IPC کے بارے میں

کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

IPC کویت کی سرزمین پرتعارفِ اسلام کی مرکز ی کمیٹی ہے جو کویت کے معروف رفاہی ادارہ جمعیة النجاة الخیریہ کی ایک شاخ ہے ۔ IPC کی تاسیس سن 1978 میں عمل میں آئی ، کام کی شروعات ایک چھوٹے سے کمرے سے ہوئی جس کا پس منظر یہ ہے کہ کویت کے چند باہمت نوجوانوں نے جب دیکھا کہ اس سرزمین پرروزگارکے لیے بیرون ممالک سے آنے والے لوگوں کی معتدبہ تعداد موجود ہے جن تک اسلام کا پیغام پہنچانا ایک مسلمان کی واجبی ذمہ داری ہے ، پھران میں کام کرنے کے لیے ماحول بھی سازگارہے۔

 چنانچہ تارکین وطن کو مختلف زبانوں میں دین کی معلومات بہم پہنچانے کی عملی شکل یہ اپنائی گئی کہ ان کو عربی زبان سکھائی جائے جو خلیجی ممالک میں ان کی ملازمت سے جڑی ہوئی زبان ہے ۔ اور اسی کے ساتھ ان کے سامنے اسلام کا تعارف بھی کرایا جاسکتا ہے ۔ اس کے لیے ہفتہ میں جمعہ کے دن کا انتخاب کیا گیا کیوں کہ یہی دن بالعموم ملازمت پیشہ افراد کی تعطیل کا ہوا کرتا تھا، اسی مناسبت سے کمیٹی شروع میں ”مدارس الجمعة “کے نام سے یاد کی جاتی تھی۔

 حاضرین کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا ، چناںچہ اوقاف کی عمارت میں ایک روم کرایا پر حاصل کرلیا گیا۔ مرورایام کے ساتھ کویت کے اہل خیرکی دعوتی رغبت بڑھتی گئی جسے دیکھتے ہوئے کمیٹی کے ذمہ داران نے دعوتی کاز کو آگے بڑھانے کا منصوبہ بنایا ، دعوت کے دائرے کو وسیع کیا یہاں تک کہ اس کامرکزی دفتر فہد سالم روڈ مسجد ملا صالح کے تہہ خانہ میں قرار پایا۔ آج بفضلہ تعالیٰ کویت کے مختلف حصوں میں  ipcکی 15 شاخیں دعوتی کاموں میں سرگرم ہیں، اسے 14 زبانوں میں 74 سے زائد مبلغین کی خدمات حاصل ہيں۔ ذمہ داران اور مبلغین کی مسلسل کوششوں کے نتیجہ میں سن تاسیس سے لے کر اب تک مختلف زبانوں کے 51 ہزارسے زائد مرد وخواتین مشرف باسلام ہوچکے ہیں۔

اس کے علاوہ ipc ہمیشہ ماہر اساتذہ کرام کی خدمات حاصل کرکے عربی بول چال کے کورسیز کراتی ہے ، دنیا کی مشہور زبانوں میں غیرمسلموں کے سامنے عصری اسلوب میں حکمت ودانائی کے ساتھ اسلام کا مثبت انداز میں تعارف کراتی ہے ، ہفتہ وار کلاسیز کے ذریعہ نومسلموں کی تربیت کرتی ہے ، مختلف زبانوں میں دعوتی کتابیں، کیسٹس اور پمفلٹس شائع کرتی اور مفت تقسیم کرتی ہے۔  ipcکو cams کے نام سے ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کی خدمت بھی حاصل ہے جوخلیجی ملکوں میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے ۔ اس کے زیراہتمام مبلغین اور عام لوگوں کے لیے ٹیکنیکل اورٹریننگ کورسیز چلتے رہتے ہیں۔

آٹھ سال سے عربی زبان میں ماہنامہ’البُشریٰ‘ بھی نکل رہا ہے جوخاص دعوتی میگزین ہے، اس نے دعوت کے تئیں اہل کویت کی ذہن سازی میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ عالم اسلام میں شاید لجنة التعریف بالاسلام کو یہ امتیاز حاصل ہوگا کہ وہ چھ زبانوں ( تلگو، تمل ،ملیالم ، اردو، فلیپائن اور بنگالی ) میں بھی اپنا ماہانہ آرگن شائع کررہی ہے جو خالص دعوتی اور اصلاحی مجلات ہیں ۔

  یہ رہی IPC کی مختصرتاریخ اوراس کی موجودہ سرگرمیوں کی ایک جھلک‘ جس میں آپ نے دیکھا کہ کویت کی سرزمین پر غیرمسلم تارکین وطن کے وجود نے سکولوں میں زیرتعلیم چند کویتی نوجوانوں کے اندردعوت کاغیرمعمولی احساس پیدا کیا ،ان کے سمند ہمت کو تازیانہ لگایا، چناں چہ انہوں نے اس احساس کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کام کی شروعات کی، ابتداء میں تصور بھی نہیں کیاجا سکتا تھاکہ ان کی کوششیں اس قدر رنگ لائیں گی کہ کویت کے چپہ چپہ بلکہ پورے عالم میں اس کی گونج سنی جائے گی اور اس چمن کے لالہ وگل کی عطربیزیوں سے پورا عالم معطر ہوجاے گا۔ اس ادارہ سے فیض پانے والے کتنے  چراغِ ہدایت ہیں جن کے ہاتھوں پر ہزاروں نے اسلام قبول کیا ہے ، کتنے یورپ وامریکہ کی تاریک فضاؤں میں روشنی پھیلارہے ہیں ۔ظاہر ہے یقین محکم ،عمل پیہم اور منظم پلاننگ نے اس ادارے کو اس مقام تک پہنچایا ہے ،اس بیچ کتنی رکاوٹیں آئی ہیں، کتنے صبرآزما مراحل سے گزرنا پڑا ہے، نازک اورسنگین حالات سے نبردآزمائی کرنا پڑی ہے لیکن ہرجگہ حکمت ودانائی کے ساتھ منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے کہ آج یہ ادارہ شگفتہ و شاداب ہے اور مسلسل برگ وبار لارہا ہے۔  

                                            ( صفات عالم محمد زبير تيمي )