مولانا شمیم احمد خان ندوی سے ایک ملاقات

محمد خالد اعظمی(کویت)

 khalid.azmi64@gmail.com

ناظم جامعہ سراج العلوم جھنڈانگراورصدرنیشنل مسلم فورم نیپال

 

مولانا شمیم احمد خان کاتعلق ملک نیپال کے ایک معروف علمی خانوادہ سے ہے جسے مسلمانان نیپال کی دینی وسیاسی قیادت ورہنمائی کاشرف حاصل رہاہے۔ مولاناکے چچا جناب عبد المنان خان شاہی حکومت میں راجا کے مشیر خاص تھے اور ملکی پارلیمنٹ کے ایوان بالا(راجیہ سبھا) میںراجاکی طرف سے مقرر کردہ ممبرکی حیثیت سے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے رہے ہیں، اورانہیں حسن کارکردگی کے لیے تمغہ امتیاز واعزاز سے بھی نوازا گیا۔ 

مولانا شمیم خان کے دوسرے چچاخطیب الاسلام علامہ عبد الروؤف رحمانی جھنڈانگری رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے تاحیات ممبررہے اور مسلمانان نیپال کے تمام طبقات کی بھر پور نمائندگی کی۔ ملک وبیرون ملک کئی دینی وملی تنظیموں اوراداروں کے بانی ، صدر اوررکن رہے ۔ مرحوم خطابت میںشعلہ بیانی کی بنیادپر ’خطیب الاسلام‘ سے ملقب کئے گئے۔ مرحوم کئی درجن وقیع علمی کتابوں کے مصنف تھے۔

 جب کہ مولانا شمیم خان کے دادا الحاج نعمت اللہ خان مرحوم کوملک میں پہلی دینی تعلیمی اوراقامتی درسگاہ کے قیام کاشرف حاصل رہا، اور ایک صدی قبل قائم کیاگیایہ ادارہ آج ملک کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ ہے، ملک میں عمومی طور پر جہالت وضلالت کادوردورہ ہونے کے باوجود بحمدا للہ ان کے خاندان کو دینی ودنیوی دونوں طرح کی تعلیم کا وافر حصہ ملاہے۔

مولانا شمیم خان کی پیدائش دسمبر 1956ءمیں ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم گاؤں اور جھنڈانگر وغیرہ میں ہوئی اور فراغت 1976ءمیں دارالعلوم ندوة العلماءلکھنو سے ہوئی۔ مولانا اپنے اجداد کے قائم کردہ ادارہ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگرکے ناظم، ماہنامہ مجلہ ’السراج‘ کے مدیر مسﺅل، ملک گیرتنظیم نیشنل مسلم فورم نیپال کے تاسیسی ممبر اور صدر ہیں۔کویت کے موقرادارہ جمعیة احیاءالتراث الاسلامی کے زیراہتمام نیپال میں دعاة کے نگراں ہیں جن کی تعداد 60 کے قریب ہے اور7سالوں تک مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے صدربھی رہ چکے ہیں۔

 

سوال:جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر کی نظامت کے دوران کن کن مسائل سے دوچار ہوئے؟

جواب: جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر کے  ذمہ دارہونے کی حیثیت سے مجھے جن مسائل سے دوچار ہونا پڑا ان کی فہر ست طویل ہے لیکن چند کا تذکرہ کرنا مناسب سمجھتاہوں ،سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس ادارہ کے مختلف شعبہ جات میں طلباءوطالبات کی ایک بڑی تعدا د ہے اور کم وبیش ڈھائی ہزار تشنگان علوم اپنی علمی تشنگی بجھارہے ہیں۔اسی طرح ادارہ ملک سے جہالت دور کرنے میں نمایاں خدمات انجام دے رہاہے۔

 وزارت تعلیم کے ذمہ داران تمام دینی مدارس ومکاتب کو یکسر نظر انداز کرتے ہیں،یہاں تک کہ حکومت کی فلاحی اسکیموں اور ترقیاتی کاموں سے دینی اداروں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔اور ان کو صرف اقلیتی ادارہ سمجھ کر ان کے حال پر چھوڑدیاجاتاہے ، نہ ہی حکومت کی طرف سے انہیں مالی تعاون ملتاہے اورنہ ہی کسی طرح کی مراعات کا مستحق سمجھا جاتاہے حتی کہ خود ان اداروں کی املاک اورزرعی اراضی کو ٹیکسوں سے بھی مستثنی نہیںسمجھتے، حد تو یہ ہے کہ اساتذہ کودی جانے والی تنخواہوں پر بھی ہمیں انکم ٹیکس اداکرنا پڑتاہے۔

دوسرا مسئلہ: ہمارے مدارس کی اسناد کا ہندوستان کی بعض یونیورسٹیوں اور بلاد عرب کی کئی جامعات سے الحاق ہے لیکن خود ہمارے ملک کی واحد سرکاری یونیورسٹی اوروزارت تعلیم ہماری اسنادکو تسلیم نہیں کرتی، جس کی وجہ سے ہمارے فارغین کو بلاد عرب کی یونیورسٹیوں میں داخلہ کرانے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔

سوال:نیپال میں مسلمانوں کی آمد کب ؟ اورکیسے ہوئی ؟

جواب: نیپال میں مسلمانوں کی آمد کے سلسلہ میں سن وسال کے حساب سے تعین کرنامشکل ہے لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ نیپال سے متصل ہندوستانی سرحدی علاقوں میں جس وقت مسلمان آباد ہوئے اسی وقت سے اندرون نیپال بھی مسلمان آباد ہوتے چلے گئے۔ کیونکہ ہمارے ملک اور ہندوستان کے مابین سرحدہمیشہ کھلی رہی ہے ۔اسی وجہ سے ہندوستانی باشندوں کو ہمارے ملک میں ہرطرح کی مراعات وشہری حقوق حاصل رہے ہیں اور ابتداءً زمین وجائدادخریدنے کے لیے بھی نیپالی شہریت کی شرط نہیں تھی اس سے فائدہ اٹھاکر کافی تعداد میں غیر مسلموں کے ساتھ مسلمان بھی سرحدی اضلاع میں آبادہوئے اور مساجد وغیرہ کی تعمیر کرکے اپنی اسلامی شناخت قائم کی ۔

ہندو نیپال کی سرحد 800 کلومیٹر طویل اور ہندوستان کے 5 صوبوں پرمشتمل ہے یعنی اتراکھنڈ ، اترپردیش ، بہار، سکم اور مغربی بنگال کے علاوہ کچھ مسلم معماروں و کاریگروں کو بادشاہوں کے ذریعہ باضابطہ نیپال میں آبادکیا گیا تاکہ ان کے ہنروفن سے لوگ فائدہ اٹھاسکیں ۔

کچھ مسلمان شمالی سرحد کے راستہ تبت وکشمیر سے آئے، آج بھی ان کی پنی علیٰحدہ شناخت ہے جو کاٹھمنڈو میں موجود ہیں ۔ اورانہیںیہاں دستکاری اور صنعت وحرفت کو فروغ دینے کے لیے آبادکیا گیاتھا اور آج بھی وہ اپنے خاندانی پیشوں سے وابستہ ہیں۔ قالین اورشالوں کی صنعت کے علاوہ مصنوعی زیورات اور قیمتی پتھروںکا کاروبار آج بھی بڑی حدتک مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ نیپال کی بنی ہوئی شال کشمیر کے بعد اپنی علیٰحدہ پہچان رکھتی ہے تو ا س میں ذرہ برابر بھی مبالغہ نہ ہوگا۔

ہندوستان میں مغلیہ دور حکومت کے عہد زوال کے وقت بنگال کے آخری مسلمان نواب سراج الدولہ نے نیپال کو فتح کرنے کا بھی ارادہ کیا تھا لیکن اس کے دشوار گزار راستوں ، سربفلک پہاڑوں اور بڑی حدتک بے فیض ہونے کی وجہ سے نواب نے درمیان میں ہی اپناارادہ ترک کردیا۔ تاہم ملک اودھ (جس کا پایہ تخت لکھنوتھا)کے آخری نواب واجد علی شاہ کی ملکہ بیگم حضرت محل انگریزوں کے حملہ اور ان کے ہاتھوں اودھ کی فتح کے بعد سیاسی پناہ لے کراپنے وفاداروں کے ساتھ ہمارے ملک تشریف لائیں اور وفات تک کاٹھمنڈو میںمقیم ہوئیں اور نیپالی جامع مسجد سے متصلمدفون ہوئیں۔ ان کی بعض فوجیوں اور وفاداروں کی نسلیں بھی پائی جاتی ہیں۔

 قصہ مختصر یہ کہ ہمارے ملک میں مسلمانوں کی آمد کے مختلف ذرائع، مختلف راستے اور مختلف عہد ہیں، اس لیے حتمی طور پر وقت کی تعیین نہیں کی جاسکتی ۔

سوال:نیپال کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب کتنا ہے؟

جواب:نیپال کی کل آبادی2011ءکی تازہ اعداد وشمار کے مطابق تقریباً ڈھائی کروڑ ہے، سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مسلمانوں کی تعدا ساڑھے بارہ لاکھ ہے یعنی صرف پانچ فیصدہے ، لیکن مسلمانوں کے اپنے ذرائع ووسائل کے مطابق ان کی تعدا د7 فیصد یعنی 17سے18 لاکھ ہے ، جب کہ بعض لوگ یہ تعداد20لاکھ بتاتے ہیں ۔

سوال:نیپالی مسلمانوں کی معاشی ، سیاسی اور سماجی صورتحال کیسی ہے ؟

جواب:دنیا کے نقشہ پر نیپال دنیا کاانتہائی پسماندہ اورغریب ترین ملک ہے، یوں تو اس کے عام شہری فی کس آمدنی کے حساب سے غربت وافلاس میں پوری دنیا میں سرفہرست ہیں لیکن مسلمان کچھ زیادہ ہی مفلوک الحال ہیں کیونکہ سرکاری ملازمتوں میں ان کی حصہ داری صفرکے برابرہے خاص طور سے فوج وپولیس اور انتظامیہ میں ان کی کوئی نمائندگی نہیں ہے ۔ اس وقت ملک کے کل75 اضلاع میں ایک بھی مسلمان سی ڈی او (ڈی ۔ایم) اور ایس پی نہیں ہیں، تقریباً یہی حال دیگرمحکموں کاہے ۔

مسلمان بالعموم چھوٹی موٹی صنعت وحرفت ، دستکاری اور معمولی کھیتی باڑی کے پیشوں سے وابستہ ہیں ، کارخانوں وکھیتوں میں یومیہ مزدور ی کرکے اپنا پیٹ پالتے ہیں بحیثیت مجموعی ان کی اقتصادی حالت دیگر برادران وطن سے زیادہ ابتر ہے اور اس جانب حکومت کی توجہ بالکل نہیں ۔مسلمانوں کی تعلیمی حالت بھی کچھ اپنی بے توجہی اور حکومت کی جانبدارانہ پالیسیوں کی بدولت دگر گوں ہے ۔ غریب ومتوسط گھرانوں کے لوگ دینی مدارس ومکاتب میں اپنے بچوں کو بھیجتے ہی واپس بلاکر چھوٹے موٹے روزگار یا مزدوری سے لگادیتے ہیں۔بعض غریب گھرانوں اور کچھ متوسط گھرانوں کے بچے ثانوی سطح تک تعلیم پاتے ہیں اور بہت کم تعداد ان بچوں کی ہے جوملک وبیرون ملک کے مدارس سے عا لمیت وفضیلت کی اسناد حاصل کرکے نسبتاً باعزت اور اچھی زندگی بسر کررہے ہیں ۔

متمول طبقہ ہی ملک وبیرون ملک پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے بھاری اخراجات کا متحمل ہوتا ہے ، اوراپنے بچوں کو پیشہ ورانہ دنیاوی تعلیم دلاکر انجینئر، ڈاکٹر، وکیل اور جج بنانے کا رجحان رکھتاہے، لیکن چونکہ ملک میں ان کی ملازمتوں کے زیادہ مواقع نہیں ہوتے ، اس لیے اس پر بھی کامیابی سے عمل نہیںہوپاتا۔ تاہم بعض اسلامی تنظیموں ، اسلامک ڈیولپمنٹ بینک جدہ وغیرہ کی جانب سے کچھ محدود تعاو ن مسلم طلباءکے وظائف کے لیے دیاجاتاہے ۔ جس سے قلیل تعداد فائدہ اٹھاپاتی ہے۔چند سالوںسے بلاد عرب میں روزگار کے مواقع پیداہونے پر دینی مدارس کے فارغین طلباءعرب ممالک کا رخ کرتے ہیں۔

سوال: مدارس اسلامیہ کی صورتحال کیسی ہے ؟

جواب: نیپال میں مدارس کو کئی زمروں میں تقسیم کیاجاسکتاہے۔پہلا ہروہ مسلم آبادی جس میں20سے 50گھر مسلمانوں کے ہوں وہاں بالعموم ایک مسجد نماز باجماعت کی ادائیگی کے لیے ضرور تعمیر ہوتی ہے خواہ وہ گھاس پوس ہی کی کیوں نہ ہوں، اور عموماً چھوٹی آبادیوں میں انہیں مسجدوں میں چھوٹے بچوں کے لیے دینی مکتب قائم ہوتاہے ، ایسے مکاتب کی تعداد ہزاروں میںہے ،یہ مکاتب مسلمانوں کو حرف شناس بنانے میں اہم رول ادا کررہے ہیں، البتہ ثانوی ومتوسط سطح کے مدارس اور وہ مدارس جہاں دینی مضامین متعین نظام الاوقات کے ساتھ پڑھائے جاتے ہیں ان کی تعداد ۰۵ سے بھی کم ہے۔ جن میں بعض کا معیار انتہائی پست ہے۔عا لمیت وفضیلت کی ڈگری دینے والے مدارس پورے ملک میں نہیں کے برابر ہیں۔ بحیثیت مجموعی ان مدارس کی تعلیمی وتربیتی صورتحال بہتر تو نہیں لیکن گوارہ کیاجاسکتا ہے ۔ ان سب کی بنیادی وجہ حکومت کی سرپرستی کا فقدان کے ساتھ وسائل کی کمی اور اپنی کوتاہی ہے۔

سوال:مدارس کے فارغین حالات کا مقابلہ کیسے کریں؟

جواب: مدارس کے فارغین حالات کا مقابلہ کرتوسکتے ہیں لیکن موجود حالات میں یہ کام کافی مشکل ہے ۔ چونکہ ملک میں مسلمانوں کی آبادی کافی کم ہے اس لیے نئے نئے مدارس قائم کرکے قوم پر بوجھ ڈالنا اور بانیان مدارس کوچندوں کا خوگر بنانا قطعا ً مناسب نہیں ، بلکہ جو مدارس پہلے سے قائم ہیں انہیں کی تعمیر وترقی میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں اوران کا تعلیمی وتربیتی معیار بلند کریں۔ آج  ذمہ داران مدارس کا رونایہ ہے کہ انہیں ذہین اور ہونہار طلباءنہیں ملتے بلکہ بعض مدارس میں ان کی سہولیات ووسائل کے باوجودطلباءنہیں ملتے، طلباءکے سرپرستوں میں تعلیم بالخصوص دینی تعلیم کی اہمیت کا احساس دلایا جائے اورغریب ونادار طلباءکو وظائف وسہولیات دے کر تعلیم کی طرف راغب کیا جائے ۔اور تعلیم کی اہمیت کانفرنسوں و سمیناروں کا موضوع بنایاجائے، ناخواندگی وجہالت کے خلاف مہم چھیڑدی جائے تو یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں اور یہ کا م دینی مدارس کے فارغین ہی کرسکتے ہیں بشرطیکہ ان میں تقوی واخلاص ہو اور وہ نام ونمود شہرت طلبی اور حصول دنیا کے جذبہ سے عاری ہوں۔

سوال:نیشنل مسلم فورم نیپال کی تاسیس کن حالات میں اور کب ہوئی؟

جواب:نیشنل مسلم فورم نیپال کے مسلمانوں کی ایک متحدہ ونمائندہ تنظیم ہے ، جس میں تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں کی شمولیت کے ساتھ سب کا اعتمادبھی حاصل ہے۔فورم کی تاسیس ملک میں پیش آمدہ ایسے ہنگامی حالات میں ہوئی جس نے تمام مسلمانوں کو اپنے وجود وتشخص اور ملی شناخت کی حفاظت کے لیے چوکنا وخبردار اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور اور اپنے تمام مسلکی ونظریاتی اختلافات بھلاکر ایک جھنڈے تلے آنے کا موقع فراہم کیا۔

فورم کی تاسیس 10 سال قبل اس وقت ہوئی جب عراق میں ۲۱ بے گناہ نیپالی شہریوں کو بے رحمی سے قتل کیااور اس واقعہ کو ٹی وی پر دکھایا۔ یہ ایک سنگ دلانہ اوربزدلانہ واقعہ تھا جس کی برادران وطن کے ساتھ مسلمانوں نے بھی بھر پور مذمت کی ۔ لیکن راجدھانی کاٹھمنڈواور ملک کے مشرقی اضلاع میں ا س کا ردعمل شدیدہوا جس سے مسلمانوں کی املاک اورمساجد کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہونچایا گیا۔ حالانکہ عراق میں ہوئے اس واقعہ میںنیپالی مسلمانوں کا کوئی قصور نہ تھا لیکن ان کے خلاف زبردست انتقامی کاروائی ہوئی اور کاٹھمنڈو میں سیکورٹی فورسیز اورپولیس وانتظامیہ کی نظروں کے سامنے ان کو نشانہ بنایاگیا۔ اس سے تمام مسلمانوں کواپنے وجود کی حفاظت کے لیے فکر مند اور ایسے حالات کے مقابلہ کے لیے متحد کردیا۔ لہذا بیدار مغز مسلم قیادت نے فوری طور پر حساس وباخبر مسلمانوں کی کاٹھمنڈو میں ایک میٹنگ طلب کی جس میں ملک کے طول وعرض سے ملت کی فکر رکھنے والے مسلمانوں کی کثیرتعداد نے شرکت کی اور نیشنل مسلم فورم نیپال کے نام سے ایک مشترکہ ملی تنظیم کی تشکیل عمل میں آئی۔

اس فورم میں اہل حدیث ، دیوبندی ، جماعت اسلامی ، جمعیة علماء نیپال ، مجلس تحفظ ختم نبوت ،بریلوی اور سبھی فقہی مکاتب فکرکے افراد اور ان کی تنظیمیں شامل ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*