”آپ کا شیشہ “

محمد آصف ریاض

 asif343@gmail.com

عرفی شیرازی سولہویں صدی کا معروف فارسی شاعر ہے۔پچھلے دنوں میں اسے پڑھ رہا تھا تو دوران مطالعہ مجھے اس کا یہ شعر پسند آیا۔

 ”در دل ما ،غم دنیا غم معشوق شود

بادہ گر خام بود پختہ کند شیشہ  ما “۔

 یعنی جب مجھے ” غم دنیا “ ملتا ہے ، تو میرا دل اسے ”غم معشوق “ بنا دیتا ہے ۔ اور جب مجھے  ’ خام شراب ‘ دی جاتی ہے تو میرا ’شیشہ ‘ اسے ’پختہ‘ بنا دیتا ہے۔

عرفی کے اس شعر میں کامیابی کا راز چھپا ہے۔ کامیابی کیا ہے ؟ کامیابی یہ ہے کہ انسان کم کو زیادہ بنانے کا ہنر جان لے ۔وہ ناپختہ کو پختہ بنانا سیکھ لے۔وہ اس ’میکانزم‘ کو جان لے جس کے ذریعہ ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کیا جا تا ہے، اور مائنس(Minus) کو پلس (Plus) بنا یا جا تا ہے۔

کامیابی یہ ہے کہ ایک شخص کے حصہ میں بیابان آئے اور وہ اسے لہلہا تا ہوا باغ بنا دے ۔ اسے نامکمل ٹکنالوجی دی جائے اور وہ اسے’ اپ گریڈ‘ کرکے اپنے دشمن کو چونکا دے۔ اسے ناکامی ملے اور وہ اس کے اندر سے کامیابی کونکال لے۔ وہ شعور کی سطح پر اتنا بلند ہوجائے کہ نامکمل بات میں مکمل بات کو پڑھ لے۔

جب بھی کسی آدمی کوکامیابی ملتی ہے، تو وہ نا مکمل ہوتی ہے ، وہ مکمل نہیں ہوتی ۔ آدمی خود اپنے شعور کا استعمال کر کے اسے آگے بڑھا تا ہے ۔ وہ رفتہ رفتہ چھوٹی کامیابی (smaller success ) سے بڑی کامیابی (Greater success) کی طرف بڑھتا ہے۔

اگر آدمی کے پاس وہ ’شیشہ ‘ نہ ہو جس میں ناپختہ شراب پختہ بنا ئی جا تی ہے ، تو وہ اس دنیا میں کوئی قابل قدر کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔کسی بھی قابلِ ذکر کار نامہ کو انجام دینے کے لیے لازم ہے کہ آدمی کے پاس وہ شعور ہو جس کے ذریعہ وہ نامکمل کو مکمل اور نا پختہ کو پختہ بنا سکے۔

”بادہ گر خام بود پختہ کند شیشہ ما“

 گائے کو دیکھئے ،وہ کیا کھاتی ہے؟گھاس بھوس ،لیکن دیتی کیا ہے ؟ دودھ ! گائے کو گھاس بھوس ملتا ہے لیکن اس کا ’شیشہ ‘ اسے دودھ بنا دیتا ہے۔اگر گائے کے پاس گھاس بھوس کو دودھ بنانے والا ’شیشہ‘ نہ ہو تو گائے زمین پر اپنی اہمیت کھو دے گی۔

اب زمین کو دیکھئے ، زمین کے اوپر کتنی غلاظت ڈالی جاتی ہے ،لیکن زمین ہے کہ وہ انھیں اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو جانتے ہیں کیا ہوگا ؟زمین پر لاشوں کا پہاڑ نظر آئے گا اور فضاوں میں ہر طرف بدبو پھیلی ہوئی نظر آئے گی ۔زمین اپنے دامن میں تمام غلاظت کو سمیٹتی ہے اور پھر زمین پر پھول کھلاتی ہے اور فضاﺅں میں خوشبو اڑا تی ہے۔زمین کا شیشہ (میکانزم) بدبو کو خوشبو میں بدل دیتا ہے۔

 حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی بڑے کام کو انجام دینے کے لیے ایک شیشہ درکار ہوتا ہے ،جہاں ناکامیاں کامیابیوں میں ڈھل جا تی ہیں،جہاں مائنس(Minus) کو پلس (Plus)بنا دیا جاتاہے ۔جب تک کسی انسان کے پاس وہ شیشہ (شعور) نہیں ہوگا، جس کے ذریعہ وہ اپنے کم کو زیادہ بنا سکے، تب تک وہ دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*