دعا ایک نادیدہ خزانہ ہے

محمدابرارکلیم القاسمی (کویت)

 ab_rar30@yahoo.co.in

خوشحالی اور بدحالی ، خوشی اورغم ہر حال میں اللہ تعالی سے مانگنا چاہیے ، اللہ تعالی دونوں حالتوں میں یادکرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور اس کو نوازتا ہے ۔

 اس کی مثال حضرت یونس علیہ السلام ہیں کہ ہمیشہ اللہ تعالی کو یادکرتے تھے ، اسی کی تسبیح وتحمید کیا کرتے تھے ،انھیں اللہ تعالی کی ذات پر کامل اعتماد تھا ، چنان چہ جب مچھلی کے پیٹ میں بند ہوگئے اس حالت میں بھی اللہ تعالی کو یادکیا : ﴾لالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین﴿ (سورہ الانبیاء 87)”تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں،ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں، بیشک میںہی ظالموں میں سے ہوں “ بس اللہ تعالی نے اس سے نکلنے کی سبیل پیداکردی اور تین اندھیروں سے نجات دی ﴾ فلولا ا نہ کان من المسبحین للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون﴿ (سورہ صافات 144)” کہ اگر وہ تسبیح کرنے والے نہ ہوتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے اور وہی ان کے لیے قبر بن جاتی“۔

 اس کے برعکس فرعون نے دریائے نیل میں غرق ہوتے ہوئے اللہ تعالی کو یاد کیا : ”میں ایمان لایاکہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں،جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں ہوں فرمانبرداروں میںسے۔“ لیکن خوش حالی کے ایام میں اس نے کبھی بھی اللہ کویاد نہیں کیا ،بلکہ اتراتا رہا، غرور اور سرکشی میں مبتلا رہا ، اس لیے اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول نہ کی اور وہ ہلاک وبرباد ہوگیا ۔

یہاں ایک نکتہ سمجھنے کا ہے کہ اس نے براہ راست دعا نہ کی بلکہ ہارون اور موسی علیہما السلام کو واسطہ بنایا جس سے پتہ یہ چلا کہ دعا میں کسی کو واسطہ نہیں بناناچاہیے ،براہ راست اللہ سے مانگناچاہیے۔ اللہ تعالی ہم سے بہت قریب ہے : واذا سالک عبادی عنی فانی قریب ا جیب دعوة الداع اذا دعان  ”اورجب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے پوچھیں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں بہت قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوںجب وہ مجھے پکارتے ہیں“۔ (سورہ بقرہ 186 ) اللہ تعالی نے براہ راست مانگنے کی تاکید کی ہے :   اُدعوني  ا ستجب لکم (سورہ غافر 60 )

  ” تم مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا “۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام ابوالانبیا ہیں اور احترام واکرام کے بلند وبالا مقام پر فائز ہیں ، ان کی دعاکی قبولیت نے روئے زمین پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے لیے امن اور پھلوں کا رزق اور باشندگان عالم کے قلوب کا التفات مانگا : ربناانی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم ربنا لیقیموا الصلوة ، فاجعل افئدة من الناس تہوی الیہم وارزقہم من الثمرات لعلہم یشکرون ﴿ (سورہ ابراہیم 37 ) ”اے ہمارے رب ! بے شک میں نے اپنی کچھ اولاد کو ایک بغیر کھیتی والے میدان میں بسایا ہے تیرے احترام والے گھر کے نزدیک ، اے ہمارے رب ، تاکہ وہ نماز قائم کریں، پس لوگوں کے دلوں کو ایسا کردے کہ ان کی طرف مائل ہوں ، اور انھیں پھلوں سے رزق دے ، تاکہ وہ شکر کریں“۔چنانچہ دعا قبول ہوئی اوران ساری نعمتوں سے نوازا گیا۔

  آپ نے ہونہار وسعادت مند فرزند کے ہمراہ کعبہ کی دیوار بنائی تو دعا کی: ﴾ربنا وابعث فیہم رسولا منہم یتلوا علیہم آیاتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمة﴿ (سورہ بقرہ 129)کہ ان کی نسل میں ایک بہترین امت وجود میں آئے ، جس میں ایک رسول مبعوث ہو جو انھیں کلام الہی کی تعلیم دے اس میں موجود حکمت کی باتوں سے انھیں روشناس کرائے اور ان کی زندگیا ں سنوارے ۔ اللہ تعالی نے اپنے خلیل کی دعا قبول کی اور اس کرہ ارضی پر امت مسلمہ خیر کے ساتھ نمودار ہوئی ، جس نے تاریخ کا رخ موڑدیا ، اس امت کو خیرامت کے لقب سے نوازا گیا ، اس امت کا وجود دنیا والوںکے لیے پیغامِ خیر ہے ، اس کا نبی رحمة للعالمین ہے ، جس کے فرمان لوگوں کے قلوب پر اور جن کا نقوش پا زمانے کے ریگستانوں پریوں ثبت ہوئے ہیں کہ وقت کی تیزوتند ہوا اور خطرناک آندھیاں انھیں ٹس سے مس نہ کرسکیں، تاریخی حیثیت سے فتنہ تاتار ان نقوش کو مدھم کرتے کرتے خود بجھ گیا اور دنیا نے یہ منظر دیکھا کہ ع

             پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے

دعا انبیا ئے کرام کی سنت ہے، آپ ا کی دعا ہی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تقدیر بدل گئی اور اسلام کے صفحہ اول میں داخل ہوگئے : اللہم ا عز الاسلام با حد العمرین عمربن الخطاب ا وعمرو بن ہشام ” اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمر وبن ہشام میں سے کسی ایک کے ذریعہ اسلام کو تقویت عطاکر“

 بدر کے سنگلاخ میدان میں آپ ا کی دعا نے جبرئیل امین کو لا کھڑا کیا اور شیطان کو شکست کھانی پڑی ۔ احد میں فتح کے بعد فاتح لشکر کو مدینہ منورہ کے دروازے پردستک دینے کی ہمت نہ ہوئی ، حالاں کہ ظاہری اعتبار سے اب کوئی رکاوٹ نہ تھی اور کوئی رکاوٹ تھی تو وہ نالہ نیم شب کی اثر انگیزی تھی کہ وہ بد قسمت لشکر مدینہ کے بجائے مکہ روانہ کردیاگیا۔ جنگ خندق میں دعا ؤں نے افواج عرب کو ہوا ؤں اور ان دیکھے لشکروں کے ذریعے پسپا کردیا۔ جنگ یرموک میں بھی وہی ہوا ؤں کا ریلا مدد کو موجود تھا ، اسی طرح قادسیہ کے مقام پر آپ ا کے صحابہ  کرام کی پشت پرایرانیوں کے خلاف وہ تیزوتندہوا ؤں کا لشکر موجود تھا۔

 یقینا دعا مومن کا ہتھیار ہے ، رب کریم کے نادیدہ خزانوں کی چابی ہے ،لیکن اس کی حقیقت عقلیت پسندوں کی سمجھ میں نہیں آتی ، جب کہ یہ تو جبل ہمالیہ سے کہیں بڑھ کر ٹھوس اور باوزن ہے اور بدیہی اعتبارسے ثابت بھی ہے ، اللہ تعالی کے نادیدہ خزانوں کا عظیم وعمیق ربط دعا سے ہے ، جس کی قبولیت کے مختلف انداز ہیں ، کبھی بعینہ وہی مل جائے ، یا اس کا بدل بلکہ نعم البدل مل جائے ، جو ں کاتوں قبول نہ ہو بلکہ اللہ تعالی حکیم ہے اور اس کا کوئی عمل حکمت سے خالی نہیں اور وہ انسان کے انجام سے بخوبی واقف ہے ، چنان چہ اس کے ذریعہ کوئی مصیبت دور کردے ، یا یہ کہ اسے مومن کے لیے بطور توشہ آخرت محفوظ کردیاجائے لیکن دعاکی قبولیت کے ان گونا گوں انداز کو عقلیت پسند ذہن تمسخر کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے ، لیکن انہیں یہ پتا ہو نا چاہےے کہ پرخلوص کوشش اور دعا سے وہ نتائج نکلتے ہیں جن کی عقلی لحاظ سے بالکل امید نہیں ہوتی  

 دعا کی قبولیت کے آداب میںیہ شامل ہے کہ انسان اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کرے، خوب خوب بندگی کرے ، تقوی اور پرہیزگاری کی راہ اپنائے، اگر تقوی اور پرہیزگاری کی روح نہ رہے تو انسان کی زندگی سے امن وسکون عنقا ہو جاتا ہے اور پھر یہ صراط مستقیم سے منحرف ہو کر اپنی ناکامی کا نوشتہ تقدیر خود اپنے ہاتھوں تیار کرلیتا ہے ، تقوی تو یہ ہے کہ کبرونخوت اور غرور وسرکشی سے عاری اور تواضع وانکساری کے جذبات سے سرشار ہو ، جس کے لیے اللہ کی عطاکردہ نوازش کا احساس اور خالق دوجہاں کے منبع علم ہونے کا ایمان مہمیز کرتا ہے ۔

 اسی طرح جوبھی صلاحیت اور توانائیاں ہوں وہ راہ الہی میں کھپادے ، پھر اللہ تعالی سے نصرت واعانت اور فتح وکامرانی کی دعا کرے ، اللہ تعالی کو تو پرخلوص جدوجہد اور صرف اسی پر توکل کرنا اور اسی سے مانگنا محبوب ہے ، اللہ تعالی نے ایسے ہی لوگوں کو فاتح اور غالب کرنے کا وعدہ کیا ہے خواہ تعداد میں تھوڑے ہوں اور وسائل کی قلت ہو ۔

 دعا کی قبولیت میںبے شمارموانع ہیں : مثال کے طور پر حرام کھانا ، حرام پینا اور حرام لباس زیب تن کرنا، اللہ کے رسول انے ارشاد فرمایا :

 ”آدمی لمبا لمبا سفر کرے گا، پراگندہ حال، غبار آلود معلوم ہوگا،وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے گا یارب یارب اور اس کا کھانا حرام ، اس کا پینا حرام ، اس کا لباس حرام اور اس کی پرورش حرام غذا سے ہو ئی ہو تو اس کی دعا کہا ں سے قبول کی جائے گی “۔(رواہ مسلم ، رقم 1015)

 ایک دوسری حدیث میں ہے: اطب مطعمک تکن مستجاب الدعوة۔ ”اپنے کھانے کو عمدہ کرو ۔ حلال کھانا کھا ؤ۔ تمہاری دعا قبول کی جائے گی“۔

 دوسری چیز موانع دعا میں اخلاص کی کمی ہے ، اس لیے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین ”پس اللہ تعالی کو پکارو، اسی کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے “۔ ایک دوسری جگہللہ تعالی نے ارشاد فرمایا فلاتدعوا مع اللہ احداً۔ (سورة جن 18 ) ”اللہ تعالی کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو“۔اللہ کے رسول ا نے ارشاد فرمایا : تعرف الی اللہ فی الرخاءیعرفک فی الشدة۔ (رواہ الترمذی2516) ”اللہ تعالی کو خوش حالی میں یاد کرو اللہ تعالی تم کو سختی میں یادکرے گا “۔یعنی یہ کہ جب بندہ اللہ تعالی سے ڈرتا ہے اس کے حدود کی پاسداری کرتاہے اور خوش حالی میں اس کے حقوق کی رعایت کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اسے معرفت خداوندی حاصل ہوجائے گی اور اللہ تعالی اس کو سختیوں سے بچائے رکھے گا ۔ حدیث میں ہے :

 ”بندہ مجھ سے نوافل کے ذریعہ قربت حاصل کرتاہے تو میں اس سے محبت کرتاہوں ، لہذا جب میں اسے محبوب سمجھتاہوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھ بن جاتا جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ کچھ مانگتا ہے تو میں اس کو ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں “۔( رواہ البخاری 6502)

 اللہ تعالی غافل کی دعا قبول نہیں کرتا چنا نچہ مستدرک حاکم میں مروی ہے کہ: ادعوا اللہ وا نتم موقنون بالاجابة ( رواہ الترمذی 3479 وحسنہ الالبانی فی الصحسح 594) ” اللہ تعالی سے دعاکرو اور قبولیت کی یقین رکھو)یعنی اللہ تعالی غافل اور لاپرواہ دل سے نکلی ہوئی دعا کو قبول نہیں کرتاہے ۔“

 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ ا نے ارشاد فرمایا :ان اللہ یحب الملحین فی الدعاء، ( اخرجہ البیہقی فی : الشعب:1108) ”اللہ تعالی دعامیں بہت زیادہ تضرع اور خضوع وخشوع کرنے والے اور بہت زیادہ مانگنے والے کو پسند کرتاہے ۔“

 دعا عبادت ہے ، نجات کا ذریعہ ہے لہذا جو بھی دعا سے اعراض کرے ، اللہ سے نہ مانگے اللہ اسسے ناراض ہوتا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وقال ربکم ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جہنم داخرین(سورہ غافر 60)”اورتمہارے رب کا فرمان سرزدہوچکا ہے کہ مجھ سے دعا کرومیں تمہاری دعاو ں کو قبول کروں گا،یقین مانوکہ جولوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وہ ابھی ابھی ذلیل ہوکرجہنم میں جائیںگے“۔ لہذا اسی سے سب کچھ ہونے کی لولگائیں ، وہی حاجت روا مشکل ہے، اس کی رحمت سے کبھی بھی مایوس نہ ہوں اور ہرلمحہ ، ہرپل اسی سے مانگیں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*