پروفیسراے کے صدیق حسن عبد اللہ

نائب امیر جماعت اسلامی ہند کے ساتھ چند لمحے

محمد خالد اعظمی(کویت)

khalid.azmi64@gmail.com

دبلے پتلے لیکن با عزم وباحوصلہ پہاڑوں کی مانند 66سالہ پروفیسر اے کے صدیق حسن عبد اللہ 1945ءمیں ہندوستان کے سرسبزوشاداب صوبہ کیرالا میں پیدا ہوئے ، ہائی اسکول تک کی تعلیم اپنے گاؤں کے گورنمنٹ اسکول میں حاصل کی، دینی تعلیم کی غرض سے ان کے والد نے درس نظامیہ میں داخلہ کرادیاجہاں سے افضل العلماءکی ڈگری حاصل کی ، عربی زبان وادب میں کالی کٹ یونیورسٹی سے ایم ۔اے کیا۔

 تعلیم کے بعدملازمت گورنمنٹ کالج میں ہوگئی، کیرالا کی مختلف یونیورسٹیزمیں درس وتدریس کے فرائض انجام دیئے ، یہاں تک کہ1990ءمیں ریٹائر ڈ ہوگئے ۔ 15سالوں تک جماعت اسلامی کیرالاکے ذمہ دار رہے ۔ 2005ءمیں جماعت اسلامی ہندکے اسسٹنٹ سکریٹری ہوئے۔ فی الحال جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرہیں ۔موصوف کی متعدد کتابیں ملیالی زبان میں شائع ہوچکی ہیں ، بعض کتابوںکا ملیالی زبان میں ترجمہ کیاہے۔ صدیق صاحب کا خاص میدان صحافت ہے ، ملیالی زبان کے مشہور اخبار ’مادھیامم ‘کے اساسی سکریٹری بھی رہ چکے ہیں ، یہ اخبارعالمی طور پر19 جگہوں سے شائع ہونے والا ملیالی روزنامہ ہے ۔ آپ ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن دہلی کے جنرل سیکریٹری، سہولت مایکروفائنانس سوسائٹی دہلی کے صدر، مسلم پرسنل لا بورڈ ، اور عالمی علماءکونسل قطرکے رکن ہیں۔ خلیجی ممالک کے علاوہ، سوڈان، بنگلادیش، پاکستان،اور ملیشیا کے دعوتی اورعلمی دورے بھی کئے ہیں۔ہم نے آپ سے زیادہ تر سوالات وژن 2016ءسے متعلق کئے ہیں، جس کی تفصیل ذیل کے سطور میں پیش خدمت ہے ۔

 سوال :کیرالاکی کوئی خاص بات ؟۔

جواب : ہندوستان میں اسلام کی روشنی سب سے پہلے مالابار کے ساحل پر عرب تجار کے ذریعہ پہونچی، اہل کیرالا رزق معاش کے سلسلے میں خلیج میں کافی تعدادمیںہیں ، اسی وجہ سے کیرالاکے لوگ ہندوستان کے دیگر صوبوں کے مقابلہ میں خوشحال اور تعلیم یافتہ بھی ہیں۔

سوال: ہیومن ویلفئر فاؤنڈیشن کا تعارف کرائیں گے؟

 جواب :ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن) (HWFمختلف ممتاز ملی قائدین ، سماجی کارکنان اوردانشوروں پر مشتمل ایک مرکزی تنظیم ہے ۔ فا ؤنڈیشن کے تحت مختلف شعبوں سے متعلق کئی غیر سرکاری تنظیمیں( NGOS)کام کررہی ہیں اور یہی فا ؤنڈیشن وژن2016ءکے منصوبوں اوراسکیموں کونافذکررہی ہے، فا ؤنڈیشن اور اس کے ملحق ادارے تعلیم،بالخصوص تعلیم بالغاں،صحت،مائیکروفائنانس انشورنش،روزگارکی فراہمی، قانونی امداد اور کا ؤنسلنگ جیسے میدانوں میں کام کررہے ہیں اور سماج کے پسماندہ افراد کی مجموعی فلاح کے لیے کوشاں ہے۔

 سوال:تعلیم ملک اورقوم کی ترقی کا سب سے اہم ذریعہ ہے ، تو کیا بتائیں گے کہ فاؤنڈیشن نے تعلیم کے لئے کیا کچھ کیاہے یا کررہی ہے ؟

 جو اب : سوال بہت ہی اچھاہے ، کیونکہ تعلیم پر توجہ دیئے بغیر سماجی ترقی کاکوئی خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتا۔ تعلیم مستحکم ترقی کی ایک اہم حکمت عملی ہے ۔ وژن2016ءمیں بھی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔ ہمارا ہدف ہے کہ2016ءتک ملک کی مختلف ریاستوں میں ایک سو اسکول قائم کیے جائیں، اعلی تعلیم کے لئے ایک لاکھ طلبہ کواسکالرشپ دی جائے ، ہرریاست میں طلبہ کے ہاسٹل بنائے جائیں، دس دار الایتام کا قیام اور ایک ہزار یتیموں کی کفالت ہو۔

 سوال :آج خدمتِ خلق سے لوگ بے اعتنائی برتتے ہیں ، کیا آپ کے پاس خدمت خلق کاکوئی خاص شعبہ ہے ؟

جواب : ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن نے اسلام میں خدمتِ خلق کی اہمیت اور ہندوستان میں خدمتِ خلق کی نوعیت ، تقاضوںاورضرورتوں کے پیش نظر10 کروڑ روپے پر مشتمل اصل سرمایہ کاری فنڈ تشکیل دیاہے ۔ تاکہ اس بات کویقینی بنایاجائے کہ مالی وسائل کی قلت کے باعث ضرورت مندوں اور محتاجوں کی مدد اور راحت کے کاموں میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ قدرتی آفات کے تسلسل اورعطیہ دہندگان کی بڑھتی ہوئی مشکلات کے سبب اس فنڈ کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

 سوال: ویژن کا خیال کب اور کس کے ذہن میں آیا؟

جواب:ویژن 2016ءکا خیال سب سے پہلے ۶۰۰۲ءمیں اس وقت کے امیرجماعت اسلامی ہند ڈاکٹرعبد الحق انصاری کے ذہن میں آیا ۔ اس کے بعد اس خیال کو جماعت اسلامی کی مجلس شوری میں پیش کیا گیابالاخر متفقہ فیصلے کے بعداس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ، اور اس کا مجھے ذمہ دار بنایا گیا۔ وژن 2016ءملک کی سماجی ترقی کے منظر نامے کو تبدیل کرنے کے لیے ایک حوصلہ مند منصوبہ ہے ۔ اس منصوبے میں تعلیم ، صحت ، روزگار اورقانونی امداد پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ وژن کے شعبہ جات میں کام کرنے کے لئے ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد اداروںکا قیام عمل میں آیاہے ، ہیومن ویلفیئرفاؤنڈیشن نئی دہلی کی نگرانی میں زیر عمل سارے پروجیکٹ سماج کے سربرآوردہ اور مخلص کارکنوں کے مشوروں سے انجام پایاہے۔

 سوال:وژن کے لیے پہلے کیا کاکام کیا؟

جواب:سب سے پہلے وژن کا پلان تیار کیا، اصولی باتوں پر توجہ دی گئی، ادارہ بنایاگیا، اور ابتدائی کام پر لوگوں کومتعین گیا۔

سوال:اس وقت کل کتنے پروجیکٹ روبہ عمل ہیں ؟

جواب: اس وقت کل 200 پروجیکٹ پر کام ہوررہاہے ، بہت سارے پروجیکٹ کاکام مکمل ہوچکاہے ۔

سوال:وژن2016ءپر اب تک کتناصرفہ آیاہوگا۔

جواب: اللہ کے فضل وکرم پھر آپ تمام لوگوں کی دعاؤں اور تعاون سے پانچ سو کروڑ روپئے کا کام ہوچکاہے۔

 سوال: آپ جس وژن دعوتی کام میں ممد ومعاون ہوگا۔؟

جواب:وژن دعوتی کام کے لیے بہت ہی مفید ہے ، انسان ضروریات کا بندہ ہے ، جب اس کی ضرورت ہوگی اور آپ اس کی ضرورت پوری کریں گے تو وہ خود بخود آپ سے قریب ہوتاچلا جائے گا۔

سوال:وژن کے کام کے لیے کیاکیا مسائل ہیں ؟

جواب: افراد کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے ، ہم کوافراد کی تیاری کے لیے کافی محنت کرنی پڑرہی ہے کیونکہ سماج میں بالخصوص سے ہمارے ساتھ چلنے والوںمیں باصلاحیت افراد کی کمی ہے جو اس میدان میں کام کرسکیں ، لیکن اللہ کے فضل وکرم سے اس کا بھی دیر سویر حل نکال لیاجائے گا۔

سوال:وژن کے نام پر سماج کے ہر طبقے کا تعاون حاصل ہے ؟

جواب : اللہ کا فضل وکرم ہے کہ کوئی بھی مسئلہ ہمارے سامنے نہیں ہے ، بلکہ سماج کے ہرطبقے اورگروپ کاتعاون حاصل ہے ۔

سوال:قارئین مصباح کو کیاپیغام دینا چاہتے ہیں ؟

جواب:میری تمام قارئین مصباح سے یہی گذارش ہے کہ وہ اپنی زندگی مثالی اورقرآن وسنت کے مطابق بنائیں اور لوگوں کے لیے عملی نمونہ بنیں ، تاکہ غیر دیکھ کر یہ کہہ سکیں کہ یہ شخص اسلام کا چلتاپھرتانمونہ ہے ، تاکہ وہ اسلام سے قریب ہوں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*