عقیدہ رسالت

حافظ حفیظ الرحمن (کویت)

 توحید کے بعد اسلام کا دوسرا بنیادی عقیدہ، عقیدہ رسالت ہے۔ اسلام کی اصطلاح میں رسول اس کو کہتے ہیں جو اللہ کاپیغام اللہ کے بندوں کو پہنچائے۔رسالت کا عقیدہ درحقیقت اس تہذیب کی بقا اور جان ہے جسے اسلام نے قائم کیا۔ جو لوگ منصب رسالت پر سرفراز کئے گئے، اللہ تعالی کی طرف سے ان کو غیر معمولی علم، تدبر، قوت فیصلہ اور نور بصیرت عطا کیا گیا۔ انہوں نے جو دعوت پیش کی علم اور دلیل کے ساتھ پیش کی، اسی لیے ایک رسول اور فلسفی میں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ فلسفی جو کچھ کہتا ہے وہ عقل و ظن کی بنیاد پر کہتا ہے جبکہ انبیاءو رسل جو کچھ کہتے ہیں وہ وحی کی بنیاد پر کہتے رہے:

 اللہ تعالی کے رسول دنیا کی تمام قوموں میں آئے اور ان سب نے اسلام کی تعلیم دی اورہمارے نبی ا وہی تعلیم دینے کے لیے سب سے آخر میں تشریف لائے، اس لحاظ سے اللہ کے تمام رسول ایک گروہ کے لوگ تھے۔ اللہ تعالی کا ارشادہے:﴾ولقد بعثنا فی کل امة رسولا ا ن عبداللہ واجتنبوا الطاغوت﴿ “ہم نے ہر قوم میں رسول بھیجا (تا کہ وہ لوگوں کو بتائے) اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے دورر ہو “۔(انحل-6 3 )

 تمام انبیاءو رسل اس لیے دنیا میں تشریف لائے کہ اللہ کے دین کی بالا دستی قائم ہو اور لوگوں پر حجت نہ رہے کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ اے اللہ تیری عبادت، اطاعت اور فرماں برداری کیسے کرنی ہے- اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا:

رسلا مبشرین و منذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجة بعد الرسل(النساء– 165)

“پیغمبروں کو (اللہ تعالی) نے خوشخبری سنانے والا، ڈرانے والا بنا کر بھیجا تا کہ رسولوں کو بھیجنے کے بعد لوگوں کی اللہ پر کوئی حجت نہ رہے”

سب رسول بشر تھے، وہ کھاتے پیتے تھے، بیمار اور تندرست ہوتے تھے، بھول جاتے یاد کرتے تھے، زندہ رہتے اور وفات پاتے تھے مگر اللہ تعالی کی مخلوق میں علی الاطلاق افضل و اکمل تھے۔ جب تک تمام انبیاءو رسل پر ایمان نہ رکھا جائے کوئی بھی شخص صاحب ایمان نہیں ہو سکتا۔ مسند احمد میں حضرت ابو ذرغفاری ص سے منقول ایک طویل حدیث میں آیاہے۔ حضرت ابو ذر غفاری نے دریافت کیا، یا رسول اللہ انبیاءکی تعداد کتنی ہے؟ آپ نے فرمایا: مائة الف وا ربعة وعشرون ا لفاً، الرسل من ذلک ثلاثمائة وخمسة عشرجماً غفیراً (صححہ الا لبانی فی الصحیحة 2668)”ایک لاکھ چو بیس ہزارنبی ہیں،ان میں تیں سو پندرہ رسول ہیں“۔

 اس کے بعد ابو ذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! دنیا میں سب سے پہلا نبی کون ہے، آپ ا نے فرمایا آدم علیہ السلام۔

رسول کے معنی فرستادہ، بھیجا ہوااور قاصدکے ہوتے ہیں۔ نبی نبا سے مشتق ہے جس کے معنی خبر کے ہیں اور اس اصول سے نبی کے معنی خبر دینے والا قرار پایا۔ بعض کے نزدیک نبی کا مادہ نَبوَة سے ہے جس کے معنی بلند مرتبہ، عالی مقام کے ہیں۔

 رسول کا لفظ نبی کی نسبت خاص ہے۔ البتہ علماءکے نزدیک یہ جو مشہور ہے کہ ”نبی وہ ہوتا ہے جس کو اللہ نے شریعت کی وحی توکی ہولیکن اس کی تبلیغ کا حکم نہ دیا ہو،اوررسول وہ ہوتا ہے جس کی طرف شریعت کی وحی بھی کی ہو اور اسے تبلیغ کا حکم بھی دیا ہو“ اس تعریف میں معنویت نہیںہے کیونکہ نبوت ورسالت کا تقاضا ہی تبلیغ ہے ۔اس لیے راجح تعریف یہ ہوگی کہ ”رسول وہ ہے جس کی طرف نئی شریعت کی وحی کی گئی ہو جبکہ نبی وہ ہے جسے پہلی شریعت کی تبلیغ کے لیے ہی مبعوث کیاگیا ہو“۔

 (الرسل والرسالات، ڈاکٹرعمرسلیمان الاشقرصفحہ13)

 رسول کی اطاعت ایک مستند ذریعہ ہے جس سے ہم کو اللہ کے احکام و فرامین پہنچتے ہیں۔ کوئی اطاعت اللہ اور رسول کی سند کے بغیر معتبر نہیں ہے۔ رسول کی پیروی سے منہ موڑنا، اللہ کی اطاعت سے بغاوت ہے۔

ہمارے نبی حضرت محمداقریش کے ایک معزز خاندان بنو ہاشم میں پیدا ہوئے، (قمری حساب سے) جب آپ چالیس سال چھ ماہ بارہ دن کی عمر کو پہنچے تو اللہ تعالی نے آپ کو منصب رسالت و نبوت کے لیے چن لیا۔ آپ غار حرا میں تھے تو جبر ئیل ںآپ کے پاس رب ذوالجلال کا کلام لے کر حاضر ہوئے۔ کل مدت نبوت 23سال ہے۔ آپ کی بعثت کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

خطبہ حجتہ الوداع میں آپ نے ارشاد فرمایا “یایھاالّناس انہ لا نبی بعدی ولا امة بعدکم:(رواہ ابن ماجہ) لوگو !یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ لہذا ہمارا ایمان ہے کہ آپ اللہ کے آخری رسول ہیں، جو کوئی آپ کے بعد نبوت و رسالت کا اعلان کرتاہے وہ جھوٹا ہے۔ رسول اللہ کی اطاعت تمام انسانوں پر بالعموم اور ایمان والوں پر بالخصوص فرض ہے۔ آپ ا کی اطاعت کے بغیرکوئی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ آپ کی رسالت تمام جہاں والوں کے لیے ہے۔ اللہ تعالی کا ارشادہے : یاا یھاالناس قد جاءکم الرسول   بالحق من ربکم فآمنوا خیراًلکم  (النسائ-170) ”اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ رسول آ گیاہے اس پر ایمان لے آو – اس میں تمہاری بھلائی ہے“۔ اللہ تعالی نے مزید ارشاد فرمایا:  ﴾ قل یاا یھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا﴿ ” اے محمد! کہو کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ” (الاعراف158) ۔ خود آپ انے فرمایا :وکان النبی یبعث الی قومہ خاصة و بعثت الی الناس عامة ” ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میں تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں“۔( بخاری و مسلم)۔ مزید آپ نے ارشاد فرمایا : بعثت الی الا حمر و الا سود” میں کالے گورے سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔“ (بخاری)

 سورہ الاحزاب کی آیت 40 میں اللہ تعالی کا ارشادہے: ما کان محمد ابا ا حد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبین ” محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ تو اللہ کے رسول اور نبیوں (کی نبوت) ختم کرنے والے ہیں“۔ خود نبی ا نے بھی اپنے آخری نبی اور رسول ہونے کی تصریح فرمائی: ان الرسالة و النبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی ”رسالت و نبوت کا سلسلہ منقطع ہے لہذا میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی“۔ ( ترمذی)

 ایک دوسری جگہ آپ صلى الله عليه وسلم  نے ارشادفرمایا: بعثت انا  والساعةکہا تین۔ ”میری بعثت اور قیامت اس طرحہے “۔ یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنی دو انگلیاں اٹھائیں۔ (بخاری و مسلم)

 ان آیات اور احادیث سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ آپ صرف اپنے ملک، اپنے زمانے اور اپنی قوم کے لیے ہی نہیںبلکہ آپ قیامت تک پوری نوع انسانی کے لیے رسول مبعوث فرمائے گئے۔

لہذا رسالت پرایمان لانے میں داخل ہے کہ آپ کو انسانیت کی طرف اللہ کا آخری رسول ماناجائے،اوریہ عقیدہ رکھا جائے کہ رسول جوکچھ بتائے وہ حق ہے جو کچھ کہے وہ سچ اور جو عمل کرے وہ قابل اتباع ہے۔ ان کی بتائی ہوئی تمام باتوں پر عمل کرنا فرض ہے، خواہ ان باتوں کا تعلق عبادت و معاملات، تہذیب و معاشرت، اخلاق و کردار یا زندگی کے کسی بھی شعبہ سے ہو، اس لیے کہ یہی اسوہ کامل ہے۔ آپ کا ارشاد ہے :کل امتی یدخلون الجنة الا من ا بی قیل و من یابی، قال من ا طاعنی دخل الجنة و من عصانی فقد ا بی (بخاری)” میری ساری کی ساری امت جنت میں داخل ہو گی، سوائے اس شخص کے، جس نے انکار کیا۔ پوچھا گیا :انکار کا کیا مطلب ہے، آپ نے فرمایا: جو میری اطاعت کرے گا۔ وہ جنت میں داخل ہو گا- جو نافرمانی کرے گا، وہ انکار کرے گا۔”

 اطاعت کا مطلب اتباع ہے، ہر وہ عمل جو آپ کے قول و فعل اور تقریر سے صحیح طور ثابت ہو، وہ سنت ہے، جس کی اتباع ضروری ہے۔ اسی اتباع کا نام اطاعت ہے۔ اللہ کا ارشادہے :﴾ ما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھو ا﴿” تمہارے رسول جو حکم تمہیں دیں اس کو مانو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاو۔“ 

 حضرت جابرص روایت کرتے ہیں(حدیث کا خلاصہ)، ایک دفعہ آپ کے پاس چند فرشتے آئے، آپ سوئے ہوئے تھے، فرشتے کہنے لگے ایک مثال ہے، وہ مثال ان کو سناؤ، بعض فرشتے بولے، مثال کس طرح سنائیں یہ تو سوئے ہیں، بعض فرشتوں نے کہا، ان کی آنکھ سوتی ہے اور دل جاگتاہے یعنی ان کا سونا ایسے نہیں جیسے اور لوگوں کا سونا ہوتا ہے بلکہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں مگر دل خبردار رہتا ہے۔ جو بھی تم کہو گے وہ سنیں گے۔ تو فرشتوں نے کہا، ان کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے ایک مکان بنایا اور اس میں ضیافت کا اہتمام کیا اور ایک بلانے والے کو بھیجا، کہ وہ لوگوں کو ضیافت کے لیے بلائے۔ جو کوئی بلانے والے کے کہنے پر چلا آئے گا، وہ اس مکان میں بھی داخل ہو گا اور کھانے سے بھی مستفید ہو گا اور جو اس بلانے والے کی بات نہ مانے گا، وہ اس مکان میں بھی داخل نہ ہو گا اور ضیافت سے بھی مستفید نہ ہو گا- تو فرشتوں نے کہا: وہ مکان جنت ہے، بلانے والے محمدا ہیں اور ضیافت جنت کی نعمتیں ہیں۔ اب جو کوئی بلانے والے کی بات پر لبیک کہے گا، وہ مومن اور نیک ہے اور جو کوئی بلانے والے کی بات کو رد کرے گا وہ کافر ہے۔“ (بخاری 1081)

 اللہ تعالی کا ارشادہے : واطیعواللہ ورسولہ ولاتنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم﴿ ” اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوااکھڑ جائے گی “۔ (الانفال-46 )۔ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت ہی میں ہمارا امن اور ہماری وحدت ہے۔ جو کوئی اس اطاعت سے منحرف ہوا، گویا وہ غیر فطری راہوں پر چل نکلا۔ جس کے لیے نہ دنیا میں کوئی کامیابی ہے اور نہ آخرت میں۔

 عقیدہ رسالت کو سمجھنے کے لیے آخری نبی کی بعثت کا مقصد سمجھا جائے۔ سورة التوبہ آیت-33 ، الصف-9 ، الفتح-28 کے اندر اللہ تعالی نے رسول پاک کی بعثت کا مقصد بیان کیا ہے:﴾ھو الذی ا رسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔” وہ اللہ کی ذات جس نے اپنے رسولوں کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے، تا کہ اسے دنیا کے تمام ادیان پر غالب کریں۔“

 اس وقت دنیا میں کسی مذہب کے پیرو کاروں کے پاس الہامی دین اپنی اصل صورت میں نہیں، سوائے امت محمدیہ کے۔ اب اس امت کی ذمہ داری ہے کہ دین کی اس امانت کو اطراف عالم میں پہنچائے۔

نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :”اللہ تعالی نے اس روئے زمین کو میرے لیے سکیڑ کر رکھ دیا، میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی حہاں تک یہ زمین سکیڑ دی گئی۔ “( مسلم )

مقداد بن اسود  رضى الله عنه  بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ اکو فرماتے ہوئے سنا ” روئے زمین پر کوئی گھر ایسا نہیں ہو گا جس میں اسلام کی دعوت نہیں پہنچے گی۔”(مسنداحمد)

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس دعوت کو پہنچانے میں میرا کتنا مال، وقت اور علم صرف ہو رہا ہے۔ اگر جواب اثبات میں ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے عقیدہ رسالت کو سمجھ لیا، اگر جواب نفی میں ہے تو سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے….

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*