ماں….میرے دل کی آواز

ابراہیم جمال بٹ….سرینگر کشمیر
مکرمی ! چند ایک ماہ سے مسلسل بیمار تھا جس کے باعث کسی سے بھی کوئی خاص رابطہ نہ ہو سکا۔ آپ کا ای میل پڑھ کر اگرچہ ابھی تازہ کچھ لکھا نہیں ہے، البتہ میرے دل میں ہمیشہ اپنی ماں کے تئیں جذبات ابھرتے ہیں جو کہ اس دنیا میں موجود نہیں ہے، اس لیے جلدی جلدی میں اسی ماں کی مناسبت سے چند حروف لکھ کر بھیج رہا ہوں۔ امید ہے شامل اشاعت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین
ماں …. زبان سے نکلا ہوا لفظِ ماں‘ایک ایسے احساس کا اظہار ہے کہ جس سے دل اور دماغ کو سکون ملتا ہے۔
ماں…. جس کا ذکر لبوں پر آتے ہی خوشی چھا جاتی ہے۔
ماں….جسے جنت کی کنجی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ جنت تو جنت ہے لیکن جنت میں خوشبو دار پھول نہ ہو، تو جنت کیسا ….؟ جنت کا پھول ماں ہے۔ اسی لیے ماں کے قدموں تلے جنت قرار دیا گیا ہے۔
ماں….جس نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا۔ اسی ماں سے پیار اور محبت سے پیش نہ آنا ،جنت سے محرومی ہے۔
ماں…. جسے کوئی ”اَمی“ کہہ کر پکارتا ہے تو کوئی” اَمّا“ کہہ کر۔ ماں کے انیک نام صحیح، لیکن ماں ماں ہے، اسے کسی بھی نام سے پکارو، دلی سکون ملتا ہے۔ گویا ماں ہماری رگ رگ میں ہے، کیوں نہ ہو، مشکلات اور تکالیف برداشت کرکے اس نے ہمیں اپنی پیٹ میں پالاہے۔ پیدا ہوئے تو یہی ماں شفقت کا جیتاجاگتا نمونہ بن کر ہمیں پالنے لگی، رات رات بھر جاگی، تاکہ بچہ سویا رہے۔ بے شمار تکلیفوں کا سامنا کیا، تاکہ بچہ خوش رہے۔ غرض ماں پیار ہے، اس میں نفرت کی کوئی گنجائش نہیں جب دیکھو تو پیارہی جھلکتا ہے۔ جب کبھی کسی بات پر ناراض ہوتی ہے، تو اس ناراضگی میں بھی دور سے پیار ہی دکھائی دیتا ہے۔ دراصل ما ں کا دوسرا نام ہی پیار ہے۔ یہ پیار اگر ماں میں نہ ہوتا تو بچہ بچہ نہ رہتا ۔ رونے کی ایک آہستہ آواز سے ماں جاگ اُٹھتی ہے، یہ پیا ر نہیں تو اور کیا ہے؟ سوتا ہوا بچہ جب پیشاب کرتا ہے تو یہی ماں اسے دوسری طرف پھیر کرسُلادیتی ہے اور جب اُس طرف بھی بچہ پیشاب کرتا ہے تو خود اپنی جگہ سے ہٹ کر وہا ں بچے کو سلادیتی ہے اور خود پیشاب پر سوجاتی ہے، اسے پیار نہیں تو اور کیا کہیں گے؟ بھوک کے اظہار سے پہلے ہی اپنی چھاتی سے میٹھا میٹھا دودھ پلادیتی ہے،یہ دودھ نہیں دراصل ماں کا پیار ہوتا ہے،جسے وہ اپنے بچے کو دے دے کر پیغام ِمحبت کا اظہار کرتی ہے۔
ماں….جسے اپنی زندگی سے زیادہ بچے کی خوشی مقدم رہتی ہے۔ ہر وقت بچے کو خوش دیکھنا چاہتی ہے۔ جب کبھی بچہ بیمار ہوجائے،تو بچے کی رونے کی آواز کانوں میں پڑتے ہی آنکھوں سے آنسوﺅں کے قطرے ٹپک پڑتے ہیں۔
ماں….درد اور اذیتیں برداشت کرنے والی ماں۔ لیکن ….! اسی ماں کا یہ بچہ جب بڑا ہوتا ہے، تو یہی ماں جو کل تک اس کاسہارا تھی، آج خود ہی سہارے کی طلب گاربن جاتی ہے۔ بڑا ہوکر جب یہی بچہ ماں کو ٹھکرا کر کہیں اور چلا جاتا ہے، اس وقت بھی یہی ماں اس کی مدد کے بالمقابل اس کا دور سے سہارا بن کر دعائیں دیتی ہے سب کچھ برداشت کرلیتی ہے، لیکن اس بچے کا جو جوان ہوچکا ہو،جو اسے چھوڑ کر کہیں اور جابسا ہے، اسے بد دعا نہیں کرتی۔ اس و قت بھی اس کی زبان سے بار بار پیا رہی جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ مرتے وقت بھی اسی بچے کو یا د کرتی ہے۔اسی کے سامنے اپنی جان دیتی ہے۔کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ماںکا پیا ر پالیتے ہیں، ماں کی دعائیں لیتے ہیں، اور کتنے بد قسمت ہیں وہ لوگ جو ماں ہوتے ہوئے بھی کہیں اور سے پیار کی تلاش میں نکلتے ہیں ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے
اے دوست! ماں باپ کے سایے کی ناقدری نہ کر
دھوپ کاٹے گی بہت جب یہ شجر کٹ جائے گا

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*