علامہ محمد بن صالح العثیمین رحمه الله کی مجلس سے

شیخ! کیاہم آپ کانام جان سکتے ہیں؟

ایک مرتبہ شیخ ابن عثیمین  رحمه الله مکہ میں ٹیکسی پر سوار تھے …. بظاہرمسافت لمبی تھی،ٹیکسی ڈرائیورنے شیخ کا تعارف حاصل کرناچاہا،چنانچہ اس نے پوچھا: شیخ کیاہم آپ کا نام جان سکتے ہیں؟ شیخ نے جواب دیا:محمدبن صالح العثیمین ۔ ڈرائیور گویا ہوا: آپ سے مل کربہت خوشی ہوئی …. اور میں آپ کا بھائی عبدالعزیز بن باز ہوں ( ڈرائیور نے ازراہ مذاق یہ بات کہی تھی)۔شیخ ابن عثیمین  رحمه الله یہ سن کر ہنس پڑے اورفرمایا: شیخ ابن باز تو نابینا ہیں وہ ٹیکسی کیسے چلاسکتے ہیں۔ ڈرائیور نے کہا: ابن عثیمین بھی تو نجد میں ہیں وہ یہاں کیسے آسکتے ہیں۔ مجھ سے مذاق کرتے ہیں آپ؟ یہ سن کرابن عثیمین  رحمه الله  ہنسنے لگے اوراسے سمجھایاکہ واقعی وہ ابن عثیمین ہی ہیں۔ رحمة اللہ علیہ رحمة واسعة

سب کو اپنے اپنے طورپر نمازپڑھنے دے ۔

دیہات کا ایک عمررسیدہ بزرگ ایک دن اچانک شیخ ابن عثیمین کی مسجد میں داخل ہوا اورنماز میں شامل ہوگیا۔آپ جہری قرأ ت فرما رہے تھے کہ اسی اثناءایک آیت میں سہو ہو گیا،مقتدیوں میں سے متعدد لوگوںنے آپ کو لقمہ دیا۔ جب شیخ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایاکہ اس طرح اجتماعی شکل میں لقمہ نہیں دیناچاہیے، ایک آدمی کالقمہ دے دینا کافی ہے ۔تب عمررسیدہ بزرگ پورے وثوق کے ساتھ گویاہوئے: ”اصل تویہ ہے کہ تیرے جیسا عمردراز انسان اگر پڑھنا نہیں جانتا ہے تو پیچھے کھڑا ہوجائے اورسب کو اپنے اپنے طورپر نمازپڑھنے دے ۔“ ….

 جب ریڈیوسجدہ کرے

شیخ ابن عثیمین رحمه الله سے دریافت کیا گیا کہ اگرایک آدمی بذریعہ ریڈیوقرآن کی تلاوت سن رہاہواورسجدہ تلاوت آگیاتوکیا اسے سجدہ تلاوت کرناچاہیے؟ آپ نے فرمایا: ہاں! جبکہ ریڈیوسجدہ کرے ۔

 تجھے دانت سے نہ کاٹ سکے گی

شیخ ابن عثیمین رحمه الله اپنے درس میں نکاح کے مسائل سے متعلق خواتین کے عیوب پر گفتگوکررہے تھے۔اسی اثناءایک سائل نے ان سے دریافت کیا کہ اگرمجھے شادی کرنے کے بعدپتہ چلے کہ میری بیوی کے پاس دانت نہیں ہے تو کیا یہ ایسا عیب شمار کیاجائے گا جس کی بنیادپر فسخ نکاح جائز ہوگا؟ شیخ یہ سن کر ہنس پڑے اور فرمایا:” یہ تواچھی عورت ہے کہ تجھے دانت سے نہ کاٹ سکے گی ۔ “

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*