بات تو بہت صحیح ہے!

محمد آصف ریاض

 asif343@gmail.com

پچھلے دنوں میں پٹنہ کے سفر پر تھا۔میرے بغل والی سیٹ پر ایک بڑھیا بیٹھی تھی۔ وہ ہندو تھی اور اپنے بیٹے کے ساتھ دہلی سے پٹنہ جا رہی تھی۔ بات چیت کے دوران اس نے مجھ سے پوچھا کہ بیٹا !یہ بتاﺅ کہ کسی انسان کو سورگ (جنت ) کس طرح ملے گی؟۔ میں نے اسے بتا یا کہ کہو کہ ”ایشور ایک ہے“ اور اسی ایک ایشور کی عبادت کرو تم جنت میں چلی جاﺅ گی۔ یہ کہتے ہوئے ، میری نگاہ میں پیغمبر اسلام کا وہ فرمان تھا جسے حدیث کی کتابوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔من قال لاالہ الاللہ خالصاً من قلبہ دخل الجنة۔”جس نے سچے دل سےکہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں جنت میں داخل ہوگا“۔ میری بات سن کر بڑھیا نے کہا ”یہ تو بہت آسان فارمولہ ہے! اب میں چپکے چپکے ہر روز بلکہ ہر لمحہ اس ایک ایشور کو یاد کروں گی۔ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروں گی“۔ بڑھیا کو نصیحت کر تے ہوئے میرے سامنے پیغمبرِ اسلام کا وہ قول تھا‘جسے حدیث کی کتابوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ یسِّروا ولا تعسِّروا، بشِّروا ولا تنفِّروا۔”تم آسانیاں پیدا کرو مشکل پیدا مت کرو،تم بشارت سنانے والے بنو نفرت پھیلانے والے مت بنو۔“

پٹنہ میں مجھے ایک شادی میں شرکت کرنی تھی۔یہ شادی پٹنہ کے ایک گاﺅ ں حضرت سائیں میں تھی۔ حضرت سائیں پٹنہ کا وہ گاﺅں ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق 1977میںمیری پیدائش ہوئی۔

نکاح کی تقریب گاﺅں کی مسجد میں منعقد ہوئی ۔ تقریب میں مسلمانوں کے ساتھ کئی غیر مسلم حضرات نے بھی شرکت کی۔ رام روپ پرشاد کالج کے جنرل سکریٹری ’سادھو بابو‘ بھی تقریب میں موجود تھے۔انھوں نے تقریب کے اختتام پر مسجد کے اس حصہ کو دیکھا جہاں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں۔جب وہ اندر سے باہر آئے تو ان کے چہرے پر حیرانی کی لکیریں نمایاں تھیں۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہاں آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں ؟یہاں تو کوئی دیوتا نہیں ہے!

میں نے انھیں بتایا کہ مسلمان صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔وہ اللہ آسمان پر ہے لیکن اس کا علم ہر جگہ ہے اور ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے۔ وہ زمین وآسمان کا مالک ہے ،اس نے سورج بنا یا تاکہ انسان اس کی روشنی میں اپنا رزق تلاش کر سکے ۔ اس نے رات بنایا تاکہ انسان کو پردہ میسر ہو۔اس نے نیند پیدا کی تاکہ انسان کو آرام حاصل ہو، اس نے آسمان سے پانی برسایا تاکہ زمین پر زندگی قائم رہے۔ رہی بات بتوں کی پوجا کی تو مسلمان کسی بت کو نہیں پوجتے اور نہ ہی کسی مذہب میں بت پوجا کو جائز قرار دیا گیاہے۔میں نے انھیں بتا یا کہ بتوں کی پوجا کس طرح شروع ہوئی۔

بہت پہلے ایک قوم رہتی تھی جس کا نام قومِ نوح تھا۔قوم نوح کے لوگ کئی کئی سوسال تک زندہ رہتے  تھے ۔اس قوم کا جب کوئی نیک بزرگ مر جاتا تو یہ لوگ بہت غمگین ہوتے ،عرصہ تک اسے یاد کر کے روتے رہتے تھے، ایک شخص نے انھیں مشورہ دیا کہ کیوں نہ ایسا کریں کہ جو لوگ مرجاتے ہیں ہم ان کی مورتی تراش لیں اور جب ان کی یاد آئے تو اس مورتی کو دیکھ کر دل کو بہلائیں۔ یہ آئیڈیا سب کو پسند آیا، لوگوں نے بت تراشے ،ان کی تزئین کاری کی،جب بُت تراشنے والے گذرگئے ،توان کی اولادنے اپنی محفلوںمیںاِن بتوںکودیکھ کر یہ نتیجہ نکالا کہ ان کی پوجاہونی چاہیے۔اب کیاتھا….صبح شام لوگ بتوں کے سامنے آکر حاضری دینے لگے، کوئی وہاں کھانا لاکر رکھ دیتا تو کوئی پھول اور کوئی دودھ پلاتا ۔بعد والی نسلوں نے جب اپنے پیشواﺅں کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو وہ سمجھے کہ یہی ان کے دیوتا ہیں اور پھر وہ ان بتوں کی پوجا کرنے لگے۔میری ان باتوں کو سن کر سادھو بابو نے کہا ” بات تو بہت صحیح ہے ،اور یہ سمجھ میں بھی آتی ہے۔ آپ نے صحیح کہا کہ بتوں کی پوجا شروع انسانیت سے نہیں ہے“۔

اس طرح میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے میرا یہ سفر تبلیغِ دین کا ذریعہ بن گیا۔میرا خیال ہے کہ دعوہ ورک کے لیے کوئی خاص فنکشن اور تقریب و اجلاس کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی خاص ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے یہ تو ہر مسلمان کا کام ہے۔ دعوہ ورک ہر مسلمان پر فرض ہے ۔یہ کام مسلمانوں کو ہر جگہ اور لمحہ کرنا ہے لیکن بڑی فراست اور بہت خلوص کے ساتھ کہ اللہ کو بندوں کا خلوص مطلوب ہے ۔ 

          

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*