تفہیم کی غلطی

محمد آصف ریاض

asif343@gmail.com

  پچھلے دنوں میری ملا قات چند انجینئرس سے ہوئی ۔ بات چیت کے دوران ان میںسے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے !اس بات پر وہ بھڑک اٹھے، کہنے لگے کہ آپ خود تو نماز نہیں پڑھتے، اور دوسروں پر حکم لگاتے ہیں۔ اس معاملہ پر دونوں کے درمیان تنازعہ کھڑا ہوگیا، تو میں نے مداخلت کی اور انھیں سمجھا یا کہ آپ کا یہ کہنا غلط ہے کہ جو آدمی نمازنہ پڑھے ،وہ دوسروں کو نماز پڑھنے کے لیے بھی نہ کہے۔ میں نے انھیں بتا یا کہ کسی کا بے نمازی ہونا ، اس سے نماز پڑھنے کے لیے کہنے کا حق نہیں چھینتا۔ میں نے انھیں بتا یا کہ ایک بے نمازی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوسروں سے کہے کہ لوگو،نماز پڑھو۔اسی طرح ایک شرابی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ لوگوں سے کہے کہ لوگو، شراب مت پیو!صرف شراب پینے سے کسی سے شراب کو Prohibit کرنے کا حق نہیں چھینا جاسکتا ۔

میں نے انھیں بتا یا کہ جو لوگ اس طرح کی بات کرتے ہیں وہ اپنی بات کے جواز میں قرآن کی اس آیت سے دلیل لاتے ہیں۔”کیا لوگوں کو بھلائیوں کا حکم کرتے ہو اورخود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟“۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 44)

میرے خیال میں لوگ اس آیت کے تقاضے کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگوں سے اس معاملہ میں تفہیم کی غلطی ہوئی ہے ۔یہاں جو یہ کہا گیا ہے کہ

’ دوسروں کو بھلائیوں کا حکم لگاتے ہو، اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ‘ تو اس میں زور اس بات پر نہیں ہے کہ دوسروں پر حکم مت لگا ؤ بلکہ زور اس بات پر ہے کہ تم جو دوسروں سے کہو وہ خود بھی کرو ۔ کلام کا زور’خود بھی کرو ‘ پر ہے نہ کہ ’ تم حکم مت لگاﺅ ‘ پر۔ میں نے انھیں بتا یا کہ اگر ایک شخص شراب پئے ، تب بھی اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوسروں سے کہے کہ لو گو، شراب مت پیو۔ کسی سے محض شراب پینے کی وجہ سے شراب کو Prohibitکر نے کا حق نہیں چھینا جا سکتا۔میں نے انھیں بتا یا کہ اس معاملہ میں آپ کو مچھلی سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمین کے تمام جاندار آکسیجن پر زندہ ہیں۔فضاﺅں میں آکسیجن ہے تو زندگی ہے۔آکسیجن نہیں تو زندگی بھی نہیں۔

 مچھلی کا سبق :مچھلی بھی آکسیجن لیتی ہے۔ لیکن اس کا آکسیجن پانی میں گھلا ہوتا ہے۔ مچھلی Desolved ) ( آکسیجن لیتی ہے ۔ مچھلی کے سر پر ایک کٹی ہوئی جگہ ہوتی ہے ، جسے سائنسی زبان میں Gillsکہا جا تا ہے ۔ مچھلی اسی s Gillسے آکسیجن لیتی ہے۔جیسے ہی پانی Gillsسے گزر تا ہے ، مچھلی اس سے آکسیجن لے لیتی ہے اور پانی کو چھوڑ دیتی ہے۔

یہی کسی انسان کو کرنا ہے۔ جب اس کے سامنے حق آئے تو وہ اسے لے لے اور لانے والے کو چھوڑ دے ۔ حق کے معاملہ میں وہ یہ نہ دیکھے کہ اسے لانے والا کون ہے ،وہ حق کو دیکھ کر اسے قبول کر لے۔جس طرح مچھلی پانی سے آکسیجن کو لے لیتی ہے اورپانی کو چھوڑ دیتی ہے اسی طرح انسان کو حق کو لے لینا ہے اور لانے والے کو چھوڑ دینا ہے۔اگر کسی کے سامنے حق آئے اور وہ اسے صرف اس لیے ٹھکرا دے کہ لانے والا اسی کی طرح تھا تو اس نے گویا کبر کی بنیاد پر حق کو ٹھکرا دیا۔اس پر کبر کے زیر اثر حق کو ٹھکرانے کا عذاب ہوگا ۔

آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر حال میں حق کی قدر کرے ۔وہ حق قبول کرنے کے معاملہ میں مچھلی بن جائے،جس طرح مچھلی پانی سے آکسیجن کو لے لیتی اور پانی کو چھوڑ دیتی ہے، اسی طرح انسان کو حق کو قبول کرنا ہے اور لانے والے کو چھوڑ دینا ہے۔میرے نزدیک اس معاملہ میں یہی حکمت کی بات ہے۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*