اپنا کام کرتے رہیے

محمد قطب رحمه الله

 عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:ان قامت الساعة وفی ید ا حدکم فسیلة فان استطاع ا لا تقوم حتی یغرسھا فلیغرسھا (صحیح الجامع حدیث نمبر 1424)

 ترجمہ :حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه  سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”اگر قیامت کا وقت آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو اوروہ قیامت کے برپا ہوجانے سے پہلے اس پودے کو لگا سکتا ہوتو لگادے “۔

تشریح : سننے والوں کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی زبان مبارک سے یہ جملہ سننے کی توقع بھی مشکل سے ہوسکتی تھی۔ انہیں تو یہ توقع ہوسکتی تھی کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جو دنیا میں اس لیے مبعوث ہوئے تھے کہ لوگوں کو آخرت کی یاد دلائیں ، اس کے لیے کام کرنے پر ابھاریں اور انہیں یہ دعوت دیں کہ قیامت کے ہولناک دن کی تیاری کے لیے وہ اپنے دلوں کو پاک صاف کرلیں اوراپنے طرزعمل کی اصلاح کرلیں کہ ایسے موقع پر لوگوںکو جلدی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہےے اوراللہ تعالی سے مخلصانہ دعا کرنی چاہیے کہ وہ انہیں ایمان پر موت دے اوران کی توبہ قبول کرلے ۔ اگر آپ یہ فرماتے تو کیا تعجب کی بات ہوتی ….؟

لیکن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایسا کچھ نہیں فرمایابلکہ ایسی بات فرمائی جس کی سننے والے توقع بھی نہیں کرسکتے تھے۔ آپ نے یہ فرمایا کہ اگر کسی کے ہاتھ میں کوئی کھجور کا پودا (یعنی کوئی بھی پودا ) ہو اوروہ قیامت سے پہلے پہلے اسے لگا سکتا ہوتو ضرور لگادے کیوںکہ اس پر بھی اسے اجر ملے گا۔

اللہ! اللہ! کھجور کا پودا لگانے کی ہدایت دی جارہی ہے جو کئی برسوںبعد پھل دے سکتا ہے اورقیامت بس چند لمحوں میں دنیا کوتہس نہس کردینے والی ہے جس میں کوئی شک ہی نہیں!!۔ اللہ ! اللہ!! ایسی بات اسلام کے پیغامبر اورخاتم النبیین کے دہن مبارک ہی سے نکل سکتی ہے۔ اس ایک مختصر سے جملے میں کتنے معانی پنہاں ہیں:

٭سب سے پہلے تو وہ اس حقیقت کو روشن کردیتا ہے کہ آخرت کا راستہ دنیا کے راستے سے ہوکر گزرتا ہے اوراس میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں۔ دنیا وآخرت کے راستے جداجدا نہیں ۔ دونوں ایک ہی راستے کے دو کنارے ہیں ،ایسا نہیں کہ ایک راستہ آخرت کا ہے جس کا نام عمل اور کام ہے ۔ وہ تویہ چاہتا ہے کہ تم اپنا راستہ ایک کرلو ، دین اور دنیا کے راستے جدا نہ کروبلکہ دونوں کا راستہ ایک ہی ہو اور وہ ہو اللہ کی طرف لے جانے والا راستہ ۔

٭اس حدیث سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ روئے زمین سے ایک لمحہ کے لیے بھی نتیجے سے مایوسی کی بناپر کام نہیں رکنا چاہیے ۔یہاںتک کہ اگر ایک لمحہ بعد ہی قیامت آنے والی ہو ، دنیا سے انسانی زندگی کا سلسلہ ہی منقطع ہوجانے والا ہو اورعمل کا کوئی نتیجہ ہی نہ نکل سکتا ہو تب بھی لوگ کام سے نہیں رک سکتے اورانہیں مستقبل کی طرف خوش آئند توقع کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔

٭آج کے کاہل مسلمانوں کے سامنے رسول اللہ اکا نمونہ موجود ہے اگر وہ دیدہ عبرت اور چشمِ بصیرت سے دیکھنا اور سمجھنا چاہیں ۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلسل کام کرتے رہیں اور تھکنے کا نام نہ لیں ۔وہ پودا لگائیں چاہے قیامت اگلے ہی لمحے آنے والی ہو ۔

 ٭رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کا یہ ارشاد محض خیالی بات نہیں بلکہ سچی حقیقت ہے آپ عملاً پودا لگا رہے تھے جبکہ صورتحال غیریقینی سی لگتی تھی کہ آنے والے لمحات میں کیا ہوگا ؟ جب قریش آپ کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کے لیے دن رات سازشوں میں مصروف تھے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*