ابو شحمہ سے منسوب قصہ کی اصل حقیقت

شیخ حافظ عبدالروف عبدالحنان (کویت)

 ابو شحمہ کے قصے کے بارے میں لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ کچھ تو وہ ہیں جو ابوشحمہ کے وجود کے ہی منکر ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ مجھے ایک صاحب کا ایک مضمون بعنوان ” ابو شحمہ سے منسوب واقعہ صحیح نہیں ہے“ دیکھنے کا موقعہ ملا جس میں مضمون نگار نے ابوشحمہ کے وجود سے ہی انکار کر دیا تھا۔ چنانچہ لکھا تھا: ” الفاروق مصنفہ شبلی میں  حضرت عمر صکے لڑکے کا نام ابوشحمہ بیان کیا گیاہے لیکن ماہرین انساب کی کسی تحریرسے اس کا ثبوت نہیں ملتا“ ۔ ان کا ےہ مضمون ایک صاحب کے رد میں تھا جنہوں نے ابو شحمہ کے قصے کو عدلِ فاروق صکے طور پر ذکر کیا تھا۔ اور کچھ لوگ وہ ہیں جو ابوشحمہ کے اس قصے کو ( جس میںہے کہ ابوشحمہ نے شراب پی، پھر ایک یہودی لڑکی سے زنا کیا ، جس پر ان کے والد عمر فاروق ص نے انہیں کوڑے لگائے اور کوڑوں کے دوران ان کی موت واقع ہو گئی) عدلِ عمرفاروق ص میں بڑے فخر سے ذکر کرتے ہےں۔ اور کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو ان کے صحیح قصہ(جس کی تفصیل عنقریب آرہی ہے)سے بھی انکار کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ ایک صاحب نے ایک مضمون بعنوان ’ ’ ابو شحمہ کا بے اصل واقعہ “ لکھا جس میں انہوں نے ان کے صحیح قصے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ ان صاحب کا مضمون بھی ایک صاحب کے رد میں تھا جنہوں نے ابو شحمہ کے قصے کو عدلِ فاروق صمےں ذکر کیا تھا۔ یہ مضمون اور اس سے پہلے والا مضمون بھی پاکستان میں شائع ہوئے تھے۔ جن جرائد میں یہ شائع ہوئے تھے ان میں راقم کی طرف سے ان کا رد بھی لکھا گیا تھا۔پہلے مضمون کا رد ”ابو شحمہ سے منسوب واقعہ کی اصل حقیقت “ تھا اور دوسرے مضمون کا رد ” ابو شحمہ عبد الرحمن بن عمر بن خطاب ص کا اصل واقعہ “ کے عنوان سے تھا۔ ابوشحمہ والا قصہ لوگوں میں چونکہ کافی مشہور ہے، چنانچہ اس کی شہرت کے باعث اس کے بارے میں لکھنا مناسب سمجھا گیا، تاکہ قارئین اس قصہ کی اصل حقیقت سے آگاہ ہوں،اور جو من گھڑت قصہ ہے اس پر مطلع ہوں۔ اس مضمون میں سب سے پہلے ابوشحمہ کے وجود کے اثبات کے بارے میں مختصر سا بیان ہوگا ، اس کے بعد ان کا جو صحیح قصہ ہے اس کا ذکر ہوگا۔

 

 ابو شحمہ کا وجود

 امیر المومنین عمر بن خطاب صکے عبد الرحمن نامی تین بیٹے تھے۔ (1) عبد الرحمن اکبر (2) عبد الرحمن اوسط  (3) عبد الرحمن اصغر۔عبد الرحمن اوسط ‘ یہی ابوشحمہ ہیں، عبد الرحمن ان کا نام ہے اور ابوشحمہ ان کی کنیت ہے۔ ابن سعد اور زبیر بن بکار وغیرہ کا کہنا ہے کہ عبد الرحمن اوسط اولادِعمر میں سے ہےں جن کی کنیت ابوشحمہ ہے۔ ملاحظہ ہو ”طبقات ابن سعد (3۔ 266‘265) ‘ مناقب عمر لابن الجوزی (264)‘ اباطیل جورقانی(2۔228) اور البدایةوالنہایةلابن کثیر (7۔144)

امام نووی نے تہذیب الاسماءو اللغات (2۔15) میں عمر فاروق ص کے ترجمے میں اولادِعمر میں ابو شحمہ کا ذکرکیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا نام عبد الرحمن ہے ۔ حافظ ابن عبد البر نے الاستیعاب (2۔395) میں اور ابن اثیر نے اسد الغابہ میں (3۔312) میں ان کے بڑے بھائی ” عبد الرحمن اکبر“ کے ترجمے میں ان کا ذکر کیا ہے اور ان کو کوڑے مارے جانے والا واقعہ بھی نقل کیا ہے جو عنقریب آرہا ہے ۔ ان کی طرح حافظ ابن حجر نے بھی  ” الاصابہ“ ( 2۔406‘405)میں” عبد الرحمن اکبر“ کے ترجمے میں ان کا ذکر کیا ہے اور ان کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ آگے چل کر حافظ صاحب نے صحابہث کی دوسری قسم (دوسری قسم ان صحابہ کی ہے جنہیں قرائن وشواہدکی بنا پر صحابہ میں شمار کیا گیا ہے یعنی ان کی صحبت پر کوئی صریح دلیل نہیں۔ تفصیل کے لےے مقدمہ الاصابہ۱۔ ۶‘۷ دیکھاجائے) مےں ان کا مستقل ترجمہ لکھا ہے ۔ اور ان کے قصے کو تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو ” الاصابہ“ (۳۔ ۲۷‘۳۷ترجمہ عبد الرحمن بن عمر ) ۔

 اولادِ عمرصمیں عبدالرحمن الاوسط کا ذکر طبری نے بھی تاریخ طبری (۵۔۷۱) میں کیا ہے۔ مگر ان کی کنیت ذکر نہیں کی۔ اولادِ عمر میں ان کاتذکرہ مسعودی نے بھی  ” مروج الذہب“ (۲۔۰۳۳) میں کیا ہے۔ چنانچہ اولادِ عمر کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے ” و عبد الرحمن الاصغر ھو المحدود فی الشراب‘ وھو المعروف بابی شحمة“ ۔عبدالرحمن اصغر اور یہ وہی ہیں جنہیں شراب پینے کی حد لگائی گئی اور ےہ ابوشحمہ کے نام سے مشہور ہیں۔ (مروج الذھب کے مطبوعہ نسخے میں عبدالرحمن الاصغر ہی ہے اگر یہ طباعت کی غلطی نہیں تو مسعودی کا وہم ہے کیونکہ حد والا واقعہ عبدالرحمن الاوسط کا ہے ۔ عبدالرحمن الاصغر کا نہیں) مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ ” ابو شحمہ “ جن کا نام عبد الرحمن الاوسط ہے ‘ کا وجود ہے ۔ جس طرح ابوشحمہ کا وجود ہے ،اسی طرح ان کی طرف منسوب واقعہ کی بھی کچھ حقیقت ہے۔

  لہذا اب وہ حقیقت یعنی ابو شحمہ کا صحیح قصہ ملاحظہ کریں۔

عبد اللہ بن عمرصبیان کرتے ہےں : شرب اخی عبدالرحمن بن عمر۔وشرب معہ ا بو سروعہ عقبہ بن الحارث، وھما بمصر فی خلافة عمر، فسکرا، فلما ا صبحا انطلقا الی عمروبن  العا ص وھو ا میر مصر۔فقالا : طھِّرنا، فانا قد سکرنا من شراب شربناہ، فقال عبداللہ: فذکرلی ا خی ا نہ سکر، فقلتُ :ا دخل الدار ا طھرک ولم ا شعر ا نھما ا تیا عمرواً ‘ فا خبرنی ا خی ا نہ ا خبر الا میربذلک، فقال عبداللہ :  لا تحلق الیوم علی رو وس الناس، ا دخل الدار، ا حلقک،وکانوا اذ ذاک یحلقون مع الحدود، فدخل الدار ، فقال عبداللہ: فحلقتُ ا خی بیدی ثم جلدھم عمرو، فسمع بذلک عمر، فکتب الی عمرو ا ن ابعث الیّ بعبدالرحمن علی قتب، ففعل ذلک ، فلما قدم علی عمر جلدہ و عاقبہ لمکانہ منہ، ثم ا رسلہ، فلبث شھرا صحیحا، ثم ا صابہ قدرہ فمات، فیحسب عامة الناس ا نہ مات من جلد عمر، ولم یمت من جلد عمر ۔  

”ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خلافتِ عمر میں مصر میں میرے بھائی عبدالرحمن اور ابو سروعہ عقبہ بن حارث نے (ایک رات نبیذ) پی لیا جس سے ان کو نشہ آگیا ‘ جب صبح ہوئی تو وہ دونوں عمرو بن عاص صکے پاس گئے اور وہامیر مصر تھے۔ اور ان سے کہا کہ ہمیں پاک کرو کیونکہ ہم نے (نبیذ) پیا ہے۔ ( مذکورہ نص میں مطلق پینے کا ذکر ہے، کیا پیا اس کی وضاحت نہیں ہے‘ مگر ابن جوزی ؒنے کہا ہے کہ انہوں نے رات میں نبیذ پیا تھا ۔ ملاحظہ ہو ۔ موضوعات : ۳۔۴۷۲) جس سے ہمیں نشہ آگیا ہے۔ ابن عمر صکہتے ہیں کہ میرے بھائی نے مجھ سے بیان کیا کے مجھے نشہ آگیا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ گھر چلو ‘ میں تمہیں پاک کردوں‘ اور مجھے یہ خبر نہ تھی کہ وہ دونوں عمرو بن العاصص کے پاس جاچکے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے بتایا کہ وہ اس واقعہ کی خبر امیر کو دے چکے ہیں‘ میں نے کہا کہ آج سب لوگوں کے سامنے تمہارا سر نہیں مونڈا جائے گا۔گھر چلو ‘میں تمہارا سر مونڈدوں ‘اور اس وقت کوڑے کے ساتھ ساتھ سر کے بال بھی مونڈا کرتے تھے۔ وہ گھر میں آئے ، میں نے اپنے ہاتھ سے ان کا سر مونڈا ،اس کے بعد عمرو نے ان کو کوڑے لگائے۔اس واقعہ کے بارے میں جب عمر ص نے سنا تو انہوں نے امیر کو لکھا کہ عبدالرحمن کو میرے پاس (مدینہ) بھیجو۔ انہوں نے انہیںبھیج دیا، عبد الرحمن جب عمرص کے پاس مدینہ آئے تو انہوں نے ان کواپنے یہاں عزیز ہونے کی بنا پر کوڑے لگائے اور ساتھ سزا بھی دی،اس کے بعد ایک ماہ تک وہ صحیح و تندرست رہے پھر تقدیر الہی سے فوت ہو گئے ۔ عامة الناس تو یہ تصور کرتے ہیں کہ ان کی موت کا سبب عمر کے کوڑے تھا حالانکہ کوڑے ان کی موت کا سبب نہ تھا۔ “

 ( اس کو عبدالرزاق نے (۹۔۲۳‘ ۲۔۷۴۰۷۱) جورقانی نے ”الاباطیل“(۲۔۳۹‘۱۔۹۷۸)میںاوربیہقی(۸۔۲۱۳‘ ۳۱۳) نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت کیا ہے اور ا س کی سند بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے۔امام جورجانی اس قصے کوروایت کرنے کے بعدلکھتے ہیں: ”یہ حدیث ثابت ہے ، اس کی سند متصل ہے“۔ حافظ ابن حجر، حافظ سخاوی اور متقی ھندی نے بھی اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ الاباطیل للجورجانی :۲۔۴۹۱ ، فتح الباری لابن حجر(۲۱۔۵۶)الاجوبہ المرضیة للسخاوی(۳۔ ۶۳۹) اورکنزالعمال لمتقی الھندی(۲۱۔۵۶۶)

  يہ حدیث ثابت ہے اور اس کی سند متصل ہے جیسا کہ محدثین کا قول گذراہے۔

اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ ابوشحمہ عبدالرحمن بن عمر کی وفات کا سبب کوڑے نہ تھابلکہ وہ اس واقعہ کے ایک مہینہ کے بعد قضائے الہی سے فوت ہوئے جیسا کہ نفںِواقعہ میںصراحت موجودہے۔ حافظ ابن عبدالبر اس قصہ کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ھکذا یرویہ معمر عن الزہری عن سالم عن ابیہ وا ما اھل عراق فیقولون انہ مات تحت سیاط عمر، وذلک غلط۔” اس قصہ کو معمر نے زہری سے ( زہری سے اس کو شعیب نے بھی روایت کیا ہے جیسا کہ گذر چکا ہے۔) انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے باپ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کیا ہے جبکہ اہل عراق کہتے ہیں کہ ان کی وفات عمر کے کوڑوں تلے ہوئی جو غلط ہے“۔ ( الاستیعاب: ۲۔۵۹۳‘ اسد الغابة: ۳۔۲۱۳‘ الاصابہ: ۳۔۲۷)

 ایک سوال اور اس کا جواب

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمرو بن عاص ص ابو شحمہ کو جب حد لگا چکے تھے تو پھر امیرالمومنین عمر ص نے ان کو دوبارہ حد کس بنا پر لگائی کیونکہ حد تو ایک مرتبہ ہی لگائی جاتی ہے۔اس سوال کا جواب دیتے ہوئے امام بیہقی  رقمطراز ہيں: والذی یشبہ انہ جلدہ جلد تعزیر، فان الحد لا یعاد واللہ اعلم (سنن بیہقی ۸۔۳۱۳)

 ”جو بات قرینِ قیاس ہے وہ یہ کہ آپ نے ان کو تعزیر اً کوڑے لگائے کیونکہ حد دوبارہ قائم نہیں کی جاتی، واللہ اعلم۔“ حا فظ ابن عبد البر لکھتے ہیں: فضربہ ا بوہ ا دب الوالد ”ان کے والد نے ان کو تادیبا ًمارا“  ( الاستیعاب : ۲۔۵۹۳) اور ابن جوزی لکھتے ہیں: وانما لما قدم علی عمر ضربہ ضرب تادیب    لا ضرب حد ” جب وہ عمرکے پاس آئے تو انہوں نے ان کو تادیب کے طور پر کوڑے لگائے تھے، حد کے طور پر نہیں۔“(موضوعات: ۳۔۵۷۲) اور انہوں نے یہ بھی کہا : وا ما کون عمر ا عاد الضرب علی ولدہ فلیس ذلک حداً وانما ضربہ غضباً وتادیباً و الا فالحد  لا یکرر ” عمرصکا اپنے بیٹے کو دوبارہ مارنا یہ حد نہ تھی بلکہ انہوں نے اس کو غصہ اور تادیب کے طور پر مارا تھا کیونکہ حدود دوبارہ نہیں لگائی جاتی“۔

 (مناقب عمر بن الخطاب :۰۷۲)

قلت: اس واقعہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ ذکر کرنا جلدہ لمکانہ منہ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ نے ان کو تادیب کے طور پر کوڑے لگائے تھے۔ حد کے طور پر نہیں۔

تنبیہ :اس قصہ کو ابن سعد نے ایک دوسری سند سے اسلم کی سند سے کافی تفصیل سے روایت کیا ہے۔ جس میں ےہ الفاظ بھی ہیں:فکلّمہ عبد الرحمن بن عوف فقال یا امیر المومنین قد ا قیم علیہ الحد مرة فما علیہ ا ن تقیمہ ثانیة ، فلم یلتفت الی ھذا و زبرہ فجعل عبد الرحمن یصیح انی مریض وا نت قاتلی فضربہ الثانیة الحد وحبسہ ثم مرض فمات ۔

  ”عبد الرحمن بن عوف  رضي الله عنه  نے ان سے بات چیت کی ،کہا کہ امیر المومنین اس پر جب ایک مرتبہ حد قائم کی جاچکی تو آپ دوبارہ کس لےے حد قائم کرنا چاہتے ہیں مگر آپ نے اس بات کی طرف کوئی توجہ نہ دی ۔ اور ان کو( ابوشحمہ کو) ڈانٹا، انہوں نے چیخنا شروع کردیا کہ میں بیمار ہوں،آپ مجھے مار دینا چاہتے ہیں، سو آپ نے ان پر دوبارہ حد قائم کی اور قید میں بھی رکھا پھر وہ بیمار ہوگئے اور وفات پا گئے۔“( کنز العمال : ۲۱۔۴۶۶‘ ۳۱۰۶۳‘ و منتخب کنز العمال : ۴۔۲۲۴‘ بحوالہ ابن سعد لیکن طبقات ابن سعد کے مطبوعہ نسخے میں مجھے یہ واقعہ نہیں ملا جبکہ ابن جوزیؒ اور حافظ ابن حجر  نے بھی اس کو ابن سعد کی طرف منسوب کیا ہے۔)

ان الفاظ سے صراحتا ًپتہ چلتا ہے کہ عمرص کا ابوشحمہ کو دوبارہ کوڑے لگانا حد کے طور پر تھا۔اس روایت کی سند کیسی ہے ؟ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ طبقات ابن سعد کے مطبوعہ نسخے میں مجھے یہ واقعہ نہیں ملا واللہ اعلم ۔ مگر حافظ ابن حجر کے اندازے سے ظاہر ہوتا ہے کہ  ابن سعد کی ےہ سند صحیح نہیں ہے کیونکہ انہوں نے اس قصہ کوابن سعد کے حوالے سے ذکر کرنے پر سکوت اختیار کیا ہے۔ اور اس کے بعد اس کے لےے عبد الرزاق کا حوالہ دے کر اس کی سند کو صحیح کہا ہے چنانچہ ان کے الفاظ ےہ ہیں: واخرجہ عبد الرزاق بسند صحیح عن ابن عمر مطولاً (فتح الباری: ۲۱۔۵۶) ابن سعد والی سند بھی اگر صحیح ہو تو اس سوال کا جواب ہمیں اس روایت سے ہی مل سکتاہے ۔ وہ اس طرح کہ اس روایت میں ہے کہ عمرو بن العاصصنے ابو شحمہ اور ان کے ساتھی عقبہ بن حارث کو سرِعام حد لگانے کی بجائے گھر کے اندر ہی حد لگا دی ۔ لہذا ممکن ہے کہ عمرصنے ان کی اس حد کو حد ہی نہ سمجھا ہو، کیونکہ ےہ حد سرِعام حد قائم کرنے کے اسلامی طریقے کے منافی تھی۔لہذا انہوں نے دوبارہ اسلامی طریقے کے مطابق حد نافذ کی ہو،اور ےہ بھی ممکن ہے کہ راوی نے اس تادیب کو حد سمجھ لیا ہو۔واللہ اعلم بالصواب۔ بعد میں مجھے ابن سعد کی سند مل گئی ، ان کی سند کو حافظ ابن کثیر نے الفاروق(۲۔۸۱۵) میں اور ابن جوزی نے مناقب عمربن الخطاب (۷۶۲۔۸۶۲) میں ذکر کیا ہے اور وہ سند صحیح نہیں ہے بلکہ سخت ضعیف ہے۔

 خلاصہ

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ابو شحمہ کا واقعہ اس حد تک صحیح ہے کہ ان کے والد عمر بن الخطاب ص نے ان کو کوڑے لگائے ، کوڑے لگائے جانے کے بعد ایک ماہ تک وہ بالکل صحیح و تندرست رہے ،اس کے بعد وہ قضائے الہی سے وفات پا گئے جس کا عام لوگوں نے مطلب یہ لیا کہ وہ کوڑوں کی وجہ سے فوت ہوئے ۔اصل قصہ یہ تھا ۔

ابو شحمہ کا غیر صحیح قصہ

مگر قصہ گو لوگوں نے اس میں طرح طرح کے رنگ بھر کر اس کو کچھ کاکچھ بنا دیا، اس رنگ بھرے قصے کو امام جورقانی نے الاباطیل (۲۔۴۸۱‘۲۹۱) میں اور ابن جوزی نے موضوعات (۳۔۹۶۲‘۳۷۲) میں روایت کیا ہے اور وہ کافی طویل قصہ ہے جو تقریباً چار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس رنگ بھرے قصے میں ہے کہ ابوشحمہ نے ایک یہودی کے ہاں شراب پی، اس کے بعد راستے میں جانے والی ایک عورت سے زنا بالجبر کیا ۔ جس سے وہ حمل سے ہو گئی جب بچہ پیدا ہوا تو وہ اس بچے کو عمر فاروق ص کے پاس لے کر آئی اور کہنے لگی کہ یہ لو اپنا بچہ، آپ اس کے مجھ سے زیادہ حقدار ہیں،ان کے پوچھنے پر اس نے پوری تفصیل بیان کر دی،تفصیل سن لینے کے بعد آپ ابو شحمہ کے پاس گئے اور ان سے بڑے عجیب وغریب طریقے سے  اقبالِ جرم کروایا، اس کے بعد اپنے غلام افلح کو حکم دیا کہ وہ عبد الرحمن کو کوڑے لگائے اور کوڑوں کے دوران باپ بیٹے کا عجیب وغریب مکالمہ بھی مذکور ہے۔ اس قصے کے آخر میں ہے کہ جب نوے کوڑے مارے جاچکے تو ابو شحمہ کا کلام منقطع ہو گیا اور وہ کمزور پڑ گئے تو ہر طرف سے صحابہ آگے بڑھے اور آپ سے باقی دس کوڑے آئندہ کسی وقت لگوانے کا مطالبہ کیا، آپ نے جواب دیا کہ جس طرح معصیت میں تاخیر نہیں ہوتی، اسی طرح اس کی عقوبت میں تاخیر نہیں ہو سکتی۔ اسی دوران ابوشحمہ کی والدہ بھی چیختی چلاتی حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ میں ہر کوڑے کے بدلے پیدل حج کروںگی اور اتنے درہم خیرات بھی کروںگی، آپ باقی کوڑے نہ لگوائیں،انہوں نے جواب دیا کہ حج اور صدقہ حد کے قائم مقام نہیں ہو سکتے۔جب آخری کوڑا لگا تو ابوشحمہ کی روح پرواز کر گئی۔اس کے بعد آپ نے ابو شحمہ کو اپنی گود میں لیا اور رونا شروع کر دیا اور کہنے لگے کہ اللہ تعالی تمہاری خطاوں کو معاف کرے،میرا باپ اس پر قربان ہوجس کو حق نے مار ڈالا،جو حدکے اختتام پر فوت ہو گیا جس پر اس کے باپ اور نہ ہی عزیزواقارب نے رحم کیا۔یہ ایک عظیم دن تھا لوگ زاروقطار روئے۔ اس واقعہ کے چالیس دن بعد جمعہ کی صبح کو حذیفہ بن یمان صعمر فاروق صکے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آج رات میں نے اپنا ورد کیا تو خواب میں مجھے رسول ا دکھائی دئیے ، آپ اکے ساتھ ایک نوجوان بھی تھا، آپ ا نے مجھ سے فرمایا کہ میری طرف سے عمر کو سلام کہنا اور کہنا کہ اللہ تعالی نے تمہیں اسی طرح ہی حکم دیا ہے کہ قرآن پڑھو اور حدود کا نفاذ کرو۔اور اس نوجوان نے کہا کہ میری طرف سے بھی میرے والد کو سلام کہنا اور کہنا کہ جیسے آپ نے مجھے پاک کیا ہے ایسے اللہ تعالی آپ کو بھی پاک کرے والسلام۔

 یہ قصہ تین سندوں سے مروی ہے اور ان سندوں میں انقطاع کے ساتھ ساتھ مجاھیل(غیرمعروف) اور کذاب قسم کے راوی ہےں، امام جورقانی ؒ اور علامہ ابن جوزیؒ نے اس کو من گھڑت قرار دیا ہے۔ اور سیوطی نے ان کی موافقت کی ہے۔اسی طرح شوکانی  نے بھی اس کو موضوع اور من گھڑت قرار دیاہے۔ ( ملاحظہ کریں: اللآلی المصنوعہ : ۲۔۴۹۱‘ ۸۹۱) و (تنزیہ الشریعة لابن عراق: ۲۔۰۲۲) اور  ( الفوائد المجموعة للشوکانی :۳۰۲) ۔

علامہ ابن جوزی اس کی سندوں پر مختصر کلام کرنے کے بعد لکھتے ہےں: و لا طائل فی الاطالہ بجرح رجالہ فانہ لوکان رجالہ من الثقات علم انہ من الدساسین لما فیہ مما یتنزہ عنہ الصحابہ فکیف ولیس اسنادہ بشیء۔”اس کے راویوں کی جرح کی تفصیل میں جانے کا کچھ فائدہ نہیں کیونکہ اس کے راوی اگر ثقہ بھی ہوں تب بھی اس کا جھوٹے لوگوں کی طرف سے وضع کرنا اور گھڑنا واضح ہے۔کیونکہ اس کے اندر ایسی چیزیں ہیں جن سے صحابہ مبرا اور پاک تھے۔ کیسے جبکہ اس کی سند کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے“۔

 اس سے قبل انہوں نے اس قصہ کو روایت کرنے کے بعد لکھا ہے: ” ھذا حدیث موضوع، کیف روی، ومن ای طریق نقل ؟ وضعہ جہال القصاص لیکون سبباً فی تبکیت العوام والنسائ، فقد ا بدعوا فیہ وا توا بکل قبیح و نسبوا الی عمر مالایلیق بہ، ونسبوا الی الصحابہ مالایلیق بہم وکلماتہ الرکیکة تدل علی وضعہ وبعدہ عن ا حکام الشرع یدل علی سوءفھم واضعہ و عدم فقھہ ۔۔۔ الی آخر کلامہ۔

 ”یہ حدیث جس طرح اور جس سند سے بھی منقول ہو موضوع اور من گھڑت ہے ،قصہ گو لوگوں نے عوام الناس اور عورتوں کو رلانے کی خاطر گھڑا ہے،اس کے اندر انہوں نے بڑی فنکاری کا مظاہرہ کیا ہے،اور اس میں ہر قبیح چیز کو ذکر کیا ہے ۔ عمر اور صحابہ ثکی طرف انہوں نے ایسی چیزیں منسوب کر دی ہیں جو ان کی شایانِ شان نہ تھیں۔ اس کے رکیک اور پھسپھسے کلمات اس کے من گھڑت ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔اور اس کا احکامِ شریعت سے بعید ہونا اس کے گھڑنے والے کے سوءِفہم اور عدمِ فقاہت پربھی دلالت کرتا ہے۔ “

امام جورقانی ؒیہ ذکر کرنے کے بعد کہ اس کو قصہ گو لوگوں نے گھڑا ہے ،لکھتے ہیں: فنعوذ باللہ من الکذب   والبھتان و النفاق والخذلان….”جھوٹ ، بہتان ، نفاق اور رسوائی سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں“ ۔

اسی پر یہ مضمون اپنے اختتام کو پہنچا ، اس موضوع پر اردو اور عربی زبان میں میرا ایک مستقل رسالہ بھی ہے جس میں بعض امور کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے مگر تاحال یہ رسالہ طبع نہیں ہوا ،اردو اور نہ ہی عربی رسالہ۔

  

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*