سنئے ! آپ کا بچہ آپ سے کیا چاہتا ہے ؟

 تحریر و تحقیق: اشتیاق احمد

 ہماری کھلتی کلیاں ہم سے کیا چاہتی ہیں ؟اور ان کے تئیں ہماری کیا کوتاہیاں ہوتی ہیں ؟بچوں کی زبانی والدین کے نام یہ شکایتیں ہیں جن کی دوسری قسط حاضر حذمت ہے ،ہروالدین اورمربی کے لیے اس کامطالعہ نہایت ناگزیرہے :

¤ مجھے اچھی اچھی کتابیں پڑھنے کو لا کر دیں۔گلدستہ قرآن،انمول،منزل،کہانی ایک لڑکے کی، زندہ باد مشغلہ،دو آنسو، سکارف،چندہ ماموں دور کے،نیک چڑیاں عظیم عطیہ ، روشن راستہ، دلچسپ منصوبہ،فضائی حملہ،کالا پتھر،گمنام محسن، پھول اور کانٹے، علم کا اجالا،تین دوست، خزانہ، واپسی، کاہلوں کی شہزادی، آزادی کا دن،اچھے بچوں کی اچھی عادتیں،عقل مند کون ؟، اور اچھا بچہ کون ؟وغیرہ تربیتی کہانیوں کی بہترین کتابیں ہیں۔میرے عرفان نے اپنے گھر میں ایسی کتابوں کی بھی ایک لائبریری بنائی ہوئی ہے۔

¤ میرا سب سے قیمتی اثاثہ آ پ دونوں کی آپس کی محبت ہے۔

¤ مجھے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے ابھی سے ذہنی طور پر تیار کریں۔

¤ یاد رکھیں !آپ کی دیانت داری،مستقل مزاجی اور راست گوئی میری شخصیت کو مضبوط اور پر اعتماد بنانے کیلئے بہت ضروری ہے۔

¤ مجھے اپنے جیب خرچ میں سے کچھ رقم بچانے کی عادت ڈالیں۔اگر ممکن ہو تو مہینے بھر کا جیب خرچ اکٹھا ہی دے دیا کریں تاکہ میں اسے منصوبہ بندی کے ساتھ خرچ کر سکوں۔

¤ میرے سوالوں کا جواب دیں چاہے احمقانہ ہی کیوں نہ ہوں۔

¤ جب میں کسی سے برے رویہ سے پیش آوں تو ضرور نشاندہی کریں مطلوب اور غیر مطلوب رویوں سے مجھے اچھی طرح آگاہ کریں۔

 ¤ اگر میں اپنا ہوم ورک اچھے طریقے سے نہ کر پاوں تو بجائے برہم ہونے کے میری مدد کریں۔

 ¤ مجھے اپنے غصہ پر قابو پانے کا فن سکھائیں۔

¤ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جب کوئی میرا دوست /سہیلی ہمارے گھر آئے تو آپ اسے خوشدلی سے خوش آمدید کہیں۔

¤ میرے ساتھ مایوسی اور دل شکنی کی باتیں ہر گز نہ کریں بلکہ ہمت اور حوصلہ افزائی کرنے والی باتیں کریں۔

¤ بات کو اس انداز سے شروع نہ کریں کہ جب میں تمہاری عمر کا تھا/تھی تو….کیونکہ ہر کوئی ہر عمر میں مختلف صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے۔

 ¤ مجھے اپنی آزادی دیں مگر اپنی نگرانی میں۔

 ¤ جب میں اپنے دوستوں /سہیلیوں میں ہوتا /ہوتی ہوں تو براہ مہربانی میرے ساتھ ہی چمٹے رہنے سے گریز کریں۔

 ¤ مجھے سب کے سامنے برا بھلا کہنے کی بجائے علیحدگی میں سمجھائیں۔

¤ آ پ کی طرف سے میرے ماتھے پر دیا ہوا بوسہ میرے سر کو فخر سے بلند کر دیتا ہے۔

¤ آپ کے منہ سے نکلے ہوئے تعریفی کلمات میری کامیابی کی منزل کو قریب تر کر سکتے ہیں۔

¤ اپنے قیمتی وقت میں سے میرے لیے کچھ وقت ضرور نکالیں۔ پاس بیٹھیں،مسکرائیں،کھیلیں یا کوئی دلچسپ سرگرمی کریں۔ مجھ سے میری عمر کے مطابق توقعات وابستہ کریں۔

¤ آپ کا میرے ساتھ مزاح اس بات کی علامت ہے کہ آپ میرے دوست بھی ہیں۔

¤ آپ کی طرف سے میرے دوستوں /سہیلیوں کی عزت افزائی کے نتیجے میں جب وہ آ پکی تعریف کرتے /کرتی ہیں تو میرا دل خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔

¤ جن باتوں سے آپ مجھے روکنا چاہتے ہیں آ پ کو خود بھی ان سے رکنا پڑے گا۔

¤ جب میں محبت سے آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھتا /رکھتی ہوں تو آپ اپنے کندھے کو جھٹک کرناگواری کا تاثر نہ دیا کریں۔

¤ بیماروں کی تیمار داری اور مدد کیلئے مجھے اپنے ساتھ لے جایا کریں۔ان کی تیمار داری اور مدد کر کے مجھے روحانی خوشی ملتی ہے۔ہمدردی اور ایثار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

¤ مجھے مسنون دعائیں ترجمے یاد کروائیں اور مشکل اوقات میں ان دعاوں کا سہارا لینے کی عادت ڈالیں۔

 ¤ آپ کا میری باتوں کو غور سے سننا اس بات کی علامت ہے کہ آپ مجھ سے واقعی محبت کرتے ہیں مگر جب آپ میری بات کو ادھورا سنتے ہیں یا سنی ان سنی کر دیتے ہیں تو مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے۔

¤ میرے سامنے اپنے آپ کو پر سکون رکھا کریں۔

¤ مجھ پر ضرورت سے زیادہ پہرے نہ لگائیں میں غلطیاں نہیں کروں گا /نہیں کرونگی تو سیکھوں گا /سیکھوں گی کیسے ؟

¤ میرے دوستوں /سہیلیوں کے کپڑے اور بال نہ دیکھیں۔آخر وہ میرے دوست /میری سہیلیاں ہیں۔ہاں اگر برے کردار کے بچوں کے ساتھ دوستی کروں تو ضرور اصلاح فرمائیں۔

¤ اگر کبھی کبھی لیٹ پہنچوں تو برا بھلا کہنے کے بجائے وجہ ضرور پوچھ لیں۔ہو سکتا ہے میرے پاس کوئی معقول دلیل ہو۔

¤ حقائق کی چھان بین کیے بغیر مجھ پر کوئی الزام نہ لگائیں۔

¤ مجھے بڑوں کا اد ب اور چھوٹوں سے شفقت کرنا سکھائیں۔

¤ اگر میری فیملی کی کوئی فوٹو البم ہو تو مجھے ضرور دکھائیں۔اور اس کے ذریعے مجھے اپنے رشتہ داروں کی شناخت کرائیں۔

¤ اپنے آپ کو والدین کے مقام پر ہی فائز رکھیں۔پولیس مین بننے سے گریز کریں۔

¤ میرے سونے کے کمرے میں ایسے چارٹس اور پوسٹر لگائیں جن پر مایوسی ختم کرنے،اخلاق سکھانے اور جدوجہد پر آمادہ کرنے والی قرآنی آیات،احادیث،اقوال،  ضرب الا مثال اور اشعار لکھے ہوئے ہوں۔

¤ مجھے حسد،کینہ،چغلی،اور بہتان کے معنی،مفہوم اور ان کے نقصانات سے آگا ہ کریں۔

¤ مجھے “تم” اور “تو “کی بجائے ہمیشہ “آپ”کا استعمال سکھائیں۔

¤ آپ دونوں آپس میں جھگڑا کرنے سے پہلے سوچ لیں کہ آپ کے جھگڑے کو سننے اور اس سے متاثر ہونے والا شخص میں ہوں۔ (جاری )

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*