بزم ادب

جو بہک بہک کے سنبھل گئے
جو غمِ عزیز سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے
جو غمِ حبیب کو پاگئے وہ غموں سے ہنس کے نکل گئے
جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے
وہ نظر نظر سے گلے ملے تو بجھے چراغ بھی جل گئے
یہ شکستہ دید کی کروٹیں بھی بڑی حسین و جمیل تھیں
میں نظر جھکا کے تڑپ گیا وہ نظر بچا کے نکل گئے
نہ خزاں میں ہے کوئی تیرگی نہ بہار میں ہے کوئی روشنی
یہ نظر نظر کے چراغ ہیں کہیں بجھ گئے کہیں جل گئے
جو سنبھل سنبھل کے بہک گئے وہ فریب خوردہ راہ تھے
وہ مقامِ عشق کو پاگئے جو بہک بہک کے سنبھل گئے
(ساحر لدھیانوی)
سر اس کے آگے جھکاﺅ
وہ ہے ذاتِ واحد عبادت کے لا ئق
زبان اور دل کی شہادت کے لا ئق
اس کے ہیں فرمان اطاعت کے لا ئق
اس کی ہے سرکار خدمت کے لا ئق
لگاﺅ تو لو اسی سے لگاﺅ
جھکاﺅ تو سر اس کے آگے جھکاﺅ
اسی پر ہمیشہ بھروسہ کرو تم
اسی کے سدا عشق کا دم بھرو تم
اسی کے غضب سے ڈرو گر ڈرو تم
اسی کے سدا طلب میں مرو جب مرو تم
مبرّا ہے شرکت سے اس کی خدائی
نہیں اس کے آگے کسی کو بڑائی
(الطاف حسین حالی )
جو کہنا نہ تھا کہہ دیا
توبہ توبہ الٰہی یہ کیا کہہ دیا
میں نے گھبرا کے بت کو خدا کہہ دیا
تیری وعدہ خلافی جو حد سے بڑھی
ہم نے جھوٹا تجھے بر ملا کہہ دیا
راہزن نے کہا مجھ کو گالی نہ دو
جب کسی نے اسے راہبر کہہ دیا
ان مکانوں کے سارے مکیں کیا ہوے
اک اداسی نے سب ماجرا کہہ دیا
آج خود داریوں کا بھرم بھی گیا
مہرباں سے جو کہنا نہ تھا کہہ دیا
مل گئی دولتِ دوجہاں مل گئی
آج اس نے مجھے با وفا کہہ دیا
اس قدر مجھ سے برہم وہ کیوں ہوگئے
آخر ایسا اُنہیں میں نے کیا کہہ دیا
جب غرض باؤلی ہو تو کیا کیجیے
ایک جلّاد کو دیوتا کہہ دیا
ان کی محفل میں جا تو رہے ہو حفیظ
گر کسی نے کچھ اچھا برا کہہ دیا
(حفیظ میرٹھی)

1 Comment

  1. أهلاً, هذا تعليق.
    لحذف التعليق, أدخل لوحة التحكم, و أذهب إلى إدارة المحتويات ثم التعليقات, هناك تستطيع تحريرهم أو حذفهم.

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*