سنئے ! آپ کا بچہ آپ سے کیا چاہتا ہے ؟

تحریر و تحقیق: اشتیاق احمد

حرفِ شکایت

آپ والدین بڑے “وہ” ہیں۔چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر مجھے مارتے پیٹتے رہتے ہیں بُرا بھلا کہتے ہیں دوسروں کا غصہ بھی مجھ پر نکالتے ہیں۔ایسا کرتے ہوئے آپ بھول جاتے ہیں کہ آپ بھی کبھی بچے تھے۔میری خواہش ہے کہ آپ اپنے آپ میں تبدیلی پیدا کریں۔ اپنے غصہ اور جذباتی پن پر کنٹرول کریں۔کیونکہ مجھے آپ کی مدد، دوستی،محبت اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔آئیں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ شاہراہ زندگی پر یہ سفر ہنستے مسکراتے اور افہام و تفہیم کے ساتھ طے کیا جا سکے۔         آپ کا بیٹا /بیٹی

˜جب میں کوئی اچھا کام کروں تو مجھے شاباش ضرور دیں۔اس سے میری حوصلہ افزائی ہوتی ہیں اور خوشی کا احساس ہوتا ہے۔

˜مجھ میں ایسی مہارتیں پیدا کریں جو تاحیا ت میرے ساتھ رہیں۔

˜میری فیملی میں ایسی سرگرمیاں ہوں جن سے میں ہر فیملی ممبر کی قربت محسوس کر سکوں۔

˜مسجد میں مجھے اپنے ساتھ لے جائیں۔نماز پڑھنا،نماز کے بعد ایک دوسرے کا حال احوال دریافت کرنا اور لوگوں سے ہاتھ ملانا مجھے اچھا لگتا ہے۔

˜اپنے وعدے کا پاس کریں کیونکہ جب آپ کسی اچھے کام پر مجھے انعام دینے کا وعدہ کرتے ہیں مگر نہیں دیتے تو میری نظروں میں آپ با اصول نہیں رہتے۔

˜میرے ایمان اور صحت و سلامتی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں اس سے میں اپنے آپ کو خوش قسمت اور محفوظ تصور کرتا /کرتی ہوں۔

˜کبھی کبھی میرے لیے کھانے کی کوئی چیز وافر مقدار میں لائیں اور مجھے اپنے دوستوں /سہیلیوں کے ساتھ مل کر کھانے کا موقع دیں۔اس سے مجھ میں وسعتِ قلبی،اخوت اور محبت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

˜عشاءکی نماز کے بعد مجھے سو جانے کا موقع دیں اور صبح جلدی بیدار کر دیا کریں۔کیونکہ جب میں نیند پوری کر کے اٹھتا /اٹھتی ہوں تو دن بھر ہشاش بشاش رہتا /رہتی ہوں اور دل لگا کر کام کرنے کو جی چاہتا ہے۔مگر جس دن تاخیر سے سونے کا موقع ملے تو اگلے دن بوریت سی ہوتی ہے۔ کسی کام کو جی نہیں چاہتا۔

˜اس بات کا دھیان رکھیں کہ ٹی وی،وی سی آر،ٹیپ ریکارڈ،کمپیوٹر اور ویڈیو گیمز وغیرہ میری اخلاقی اور جسمانی صحت کو خراب نہ کرنے پائیں۔

˜جب کوئی غلطی سر زد ہو جائے تو میرے ساتھ پلیز چیخ چلا کر بات نہ کریں۔آپ کو لال پیلا دیکھ کر میں اپنے آپ کو خوف زدہ اور بکھرا بکھرا سا محسوس کرتا /کرتی ہوں۔

˜کبھی کبھی چھٹی کے دن مجھے اپنے ساتھ سیر و تفریح کے لیے لے جائیں۔ سبز گھاس، خوبصورت پھول، آبشاریں، جھولے، پرندے اور جانور مجھے اچھے لگتے ہیں۔

˜سزا دیتے وقت یہ بتانا نہ بھولیں کہ مجھے سزا کیوں دی جا رہی ہے ؟ایسی وجوہات بتائیں جو میری سمجھ میں آ سکیں۔

˜میری موجودہ غلطی کے ساتھ گذشتہ غلطیوں کی فہرست نہ دہرائیں بڑوں سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔میں تو پھر بھی بچہ ہوں۔

˜مجھے نکما،بے وقوف اور گدھا کہہ کر نہ پکا را کریں۔کیا  آپ کی ڈکشنری میں میرے لیے اس سے اچھے الفاظ موجود نہیں۔

˜جب آپ مجھے خود قرآن مجید پڑھاتے ہیں اور سکول کا ہوم ورک کرنے میں میری مدد کرتے ہیں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو واقعی مجھ سے محبت ہے۔ورنہ آجکل والدین کے پاس اپنے بچوں کے لیے وقت کہاں ہے ؟۔

˜جب گھر میں کوئی اچھی چیز پکتی ہے اور آپ میرے ہاتھ اس میں سے کچھ حصہ ہمسائے کے گھر بھجواتے ہیں تو مجھے عجیب سی روحانی خوشی کا احساس ہوتا ہے۔

˜کبھی کبھار میرے دوستوں /سہیلیوں کو اہتمام کے ساتھ کھانے پر بلائیں ہمارے اکٹھے کھانا کھانے سے مجھے اخوت اور بھائی چارے کا سبق ملتا ہے۔

˜اگر ممکن ہو تو کم از کم ایک وقت کا کھانا میرے ساتھ ضرور کھائیں۔

˜مجھے کھانے پینے کے آداب سکھانے کے ساتھ ساتھ بھوک رکھ کر کھانے کی عادت ڈالیں ۔

˜کھانے کے معاملے میں کبھی کبھی میری پسندیدہ ڈش مجھ سے پوچھ کر تیار کروائیں۔

˜مجھے اپنے رشتے داروں کے بارے میں معلومات دیں اور وقتاً فوقتاً ان سے ملاقات کا بھی اہتمام کریں۔

˜آپ بڑے ہیں اور میں چھوٹا۔اس لیے میری غلطیوں پر در گزر کر کے اپنے بڑا ہونے کا ثبوت دیں اور اچھے طریقے سے میری اصلاح کریں۔

˜جب آپ مجھ سے چیزیں چھپا چھپا کر رکھتے ہیں تو میں اپنے دل میں عجیب سی تنگی محسوس کرتا /کرتی ہوں۔آپ کا ایسا رویہ مجھے چوری کی عادت ڈال سکتا ہے۔

˜مجھے شدت پسندانہ نظریات و خیالات سے دور رکھیں۔ مجھے ان لوگوں کے شر سے بچائیں جو فرقہ واریت، ذات پات،زبان اور رنگ و نسل کی بنیاد پر نفرتیں پھیلاتے ہیں ۔

˜مجھے میرے پیارے رسول ا کی پیاری پیاری باتیں کہانی کی صورت میں بتایا کریں۔مجھے یہ باتیں بڑی پیاری لگتی ہیں۔جان سے بھی زیادہ پیاری۔

˜مجھے نماز سکھائیں اور اس میں پڑھے جانے والے الفاظ کا مفہوم بھی سمجھائیں،مجھے نماز سمجھ کر اور باقاعدگی سے پڑھنے کی عادت ڈالیں۔

˜مجھے اپنے دوستوں کے بارے میں بتائیں اور کبھی کبھی ان کے ہاں لے بھی جائیں۔

˜مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے کھلونوں سے دوسرے بچوں کو بھی کھیلنے دوں۔

˜مجھے جنوں بھوتوں کی کہانیاں سنا کر بزدل نہ بنائیں بلکہ بہادر لوگوں کی کہانیاں سنا کر بہادر بنائیں۔

˜مجھے بچوں کی اچھی اچھی سی ڈیز لا کر دیں۔یہ میری تربیت اور تفریح طبع کے لیے بہت ضروری ہیں۔تجھے کیا ملے گا نماز میں،قرآنی قصے،چاند نگر سے تٹرم تم تڑم،کیسٹ کہانی،کیسٹ ڈائجسٹ و الیم 1تا10 منزل، نیکی کے ہم لوگ سپاہی،کلام اقبال، عنایت چچا کی محفل،اے خدا ! قرآن کی تفہیم دے،بہادر، صیام،نغماتِ رمضان، عید کا تحفہ،بگلا بھگت،انگوروں کی چوری،turn to Allah، حسنِ یوسف، محمد بن قاسم (حصہ اول و دوم )،پہلے انسان کی کہانی، نشانِ حیدر،مومن کا ہتھیار اور کامیابی کا زینہ بہت پیاری سی ڈیز ہیں۔یہ فہرست میرے دوست عرفان نے بنا کر دی ہے۔ اس نے اپنے گھر میں اچھے اچھے کیسٹ اور سی ڈیز کی ایک لائبریری بنائی ہوئی ہے۔(جاری )

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*