نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی کثرت ازواج کے مصالح

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
گزشتہ شمارے میں عرض کیا گیا تھا کہ آں حضرت صلى الله عليه وسلم نے 25 سال کا عرصہ تجرد اور عفت وپاکبازی سے گزارا ۔ 25 سال کی عمر میں ایک ایسی خاتون (حضرت خدیجہ  رضي الله عنها ) سے نکاح کیا جو بیوہ تھیں اورعمر میں آپ اسے پندرہ سال بڑی تھیں ۔ حضرت خدیجہ  کی وفات کے بعد ‘اپنی عمر کے پچاسویں سال جس خاتون (حضرت سودہ رضي الله عنها ) سے نکاح کیا وہ آپ کی ہم سن اور بیوہ تھیں ۔ بقیہ 9 ازواج مطہرات سے آپ کا نکاح 53سال کی عمر سے 60 سال کی عمر کے درمیانی عرصہ میں ہوا ۔ یہ ساری خواتین (سوائے حضرت عائشہ رضي الله عنها کے ) ایک دو یا تین شوہروں کی بیویاں رہ چکی تھیں ۔ اپنی عمر کے آخری تین سالوں میں‘جب کہ جزیرة العرب کے بڑے حصے پرآپ کا اقتدار قائم ہوچکا تھا ‘آپ نے کوئی نکاح نہیں کیا ۔ یہ وہ حقائق ہیں جن سے اس اعتراض کی جڑ کٹ جاتی ہے کہ آں حضرت صلى الله عليه وسلم  کی کثرت ازدواج کا سبب آپ صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه وسلم کی بڑھی ہوئی نفسانی خواہش تھی ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس کے کیا مصالح تھے ؟ آں حضرت صلى الله عليه کے نکاحوں میں غورکرنے سے درج ذیل مصالح سامنے آتے ہیں :
1 : اصحاب کی دل جوئی :
دین کی تبلیغ واشاعت کی راہ میں بعض صحابہ وصحابیات نے غیر معمولی قربانیاں دی تھیں اور ان کی نصرت اور تعاون سے آپ کو بہت سہارا ملا تھا ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کی دل جوئی کرنے ، ان کی رفاقت کو پختہ ترکرنے اور ان کی قدر افزائی کے لیے بعض نکاح کیے ۔ مثلاً حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ آپ کے قریب ترین اصحاب تھے ۔ آپ نے ان کی دل جوئی اور قدر دانی کے لیے ان کی صاحب زادیوں حضرت عائشہ رضي الله عنها اور حضرت حفصہ رضي الله عنها سے نکاح کیا ۔ حضرت سودہ رضي الله عنها ابتدائی عہد میں اسلام قبول کرنے اور حبشہ ہجرت کرنے والوں میں سے تھیں ۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے سخت آزمائشیں جھیلیں تھیں ۔ ان کی سبقتِ اسلام ، ہجرت حبشہ اورقربانیوں کا لحاظ کرتے ہوئے حضور صلى الله عليه وسلم نے ان سے نکاح کیا ۔ اس وقت ان کی عمر پچاس سال تھی اور حضور کی بھی اتنی ہی تھی ۔ ہرذی عقل سمجھ سکتا ہے کہ ایک پچاس سالہ بیوہ سے نکاح میں جنسی محرک کیا ہوسکتا ہے ؟
حضرت زینب بنت خزیمہ رضي الله عنها کے تیسرے شوہر عبداللہ بن جحشرضي الله عنها آپ صلى الله عليه وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے ۔ وہ غزوہ احد میں شہید ہوگئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے قرابت کا لحاظ کرتے ہوئے اور غزوہ احد میں صحابہ کے شہید ہوجانے سے پیدا ہونے والی سماجی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے حضرت زینب رضي الله عنها سے نکاح کیا ۔
حضرت ام سلمہ رضي الله عنها کے پہلے شوہر حضرت ابوسلمہ رضي الله عنها  حضور کے رضاعی بھائی اور اور السابقون الالون میں سے تھے ۔ انہوں نے حبشہ ہجرت کی تھی، پھر وہاں سے واپس آکر ہجرتِ مدینہ کا شرف بھی حاصل کیا تھا اور اس میں اپنی بیوی اور بچے سے طویل عرصہ تک جدائی بھی برداشت کی تھی ۔ انہوں نے غزوہ احد میں زخمی ہونے کے بعد وفات پائی ۔ اس وقت ان کے چار بچے تھے ۔ حضور صلى الله عليه وسلم نے زوجین کی بے مثال قربانیوں کی قدر افزائی اور بچو ںکی کفالت کے مقصد سے حضرت ام سلمہ رضي الله عنها سے نکاح کیا ۔
اسی طرح حضرت زینب بنت جحش رضي الله عنها سے آپ نے ان کی دل شکنی اور ذہنی اذیت کی تلافی کے لیے نکاح کیا تھا ( نکاحِ زینب کے دیگر مصالح پر بحث آگے آئے گی )
2: دین کی توسیع اور استحکام :
جب آں حضرت صلى الله عليه وسلم کی بعثت ہوئی اس زمانے میں عرب میں قبائلی نظام بڑا مستحکم تھا ۔ اپنے کسی فرد کی حمایت میں عموماً پورا قبیلہ متحد ہوجاتا تھا ۔ کفار نے جب آپ صلى الله عليه وسلم کی معاشی بائیکاٹ کیا تو پورے بنوہاشم نے آپ کا ساتھ دیا تھا ۔ آں حضرت صلى الله عليه وسلم کی تمام ازواج الگ الگ قبیلوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ حضرت خدیجہ رضي الله عنها بنو عزی ، حضرت سودہ رضي الله عنها بنو عامر، حضرت عائشہ رضي الله عنها بنو تیم ، حضرت حفصہ رضي الله عنها بنو عدی ، حضرت زینب بنت خزیمہ رضي الله عنها بنو ہلال ، حضرت ام سلمہ رضي الله عنها بنو مخزوم ، حضرت زینب بنت جحش رضي الله عنها بنو اسد ، حضرت جویریہ رضي الله عنها بنو مصطلق ، حضرت صفیہ رضي الله عنها بنو ہارون ، حضرت ام حبیبہ رضي الله عنها بنو امیہ ، حضرت میمونہ رضي الله عنها بنو عیلان ۔
مختلف قبائل میں آں حضرت صلى الله عليه وسلم کے نکاح کرنے سے ایک فائدہ یہ حاصل ہوا کہ ان قبائل سے قربت پیدا ہوئی ،انہوں نے سنجیدگی سے اسلام کے بارے میں غور کیا اور اسے قبول کرنے کے لیے آگے بڑھے ۔ اس طرح مختصر مدت میں دین کی توسیع اور استحکام کی راہ ہموار ہوئی ۔
3: عداوتوں کا خاتمہ:
ان نکاحوں سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ جن قبائل اور خاندانو ںسے آپ کے سسرالی رشتے قائم ہوئے انہوں نے اپنی عداوتیں ختم کردیں اور آپ کے خلاف ان کی سرگرمیاں ٹھنڈی پڑگئیں۔
حضرت ام حبیبہ رضي الله عنها ابوسفیان رضي الله عنه کی بیٹی تھیںجنہوں نے آں حضرت صلى الله عليه وسلم کے خلاف ہر موقع پر لشکر کی قیادت کی تھی ۔ لیکن ان سے آپ رضي الله عنها کے نکاح کے بعد ان کے باپ کی مخالفت کم زور پڑگئی اور وہ پھر کبھی آپ ا کے مقابلے پر نہیں آئے یہاں تک کہ کچھ عرصہ کے بعد وہ اور ان کے دونوں فرزند حضرت معاویہ رضي الله عنه اور حضرت یزید رضي الله عنه حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ۔ حضرت جویریہ رضي الله عنها قبیلہ بنو مصطلق کے سردار حارث کی بیٹی تھیں ۔ ان سے نکاح کے بعد ان کا پورا قبیلہ رہزنی سے تائب ہوکر مسلمان ہوگیا ۔ حضرت صفیہ رضي الله عنها کا تعلق یہود کے اس قبیلے سے تھا جس کا سلسلہ نسب حضرت ہارون علیہ السلام سے جا ملتا ہے ۔ ان کے امہات المومنین میں شامل ہونے سے یہود کی سازشوں کو کم کرنے میں مدد ملی ۔
4: عورتوں کی تعلیم وتربیت :
آں حضرت صلى الله عليه وسلم جس مقصدکولے کر مبعوث ہوئے اس کے لیے صرف مردوں کی تعلیم وتربیت کافی نہیں تھی بلکہ عورتوں کی تعلیم وتربیت بھی اتنی ہی ضروری تھی ۔ لیکن چوں کہ اسلامی معاشرت میں مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط ممنوع تھا اس لیے عورتوں کی براہ راست تعلیم وتربیت کے لیے زیادہ وقت فارغ کرنا آپ صلى الله عليه وسلم کے لیے ممکن نہ تھا ۔ دوسرے بہت سے نسوانی مسائل ایسے ہیں جن کو علی الاعلان یا عورتوں کے سامنے کھول کر بیان کرنے میں حیا مانع ہوتی ہے اور اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ کنواری پردہ نشیں سے زیادہ حیادار تھے (بخاری ،مسلم) اس بناپر عورتوں کی تعلیم وتربیت کا اس سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں ہوسکتا تھا کہ آپ مختلف خواتین سے نکاح کرکے ان کی براہ راست تعلیم وتربیت کریں اور انہیں دوسری عورتوں کو دین سکھانے کے لیے تیار کریں ۔ نسوانی مسائل کی بہت سی گتھیوں کو سلجھانے میں ازواج مطہرات کا غیرمعمولی کردار ہے ۔ انہوں نے وہ مسائل خود آں حضرت صلى الله عليه وسلم سے دریافت کرکے دوسری صحابیات کو بتائے یا صحابیات ان کی خدمت میں حاضر ہوکر دریافت کرتی تھیں تو وہ حضور صلى الله عليه وسلم سے رجوع کرکے انہیں جواب دیتی تھیں۔
مخصوص مسائل سے ہٹ کر بھی بہت سی تعلیما ت اور احکام کا علم امت کو ازواج مطہرات ہی کے واسطے سے ہوا ہے ۔ وہ خلوت گاہِ نبوت کی رازدار تھیں ۔ انہیں بہت سی ان باتوں کی خبر رہتی تھی جو دوسروں کی نگاہوں سے پوشیدہ تھیں ۔ دین کی بہت سی تعلیمات انہوں نے خود رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے دریافت کرکے حاصل کیں اور آپ صلى الله عليه وسلم بھی انہیں مستفید فرماتے رہتے تھے ۔ آں حضرت ا کے ارشادات عالیہ کی معتدبہ تعداد ایسی ہے جو ہم تک صرف ازواج مطہرات کے ذریعے سے پہنچی ہے ۔
5:حسن معاشرت کا اعلی نمونہ
آں حضرت صلى الله عليه وسلم نے اپنی ازدواجی زندگی کے ذریعے حسن معاشرت کا اعلی نمونہ پیش کیا ۔ آپ کی ازواج مختلف قبائل سے تعلق رکھتی تھیں ۔ ان کی عمریں بھی متفاوت تھیں اور ان کے مزاجوں میں بھی فرق تھا ۔ ان میں ایک کنواری تھی اور ایک مطلقہ ۔ان میں ایک ایک شوہر کی بیوائیں بھی تھی ، دو دو شوہروں کی بیوائیں بھی اور تین شوہروں کی بیوہ بھی ۔ لیکن ان کے تعلقات آپس میں ہمیشہ خوشگوار رہے اور ان میں سے ہرایک کے ساتھ آں حضرت صلى الله عليه وسلم کے تعلقات بھی مثالی رہے ۔
آپ صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ اس شخص کے لیے بھی زندہ نمونہ ہے جس کا نکاح اپنے سے بڑی اور پختہ عمر کی عورت کے ساتھ ہواہو کہ اس کے ساتھ کیسی خوش گوار ازدواجی زندگی گزاری جا سکتی ہے اور اس شخص کے لیے بھی جس کی بیوی نوعمر ہو کہ کس طرح اس کی دل داری کی جاتی ہے ۔ آپ کی زندگی ہر شخص کے لیے اسوہ ہے ، خواہ اس کا نکاح کنواری سے ہوا ہو یا مطلقہ سے ، کسی صاحب اولاد سے ہواہو یا بے اولاد بیوہ سے ۔ آپ صلى الله عليه وسلم کی کثرت ازواج کی ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ اس طرح مختلف پہلوؤں سے آپ کا اسوہ نمایاں ہو اور ہرشخص اپنے حالات کے لحاظ سے اس سے رہنمائی حاصل کرسکے ۔
6:لے پالک کے جاہلی طریقے کا خاتمہ
زمانہ جاہلیت میں یہ طریقہ عام تھاکہ لوگ کسی کولے پالک بنالیتے اور وہ صلبی بیٹے کے جیسے وراثت کا بھی حقدار ٹھہرتا تھا ۔ جب زید بن حارثہ رضي الله عنه کو خدیجہ رضي الله عنها نے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کی تحویل میں کیا اوراللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم حضرت زید رضي الله عنه  کی دیکھ بھال کرنے لگے تو لوگوں نے زید رضي الله عنه کو زید بن محمد کے نام کے پکارنا شروع کردیا،جس سے بروقت روک دیا گیا لیکن اللہ تعالی لے پالک کا پوری طرح خاتمہ کردینا چاہتا تھا،اور یہ اسی وقت ممکن تھا جب عملی نمونہ سامنے آجائے چنانچہ اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کے تعدد ازدواج کی مصلحتوں میں سے ایک مصلحت لے پالک کا خاتمہ بھی ہے ۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کی پھوپھی زاد بہن زینب رضي الله عنها  کی شادی آپ صلى الله عليه وسلم کے آزاد کردہ غلام زید رضي الله عنه کے ساتھ ہوئی تھی ، لیکن ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے اور مزاج میل نہ کھانے کی وجہ سے ایک ڈیڑھ سال کے اندر ہی طلاق کی نوبت آ گئی۔ چنانچہ زید رضي الله عنه نے حضرت زینب رضي الله عنها کو قید نکاح سے آزاد سے آزاد کردیا۔ جب زینب بنت جحش رضي الله عنها  کی عدت پوری ہو گئی تو اللہ تعالی نے نبی صلى الله عليه وسلم کو حکم دیا کہ آپ اس سے نکاح کرلیں۔ اس طرح آپ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی تعمیل کی اور حضرت زینب رضي الله عنها  آپ صلى الله عليه وسلم کی زوجیت میں آ گئیں ۔
اس نکاح نے وہ رکاوٹ دور کر دی جو منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے بیاہ کرنے کے سلسلے میں زمانہ جاہلیت سے چلی آ رہی تھی اور اسلام کے عائلی قانون کی ایک اہم دفعہ روشن ہو کر سامنے آ گئی۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*