے فرش تک اہتمام ہوتا ہے، وہ مہینہ جو روحانی کائنات کا موسم بہار ہے۔ ہم کس قدر خوش قسمت ہیں کہ یہ موسم بہار ایک بار پھر ہماری زندگی میں عود کر آیا ہے۔ تو آئیے اس ماہ مبارک کا خیر وخوبی سے استقبال کیجیے، اس کے ایک ایک لمحے سے فائدہ اٹھائیے ،  توبہ و استغفار ،انابت الی اللہ ،نالہ نیم شبی  کے ذریعہ اپنے رب کو راضی کیجیے۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق بخشے آمین۔

صفات عالم محمدزبیر تیمی

www.safattaimi.com

Misbah Magazine apr-June 2015_اداریہ

آئینہ رسالت

شیخ صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ

فرض روزے کی نیت

وعن حفصة أم المؤمنين – رضِيَ الله عنها- أن النبي صلى الله عليه وآله وسلَّم قال: مَن لم يبيِّتِ الصِّيامَ  قبلَ الفجرِ، فلا صيامَ لَهُ (صحيح النسائي   2330 )
ترجمہ: حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ام المومنین سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے صبح صادق سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا کوئی روزہ نہیں۔
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فرض روزے کی نیت صبح صادق سے پہلے ہونی ضروری ہے۔ گویا غروب آفتاب کے بعد سے لے کر صبح صادق کے طلوع ہونے سے پہلے تک نیت کی جا سکتی ہے، نیت اس لیے ضروری اور لازمی ہے کہ روزہ ایک عمل ہے اور عمل کے لیے نیت ضروری ہے اور ہر دن کے روزے کے لیے الگ الگ شرط ہے، البتہ روزہ کی نیت کے جو الفاظ زبان سے کہے جاتے ہیں وہ بدعت ہے کیوں کہ نیت دل کا عمل ہے۔ زبان کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ نبی کریم ﷺ یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے۔
سحری میں برکت ہے
عن انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تسحَّروا، فإن في السَّحورِ بركةً ( صحيح البخاري  : 1923 صحيح مسلم    1095)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  ”سحری کھایا کرو اس لیے کہ اس میں برکت ہے“۔
تشریح: اس حدیث میں سحری کھانے کی ترغیب ہے یہود و نصاری چوں کہ سحری کا اہتمام نہیں کرتے۔ مسلم کی روایت میں ہے کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں فرق سحری کھانے کا ہے، اس سے روزے کی تکمیل میں آسانی اور سہولت پیدا ہوجاتی ہے۔
روزے کی حالت میں دروغ گوئی
عن ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:  مَن لَم يدَع قَولَ الزُّورِ والعمَلَ بِه والجَهلَ ، فليسَ للَّهِ حاجَةٌ أن يدَعَ طعامَه وشرابَهُ (صحيح البخاري   6057)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  ”جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا اور حماقت و بیوقوفی کو ترک نہ کیا تو اللہ تعالی کو اس کے کھانے پینے کو چھڑانے کی ضرورت نہیں“۔
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کی حالت میں جھوٹ، غلط بیانی، جہالت و نادانی کے کام بھی ترک کردینے چاہئے۔ جھوٹ بولنے اور غلط بیانی سے روزے کی روح متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی، اس لیے روزے کی حالت میں ایک روزے دار کا بچنا نہایت ضروری ہے، روزے دار کی جسمانی تربیت کے ساتھ روحانی تربیت بھی ہوتی ہے، گویا روزے کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی طبیعت پر کنٹرول کرنا سیکھ جائے۔ جھوٹ، دغا، فریب اور نادانی کے کاموں سے اجتناب کرے۔ اگر یہی مقصود حاصل نہ ہوا تو پھر روزہ رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

برائی سے مفاہمت نہیں

 شیخ صلاح الدین یوسف

لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ، كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (سورۃ المائدہ 78-79)

ترجمہ: ” بنو اسرائیل کے کافروں پر داؤد اور عیسی بن مریم کی زبانی لعنت کی گئی، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے، اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے، آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہ تھے، جو کچھ بھی وہ کرتے تھے یقینا وہ بہت برا تھا“۔

تشریح: یعنی زبور میں جو حضرت داؤد علیہ السلام پر اور انجیل میں جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی، اب یہی لعنت قرآن کریم کے ذریعہ ان پر کی جا رہی ہےجو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا، لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت اور خیر سے دوری ہے۔ لعنت کے اسباب ہیں: عصیان، یعنی واجبات کا ترک اور محرمات کا ارتکاب کرکے انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور اعتدا، یعنی دین میں غلو اور بدعات ایجاد کرکے انہوں نے حد سے تجاوز کیا۔

اس پر مستزاد یہ کہ وہ ایک دوسرے کو برائی سے روکتے نہیں تھےجو بجائے خود ایک بہت بڑا جرم ہے، بعض مفسرین نے اسی ترک نہی عن المنکر کو عصیان اور اعتدا قرار دیا ہےجو لعنت کا سبب بنا۔ بہرحال دونوں صورتوں میں برائی کو دیکھتے ہوئے برائی سے نہ روکنابہت بڑا جرم اور لعنت و غضب الہی کا سبب ہے، حدیث میں بھی اس جرم پر بڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ اسی لیے ایک حدیث میں اس کی تاکید کرتے ہوئے کہا گیا ہے: تم میں سے جو شخص کسی منکر(برائی) کو دیکھے، تو اسے چاہیے کہ اسے ہاتھ سے بدل دے،اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے بدل دے، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ (صحیح مسلم : حدیث: 78 (49))

ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے: ”یقینا اللہ تعالی خاص لوگوں کے عمل (گناہوں) کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا، یہاں تک کہ جب عام لوگوں کا حال یہ ہوجائےکہ وہ برائی اپنے درمیان ہوتے دیکھیں اور وہ اس پر نکیر کرنے پر قادر بھی ہوں لیکن وہ اسے نشانہ تنقید نہ بنائیں، جب ایسا ہونے لگے تو اللہ تعالی کا عذاب خاص اور عام سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔“ (مسند احمد: 4/192)

ایک دوسری روایت میں اس فریضے کے ترک پر یہ وعید سنائی گئی ہے کہ تم عذاب الہی کے مستحق بن جاؤ گے، پھر تم اللہ سے دعائیں بھی مانگو گے تو قبول نہیں ہوں گی۔ (مسند احمد: 5/389)

اس لیے معاشرے میں ایسے لوگوں کا وجود نہایت ضروری ہے جو نہ صرف منکرات سے باز رہنے والے ہوں بلکہ دوسروں کو بھی اس کے ارتکاب سے روکتے رہتے ہوں اور منکرات سے مفاہمت یا مداہنت کرنے والے نہ ہوں۔ ورنہ برائی سے مفاہمت یا اس کے معاملے میں مداہنت غضب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ أعاذنا اللہ منہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تلاوت

مؤيد عبد الفتاح حمدان

ترجمہ وتلخیص : مبصرالرحمن قاسمی(کویت)

1- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قرآن پڑھنے کا ارادہ کرتے تو  اللہ تعالی کے حکم: فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ )النحل:98( پر عمل کرتے تھے۔ترجمہ:”اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو .قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جمہور کے قول کے مطابق قرآن شروع کرنے سے پہلے {اعوذ بِاللَّـهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ} پڑھنا مستحب ہے(تفسیر قرطبی (1-86))

2-نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی سورہ شروع سے پڑھتے تو بسمِ اللہ سے شروع فرماتے : حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ” ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ اتنے میں آپ پر کچھ اونگھ سی طاری ہوئی، پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سرِ مبارک اٹھایا۔ بعض روایات میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا آپ کس بات پر تبسم فرما رہے ہیں؟ اور بعض میں ہے کہ آپ نے خود لوگوں سے فرمایا: اِس وقت میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر آپ نے سورۂ کوثر پڑھی۔” (رواہ مسلم(400)۔

3- نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قرآن پڑھنا شروع فرماتے تو  ترتیل سے یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے: آپ صلی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے ان ارشادات کو بخوبی بجالاتے تھے:  “وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا” (مزمل)  ترجمہ: اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔ الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کو آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، تاکہ  امت پر ظاہر ہوجائے کہ وہ قرآن کس طرح پڑھیں، اورکس طرح سمجھیں۔

4- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت واضح ہوتی تھی، آپ تلاوت فرماتے تو ہر حرف  کوجدا جدا  ادا فرماتے (اسنادہ صحیح، صححہ الألبانی  فی صفۃالصلاۃ ص: 124  )،  پڑھنے میں عجلت نہیں فرماتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر آیت پر وقف فرماتے تھے : حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھتے ہوئے ہر آیت پر وقف کرتے تھے یعنی اس طرح پڑھتے الحمدللہ رب العالمین پھر ٹھہرتے، پھر پڑھتے الرحمن الرحیم پھر رکتے اور پھر پڑھتے ملک یوم الدین (اور پھر ٹھہرتے) . (رواہ الترمذی (2927) وصححہ الالبانی)

5- آپ صلی اللہ علیہ وسلم آواز کو کھینچ کر تلاوت فرماتے تھے: حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے پوچھا : “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طریقے سے تلاوت قرآن فرمایا کرتے تھے؟ تو انھوں نے جواب میں فرمایا:  آپ صلی اللہ علیہ وسلم آواز کو کھینچ کر تلاوت فرمایا کرتے تھے۔” ( رواہ النسائی (1014)   وصححہ الالبانی۔)

اور ایک روایت میں ہے حضرت قتادہ بیان فرماتے ہیں: حضرت انس سے دریافت کیا گیاکہ “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کا طریقہ کیا تھا؟ تو انھوں نے فرمایا: آپ کی تلاوت  کھینچ کر ہوتی تھی، پھر انھوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا، اور بسم اللہ  میں مد کو کھینچا، الرحمن کے مد کو کھینچا اسی طرح الرحیم کے مد کو کھینچ کر پڑھا۔” ( رواہ البخاری)

6 –  آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوران تلاوت ہر ہر آیت پر غور فرماتے تھے: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ انھوں نے حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے عجیب چیز کیا دیکھیں؛ تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:  “ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! مجھے چھوڑدو کہ میں رات میں میرے رب کی عبادت کروں، انھوں نے کہا: بخدا !  مجھے آپ کی قربت محبوب ہے، اور مجھے ہر وہ چیز پسند ہے جس سے آپ خوش ہوتے ہیں، فرماتی ہیں: پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، وضو فرمایا اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہوگئے، فرماتی ہیں: دوران نماز آپ برابر روتے رہے حتی کہ آپ کا گود تر ہوگیا، فرماتی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روتے رہے حتی کہ آپ کی داڑھی مبارک بھی تر ہوگئی، فرماتی ہیں: پھر آپ روتے رہے حتی کہ زمین تر ہوگئی، پھر حضرت بلال نماز کے لیے اذان دینے آئے، جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کیوں روتے ہیں حالانکہ اللہ تعالی نے آپ کا اگلا پچھلا سب معاف کردیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں…” (رواہ ابن حبان فی صحیحہ (620) قال شعیب الارنوط: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم)

7-  آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات نماز میں بڑی بڑی سورتیں پڑھا کرتے تھے؛ جب کسی رحمت والی آیت سے گذرتے تو ٹھہر جاتے اور اللہ سے اس کا فضل مانگتے، جب کسی ایسی آیت سے گذرتے جس میں عذاب کا ذکر ہے ٹھہرجاتے اور اللہ کی پناہ طلب کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گذرتے جس میں اللہ کی پاکی بیان کی جارہی ہے تو آپ اس پر اللہ کی پاکی بیان کرتے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں:  “ایک دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے سورہ بقرہ شروع فرمائی، میں نے دل میں کہا: سو آیات پر ایک رکعت فرمائیں گے، لیکن آپ نے جاری رکھا، پھر میں نے خیال کیا کہ آپ ایک رکعت میں پوری سورت پڑھیں گے لیکن آپ نے جاری رکھا، پھر میں نے خیال کیا کہ آپ سورہ مکمل کرکے رکوع فرمائیں گے لیکن آپ نے اس کے بعد سورہ نساء شروع کی، اورپھر سورہ آل عمران شروع کردی اور اسے بھی مکمل کیا، آپ ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہے تھے، آپ جب کسی ایسی آیت سے گذرتے جس میں تسبیح ہوتو اللہ کی پاکی بیان فرماتے، اور جب کسی سوال والی آیت سے گذرتے تو اللہ سے سوال کرتے اور جب پناہ والی آیت سے گذرتے تو اللہ کی پناہ طلب کرتے۔” ( مسلم :772  )

8-تلاوت کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں نم رہتی اور آپ کے سینے مبارک سے رونے کی وجہ سے ہانڈی کے پکنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ عبداللہ بن  شخیر   رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ کے سینے سے رونے کی وجہ سے ہانڈی کے پکنے کی طرح آواز آرہی تھی۔( رواہ ابن حبان (753) وقال شعیب الارنووط اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔)

9- آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوبصورت آواز میں تلاوت فرماتےتھے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء (کی نماز) میں سورۃ التین ) وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُونِ ( پڑھتے ہوئے سنا، اور میں نے کسی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی آواز اور قرات والا نہیں سنا۔ (رواہ الدارمی(3501)، صححہ البانی فی صحیح الجامع (3145))

10- آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا حکم دیتے تھے: ارشاد گرامی ہے: “اپنی آواز کے ذریعے قرآن کو حسن بخشو، کیونکہ اچھی آواز قرآن کے حسن کو دوبالا کرتی ہے .” (رواہ ابوداود (1468)، صححہ البانی) اور ایک روایت میں ہے: ”اپنی آواز کے ذریعے قرآن کو زینت بخشو “۔ (رواہ الطبرانی:  10032، حسنہ الالبانی فی السلسلہ الصحیحہ  1815)

11- آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ خوش الحانی سے قرآن پڑھتے تھے: “وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن مجید کو خوب خوش اِلحانی کے ساتھ نہیں پڑھتا”۔   (رواہ ابوداود   (1471)، صححہ البانی، والحدیث اصلہ فی الصحیحین)  ابن ابی ملیکہ مذکورہ حدیث کے ایک روای ہیں سے کہا گیا: ”اے ابو محمد! تمہاری کیا رائے ہے، اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا: اس کے لئے جہاں تک ممکن ہو خوبصورت آواز میں پڑھنے کی کوشش کرے۔( رواہ ابوداود (1471)، حسنہ البانی)

12 – آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے افراد کی حسن قراءت کی تحسین فرماتے تھے اور اللہ کا شکر ادا کرتے تھے: اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ایک رات عشاء کے بعد مجھے(حاضر خدمت ہونے میں) دیر ہوگئی، پھر میں آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہاں تھیں؟ میں نے کہا: میں آپ کے ایک صحابی کی قراءت سن رہی تھی، میں نے کسی اور کی ایسی (عمدہ) قراءت اور آواز نہیں سنی، اُم المومنین نے بیان فرمایا: اللہ کے نبی اٹھ کھڑے ہوئے، میں بھی اٹھ کر آپ کے ساتھ گئی حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی قراءت سنی، پھر میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: یہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولی سالم ہیں، اللہ کی تعریف ہے (اور اس کا شکر ہے) جس نے میری امت میں ایسے افراد پیدا فرمائے۔ ( رواہ ابن ماجہ (1338) وصححہ الالبانی)

13-نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بآواز بلند قرآن  پڑھتےتھے اور کبھی دھیمی آواز سے: حضرت عضیف بن حارث کہتے ہیں میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کو  بآواز بلند پڑھتے تھے یا آہستہ آواز سے؟ کہا: کبھی بآواز بلند پڑھتے اور کبھی دھیمی آواز سے، میں نے کہا اللہ اکبر الحمدللہ، اللہ نے اس کام میں وسعت رکھی۔( ابن ماجہ   (1354)،  وقال البانی حسن صحیح)

14-  آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ٹیک لگا کر بھی قرآن پڑھتے تھے:  حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم (ازواج مطہرات)  میں سے  کسی  کے گود میں سر رکھتے تھے اور قرآن پڑھتے تھے جبکہ وہ حیض  سے ہوتی تھیں۔

15-  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کا مستقل دور فرمایا کرتے تھے اور کبھی  بھی اپنے معمول کو ترک نہیں فرماتے تھے: حضرت اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد ہمارے ہاں روزانہ تشریف لاتے اور بات چیت کرتے تھے، ابو سعید  کہتے ہیں: آپ اپنے پاوں پر کھڑے کھڑے باتیں کرتے اور زیادہ دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے کبھی ایک پاوں پر زور دے کر کھڑے ہوتے کبھی دوسرے پر، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالعموم اپنی قوم قریش کے ساتھ گزرے حالات بیان کرتے، فرماتے: ہم مکے میں برابر نہ تھے، بلکہ کمزور وناتواں تھے، جب ہم مدینے آگئے تو ہم میں اور ان میں لڑائی شروع ہوگئی، کبھی ہم ان پر غالب آتے کبھی وہ،  ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مقررہ وقت پرآنے میں تاخیر کردی تو ہم نے کہا آج آپ تاخیر سے تشریف لائے ہیں؟ فرمایا: میرا ایک جزء قرآن کا رہتا تھا ، میں نے اس کی تلاوت مکمل کیے بغیر آنا پسند نہ کیا۔ اوس کہتے ہیں: میں نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کیا کہ آپ لوگ قرآن کے حصے کس طرح کرتے ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ پہلا حصہ تین سورتوں کا، (بقرہ، آل عمران اور نساء)دوسرا حصہ سات سورتوں کا (مائدہ سے براءۃ تک) تیسرا حصہ  سات سورتوں کا  (یونس سے نحل تک)چوتھا حصہ نو سورتوں کا (بنی اسرائیل سے فرقان تک) پانچواں حصہ گیارہ سورتوں کا (شعراء سے یس تک) چھٹا حصہ تیرہ سورتوں کا  (صافات سے حجرات تک)  اور ساتواں حصہ مفصل کا (یعنی ق سے  الناس تک)

16- نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال اپنے معلم اول جبریل کو  قرآن سناتے تھے:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ہر سال(رمضان) میں ایک مرتبہ حضرت جبریل کو قرآن سناتے تھے اور جس سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس سال آپ نے دو مرتبہ قرآن سنایا۔

17-  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماہر قراء سے قرآن سیکھنے کا حکم فرماتے تھے:حضرت مسروق بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت عبداللہ کا ذکر کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: وہ ایک ایسے انسان ہے جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو سننے کے بعد سے ، ان سے میں برابر محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: چار لوگوں سے قرآن سیکھو: عبداللہ بن مسعود سے، حضرت ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم سے، معاذ بن جبل سے اور اُبی بن کعب سے۔

18- نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے علاوہ سے قرآن سننا پسند فرماتے تھے: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے سامنے قرآن پڑھو!  عبداللہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں آپ کے سامنے پڑھوں حالانکہ قرآن آپ پر نازل ہوا؟  فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اپنے علاوہ سے سنوں، تو میں نے سورہ نساء پڑھی، حتی کہ میں اس آیت پر پہنچا : ” فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا ﴿النساء:41﴾ (پھر) میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو جاری ہیں۔” ( ترجمہ: بھلا اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے۔ ) اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:  کُفَّ (بس کرو) یا فرمایا: اَمسِك (رک جاو)، پس آپ کے آنسو جاری تھے۔ ( رواہ البخاری:  4762 و مسلم:  800)

دینی ماحول کی فراہمی ۔ والدین کی اہم ذمہ داری

مولانا خالد سیف ﷲ رحمانی

انسان کی فطرت میں بنیادی طورپر خیر کا غلبہ ہے، اسی لیے  ہر شخص سچائی، انصاف، دیانت داری، مروت اور شرم و حیا کو قابل تعریف سمجھتا ہے اور اس کے مقابلہ میں جھوٹ، ظلم، خیانت، بے مروتی اور بے حیائی کو ناپسند کرتا ہے، یہاں تک کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص جھوٹ بولتا ہے؛ لیکن اگر کوئی شخص اس کو جھوٹا کہہ دے تو اس سے اس کو تکلیف پہنچتی ہے اور بعض اوقات یہ اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، انسان بعض دفعہ بے حیائی کا کام کرتا ہے؛ لیکن اپنے عمل پر پردہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے، یہ دراصل فطرت کی آواز ہے؛ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر بچہ اپنی فطرت کے اعتبار سے اسلام پر پیدا ہوتا ہے، یعنی اللہ کی فرمانبرداری کے مزاج پر پیدا کیا جاتا ہے؛ لیکن اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں:

’’ کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ، او ینصرانہ او یمجسانہ‘‘ ( مسند احمد، حدیث نمبر: 7181)

لیکن خارجی حالات کی وجہ سے بہت دفعہ انسان اپنی اصل فطرت سے ہٹ جاتا ہے، اس کا رجحان گناہ کی طرف بڑھنے لگتا ہے، ظلم و ناانصافی، بے حیائی و بے شرمی، کبر وغرور اور دوسروں کی تحقیر سے اس کے قلب کو تسکین ملتی ہے، یہ انسان کی اصل فطرت نہیں ہے؛ بلکہ خارجی عوامل کی وجہ سے پیدا ہونے والا انحراف ہے !

جو خارجی عوامل انسان پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں، وہ بنیادی طورپر دو ہیں : ایک : ماحول، دوسرے : تعلیم، تعلیم کا مطلب تو واضح ہے،  ماحول کے اصل معنی گرد و پیش کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے، فکر و نظر اور عملی زندگی میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، پانی کی اصل فطرت ٹھنڈا ہونا ہے،  وہ نہ صرف خود ٹھنڈا ہوتا ہے؛ بلکہ دوسرے کو بھی ٹھنڈک پہنچاتا ہے؛ لیکن جب سخت گرمی اور تپش کا موقع ہوتا ہے اور دُھوپ کی تمازت بڑھی ہوئی ہوتی ہے تو پانی بھی گرم ہوجاتا ہے اور پینے والوں کی پیاس بجھائے نہیں بجھتی، اسی طرح انسان پر اس کے ماحول کا اثر پڑتا ہے ۔

اگر اس کو نیک، شریف، با اخلاق لوگوں کا ماحول میسر آجاتا ہے تو اس کی فطری صلاحیت پروان چڑھتی ہے اور اس کی خوبیاں دو چند ہوجاتی ہیں، اس کی مثال ایسی ہے، جیسے پانی میں برف ڈال دیا جائے کہ اس سے اس کی ٹھنڈک اور بڑھ جاتی ہے اور یہ پانی پیاسوں کے لیے اکسیر بن جاتا ہے، اگر اس کو غلط ماحول ملے تو اس کے اندر جو خوبیاں تھیں وہ بھی بتدریج ختم ہوجاتی ہیں، اس کی مثال اس صاف شفاف پانی کی ہے، جس کے اندر کسی نے گندگی ڈال دی ہو ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماحول کی اہمیت اور اس کے اثرات کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  نیک آدمی کی مثال اس شخص کی ہے جو مشک رکھے ہوا ہو، اگر تم کو اس سے مشک نہ مل سکے تو خوشبو تو مل جائے گی، اور خراب آدمی کی دوستی و ہم نشینی کی مثال بھٹی دُھونکنے والے کی ہے، اگر تمہارا کپڑا نہ جلے تو کم سے کم اس کے دُھوئیں سے نہ بچ سکوگے۔ ( بخاری ، باب المناسک ، حدیث نمبر : 5534 ، مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الزہد ، حدیث نمبر : (34819 ماحول کی اسی اہمیت کی وجہ سے قرآن و حدیث میں اس کی خاص طورپر تاکید کی گئی ہے کہ انسان اچھے ماحول میں رہے اور خراب ماحول سے اپنے آپ کو بچائے،اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تم راست گو اور راست عمل لوگوں کے ساتھ رہا کرو: ’’ کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْن‘‘۔ ( توبہ : 119)

مدینہ تشریف لانے کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے تمام مسلمانوں پر یہ بات واجب قرار دی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقہ کو چھوڑ کر مدینہ میں آکر مقیم ہوجائیں؛ چنانچہ جزیرۃ العرب کے طول و عرض سے صحابہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں آباد ہوگئے، ہجرت کرنے والوں کی تعداد چند سو تھی؛ لیکن فتح مکہ کے موقع کے سے جو لوگ آپ کے ہم رکاب تھے، ان کی تعداد دس ہزار تھی، اور ظاہر ہے کہ فتح مکہ کی مہم میں ایسا نہیں ہوا تھا کہ مدینہ بالکل خالی ہوجائے، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کے علاوہ بہت سے جوان بھی مدینہ میں موجود رہے ہوں گے؛ تاکہ مدینہ کا تحفظ خطرہ میں نہ پڑجائے، ان میں بیشتر لوگ ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے، ہجرت کے حکم کا بنیادی سبب یہی تھا کہ لوگوں کو ایک معیاری دینی ماحول ملے، جو وہ لوگوں کو دیکھ کر دین کو سیکھ سکیں اور اسلامی اخلاق کا نمونہ بن سکیں، یہ ماحول ہی کا اثر تھا کہ جو لوگ ظلم و جور، قتل و قتال، بے حیائی و بے شرمی اورشراب و کباب کے لیے مشہور تھے، انھوں نے ایک ایسی بلند پایہ سوسائٹی کا نقشہ چھوڑا کہ انبیاءکرام کے سوا زمین کے سینے پر اور آسمان کے سائے میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بافیض صحبت اور ماحول کا اثر تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف طریقوں پر ماحول سازی کا حکم دیا ہے جیساکہ گذرا ، آپ نے اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے، آپ نے ارشاد فرمایا کہ فرض نمازوں کے علاوہ دوسری نمازیں گھروں میں پڑھو، یہ افضل طریقہ ہے:

’’ فصلوا أیھا الناس فی بیویکم فإن افضل صلاۃ المرء فی بیتہ الا الصلاۃ المکتوبۃ‘‘ (بخاری ، کتاب الاعتصام، باب مایکرہ من کثرۃ السوال، حدیث نمبر: 7290)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو، اس کو قبرستان نہ بناؤ: ’’

اجعلوا من صلا تکم فی بیوتکم ولا تتخذوھا قبوراً‘‘ ( مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ ، حدیث نمبر : 777)

فقہاء نے بھی یہ بات لکھی ہے کہ فرض نمازوں کے پہلے اور بعد میں جو سنن مؤکدہ ہیں، انھیں گھر میں ادا کریں:

’’والأفضل فی السنن القبلیۃ والبعدیۃ اداؤھا فی المنزل‘‘ (حاشیۃ الطحطاوی، فصل فی بیان النوافل: 1؍30) ۔۔۔

غور کیجئے کہ مسجد سے زیادہ پاکیزہ جگہ کونسی ہوسکتی ہے اور نماز جیسی عبادت کے لیے کونسا مقام ہے جو اس سے زیادہ موزوں ہو ؛ لیکن اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنن و نوافل کو گھر میں پڑھنے کا حکم دیا ، بظاہر اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ اس کی وجہ سے گھر کا ماحول دینی بنے گا ، بچے جب اپنے بڑوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اکثر وہ ان کی نقل کرنے لگتے ہیں اورنماز کی اہمیت ان کے تحت الشعور میں بیٹھ جاتی ہے۔

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی خاص طورپر ترغیب دی ہے ، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ؛ بلکہ اس میں تلاوت کیا کرو ، خاص کر سورۂ بقرہ کی، کہ جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے، شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے:

’’ لا تجعلوا بیوتکم مقابر، إن الشیطان ینفر من البیت الذی تقرأ فیہ سورۃ البقرۃ‘‘ ( مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ، حدیث نمبر: 780 )

 گھر میں تلاوتِ قرآن ایک ایسا عمل ہے جو ماحول بنانے میں بہت مؤثر ہوتا ہے، گھر کے بچوں کے ذہن میں بھی یہ بات راسخ ہوجاتی ہے کہ ہمیں قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہئے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں ذکر کرنے کی فضیلت بیان کی ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا : جس گھر میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، اور جس گھر میں اللہ کا ذکر نہیں ہوتا ہے ، ان کی مثال زندہ اور مردہ شخص کی ہے:

’’مثل البیت الذی یذکر اﷲ فیہ، والبیت الذی لا یذکر اﷲ فیہ، مثل الحی والمیت‘‘ ۔ (مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب استحباب صلاۃ النافلہ فی بیتہ الخ، حدیث نمبر :779)

اسی طرح اس بات کو بھی بہتر قرار دیا گیا ہے کہ گھر میں کوئی جگہ نماز کے لیے مخصوص کرلی جائے، اگر گھر میں نماز پڑھنی ہوتو وہیں نماز پڑھی جائے، اس کو حدیث و فقہ کی کتابوں میں’ مسجد البیت‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، ماحول کو بگاڑ سے بچانے کی تدبیر کے طورپر شریعت کے اس حکم کو دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شخص کے مکان یا زمین کے پڑوس میں مکان یا زمین فروخت کی جائے تو پڑوسی کو اس میں حق شفعہ حاصل ہوتا ہے، اگر پڑوسی وہی قیمت ادا کرنے کو تیار ہو، جو قیمت دوسرا دے رہا ہے تو اس کو اس پڑوسی کے ہاتھ ہی بیچنا واجب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ہدایت فرمائی: ’’الجار أحق بشفعتہ جارہ ینتظر بھا الخ‘‘۔ ( سنن ابی داود، کتاب البیوع، باب فی الشفعۃ، حدیث نمبر: 3518)

ماحول کا اثر یوں تو ہر سن و سال کے لوگوں پر پڑتا ہے؛ لیکن بچوں پر اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے، انسان کے جسم میں سب سے پہلے دماغ کی نشوونما ہوتی ہے اور دماغ کی ترقی کا مرحلہ تیزرفتاری کے ساتھ طے پاتا ہے، اسی لیے بچوں میں کسی بات کے اخذ کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے، وہ بولنے والوں سے الفاظ سیکھتا ہے، چلنے والوں سے چلنے کا انداز سیکھتا ہے، اپنے بڑوں سے اُٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کے طریقے سیکھتا ہے، گانے سن کر گنگناتا ہے، گالیاں سن کر گالیاں ہی اس کی زبان پر چڑھ جاتی ہیں اور اگر اچھی باتیں سنے تو ان کو دوہراتا ہے، ماں باپ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو رُکوع و سجدے کی نقل کرتا ہے، مسجد جاتے ہوئے دیکھتا ہے تو مسجد جانے کی کوشش کرتا ہے، لڑکے اپنے والد کے سر پر ٹوپی دیکھ کر ٹوپی پہننا چاہتے ہیں اور لڑکیاں اپنی ماں کے سر پر اسکارف اور جسم پر برقعہ دیکھ کر اسکارف اور برقعہ پہننا چاہتی ہیں، غرضیکہ اس کا ذہن تیزی سے ماحول میں پیش آنے والی چیزوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

موجودہ حالات میں صورتِ حال یہ ہے کہ بچہ صبح سات بجے اسکول جانے کی تیاری کرتا ہے اور شام پانچ بجے یا اس کے بعد گھر واپس آتا ہے، جانے سے پہلے کا وقت سونے اور تیاری کرنے میں گذرجاتا ہے، واپسی کے بعد بھی مغرب تک کا وقت کھیل کود وغیرہ میں، گویا ان کا پورا دن اسکول کے ماحول میں گذرتا ہے، مغرب کے تین ساڑھے تین گھنٹے کے بعد بچے سوجاتے ہیں؛ کیوں کہ ان کی عمر کے لحاظ سے انھیں آٹھ گھنٹہ سونا چاہئے، اس تین چار گھنٹے میں انھیں اسکول کا ہوم ورک بھی کرنا ہے اور کھانا پینا بھی ہے؛ اس لیے بہت کم وقت ایسا بچتا ہے، جس میں وہ اپنے والدین اور بھائی بہنوں کے ساتھ بیٹھیں، کچھ وقت مغرب کے بعد اور کچھ وقت فجر کے بعد، عمومی صورت حال یہ ہے کہ والد آفس اور کاروبار سے اتنی دیر سے آتے ہیں کہ بچے نیند کی آغوش میں جاچکے ہوتے ہیں، ماں کھانا پکانے اور اگر خدانخواستہ ٹی وی دیکھنے کا شوق ہوتو ٹی وی دیکھنے میں اپنا وقت گذاردیتی ہیں، اکثر بچوں کے لیے ماں باپ کے پاس کوئی وقت نہیں ہوتا۔

اسکول کا ماحول یہ ہے کہ اگر عیسائی مشنری اسکولوں میں گئے تو وہ صبح سے شام تک عیسائی طورطریقوں کو برتتے ہوئے دیکھتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر اس طرح آویزاں ہوتی ہے کہ گویا وہ خدا ہیں اور بندوں پر اپنا دست کرم رکھ رہے ہیں، ہندو انتظامیہ کے تحت چلنے والے اسکولوں میں داخل ہوئے تو وہاں مورتیاں ہیں، وندے ماترم کا مشرکانہ ترانہ ہے، ہندو تہوار منائے جاتے ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ بچوں پر ہندو آئیڈیا لوجی نقش ہوکر رہ جائے، مسلم انتظامیہ کے تحت جو اسکول ہیں ان میں معیارِ تعلیم کے پست ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کا فقدان ہے، مخلوط تعلیم کا نظام ہر جگہ ہے، یونیفارم شرم و حیا کے تقاضا سے آزاد ہے، کلچرل پروگرام کے نام پر بے ہودہ ڈرامہ کرایا جاتا ہے اور لڑکیاں رقص کرتی ہیں، چند ہی مسلم ادارے اس سے مستثنیٰ ہیں اور وہ بہر حال قابل تحسین اور لائق تشکر ہیں۔

ان حالات میں ماں باپ کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں دینی ماحول بنائیں، چھٹی کے اوقات اور بچوں کی تعطیل کے ایام اپنے بچوں کے ساتھ گذاریں، ان اوقات میں انھیں ضروری دینی باتیں سکھائیں اور سمجھائیں، نماز اور تلاوتِ قرآن کا ماحول بنائیں، گھر کی خواتین ڈھکا چھپا باپردہ لباس پہنیں، گھر کے بڑے مرد و عورت آپسی گفتگو میں تہذیب و شائستگی اور باہمی ادب و احترام کا لحاظ رکھیں، زبان کی حفاظت کریں اور کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں جس میں بچوں سے تربیت کی باتیں کہی جاسکتی ہوں، موجودہ حالات میں اگر ہم نے بچوں کو دین و اخلاق سے ہم آہنگ ماحول فراہم نہیں کیا تو آئندہ نسل کے لیے بڑا خطرہ ہے؛ کیوں کہ ہمارا تعلیمی نظام بھی دین و اخلاق سے بیگانہ ہے اور تعلیم گاہ کا ماحول بھی اخلاقی بگاڑ کا شکار ہے، ان حالات میں اگر والدین نے بچوں کو مناسب ماحول فراہم کرنے کی کوشش نہیں کی تو یہ بچوں کے ساتھ یقیناً بڑا ظلم ہے اور ان کے والدین و سرپرست عند اللہ جوابدہ ہیں۔

حسد معاشرے کا رستا ہوا ناسور

محمد انور محمد قاسم السلفی (کویت)

مسلم معاشرہ آج جن جن روحانی بیماریوں کا شکار ہے اس میں ایک اہم ترین حسد کی بیماری ہے، یہ ایسی بری عادت ہے جس سے انسان کا جسم تو متاثر ہوتا ہی ہے، اس سے کہیں زیادہ اس کا دین اور ایمان برباد ہوتا ہے۔ حسد سے عموما حاسد کے رشتہ دار، دوست واحباب اور ملنے جلنے والے متاثر ہوتے ہیں، حسد معاشرے میں بغض، نفرت،عدوات کے بیج بوتا ہے، جس سے نظر بد، تعویذ، گنڈا، جادو ٹونا اور اس جیسے دیگر مکروہ اعمال کرنے کرانے کا ایک دروازہ کھل جاتا ہے، حسد سے محبت، شفقت، صلہ رحمی اور ایثار وقربانی کی بیخ کنی ہوتی ہے، حسد عظیم برائیوں کا سرچشمہ اور تباہ کن نتائج کی کنجی ہے، حسد دل میں کینہ اور عدوات پیدا کرتا ہے، معاشرے کو ڈھانے کے لیے کُدال ہے،کمینہ پن اور بد اخلاقی کی علامت ہے ۔اسی لیے تمام مذاہب نے حسد کی مذمت کی ہے اور اسے انسانیت کے لئے زہر ہلاہل قرار دیا ہے ۔

حسد کی تعریف:

حسد کے لغوی معنی کھجلانے اورکھوکھلا کرنے کے ہیں، حسد کو حسد اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ حاسد کے دل کو اندر سے کھوکھلا بنادیتا ہے۔حسد کا اصطلاحی معنی صاحب نعمت سےنعمتوں کے زوال کی تمنا کرنا ہے۔ امام جرجانی ؒ فرماتے ہیں: حسد صاحب نعمت سے نعمتوں کے زوال کی چاہت کرنا ہے اور حاسد تمنا کرتا ہے کہ وہ نعمتیں اس سے چھن کر مجھے مل جائیں۔

حسد کی مذمت احادیث میں:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے کئی احادیث مبارکہ میں اس مذموم عادت سے بچنے کی وصیت فرمائی ہے:

1-حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ”حسد نیکیوں کو ایسے کھاجاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے، اور صدقہ گناہ کو ایسے مٹادیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھادیتا ہے“۔ ( صحیح ، ابن ماجہ)

2- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :” تم گمان سے بچو ، اس لیے کہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے، تم آپس میں حسد نہ کیا کرو، جاسوسی نہ کیا کرو، بغض نہ رکھا کرو، بے رُخی نہ برتا کرو، دام بڑھانے کے لئے بولی نہ لگایا کرو، بلکہ اﷲ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو“ ۔ ( متفق علیہ)

3-  حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : ” تم میں گذشتہ اقوام کی بیماریاں در آئیں گی، جن میں سے حسد اور بغض بھی ہے اور یہ مونڈھ دینے والی ہوں گی، یہ بال نہیں بلکہ دین کا صفایا کردینے والی ہیں… “۔ ( ترمذی )

نظر بد بھی حسد کی ایک قسم:

 علماءکرام نے نظر بد کو بھی حسد کی ہی ایک قسم قرار دیا ہے، نظر بد لگانے والا حاسد ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ جس سے حسد کرتا ہے اسے بغض، یا پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے، اور دیکھتے ہوئے ماشاءاﷲ، یا الحمد ﷲ جیسے الفاظ نہیں کہتا، جس سے وہ شخص مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور یہ بات مسندابو نعیم سے ثابت ہے کہ نظر بد ایک اچھے بھلے جوان کو قبر میں پہنچا دیتی ہے اور صحت مند اونٹ کو ہانڈی میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ علیہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : ” نظر کا لگنا حق ہے، اگر کوئی چیز تقدیر سے پہلے اثر انداز ہوتی تو وہ نظر ہوتی،اس لیے جب تم میں سے کسی شخص سے غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو وہ غسل کرے “۔ ( متفق علیہ)

 یعنی اگر کسی شخص کے متعلق یہ پتہ چل جائے کہ اسے فلاں شخص کی نظر لگی ہے تو اس سے کسی ٹب میں وضو یا غسل کرواکر، وہ پانی متا ثر شخص پر اس کی پچھلی جانب سے پھینک دیا جائے تو اﷲ تعالیٰ اسے شفا عطا فرماتے ہیں ۔ اگر کسی شخص سے اس کی نظر کی وجہ سے وضو یا غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو اسے کرنا چاہئے ۔

حسد سے بچنے کی تدابیر:

 علماءکرام نے حاسدوں کے حسد سے بچنے کے لیے دس تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے ، اور وہ یہ ہیں-

۱) شیطان اور اس کے شر سے ہمیشہ اﷲ کی پناہ طلب کی جائے، اسی طرح حاسدوں کے حسد سے بھی۔ اس کے لیے صبح اور شام کے اذکار تیر بہدف نسخہ ہیں ۔ روزانہ صبح وشام آیۃ الکرسی کی تلاوت کی جائے اور رات میں سوتے وقت معوذتین (قل اعوذ برب الفلق ، قل اعوذ برب الناس )تین تین مرتبہ پڑھ کر اپنی دونوں ہتھیلیوں پر دم کرکے سارے جسم پر ہاتھ پھیر لے ۔

۲) اﷲ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے ، کیونکہ جو شخص اﷲ سے ڈرتا ہے اﷲ اس کی حفاظت فرماتا ہے اور اسے کسی دوسرے کے حوالے نہیں کرتا ۔

۳) دشمنوں کی دشمنی پر صبر کرے ، اس لئے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ، دشمن کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ کرے ، اس کا صبر ہی اس کے دشمن پر سب سے بڑی فتح ہے ۔

۴) اﷲ کی ذات پر توکل اور بھروسہ کرے ، کیونکہ جو شخص اﷲ پر توکل کرتا ہے اﷲ اس کے لئے کافی ہے ۔

۵) دل کو ان خیالات سے خالی کرلے کہ کوئی مجھ سے حسد یا دشمنی کررہا ہے ، کیونکہ بسا اوقات انسان کو اس کا یہی احساس ،کہ میرا کوئی دشمن یا حاسد ہے ، نقصان پہنچاتا ہے ۔

۶) اﷲ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کی پابندی ، دل میں اس کی محبت اور اسی کی جانب انابت اور رجوع اور اسی کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنالینا ۔ یہ وہ امور ہیں جن سے بندہ اﷲ کا مقرب بن جاتا ہے ۔

۷) اﷲ کی جناب میں توبہ واستغفار ۔ کیونکہ اﷲ کا فرمان ہے : ” تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے ہی ہے ،،۔( شوریٰ : ۰۳)

۸) صدقہ وخیرات کرنا ۔ اس سے بھی بلائیں اور مصیبتیں دور ہوتی ہیں اور یہ حاسدوں کے حسد اور نظر بد سے بچنے کا مجرب نسخہ ہے ۔

۹) حاسدوں کے ساتھ احسان کرنا۔ اس سے بھی آدمی حاسدوں کے شر سے بچ سکتا ہے، ہوسکتا ہے کہ حاسد کو اﷲ تعالی حسد چھوڑنے کی توفیق دے دے اور وہ بجائے دشمنی کے دوستی اور بھلائی کرنے لگ جائے ۔

۱۰) انسان توحید پر قائم رہے اور یہ جان لے کہ اﷲ کے سوا کسی میں بھی نفع یا نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں ہے، اگر فائدہ ہوا تو اسی وجہ سے ہوا کہ یہ اﷲ نے میرے لیے لکھ رکھا تھا، اگر نقصان پہنچتا ہے تو بھی ایک مسلمان اس بات پر ایمان رکھے کہ مجھے جو بھی تکلیف پہنچی ہے اسی لیے پہنچی ہے کہ اﷲ نے میرے لیے لکھ دیا تھا ۔یہ دس باتیں اور اسباب ہیں جن سے انسان حاسدوں کے حسد سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

حاسد کا عبرت ناک انجام:

 بکر بن عبد اللہ کہتے ہیں : ” ایک نیک شخص کسی بادشاہ کا مقرب اور وفادار تھا،وہ بادشاہ کے جوتوں کا انتظام کرتا تھا،اور بادشاہ بھی اس کی نیکوکاری اور پرہیز گاری کی وجہ سے اس سے محبت کرتا تھا، وہ جب بھی بادشاہ کی محفل میں آتا تو اسے عموما یہ ضرب المثل بیان کرکے نصیحت کرتا: ”اپنے محسن کے ساتھ اس کے احسان کی وجہ سے اچھا سلوک کرو، رہا برائی کرنے والا تو اس کی برائی ہی اسے ختم کرنے کےلیے کافی ہے“۔ درباریوں میں سے ایک سخص کو اس سے حسد تھا، اس کی پوری خواہش یہی تھی کہ بادشاہ کو اس سے بدظن کرادیا جائے تاکہ یہ دربار کا مقرب نہ رہے۔ اس نے اس کے لیے بے شمار تدابیر اختیار کیں لیکن ہرایک میں ناکام رہا ۔ ایک دن موقع پاکر اس نے بادشاہ کے کان بھرے کہ:” یہ شخص جو آپ کا نہایت مقرب ہے حقیقت میں آپ کا بدخواہ ہے، اس نے لوگوں کے درمیان آپ کے خلاف کئی بات مشہور کررکھی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کے منہ سے نہایت گندی بدبو آتی ہے“ ۔ بادشاہ نے پوچھا: تمہارے اس الزام کا ثبوت کیا ہے؟ حاسد بولا : آپ اس شخص کو شام کے وقت بلوائیں اور اپنے قریب کریں گے تو آپ خود ہی دیکھ لیں گے کہ یہ شخص اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے گا ، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ سونگھ سکے “۔ بادشاہ نے کہا :” تم جاؤ ہم خود اس کی تصدیق کرلیں گے“۔ وہ شخص وہاں سے اٹھا اور سیدھا اس آدمی کے پاس گیا اور اسے کھانے کی دعوت دی، کھانے میں جان بوجھ کر پیاز اور لہسن جیسی بودار چیزیں شامل کیا، اس بےچارے کو حاسد کی چال کا قطعی علم نہیں تھا، اس نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور پھر بادشاہ کے دربار میں گیا، بادشاہ نے اسے اپنے قریب آنے کو کہا، جب وہ قریب آیا تو اسے اور قریب آنے کے لیے کہا، جب وہ بادشاہ کے بہت زیادہ قریب ہوا تو اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تاکہ اس کے منہ کی بدبو بادشاہ کو تکلیف نہ پہنچائے۔ اب بادشاہ کا شک یقین میں بدل گیا، اس نے یقین کرلیا کہ یہ شخص واقعی میرا مخلص نہیں ہے تو اس نے قلم دوات منگوایا اور اپنے ہاتھ سے اپنے کسی عامل کے نام یہ فرمان تحریر کیا کہ :” یہ حامل رقعہ جب تمہارے پاس پہنچے تو اسے قتل کرکے اس کی کھال اتار کر اس میں بھس بھر کر میرے پاس روانہ کرنا“۔

بادشاہ کے متعلق مشہور تھا کہ جب بھی وہ کسی کو کوئی گرنقدر انعام یا عطیہ دیتا تو اس کا فرمان اپنے ہاتھ سے ہی لکھتا ۔یہ شخص جب فرمان لے کر دربار سے باہر نکلا تو حاسد اسے دروازے کے پاس ہی مل گیا، اس نے پوچھا : یہ کیا لے کر جارہے ہو؟ اس آدمی نے جواب دیا کہ : بادشاہ نے اپنے ہاتھ سے فرمان لکھا ہے ۔ یہ سنتے ہی حاسد کی رال ٹپکنے لگی، اس نے سمجھا شاید بادشاہ نے اپنی عادت کے مطابق انعامی رقم لکھی ہوگی، اس نے نہایت ہی لجاجت اور چاپلوسی سے عرض کیا کہ یہ شاہی فرمان مجھے دے دو ۔ اس آدمی نے کہا : جاؤ اب یہ خط تمہارا ہے ۔ حاسد خوشی بخوشی یہ فرمان لے کر اس عامل کے پاس گیا، تو خط پڑھتے ہی عامل نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اس شخص کو رسیوں سے جکڑ دو ۔ اس نے کہا : میں انعام حاصل کرنے کے لیے آیا تھا ۔ عامل نے کہا : وہ بھی جلد ہی تمہیں مل جائے گا ۔پھر خط کے مضمون سے اس حاسد کو واقف کرایا تو چیخ پکار مچانے لگا ، اﷲ کی دہائی دینے لگا کہ یہ فرمان بادشاہ نے میرے لیے نہیں بلکہ فلاں شخص کے لیے لکھا تھا، چاہیں تو بادشاہ سے مراجعہ کرلیں۔ عامل نے کہا : بادشاہ کے خط کا مراجعہ نہیں ہوتا، پھر اس کو قتل کرکے اس کی چمڑی ادھیڑ کر اس میں بھس بھر کر دوسرے دن بادشاہ کی خدمت میں روانہ کردیا۔

دوسرے دن نیک آدمی بادشاہ کی خدمت میں پہنچا، اور اپنی عادت کے مطابق اسے نصیحت کی کہ :”اپنے محسن کے ساتھ اس کے احسان کی وجہ سے اچھا سلوک کرو، رہا برائی کرنے والا تو اس کی برائی ہی اسے ختم کرنے کےلیے کافی ہے“۔بادشاہ نے اسے دیکھ کر پوچھا : کیا تم ابھی تک زندہ ہو ؟ جب کہ میں نے کل تمہارے قتل کا فرمان لکھا تھا ۔اس نے ماجرا سنایا تو بادشاہ نے کہا: اس شخص نے تو مجھے بتایا تھا کہ تم میرے بارے میں کہتے ہو کہ میرے منہ سے بدبو آتی ہے ۔ کیا سچ ہے؟ اس نے کہا : حاشا وکلا میں نے تو ایسی بات کبھی نہیں کی۔ بادشاہ نے کہا : اچھا بتاؤ کل جب میں نے تمہیں بلایا تھا تو تم نے اپنے منہ پر ہاتھ کیوں رکھ لیا تھا ؟ وہ کہنے لگا : بادشاہ سلامت! حقیقت تو یہ ہے کہ کل اس شخص نے مجھے کھانے کی دعوت دی، جس میں مجھے خوب لہسن وغیرہ کھلایا، میں نے ہاتھ اس لیے منہ پر رکھ لیا تھا کہ کہیں آپ کو اس کی ناگوار بو سے تکلیف نہ ہو۔بادشاہ نے کہا : تم سچ کہتے تھے، تم اپنی ڈیوٹی پر واپس چلے جاؤ، رہا تمہارے ساتھ برائی کرنے والے کا معاملہ تووہ خود اپنی برائی کے انجام کو پہنچ چکا ہے۔

مسلمانوں کی تاریخ معجزوں سے بھری ہوئی ہے

 ثناء اللہ صادق تیمی

 الرئاسۃ العامۃ لشؤون المسجد الحرام و المسجد النبوی

قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب ایسا لگتا ہے کہ جیسے اب ان قوموں کا مٹ جانا طے ہے ۔ کتاب حیات سے ان کے صفحات ہمیشہ کے لیے کھرچ کر الگ کردیے جائیں گے اور روئے زمین پر ان کا نام لیوا کوئی نہ رہ جائے گا ۔ بہت سی قوموں اور تہذیبوں کے نام و نشان مٹے بھی ہیں اوروہ صحیح معنوں میں نسیا منسیا کی مثال بھی بنے ہیں ۔ امت مسلمہ کی تاریخ پر نظر دوڑائیے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ تاریخ میں کئی موڑ ایسے آئے جب لگنے لگا کہ اس امت کی بساط لپیٹ دی جائے گی ۔ لیکن ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ کا سب سے روشن تجربہ یہ ہے کہ سورج کی مانند یہ امت کبھی غروب نہ ہوسکی ۔ اقبال نے کہا ہے ۔

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں

ادھر ڈوبے ادھر نکلے ، ادھر ڈوبے ادھر نکلے

ہماری شروعات ہی ایسی ہوئی کہ جیسے ایک چراغ مسلسل آندھی کی زد میں ہے ۔ لیکن مکہ کی پوری کافر برادری اپنے سارے سازو سامان ، آن و بان اور قوت وشہامت کے باوجود اس سراج منیر کا کچھ بھی بگاڑ پانے میں ناکام رہی ۔ اسے رسول الامۃ کا معجزہ نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے کہ جس دعوت کی شروعات ایک فرد نے کی تھی، جسے ستایا گیا تھا، جان لینے کی کوشش کی گئی تھی، جس کے نادار ماننے والوں پر ظلم و عذاب کی ساری سنتیں تازہ کر دی گئی تھیں، جسے خود اپنے شہر سے نکل جانے پر مجبور کردیا گیا تھا وہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم  آٹھ سال کی مختصر مدت میں بحیثيت فاتح لوٹتا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ اس کے سامنے اس کے سارے دشمن سرنیچا کیے عفوو درگذر کے سوالی بنے کھڑے ہیں ۔ غور سے دیکھیے تو مسلمانوں کی تاریخ ہی معجزوں کی تاریخ ہے ورنہ مضبوط پٹھوں والے نوجوانوں کے بیچ سے سورۃ یس کی ابتدائی آیتیں پڑھ کر نکل جانا آسان تھا کیا ۔ در اصل یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی ۔ تین سو تیرہ کے نہتھے جتھے کا ایک ہزار کے مسلح لشکرکو چت کردینا اور غزوہ احزاب میں باد  صر صر کے ذریعہ دشمنان اسلام کے خیمے میں ہلچل پیدا کرکے مسلمانوں کی حفاظت ہم سے کیا کہتی ہے؟

 رسول کائنات کی وفات کے بعد ارتداد اور مانعین زکوۃ کے فتنے نے جس طرح سر اٹھایا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی موت کے بعد مسلمان جس طرح سے ٹوٹے ہوئے تھے لگ تو ایسا رہا تھا کہ بس اب اس قافلے کے بکھر کر مٹ جانے کا وقت آگیا ہے لیکن صرف ایک آدمی کی بصیرت اور ایمان نے ایسا سماں پیدا کردیا کہ چاروں طرف مسلمانوں کی قوت کی دھاک بیٹھ گئی ۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جس طرح سے گھیر کر بلوائیوں نے ظلم و تعدی کے سارے حدود پار کرتے ہوئے شہید کردیا ، سوچا جا سکتا ہے کہ مظلومیت اور حق کی کسمپرسی کی کیا کیفیت رہی ہوگی کہ لمبی چوڑی اسلامی حکومت کے فرمانروا کو یوں قتل کردیا جائے ۔ جنگ جمل اور جنگ صفین کے وہ لمحات کیسے رہے ہونگے جب ایک مسلمان کے مد مقابل دوسرا مسلمان رہا ہوگا ۔ تاریخ کے تجربات نے تاریخ سے یہی کہا ہوگا کہ اب اس قوم کا آخری وقت آرہا ہے لیکن یہ دیکھیے کہ امت بنو امیہ کی خلافت میں کس قوت سے ابھر رہی ہے ۔

 تاتاریوں نے قتل و خون کا جو ننگا ناچ ناچا ہے اور امت کے اوپر جس قسم کا عذاب مہین نازل ہوا ہے کس کے گمان میں تھا کہ اللہ تبارک وتعالی اسی خونریز قوم کو کہ ایمان والوں کو مٹانے کے لیے اٹھی ہے ، ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنا دے گا ۔ یہ اس امت کا کیسا معجزہ ہے !!

ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

دور کیوں جائیے  ہندوستان ہی کی تاریخ کو ذہن میں رکھ لیجیے ۔ اور اس میں بھی مغلوں کی شاندار سلطنت کی نہیں بلکہ آزادی کے بعد تقسیم کی کوکھ سے جنم لینے والی اس صورت حال کو ذہن میں رکھ لیجیے جب پوری قوم بحیثيت قوم خوف کی نفسیات میں جی رہی تھی ۔ جب آئے دن فسادات کے نہ جانے کتنے گولے داغے گئے، باضابطہ پلاننگ کرکے ان شہروں کو فسادات کی آگ میں جھونکا گیا جہاں ہماری معیشت مضبوط تھی ۔ فسطائی ذہنیت نے وہ ہنگامہ کھڑا کیا کہ 1992 میں بابری مسجد ڈھائی گئی اور ملک کے چاروں طرف الٹے ہمیں ہی نشانہ بنایا گیا ۔ ہمارے خلاف تعصب کے سارے بچھو آزمائے گئے اور نفرت کے سانپ کو ہمارے پیچھے چھوڑ دیا گیا لیکن انجام کار کیا ہوا ؟ کیا ہم مٹ گئے ؟ کیا ہماری بساط الٹ دی گئی ؟ کیا ہمارا ایمان اور ہمارے اعمال صالحہ کی روشنی مدھم پڑ گئی ؟ کیا حق و صداقت کے حاملین نے صبروشکیبائی کے ساتھ آگے کا سفر جاری نہيں رکھا ؟

اللہ کی قسم ہمارے دشمن کی یہ ذلت ہی ہے کہ انہوں نے درندگی اور سبعیت کے ایک پر ایک ریکارڈ بنا ڈالے لیکن انہيں کامیابی نہ مل سکی ۔ ہم نے ایمان، عمل صالح اورمضبوط قوت دفاع کے ذریعہ ہر طرح کی صورت حال کا مقابلہ کیا اور الحمد للہ سرخرو ہوئے ۔ ایسا نہیں کہ اس بیچ ہمارا نقصان نہيں ہوا، جانیں ضائع نہ گئیں، عصمتیں تارتار نہ ہوئيں، ہمارے جگرگوشوں پر آرے نہ چلائے گئے اور ہماری نگاہوں میں سلائیاں نہ پھیری گئیں لیکن یہ سچ ضرور ہے کہ ہم ڈوبے نہیں، ہم نے پسپائي اختیار نہ کی اوربحیثیت ایک قوم کے ہمارا سفربہر حال جاری رہا ۔

    قوموں کی زندگی میں برے وقت آتے ہیں ۔ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ آج ان کی حکومت ہے جن کے ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہيں، جن کی پہچان نفرت اور شعار تعصب ہے لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ یہ وقت سدا کے لیے باقی رہنے والا نہیں ہے ۔ دیکھ لیجیے کہ چہرے پر جو غازہ لیپا گیا تھا اب وہ پگھلنےلگا ہے، نفرت کے سوداگروں کو عوام پھر سے دھتکاررہے ہیں اور کوئی بعید نہیں کہ مشرق سے ابھرنے والا سورج کوئی اور ہی پیغام لے کر نمودار ہو ۔ ہمارا علاج نہ تو ہمت شکن خوف میں ہے اور نہ ایمان فروش بزدلی میں اور نہ حماقت آمیز جوش میں ۔ ہمارے مسائل کا حل ایمان، عمل صالح، ٹھوس حکمت عملی، بصیرت افروز پالیسی اورصبر وشکیبائی کے اس نور میں ہے جسے تقوی و پرہیزگاری قوت فراہم کرتی ہے ۔ اللہ کا ارشاد ہے :  ۖ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ (سورة آل عمران 120)  ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو.

   یاد رہے کہ ہمارا مخالف چال چل رہا ہے کہ خوف کا ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ پوری قوم ترقی کے راستے سے ہٹ جائے لیکن یہ دشمن کو بھی پتہ ہے کہ اب یہ قوم بیدار ہے، نگاہیں کھل چکیں ہیں، عقلوں نے تقلید کی بندشیں توڑ دی ہیں، ایمان میں قرار اور قوت ہے اور آگے بڑھنے کی امنگ،اندھیروں سے پریشان ہونے والی نہیں ہے ۔ بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی سے مالامال یہ قوم شب دیجور کے شکم سے صبح تازہ نکال کر ہی دم لے گی ۔ بقول شاعر غلام ربانی تاباں ۔

یہ رات بہت تاریک سہی ، یہ رات بھیانک رات سہی

اس رات کے سینے سے پیدا اک صبح درخشاں کرنا ہے

اور علامہ اقبال کی زبانی

میں ظلمت شب میں لے کے نکلونگا اب درماندہ کارواں کو

شرر فشاں ہوگی آہ میری ، نفس میرا شعلہ بار ہوگا

  بعض افراد ایسے ہیں جن کے ایمان کی کمزوری اور تجربے کی کمی نے انہیں شاہراہ حق وصداقت سے منحرف کردیا ہے، جنہوں نے دشمنوں کے خیمے میں جاکر پناہ ڈھونڈنا شروع کردیا ہے اور نفاق و تملق کی سیڑھی چڑھ کر نام نہاد ترقی کے راستے پر چلنے کی کوشش شروع کردی ہے، ہمیں ان کی طرف رشک بھری نگاہوں سے دیکھنے کی بجائے اس بھیانک نتیجے کا انتظار کرنا چاہیے جسے اللہ نے منافقوں اور ابن الوقتوں کے لیے مقرر کررکھا ہے ۔ اللہ کی سنت ان کے لیے بدلنے والی نہیں ہے اور یہ اپنے سیاہ اعمال کے منطقی نتیجے تک اب تب پہنچنے ہی والے ہیں ۔ بس ہمارا یہ یقین اور ایمان تازہ رہے کہ سچ کا مقدر شکست نہیں ہے اور تاریکی چاہے جتنی گہری ہو روشنی کی ہلکی سی کرن بھی اسے شکست فاش سے دوچار کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔

اپنی صفوں میں علم ہے،جراءت ہے، وقت ہے

ایسا نہیں کہ سچ کا مقدر شکست ہے

ایمان تازہ رہے ۔ دشمن مکر کررہا ہے اور ہماری جانب سے اللہ کا مکر جاری ہے ۔ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ ۖ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (سورۃ الأنفال30  ) وہ اپنی چالیں چل رہے ہیں اور اللہ اپنی چال چل رہا ہے اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے ۔ پھر یہ خوف کی نفسیات کیوں ؟ آگے بڑھنےمیں پریشانی کیوں ؟ لوٹے جانے کا ڈر کیوں ؟ اسے نکال پھینکیے کہ یہ ایمان کی کمزوری ہے ! اوربرملا کہہ دیجیے !

لو ہم پھر جلا رہے ہیں چراغ

اے ہوا حوصلہ نکال اپنا

 سیرت طیبہ کی جھلکیاں: بارہویں قسط  

صفات عالم تیمی

سوشل بائیکاٹ :

بعثت کا ساتواں سال ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے چچا ابوطالب ایک روز تنہائی میں بیٹھے یہ سوچ رہے تھےکہ میرے بھتیجے کے ساتھ قریش کی زیادتیاں آئے دن زیادہ ہی ہوتی جارہی ہیں،میں ہوں تب نا ان کا دفاع کرتا ہوں، اگرمیں نہ رہا تو ایسا نہ ہوکہ قریش اُن کوجان سے مارڈالیں،دن بدن یہ اندیشہ بڑھتا ہی جارہا تھا کہ ایک روز ابوطالب نے بنوہاشم اور بنومطلب کو جمع کیا اور ان سے یہ وعدہ لیا کہ اب تک ہم اپنے بھتیجے کی حفاظت کا کام اکیلے کر رہے تھے اب آپ سب مل کر انجام دیں،اگرہم ان کی حفاظت نہ کریں گے توکون کرے گا،عربوںمیں خاندانی حمیت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر پایاجاتا تھا،چنانچہ ابوطالب کی پیشکش کو دونوں خاندان کے مسلمانوں اور غیرمسلموں نے فوراً قبول کرلیا اوریہ معاہدہ ہواکہ ہم سب ملکرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کریں گے، صرف ابولہب نے معاہدہ سے اتفاق نہ کیا۔

جب یہ خبر قریش تک پہنچی کہ بنوہاشم اور بنومطلب دونوںمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کے لیے متفق ہوچکے ہیں تو ان کے پیروں تلے زمین کھسکنے لگی، کیونکہ انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ بنایاتھا لیکن ایسی صورت میں اگرانہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیاتو مکہ میں خون کی ندیا ں بہہ جائیں گی،اس لیے وہ قتل کے ارادہ سے باز آگئے البتہ ظلم کاایک الگ طریقہ اپنایا جس میں بنوہاشم اور بنومطلب کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ان کے غیرمسلموں کے لیے بھی آزمائش تھی۔منصوبہ یہ تھا کہ ان دونوں قبیلوں کامکمل بائیکاٹ کریں گے، نہ ان سے شادی بیاہ کریں گے،نہ خرید وفروخت کریں گے،نہ ان سے میل جول رکھیں گے اورنہ ان سے بات چیت کریں گے ۔ اورباضابطہ اس سلسلے میں مشرکین نے ایک دستاویز لکھا کہ جب تک بنوہاشم اور بنو مطلب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حوالے نہ کردیتے ہیں تب تک ان سے ہمارا تعلق بالکل کٹا ہوا رہے گا ۔ پھر اس دستاویز کو  کعبہ میں لٹکا دیاگیا،اس بائیکاٹ کی وجہ سے بنوہاشم اوربنومطلب سوائے ابولہب کے سب کے سب ابوطالب کی گھاٹی میں جمع ہوگئے ۔یہ بائیکاٹ تین سال تک لگاتار رہا، اس مدت میں دونوں قبیلوں پرایسے حالات گذرے کہ جنہیں سن کر پتھر بھی پگھلنے لگتا ہے،کوئی سامان بیچنے والا آتا تو قریش لپک کرخرید لیتے،ا س طرح پیسے ہونے کے باوجودسامان نہ خرید پاتے،حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ انہیں درختوں کے پتے نگلنے پڑے،سوکھے کھال ابال ابال کر اورآگ پر بھون کرکھانے پڑے ۔ بھوک مری کا یہ عالم تھا کہ بلکتے بچوں اور عورتوں کی آوازیں گھاٹی سے باہر سنائی دیتی تھیں ۔اس گھاٹی میں ابوطالب کو اگر اندیشہ تھا تواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاکہ مبادا کوئی چپکے سے آکر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کردے،رات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے کہ تم اپنے بسترپر سوجاؤ،پھر جب کچھ رات گذرجاتی تو آپ کا بستر بدل دیتے اورکسی دوسری جگہ آپ کو سلا دیتے تھے ۔

بائیکاٹ کی اس تین سالہ مدت میں بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیتے رہے،خاص کر جب حج کا موسم ہوتاتو حاجیوں کے بیچ آپ جاتے اور ان تک اسلام کا پیغام پہنچایاکرتے تھے۔

   نبوت کے دسویں سال محرم کے مہینہ میں مکمل تین سال کے بعد قریش کے پانچ لوگوں کو اس ظلم کا احساس ہوا،یہاں تک کہ یہ سب کعبہ میں پہنچے اور قریش کے لیڈروں سے بات کرنے لگے کہ ہم سب آرام سے رہیں جبکہ ہمارے ہی سماج میں کچھ لوگ بھوکوں مریں ایسا کیسے ہوسکتاہے،ابوجہل نے سب سے پہلے ان کی بات کاٹی،لیکن اسی وقت ابوطالب بھی حاضر ہوگئے جنہوں نے ایک تازہ خبرسنائی کہ ہمارے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہا ہے کہ دستاویز کو دیمک نے کھالیا ہے،صرف اللہ کا نام باقی رہ گیا ہے،اگر یہ جھوٹا ثابت ہوا توہم تمہارے اوراس کے درمیان سے ہٹ جائیں گے،تمہارا جو جی چاہے کرنا لیکن اگروہ سچا ثابت ہوا تو تمہیں ہمارے بائیکاٹ اورظلم سے باز آنا ہوگا۔جن لوگوں کو اس ظلم کا احساس تھا ان میں سے ایک مطعم بن عدی تھا،جب وہ صحیفہ  چاک کرنے کے لیے آگے بڑھا تو واقعی اس نے دیکھا کہ دستاویز کو دیمک نے کھالیاہے،البتہ جہاں جہاں اللہ کا نام ہے وہ بچاہوا ہے۔ چنانچہ وعدے کے مطابق صحیفہ چاک ہوگیا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم   اور باقی تمام لوگ شعب ابی طالب سے نکل گئے۔

قریش کا آخری وفد ابوطالب کی خدمت میں:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو گھاٹی سے نکل چکے تھے لیکن دعوتی سرگرمیاں برابر جاری تھیں، قریش کے کچھ لوگ آخری بار ابوطالب کی خدمت میں آئے اور ان سے گذارش کی کہ آپ اپنے بھتیجے سے کہیں کہ وہ ہمیں اپنے دین پر چھوڑ دے اورہم اسے اپنے دین پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ابوطالب نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو مخاطب کرکے فرمایا: آپ لوگ بتائیں! اگرمیں ایک بات کہوں اوراسے آپ مان لیں تو عرب کے بادشاہ بن جائیں اور عجم آپ کے تابع ہوجائیں ۔آپ کی کیارائے ہوگی ۔ ابوجہل نے کہا : بتاؤ وہ کونسی بات ہے۔ آپ نے فرمایا: آپ لوگ لا الہ الا اللہ کہیں اور اللہ کے سوا جو کچھ پوجتے ہیں اسے چھوڑدیں،عرب وعجم کے مالک بن جائیں گے“۔ اس بات کو انہوں نے ہوا بنالیااور ہاتھ پیٹ پیٹ کر اور تالیاں بجابجاکر کہنے لگے :  کیاتم چاہتے ہو کہ سارے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بناڈالو، واقعی تمہارا معاملہ بہت تعجب خیزہے۔جی ہاں! تعجب کیوں نہ کرتے کہ ان کی بصیرت کھوچکی تھیں، حق کے انکاری بن چکے تھے۔

عام الحزن :

ابوطالب 80 سال کے ہو گئے تھے اور گھاٹی میں قید رہنے کی وجہ سے بہت زیادہ کمزور بھی ہوچکے تھے،اسی کے زیراثر بیمار پڑگئے،اور گھاٹی سے نکلنے کے چھ ماہ بعد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیحد خواہش تھی کہ ابوطالب اسلام قبول کرلے،لیکن اللہ کومنظورنہ تھا،آخری لفظ جو اس کی زبان سے نکلا:عبدالمطلب کی ملت پر۔ابوطالب نے اپنے بھتیجے کا دفاع کیا،ہرجگہ ساتھ دی،قریش کی اذیتوں کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے رہے، لیکن نجات کے لیے رشتے داری،دفاع، اورمحبت کافی نہیں بلکہ ایمان ضروری ہے ۔

ابوطالب کی وفات کو ابھی تین مہینے ہی گذرے تھےکہ آپ کو ایک دوسرا غم لاحق ہوا، اور وہ تھا خدیجہ ؓ کی وفات کا غم،ان کی وفات نبوت کے دسویں سال ماہ رمضان میں ہوئی،حضرت خدیجہ ؓ آپ کے لیے گرانقدر نعمت تھیں،دفاع کے لیے باہر میں ابوطالب تھے تو تسلی دلانے کے لیے گھرمیں خدیجہ تھیں ۔ خدیجہ اورابوطالب کی وفات کیاتھی کہ آپ پر کوئی پہاڑ گر گیاہو،ابوطالب ظاہری سہارا تھے وہ چلے گئے،اورخدیجہ مونس وغم خوار تھیں وہ بھی رحلت فرما گئیں،مصیبتوں کے مسلسل آنے کی وجہ سے یہ سال عام الحزن یعنی غم کا سال کہلایا۔

مجلہ مصباح اردو زبان میں کویت كا پہلا اور واحد کثیر الاشاعت دینی ،تربیتی اور دعوتی مجلہ ہے جو دیارغیر میں تارکین وطن کے دینی ذوق کی تسکین کاسامان فراہم کررہاہے ۔