اسلامک ایجوکیشن کمیٹی، کویت کے زیراہتمام سالانہ پکنک

اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت نے ہرسال کی طرح اس دفعہ بھی حسن فطرت سے مستفید ہونے کے لیے شہری آبادی کے بے ہنگم شور سے دورایک پکنک کا اہتمام کیا تاکہ صحرا کی کھلی فضا میں خالص وتازہ آب وہوا سے روح اورجسم کو معطر کیاجائے ۔

9 دسمبر جمعة المبارک صبح سات بجے وفرہ کے نزدیک وسیع وعریض صحرا میں جہاں کھیل کے میدانوںکے ساتھ ساتھ کشادہ خیموںکا انتظام کیاگیاتھا خواتین وحضرات اور بچے اکٹھا ہونا شروع ہوگئے ۔ قرآن وحدیث اور استقبالیہ کلمات پر مشتمل پوسٹرز اوربینرز نے جنگل میں منگل کاسماں بنادیاتھا ۔ صبح ۹ بجے خیموںکے اندر پروگرام کا آغاز ہوا ، قاری عبدالرحمن نے تلاوت قرآن پاک کی سعادت حاصل کی ،محمداطہر مخدوم نے حاضرین کاشکریہ ادا کیا اورسارے دن کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا ۔ ”اسلام میں تفریح کا مقام “کے موضوع پر گفتگو اورآج کا دن کیسے گذارنا ہے کے بارے میں ذاکراحمد نے ہدایات دیں ۔ ساڑھے ۹ سے بارہ بجے کا وقت کھیلوںکے لیے وقف تھا جس میں کرکٹ ،والی بال ،رسہ کشی اوربچوںاوربڑوںکی دوڑیں شامل تھیں ۔کھیلوںمیں شرکاءنے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ یوں تو سارے مقابلے ہی دلچسپ اورزبردست تھے مگر رسہ کشی میں خاصا جوش وخروش دیکھنے میں آیا 

پلٹنا جھپٹنا اورجھپٹ کر پلٹنا لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

اس دوران خیموںکے اندر بھی بچوںکے مقابلے ہورہے تھے جن میں حسن قرات ،نعت اورتقریریں شامل تھیں ۔

 ٹھیک بارہ بجے فضا اللہ اکبر کے نعرہ سے گونج اٹھی اور مولانا حافظ حفیظ الرحمن نے نہایت ہی پراثر اورایمان افروز خطبہ جمعہ دیا ۔ انہوںنے مسلمانوںکی سنہری اور عظیم تاریخ کے حوالے سے یاد دلایا کہ یہ مسلمان ہی تھے جنہوںنے انسانوںکو شعور دیا ،رہنے سہنے کے طریقے سکھائے ، سولہویں صدی عیسوی کی تاریخ دیکھ لیں مغرب کہ جس کو اپنی عظمت اورترقی اورعلم کا بہت گھمنڈ ہے اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا ،ہرفن میں مسلمان بے مثال اوریکتا تھے ،پھر انہوںنے منصوبے بنائے کہ کس طرح مسلمانوںکو کمزور کیاجائے اوروہ آہستہ آہستہ اس میں کامیاب ہوگئے ۔ آپ نے مزید فرمایاکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ مسلمانوںکو کامیابی اور کامرانی ضرور ملے گی مگر اس ترقی کا راز ایمان اور قرآن میں ہے ۔

نمازِعصر کے بعد دوسرے سیشن میں انچارج میڈیا سیل جاوید اقبال نے کویت میں اسلامک ایجوکیش کمیٹی اورپاکستان میں الخدمت فانڈیشن کی سرگرمیوںکے حوالے سے ایک ویڈیو پریزنٹشن پیش کی جسے حاضرین نے بہت پسند کیا ۔

اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کے صدر اخلاق احمد نے اپنے صدارتی خطبہ میں فرمایاکہ تقریباً تیس سال قبل کویت میں گنتی کے چند افراد اس مشن کو لے کر اٹھے تھے ،چند نحیف ہاتھ تھے لیکن اخلاص ان کا سرمایہ تھا،ایمان ان کی پونجی تھی اورمحبت رسول ان کا زاد راہ تھا چنانچہ اللہ پاک نے ان کی کوششوںمیں ایسی برکت عطا فرمائی کہ گلشن مصطفی کے ان پھولوںکی مہک کویت سے باہر بھی محسوس کی گئی ،پاکستان میں سیلاب کی آفتیں ہوںیا زلزلے کی تباہ کاریاںاہل وطن کی خدمت اپنی بساط سے بڑھ کر کی ۔

پروگرام کے آخری سیشن میں اخلاق احمد ،حامدمحموداطہر، مولانا محمدکمال ،مولاناحفیظ الرحمن ، انجنئر اطہر علی خان ، مشتاق احمد اورنعیم ارشاد نے کھلاڑیوںکی حوصلہ افزائی اور تکریم کے لیے اپنے ہاتھوں سے انعامات تقسیم کئے ۔

اس پکنک پروگرام میں پاکستانیوںکی ایک اچھی خاصی تعداد نے شرکت کی جس میں کویت میں موجود دوسری پاکستانی تنظیموں کے نمائندے بھی موجودتھے ۔ (رپورٹ : محمداطہر مخدوم )

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*