قبلہ اول آواز دیتاہے!

مولانا سید احمد ومیض ندوی

 دیوار براق پر یہودی معبد کی تعمیر کی نئی سازش

مسجد اقصی صیہونی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ بلا توقف جاری ہے کوئی مہینہ ایسا نہیں گزرتا جس میںاسرائیل کی جانب سے بیت المقدس یا مسجد اقصی کے خلاف کسی نہ کسی شرانگی

1967ءمیں جب اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تو اس وقت سے مسجد اقصی کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بنے جانے لگے۔ مئی 1946ءمیں جب اسرائیل کی ناجائزصہیونی ریاست کی تشکیل عمل میں آئی تو صہیونی پالیسی سازوں نے اس کے دو بنیادی مقاصد طے کےے۔ (۱) مسجد اقصی کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر(۲) عظیم تر اسرائیل کا قیام جو ایک طرف دریائے فرات سے دریائے نیل تک پھیلی ہو اور دوسری طرف صحرائے سینا سے مدینہ منورہ تک۔ تاکہ اس عظیم الشان صہیونی ریاست کے ذریعہ عالمی صہیونی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ ہوسکے۔ چنانچہ اسرائیل اپنے قیام کے روز اول سے ان دونوں مقاصد کے حصول کے لےے اپنی تمام تر توانائیاں جھونک رہا ہے اور اس کے لےے عالمی طاقتوں کا بڑی چابکدستی کے ساتھ استعمال کر رہاہے۔ انہی دو مقاصد کی خاطر عالمی صہیونی تحریک کے بانی تھیوڈہرتزل نے 1900ءکے اوائل میں خلافت عثمانیہ کے خلیفہ سلطان عبد الحمید سے براہ راست ملاقات کی تھی اور ان کے سامنے یہ پیشکش رکھی تھی کہ اگر خلیفہ فلسطین کو یہودیوں کے ہاتھ فروخت کردیں تو یہودی انہیں اس قدر بے پناہ دولت دیںگے کہ حکومت کے تمام مصارف کے ساتھ حکومتی قرضوں کی ادائیگی ممکن ہو۔ انہیں یہ بھی لالچ دی گئی کہ اگر وہ صہیونی مطالبہ پر رضامند ہوں تو انہیں ذاتی طورپر اتنی دولت دیںگے جس کا وہ تصور نہیں کر سکتے۔ عثمانی خلافت کے اس مرد مجاہد اور ملت اسلامیہ کے غیور حکمراں نے ان کی پیشکش یہ کہہ کر جوتے کی نوک پر ٹھکرادیا کہ فلسطین ان کی ذاتی ملکیت نہیں ہے بلکہ ساری ملت اسلامیہ کی ملکیت ہے۔ اور وہ اس کی اپنے خون سے حفاظت کریںگے۔ سلطان کی حمیت اسلامی سے سرشار اس جواب کو سن کر تھیوڈ ہرتزل نے اس وقت دھمکی دیتے ہوے کہا کہ وہ اس کاخمیازہ بھگتنے کے لےے تیار رہیں۔ چنانچہ مکار صہیونیوں نے مصطفی کمال جیسے صہیونی آلہ کار کے ذریعہ جو خود ایک یہودی قبیلہ سے تعلق رکھتا تھاسلطان عبد الحمید کا تخت الٹاکر حکومت عثمانیہ کا خاتمہ کردیا۔ جس کے بعد فلسطین پر صہیونی ریاست کی راہ ہموار ہوئی۔

  اسرائیل اپنے قیام کے روز اول سے مذکورہ بالا دو مقاصد کے حصول کے ليے پورے طورپر سرگرم عمل ہے۔ 1967ءمیں جب عرب۔اسرائیل جنگ میں عرب شکست سے دوچار ہوئے تو بیت المقدس کے مشرقی حصے پر اسرائیل قابض ہوگیا، اس طرح پورا بیت المقدس ناجائز اسرائیلی تسلط کے تحت آگیا۔ مذکورہ بالا اپنے دو مقاصد کے لےے اسرائیل بے شمار ہتھکنڈے استعمال کر رہاہے لیکن ان میں سے دو اسرائیل کی نظر میں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں:

ئبتدریج ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لےے راہیں ہموار کرنے کے لےے مسجد اقصی اور اس کی ملحقہ عمارتوں کو مختلف حیلے بہانوں سے گرانا یا مسمار کرنا اور مسلسل انہدامی کاروائیاں جاری رکھنا۔

فلسطین میں زیادہ سے زیادہ یہودی آباد کاروں کی کالونیاں تعمیر کرنا۔

 چنانچہ پہلا ہتھکنڈا زور و شور سے استعمال ہورہاہے۔ بیت المقدس پر قبضے کو ابھی دو سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ21 اگست 1969ءمیں ایک آسٹریلیائی یہودی سیاح کا روپ دھار کر مسجد اقصی میں داخل ہوا اور مسجد میں آگ لگادی جس سے مسجد کا ایک بڑا حصہ جسے مسجد قبلہ کہتے ہیں جل کر راکھ ہوگیا۔ ایک اندازے کے مطابق مسجد قبلہ کا4400 مربع میٹر رقبہ جل کر راکھ ہوگیا۔ آتش زنی کے اس واقعہ میں صلاح الدین ایوبی کے بنائے ہوئے منبر کا بیشتر حصہ بھی جل گیا تھا۔ جلانے کا یہ واقعہ منصونہ بندطورپر کیا گیا تھا، اس لیے صیہونی حکومت نے فائربریگیڈ کومکمل طورپرمسجداقصی میں لگنے والی آگ کوبجھانے سے منع کردیا تھا۔اتنا ہی نہیں بلکہ بیت المقدس پر قبضہ سے قبل جولائی 1948ءمیں بھی یہودیوں کے مسلح گروہوں نے مسجد اقصی کے احاطہ میں 55 بم گرائے تھے۔

یہودی شروع سے مسجد اقصی کے خلاف کچھ نہ کچھ شر انگیزی کرتے رہے ہیں۔ مسلمانوں کا یہ قبلہ روز اول سے صہیونی عزائم کے گھیرے میں رہا ہے۔ 1980ءمیں ایک انتہا پسند یہودی گروپ کو اس وقت پکڑاگیا جب وہ بھاری مقدار میں بارود مسجد کے نچلے حصہ میں لگانے کے لےے کوشاں تھا۔ یہ گروپ اپنی سازش میں کامیاب ہوجاتا تو شاید پوری مسجد دھماکہ سے اڑجاتی، اس کے بعد 1983ءمیں ایک بار اور دوسری بار1983ءمیں مسجد اقصی میں داخل ہونے کی کوشش کی جبکہ وہ دستی بم اٹھا رکھے تھے اور ان کے ساتھ چھ تھیلے بارود بھی تھا۔ 1986ءمیں ایک اور مرتبہ مسجد اقصی یہودی چیرہ دستیوں کا اس وقت نشانہ بنتے بنتے رہ گئی جب اسرائیلی فضائیہ کے ایک پائلٹ نے اپنے طیارہ میں  مسجد اقصی پر چلانے کے لےے میزائیل ساتھ رکھے تھے۔ اکتوبر1990ءمیں اسرائیلی فوجی دستوں نے نمازیوں پر فائر کردی تھی جس میں 23نمازی شہید ہوے تھے۔ پھر 28 ستمبر2000ءانسانیت کے سفاک ایریل شیرون نے یہودی جتھے کے ساتھ مسجد اقصی میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی مسلمان دفاع ِاقصی میں دیوار بن کر کھڑے ہوگئے، شیرون نے ایسی تباہی مچائی کہ بیت المقدس میں ہر طرف مسلمانوں کی نعشیں بکھری پڑی تھیں، ماہ ستمبر میں اخبارات میں بیت المقدس کے تعلق سے اندوھناک خبر آئی ہے کہ اسرائیل محکمہ آثار قدیمہ نے بیت المقدس کی قدیم دیواروں کے نیچے ایک طویل سرنگ کی کھدائی مکمل کرلی ہے ۔ یہ رپورٹ کسی مسلم ادارے کی جانب سے منظر عام پر نہیں لائی گئی بلکہ اسرائیل سے شائع ہونے والے معروف روزنامے  ” اسرائیل ہیوم “ کی انکشافاتی رپورٹ ہے ۔ اخبار نے لکھا ہے کہ چھ سو میٹر طویل سرنگ مسجد اقصی کی بنیادوں کے ساتھ کھودی گئی ہے جس سے قبلہ اول کو سخت خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔ اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سرنگ کو مکمل طورپر خفیہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے اور سرنگ کی اصلیت ظاہر کرنے کے بجائے اسے آثار قدیمہ کی تلاش کے سلسلہ میں کی جانے والی معمول کی کھدائی قرار دیا جارہا ہے ۔ جب کہ معاملہ اس کے بر عکس ہے ۔ تفصیلات کے مطابق بیت المقدس میں سلوان کے مقام سے مسجد اقصی کے جنوب مغرب میں الزاویہ کے مقام تک 600 میٹر طویل سرنگ کھودی گئی ہے ۔ اسرائیل کے محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے ایک سرنگ مکمل ہونے کے بعد دیگر سر نگوں کو تیار کرنے کے منصوبہ بندی کا کام جاری ہے ۔ اسرائیل کا دعوی ہے کہ مسجد اقصی کے نیچے بعض یہودی آثار قدیمہ ہیں جس کی تلاش کے لےے وہ کھدائی کر رہا ہے اور نام نہاد ہیکل کی نشانی کے لےے کوشاں ہیں لیکن یہ سب بہانے ہیں ورنہ فی الواقع ایسی کوئی نشانی ہوتی تو اب تک کی گئی کھدائیوں کے نتیجہ میں کچھ نہ کچھ چیزیں برآمد ہونی چاہےے تھی۔ یہ ساری کھدائی محض مسجد اقصی کے حصوں کو کھوکھلا کرنے کے لےے ہورہی ہیں ایک سرنگ کے بعد دوسرے سرنگوں کی تیاری مسجد اقصی کی بنیادوں کو کھوکھلا کرکے رکھ دے گی جس کے بعد مسجد کے قریب ایک ہی دھماکہ کی گونج سے مسجد زمین بوس ہو جائے گی۔ اسرائیل اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیل حکومت نے اپنے قیام کے کچھ ہی عرصہ کے بعد 1967ءمیں مذکورہ سرنگ پر کام شروع کردیا تھا اور اب یہ سرنگ پایہ تکمیل کو پہنچی ہے ۔ مذکورہ سرنگ جو مسجد اقصی کی مغربی دیوار کے ساتھ کھودی گئی ہے اسرائیلی حکام اسے جبل ہیکل کی مغربی دیوار کی سرنگ کہتے ہیں۔ حالیہ سرنگ کی تکمیل سے مسجد اقصی کو لاحق خطرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ محکمہ آثار قدیمہ کے تحت ہونے والے کام کے سلسلہ میں سرنگ کی اندرونی جانب لوہے کی موٹی راڈوں کے ذریعہ سرنگ کو سہارا دیا گیاہے بصورت دیگر مذکورہ سرنگ کے مقام کی زمین بیٹھنے کا خدشہ ہے۔ اسرائیلی روزنامے کی جانب سے زیر زمین سرنگ کے کئی اہم مقامات کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں جس میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ کھدائی کے دوران مسجد اقصی کے قریب سے گزرتے ہوئے سرنگ کو قدرے مشرق کی جانب موڑا گیا ہے تا کہ اسے مسجد اقصی کی بنیادوں تک لے جایا جاسکے۔ تصاویر میں مسجد اقصی کے جنوب مغرب میں الزاویہ کے مقام کے نیچے قبلہ اول کی بنیادیں واضح طورپر دکھائی دے رہی ہیں ۔ یہ سب کچھ یہودی ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے وابستہ اپنے عقیدہ کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔ بنیاد پرست یہودی مذہبی ادبیات میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ اسرائیلی مملکت کا قیام یہودیوں کی نجات کا ایک قدم ہے جس کے بعد ” مسا “ یا ” مساشیخ “ کا ظہور ہوگا جو ہیکل سلیمانی کی تعمیر کریں گے اور نہایت آسائش و خوشحالی کے ساتھ ایک ہزار سال تک حکومت کریں گے اس یہودی گروہ کے عقیدہ کے مطابق 60سال اور دوسرے گروہوں کے اعتماد کے مطابق قیام مملکت 76 سالوں کے اندر ہیکل کی تعمیر ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 2007ءکے اختتام کے ساتھ ہی اسرائیل میں ہیکل کی تعمیر کے وجوب کا فتوی جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مملکتِ اسرائیل کے قیام کے70سال مکمل ہونے پر ہیکل کی تعمیر فرض ہے اگر یہ تعمیر نہیں ہو سکتی تو یہودی پر اللہ کا غضب نازل ہوگا۔

بیت المقدس اور مسجد اقصی کے قریب کھدائیوں کا سلسلہ عرصئہ درازسے جاری ہے بعض اسکالروںکی تحقیق کے مطابق اسرائیلی کھدائیاں دس مرحلوں سے گزری ہیں ۔ دسویں مرحلہ کی سب سے خطرناک کھدائی میں مسجد اقصی کے صحن کے پکے فرش نظر آنے لگے۔ بڑھتے بڑھتے ان کا دائرہ مسجد کے مرکزی ہال اور گنبد صخرہ تک آنے لگا ہے حتی کہ گنبد صخرہ اور مسجد اقصی کی اندرونی دیوراوں پر جڑے ہوئے سنگ مرمر میں کئی جگہ شگاف آچکا ہے ۔

مسجد اقصی کی بنیادیں کمزور کرنے کے ليے اسرائیل درج ذیل پالیسیوں پر گامزن ہے :

ئزیر زمین کھدائیوں کا سلسلہ جاری رکھنا تا کہ بنیادیں کھوکھلی ہونے کے بعد مسجد زمین بوس ہوجائے۔

جنوب مشرقی گوشہ میں دو منزلہ گرجاگھر کی تعمیر۔

مسجد اقصی کے اطراف آباد فلسطینیوں کا تخلیہ کرانا۔

مسجد کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے لےے بنیادوں کے اندر کیمیکل مادہ ڈالنا۔

یہودی تاریخ سے عبارت چند کمروں پر مشتمل قافلہ نسل نامی عمارت کی تعمیر۔

القدس کو یہودیا نے کے لےے اسرائیل عظیم جمعیت کی جانب سے بیسیوں مسلم مکانات پر قبضہ۔

حوض مقدس کا منصوبہ جس کے دائرہ میں قدیم شہر وادی قدرون اور جبل زیتون کو لیا گیا۔

نمازیوں کی نگرانی اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لےے دسیوں کیمرے نصب ہیں ۔

 صحن مسجد میں مصلیوں کو منتشر کرنے کے لےے الکٹریکل مشینیں نصب کی گئی ہیں جن سے گیس کا اخراج ہوتاہے ۔

 اس کے علاوہ القدس شہر کو یہودی رنگ میں رنگنے کے لےے آئے دن مختلف کاروائیاں ہوتی رہتی ہیں جس کی اطلاع اخبارات میں آتی رہتی ہیں ۔ گزشتہ ماہ جون میں مسجد اقصی کے باب الخلیل میں واقع مسجد القلعہ کو صہیونی عجائب گھر میںتبدیل کئے جانے کی اندوہناک خبر آئی تھی،بیت المقدس کی بیشتر مساجد کو یہودی عبادت گاہوں میں تبدیل کرنے کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔ اسرائیل مسجد اقصی کے مقام براق کو یہودیت میں بدلنے کے منصوبہ پر بھی کام کر رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں مختلف یہودی تنظیمیں اور ادارے القدس کو یہودیا نے کے منصوبوں پر 10 لاکھ ڈالر خرچ کر چکے ہیں۔القدس کو یہودیانے کی کاروائیوں کے دوران شہر کی تاریخی حیثیت کو مسخ کرنے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے۔ عیر عمیم فاﺅنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کی بلدیہ العیساویہ اور الطور میں 6 لاکھ62 ہزار مربع میٹر اراضی ہڑپنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔ اسرائیل کی ضلعی کمیٹی برائے منصوبہ بندی و تعمیرات اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی تیاریاں کر رہی ہے ۔ اس منصوبہ کے تحت پبلک پارک اور دوسری عمارتیں تعمیر کی جائیںگی۔ قدیم القدس شہر کے حدود میں زیادہ سے زیادہ یہودی مذہبی مقامات کی تعمیر پر توجہ دی جارہی ہے ۔

  ان حالات میں عرب اور مسلم ممالک پر کس قدر نازک ذمہ داری عائد ہوتی ہے ہر کوئی سمجھ سکتا ہے ۔ افسوس! مسلم حکمراں اس قدر بے حس ہوچکے ہیں کہ انہیں اپنی ذمہ داری کا ذرہ برابر احساس نہیں ۔ اس وقت پچاس سے زائد مسلم ممالک میں عیسائیت کے بعد دنیا کی دوسری بڑی اکثریت مسلمانوں کی ہے، مسلم ممالک میں شرح پیدائش 3فیصد ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے ۔ تیزی سے مسلم آبادی میں اضافہ ہورہاہے۔ رقبہ کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کے پاس تین کروڑ اڑتالیس لاکھ انیس ہزار سات سو نوے مربع کیلومیٹرعلاقہ ہے۔ جغرافیائی اعتبارسے دیکھا جائے تو دنیا کی عیسائی آبادی امریکہ اور آسٹریلیا کے بر اعظموں تک محدود ہے ۔ بدھ مت مشرق بعید میں مرتکز ہے لیکن مسلم ممالک دنیا کے ساتوں بر اعظموں میں موجود ہیں ۔ دینا کی تمام بڑی آبی گزرگاہیں عالم اسلام سے ہوکر گزرتی ہیں ۔ دنیا کے مختلف ممالک کو ملا نے والے زمینی راستے مسلم ممالک سے آتے ہیں دنیا کے تمام بڑے ہوائی راستے مسلم ممالک کے اوپر سے گزرتے ہیں، یوروپ سے امریکہ یا مشرق بعید میں یوروپ یا امریکہ جانے والوں کو کسی نہ کسی مسلم ملک کے اوپر سے گزرنا پڑتاہے ۔ جہاں تک وسائل کی بات ہے اس وقت دنیا کی سب سے اہم ضرورت ایندھن ہے ۔ ہر قسم کی صنعتوں کا انحصار اسی پر ہے ۔ دنیا کا سارا نظام بجلی سے چلتا ہے اور زیادہ تر بجلی تیل سے بنتی ہے ۔ دنیا کا 70 فیصد تیل مسلم ممالک کے پاس ہے ۔ دنیا کی 65 فیصد قابل کاشت زمین مسلمانوں کے پاس ہے ۔ دنیا میں سونے کے سب سے بڑے ذخائر مسلم ملکوں میں ہیں۔ نہروں کا سب سے موثر نظام مسلم ملکوں میں ہے ۔ تانبے، لوہے اور کوئلے کی سب سے بڑی کانیں مسلم ممالک میں ہیں ۔ اس کے باوجود مسلمان مٹھی بھر یہودیوں کے سامنے بے بس ہیں ۔ بیشتر مسلم ملکوں پر مغرب نواز حکمراں مسلط ہیں۔ اس وقت عالم اسلام کو ایک غیر معمولی انقلاب کی ضرورت ہے حالیہ دنوں کا عرب انقلاب اگرچہ بہت کچھ مثبت نتائج کا حامل ہے لیکن مغربی طاقتیں عرب انقلاب کا اغوا کرنے میں لگی ہیں۔ حکمرانوں اور عوامی دونوں سطح سے تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر ہم اپنے مقدسات کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ آج قبلہ اول مسلمانوں کو آواز دے رہا ہے مسجد اقصی مسلمانان عالم سے فریاد کر رہی ہے۔ مگر ہے کوئی جو اس کی فریاد سنے ؟

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*