ايک سعادت مندباپ اور عظيم بيٹا

اعجاز حسینی ( بنگلور)

 عرب ميں جس وقت شرک،بت پرستی،قتل وغارت گری، قبائلی تعصب کا عفريت عربوں کا خون بہار ہا تھا۔ جہالت کا کینسر لڑکیوں کو زندہ دفن کرار ہا تھا۔اس وقت بھی چند ایسے نفوس موجود تھے،جوملت ابراہیمی کے دين حنیف پر قائم تھے اور توحید کے قائل تھے۔

یہ داستان بھی ایک ایسے ہی پاک نفس کی ہے ۔حضرت زید ان سعادت مند بزرگوں میں تھے،جنہوں نے اسلام سے پہلے ہی توحید کی مٹھاس اپنے قلب ميں محسوس کر لی تھی اور اپنے زمانے کے تمام فسق و فجور اور جاہلانہ رسموں سے نفرت کر تے تھے۔ یہا ں تک کہ و ہ مشرکین کے ذبیحے سے بھی بچتے تھے۔

اسلام سے پہلے ایک دفعہ آنحضرت ا سے وادی بلدح مےں حضرت زید کی ملاقا ت ہوئی۔(یہ تنعیم کے راستے مےںایک مقام کا نام تھا) وہاں کے لوگوں نے آنحضرت اکے سامنے کھانا پیش کیا۔

 آپ نے مشرکین کے اس کھانے سے انکار کیا تو حضرت زید نے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ مےں تمہارے بتو ں کا چڑھایا ہوا ذبیحہ نہیں کھاتا۔

کفر و شرک سے نفرت کرنے والایہ دل راہ حق سے دور تھا۔ ان کا توحید تک کا سفر دلچسپ اور سبق آموزہے۔حق کی تلاش میں انہوں نے عرب سے چل کر کئی ملکوں کی خاک چھانی۔شام پہنچ کر ایک یہودی سے اپنا مقصد بیان کیا۔اس نے کہا کہ”اگر اللہ کے غضب سے حصہ لینا ہے تو ہمارا مذہب حاضر ہے“۔زےد نے کہا :میں اسی سے تو بھاگا ہوں۔پھر اس مےں گرفتار نہیں ہو سکتا۔البتہ اگر کوئی دوسرا مذہب بتا سکتے ہو تو بتاو ۔اس نے کہا :ایسا مذہب د ےن حنیف ہے۔انہوںنے پوچھا:د ين حنیف کیا ہے ؟اس نے بتایا کہ ”د ين حنیف حضرت ابراہیمںکا مذہب ہے،جو نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی،بلکہ صرف خدائے واحد کی پرستش کرتے تھے“۔

 یہاں سے روانہ ہوئے تو ايک عیسا ئی عالم سے رہنمائی چاہی۔اس نے کہا”اگر اللہ کی لعنت کا طوق چاہتے ہوتو ہمارا مذہب موجود ہے۔“ حضرت زید نے کہا ”خدارا! کوئی ایسا مذہب بتاؤ جس میں نہ اللہ کا غضب ہو، نہ لعنت۔ ميں ان دونو ں سے بھاگتا ہوں“۔ بولا ”ميرے خیال ميں ایسا مذہب صر ف دين حنیف ہے“۔

 غرض جب ہر طرف سے دین ابراہیم  کی طرف رہنمائی ہوئی تو وہ شام سے واپس ہوئے۔اور دونوں ہاتھ اٹھا کرکہا ”خدایا!مےں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ اب مےں دےن حنیف کا پےروکار ہوں“۔

یہا ں قدرے حيرت کے ساتھ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت زید کے سوال کے جواب ميں یہودی اور عیسا ئی دونوں عالموں نے اپنے اپنے مذہب کو اللہ تعالیٰ کے غضب اور لعنت کا سبب بتایا۔ ایک سوال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے مذہب کے بارے ميں یہ کھلا سچ کیوں کہہ دیا۔اور ان کو اپنے مذہب کی طرف دعوت کیوں نہ دی؟غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلام سے کچھ پہلے کا زمانہ ہے ۔یہودیوں اور عیسا ئیوں کی کتابوں میں ایک آخری رسول کے آنے کی خبريں دی گئی تھيں۔  یہ دونوں عالم اس رسول کے آنے کے منتظر تھے۔ ان کا خيال تھا کہ وہ رسول بھی بنی اسرائیل سے ہوگا۔اور دين کی طرف دعو ت دے گا۔اس لیے انہوں نے حضرت زید کو اسی دين کی طرف رہنمائی کی ،جس کی طرف وہ خود بھی جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

ليکن ان لوگوں کے گمان کے برعکس جب وہ رسول  بنی اسرائیل کے بجائے عرب ميں مبعوث ہوا تو محض نسبی تعصب کی بنا پر اس رسول کی نبوت سے انکار کر دیا۔

حضرت زيد کو اس کفرستان عرب ميں اپنے موحد ہونے پرنہایت فخر تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضى الله عنه  کی صاحبزادی حضرت اسما ء رضى الله عنهاکا بیان ہے کہ ميں نے ايک دفعہ زيد کو دیکھا کہ(بعثت سے پہلے) وہ کعبہ سے پشت لگا کر کہہ رہے تھے۔”اے گروہ قريش!خدا کی قسم میرے سوا تم ميں کوئی بھی دین ابراہیم پر قائم نہیں ہے “۔ان کی عا دت تھی کہ جاہلیت ميں جب عرب اپنی لڑکيوں کو زندہ دفن کرديتے تھے تواس اللہ لا شريک کے بندے کو ان لڑکيوں کو بچانے ميں خاص لطف محسوس ہو تا تھا۔جب کوئی ظالم باپ اپنی لڑکی کو قتل کرنا چاہتا تو یہ اس لڑکی کی کفالت اپنے ذمے لے ليتے تھے۔اور جب وہ جوان ہوجاتی تواس کے باپ سے کہتے”جی چا ہے لے لویا میری ہی کفالت ميں رہنے دو“۔(سےر الصحابہ ج2۔ بہ حوالہ بخاری )

 يہ تو ايک سعادت مند باپ کی داستان تھی۔اب ان کے ”عظیم“بيٹے کا حال سنيے۔ان کا يہ عظيم بيٹا کون ہے؟يہ حضرت سعيد بن زيد رضى الله عنه کی ذات مبارک ہے۔کون سعيد بن زيد رضى الله عنه ؟وہی جو حضرت عمررضى الله عنه کے بہنوی تھے۔ ا ور جب حضرت عمر رضى الله عنه  آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے قتل کے ارادے سے نکلے تو راستے ميں کسی نے کہا کہ پہلے اپنی بہن کی خبر لو۔ اورحضرت عمررضى الله عنه نے اپنی بہن اور ا س بہنو ی پرسختياں کیں اور دونوں کو لہولہان کر ديا۔ ان دونوں کی غير معمولی استقامت ہی نے عمربن خطاب کو فاروق اعظم رضى الله عنه بنا دیا۔

 حضرت سعيد بن زيد رضى الله عنه کے فضائل اور کارنامے عام طور پر منظر عام پر نہیں آئے۔ ظاہر ہے کہ وہ سابقين اولين ميں سے ہيں۔مہاجرين اولين کے ساتھ مدينہ منورہ ہجرت کی۔سن 2 ہجری ميں قريش مکہ کا وہ قافلہ جو شام سے سامان جنگ لے کر واپس آرہا تھا۔جو بعد ميں غزوه بدر کا پيش خيمہ ثابت ہوا۔ اس قافلہ کے تفصيلی حالات معلوم کر نے کے ليے آنحضرت صلى الله عليه وسلم  نے ان کو اور حضرت طلحہ  رضى الله عنه کو جاسوسی کی مہم پر روانہ فرمايا۔ یہ لوگ حدود شام ميں داخل ہو کر کسی واقف کار کے مہمان ہوئے۔جب قريش کا قافلہ شام سے روانہ ہوا تو یہ دونوں تمام حالات سے باخبر ہوکر قافلے سے نظر بچاکر تيزی سے مدينہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔لیکن قافلے کو کچھ گن سن لگ گئی اور انہوں نے راستہ بدل لیا ۔ ادھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو ان دونوں کے پہنچنے  سے پہلے ہی واقعہ کی خبر مل چکی تھی اور آپ نے جنگ بدر کی تیاری شروع کردی۔ یہی وہ غزوہ ہے جس نے اسلام کو ہميشہ کے ليے سر بلند کر ديا۔

جس وقت حضرت سعيد بن زيد رضى الله عنه مدينہ منورہ پہنچے تو اس وقت اسلام کے غازی فاتحانہ سُرور کے ساتھ مدينہ منورہ ميں داخل ہورہے تھے۔ يہا ں بھی حضرت سعيد بن زيد رضى الله عنه کو اعزاز حاصل ہوا کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے ان کو بدر کے مال غنيمت ميں حصہ عطا فرمايا۔کےونکہ وہ بھی اس سلسلے کی ايک مہم پر تھے۔ اور بشارت دی کہ ان کو بھی بدر ميں جہاد کا ثواب ملے گا۔ان کے ليے جنت کی پےش گوئی ہے۔

غزوہ بدر ميں بذات خود شريک نہ ہونے کے علاوہ تمام غزوات ميں مردانگی اور شجاعت کے ساتھ رسول اللہ اکے ساتھ شريک رہے۔ حضرت سعيد بن زيد رضى الله عنه کے تفصيلی حالات کتابوں مےں بہت کم ملتے ہےں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا دل دنیاوی جاہ وحشمت،مال ودولت اورشہرت وغےرہ سے مستغنی تھا۔اس کا اندازہ اس واقعہ سے کےجےے کہ عہد فاروقی مےں شام پر باقاعدہ فوج کشی ہوئی تو حضرت عبيدہ رضى الله عنه کی سرکردگی مےں نہایت جانبازی سے مختلف محاذوں پر کامیابی کے کا رنامے انجام دئے۔ اسی دوران حضرت عبيدہ رضى الله عنه نے ان کو شام کی گورنری کا منصب عطا کےا۔ کچھ ہی عرصہ مےں شوق جہاد نے ان کو اس منصب سے بےزار کر دےا۔ انہوں نے حضرت عبيدہ رضى الله عنه کو لکھا کہ” مےں ایسا اےثار نہےں کر سکتا کہ آپ لوگ جہاد کريں اور ميں اس سے محروم رہوں۔ اس ليے اس خط کے ملتے ہی کسی کو ميری جگہ بھیج ديجيے۔ ميں عنقرےب آپ کے پاس پہنچتاہوں۔مجبورہوکرحضرت عبيدہ رضى الله عنه نے یزے د بن ابی سفیان کو ان کی جگہ مقرر کيااور حضرت سعيد رضى الله عنه پھر ميدان کا ر زار ميں پہنچ گئے۔

 حضرت اميرمعاویہ رضى الله عنه کے عہد ميں ايک عورت اروی نامی نے مدينہ کے عامل مروان بن حکم سے شکایت کی کہ حضرت سعيدرضى الله عنه نے اس کی کچھ زمين دبالی ہے۔ اس کی جاگير حضرت سعيدرضى الله عنه کی زمين سے ملی ہوئی تھی۔ تحقيقات کے ليے دو آدمی متعین ہوئے۔ان کو خبر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہے کہ جو اپنے مال کے آگے(حفاظت ميں) قتل ہو ،وہ شہيد ہے۔ مروان بن حکم کو زمين دبانے والے کے ليے وعيد کی حديث سنائی۔ اس نے قسم کھانے کو کہاتو يہ دستبر دار ہوگئے۔(روایت حديث ميں احتیاط کی وجہ سے قسم نہيں کھائی)۔ليکن اس عورت کے حق ميں بددعا کی کہ وہ اندھی ہو کر مرے۔ اور اس کے گھر کا کنواں خود اس کی قبربنے۔دعا قبول ہوئی،وہ عورت جلد ہی بصارت سے محروم ہوئی اور گھر کے کنويں ميں ڈوب کر مری۔ ايک دفعہ کوفے کے گورنر مغيرہ بن شعبہ  رضى الله عنه کے پاس آئے۔اسی دوران ايک اور آدمی اندر آیا اور حضرت علی رضى الله عنه کی شان ميں غیر مہذب کلمات استعمال کر نے لگا۔ حضرت سعيد رضى الله عنه سے ضبط نہ ہوسکا۔فرمایا۔مغيرہ!مغيرہ! لوگ تمہارے سامنے رسو ل اللہ صلى الله عليه وسلم کے جان نثاروں کو گالياں ديتے ہيں اور تم منع نہيں کرتے؟ اس کے بعد حضرت سعيدرضى الله عنه نے عشرہ مبشرہ(دس صحابہ جن کو زندگی ميں جنت کی بشارت دی گئی)ميں شامل آٹھ صحابہ کے نام ليے اور فرمايا کہ رسو ل اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کو جنت کی بشارت دی ہے۔اور اگر چاہو تو ميں نويں آدمی کانام بھی لے سکتا ہوں۔لوگوں نے اصرار کيا کہ نويں آدمی کانام بھی بتاديں ۔جواب ميں فرمایا۔نواں ميں ہوں۔گویا حضرت سعيد رضى الله عنه عشرہ مبشرہ ميں سے ہيں۔

آپ نے اپنی بقیہ زندگی سکون و خاموشی ميں گزاری۔ مدينہ کے قريب مقام عقيق ميں آپ کا مستقل مسکن تھا۔ وہيں ستّر برس کی عمر ميں وفات پائی۔حضرت عبداللہ بن عمر رضى الله عنه نے نماز جنازہ پڑھائی۔اور مدينہ لا کر (بقيع ميں) سپر دخاک کيا۔

یہ تھی ايک سعادت مندباپ اور اس کے عظيم بيٹے کی کہانی رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ

 

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*