فضائلِ صحابہ

ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

 وَالسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ مِنَ المُہَاجِرِینَ وَالا َنصَارِ وَالَّذِینَ اتَّبَعُوہُم بِاِحسَانٍ رَّضِیَ اللّہُ عَنہُم  وَرَضُوا  عَنہُ وَا َعَدَّ لَہُم  جَنَّاتٍ تَجرِی  تَحتَہَا الا َنہَارُ خَالِدِینَ فِی ہَا اَبَداً ذَلِکَ الفَو زُ العَظِیمُ   (سورة التوبة 100)

 ترجمہ:” اورمہاجرین و انصار میں سے وہ اولیں لوگ جوکہ (ہجرت کرنے اور ایمان لانے میں) دوسروں پر سبقت لے گئے، اور وہ دوسرے لوگ جنہوں نے ان سابقین کی اخلاص کے ساتھ پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا اور وہ سب اللہ سے راضی ہوگئے اوراللہ نے ان کے لیے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوںگی، ان میں وہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے، (اور) یہی عظیم کامیابی ہے “۔

تشریح : اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالی نے تین قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایاہے:

(1) مہاجرین: جنہوں نے رب العزت کے دین کی خاطر اپنے آبائی وطن اورمال ومتاع کو چھوڑا اورمدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی ۔

(2) انصارصحابہ ، جنہوںنے رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم اورمہاجر صحابہ کرام رضوان  کی نصرت ومددکی اوران کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔

اللہ تعالی نے ان دونوں (مہاجرین وانصار) میں سے ان حضرات کا تذکرہ فرمایاہے جو ہجرت کرنے اور ایمان لانے میں سبقت لے گئے یعنی سب سے پہلے ہجرت کرکے اورسب سے پہلے ایمان قبول کرکے وہ دوسروں کے لیے نمونہ بنے ۔

(3) وہ حضرات جنہوں نے ان سابقین اولین کی اخلاص ومحبت سے پیروی کی اوران کے نقش قدم پہ چلے ، ان میں متاخرین صحابہ کرام ث ، تابعین اورقیامت تک آنے والے وہ تمام لوگ شامل ہیں جو انہیں معیار ِحق تصور کرتے ہوئے ان کے پیروکار رہیں گے ۔

تینوں قسم کے لوگوں کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالی نے انہیں دو خوشخبریاں سنائی ہیں:

٭ ایک یہ کہ اللہ تعالی ان سے راضی ہوگیا ہے، یعنی ان کی لغزشیں معاف کردی ہیںاوران کی نیکیوںکو شرفِ قبولیت سے نوازا ہے ۔

٭ اوردوسری یہ کہ اللہ تعالی نے ان کے لیے جنات تیار کردی ہیں جن میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوںگے ۔

محمدبن کعب القرضی کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے تمام صحابہ کرام کی مغفرت کردی ہے اوراپنی کتاب میں ان کے لیے جنت کو واجب قرار دیا ہے ،ان میں سے جو نیک تھا اس کے لیے بھی اورجو خطاکارتھا اس کے لیے بھی،پھر انہوں نے قرآن مجید کی یہی آیت تلاوت کی اورکہا :”اس میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام سے رضامندی اوران کے لیے جنت کا اعلان کیا ہے اوران کے پیروکاروںکے لیے بھی یہی انعام ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ان کی اخلاص ومحبت سے پیروی کریں “۔ (الدرالمنثور 4/272)

 حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اکرم  صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: لاتسبوا اصحابی فلو ا ن ا حدکم ا نفق مثل ا حد ذھباً مابلغ مُدّ ا حدھم ولا نصیفہ ترجمہ: ”میرے ساتھیوں کو گالیاں مت دینا،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے !اگر تم میں سے کوئی شخص احدپہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ نہ ان کے ایک مدّ کے برابر ہوسکتا ہے اورنہ آدھے مدّ کے برابر “۔ ( البخاری 2541،3673 مسلم2540)

 حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: من سب اصحابی فعلیہ لعنة اللہ والملائکة والناس ا جمعین ترجمہ: ”جس شخص نے میرے صحابہ  کرام کوگالیاں دیں اس پر اللہ کی لعنت ،فرشتوںکی لعنت اورتمام لوگوںکی لعنت ہے ۔“ (الصحیحة للالبانی 2340)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*