جہالت اور حقیقی علم

مولانا حافظ عبدالحفیظ عمری مدنی (کویت )

انسان پیٹ سے عالم بن کرپیدا نہیں ہوتا : واللہ أخرجکم من بطون أمھاتکم لاتعلمون شیئا ”اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤ ں کے پیٹوں سے نکالا تم کچھ نہیں جانتے تھے۔“ لیکن اللہ نے علم کو اخذ کرنے کے لیے جن ذرائع کی ضرورت تھی وہ اس کے اندر ودیعت فرمادئیے۔ وجعل لکم السمع والا بصار والا فئدة لعلکم تشکرون (النحل:78)۔” اور اس نے تمہارے لیے کان، آنکھ اور دل عطاکیے تاکہ تم شکرکرتے رہو۔ “یہ تینوں اعضاء علم حاصل کرنے کے ذریعے ہیں، ان کا شکر یہی ہے کہ ان کا صحیح استعمال کیا جائے۔ ورنہ کل قیامت کے دن لوگ اپنی اس جہالت کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ : وقالوا لو کنا نسمع ا ونعقل ما کنا فی أصحاب السعیر۔(ملک:۰۱)۔ ”اور وہ کہیں گے کہ کاش ہم سنتے ہوتے اور سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔“

 * جہالت ایک مذموم صفت ہے :

اللہ تعالی نے جہالت کو جہنمیوں کی صفت بتائی اور جاہلوں کو جانوروں سے تشبیہ دی بلکہ فرمایا کہ ان سے بھی زیاہ گمراہ اور غافل ہیں؛اللہ نے فرمایا : ولقد ذرانا لجھنم کثیراً من الجن والا نس لھم قلوب لا یفقھون بھا ولھم ا عین لا یبصرون بھا ولھم آذان   لا یسمعون بھا،ا ولئک کالا نعام بل ھم ا ضل ا ولئک ھم الغافلون۔ (الاعراف: 179)۔

 ”اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں ، جن کے دل ہیں ان سے سمجھتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں جن سے دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں جن سے سنتے نہیں ، یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں ، یہی لوگ غافل ہیں۔ “

کبھی فرمایا کہ شرالدواب عنداللہ ” وہ اللہ کے نزدیک بدترین جانورہیں“، کبھی فرمایا : اموات غیرا حیاءیعنی وہ مردے ہیں زندہ نہیں ۔ کبھی فرمایا کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور ان کے آنکھوں پر حجاب پڑے ہوئے ہیں۔ وہ اندھے ، بہرے اور بے سمجھ ہیں۔ اور کبھی جہالت کو تاریکی ، ضلالت وگمراہی اور موت سے تعبیر فرمایاہے، یہ ساری صفات جہالت کی مذمت اور قباحت بیان کررہی ہیں۔

 ۰ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جہالت ایک لعنت ہے: الدنیا ملعونة وملعون ما فیھا الا ذکر اللہ   وما والاہ ، او عالماً ا ومتعلماً (ترمذی، صحیح الجامع:1609)۔” دنیا ملعون اور مذموم ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی مذموم ہے سوائے اللہ کے ذکر اور جو عمل اس جیسا ہے یا ایک علم والا یا علم سیکھنے والا۔ “

 ۰ ابن قیم  رحمه الله  فرماتے ہیں : جہالت دوقسم کی ہے : ایک علم کی جہالت دوسری عمل کی جہالت ، یہ دونوں قسم کی جہالت دلوں میں تاریکی اور وحشت پیدا کرتی ہے۔

۰ جہالت دلوں کی ایک خطرناک بیماری ہے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اس بیماری کی دوا اور اس کا علاج علماءسے سوال کرنا ہے۔ ایک حدیث میں آپ ا کا ارشادہے: انما شفاءالعِیّ السوال۔ ”یقینا جہالت کی شفا سوال ہے۔“(ابوداود)۔

 * حقیقی علم:

۰ امام احمد فرماتے ہیں : لوگوں کو کھانے اور پانی سے زیادہ علم کی ضرورت ہے اس لیے کہ ایک انسان دن میں ایک دو بار کھانے اور پانی کامحتاج ہوتا ہے جبکہ وہ اپنی سانسوں کی گنتی کے برابرعلم کا محتاج ہے۔

۰ لہذا علم انسان کی ایک اہم ترین ضرورت بھی ہے اور ایک عظیم فریضہ بھی ہے،ایسا فرض کہ کسی بھی انسان سے ساقط ہونے والا نہیں ہے طلب العلم فریضہ علی کل مسلم۔ (ابن ماجہ )۔” علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ “

* وہ علم جس کا حاصل کرنا ہرانسان پر فرض ہے؛اس کا تعلق ٭رب کی ذات اور توحید سے ہے ٭نبی کی سیرت اور آپ کی سنت سے ہے ٭دین کی اہم عبادات ، ضروری معاملات اور اخلاق سے ہے۔ یہ تین اصول ہیںجوحقیقی علم پر مشتمل ہیں جن کا سیکھنا ہر انسان پرفرض ہے۔

 اس علم کو نہ جاننے والے ہی جاہل ہیں چاہے وہ دنیوی علوم کے ماہر ہی کیوں نہ ہوں ، اللہ نے ایسے ہی لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : یعلمون ظاھراً من الحیاة الدنیا وھم عن الآخرة ھم غافلون۔(روم:7)۔ ” وہ تو صرف دنیوی زندگی کے ظاہر کو ہی جانتے ہیں اور آخرت سے تو بالکل بے خبر ہیں۔“

 اور وہ لوگ بھی جاہل ہیں جن کے پاس علم تو ہے لیکن وہ توحید وسنت کےخلاف ہے اور شرک وبدعت اورخرافات سے متعلق ہے۔ اللہ نے ایسے لوگوں کی بھی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا : فَلَمَّا جَاءتھم رُسُلُھُم بِالبَیِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِندَھُم  مِّنَ العِلمِ وَحَاقَ بِھِم مَّا کَانُوا بِہ یَستَھزءونَ.(غافر: 83)۔”پس جب ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تو یہ اپنے علم پر اترانے لگے ، بالآخر جس چیز کو مذاق میں اڑا رہے تھے وہی ان پر الٹ پڑی۔ “

 ۰ اسی لیے نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ . سلوا اللہ علما نافعا،وتعوذوا با للہ من علم  لا ینفع. ”اللہ تعالی سے نفع بخش علم کا سوال کرو ، بے فائدہ علم سے اللہ کی پناہ مانگو۔ “(ابن ماجہ ).

بے فائدہ علم سے پناہ مانگنے کی دعا سکھائی: اللھمَّ اِنِّی اعوذ بِکَ مِن عِلمٍ لَایَنفَع۔” اے اللہ ! میں تجھ سے غیر نفع بخش علم سے تیری پناہ چاہتاہوں۔“ ( مسلم ). 

 اور نفع بخش علم کی بھی دعاسکھائی :اللھمَّ انفَعنیِ بِمَا عَلَّمتَنیِ وَعَلِّمنیِ مَایَنفَعُنیِ وَزِد نیِ عِلمًا.”اے اللہ! تو مجھے میرے علم سے نفع دے اور تو مجھے نفع بخش علم عطاکر اور زیادہ علم سے نواز۔“ (ترمذی ).

 * یہ نفع بخش علم( جورب کی معرفت ، نبی کی معرفت ،اور دین کی معرفت پر مشتمل ہے)، اس کے بارے میں قیامت کی سب سے پہلی منزل قبرکے اندر پوچھا جائے گا۔ انسان چاہے وہ مسلم ہو یا کافر ہر ایک سے قبر میں اس علم کے بارے میں سوال ہو گا، مومن جب ان سوالات کے جوابات دے گا تو فرشتے اس سے پوچھیں گے کہ:  و ما یدریک ؟ فیقول: قراتُ کتاب اللہ فآمنتبہ وصدّقتُ. ” اس علم کا پتہ تمہیں کیسے ہوا؟وہ جواب میں کہے گا میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان  لا یااور اس کی تصدیق کی۔“(ابوداو د، کتاب السنة باب:23 حدیث:4753).

 اور کافر ، منافق،فاسق اور فاجر اپنی بے علمی اور جہالت کا اعتراف کر ے گا اور کہے گا: لا ادری،کنتُ ا قول ما یقول الناس .”مجھے معلوم نہیں جو لوگ کہتے تھے وہی میں بھی کہتا تھا“، فرشتے اسے یہ کہہ کر ماریں گے : لادریتَ ولاتلیتَ. ”تونے نہ تو جاننے کی کوشش کی اور نہ (قرآن ) پڑھا.“( بخاری ،ح:1338).

 جہالت کے بعض نقصانات

۱- اعمال برباد ہوتے ہیں :

 اللہ کے پاس دین کے قبول ہونے کے لیے رب کی معرفت اور نبی کی معرفت بے حد ضروری ہے۔ دوسرے الفاظ میں: توحید اور سنت یہ دونوں دواہم شروط ہیں جن کے بغیر دین کا کوئی بھی عمل مقبول نہیں ہے ۔

* توحید کی ضد شر ک اور کفر ہے، یہ بہت بڑی جہالت اور اعمال کی بردبای کا سبب ہے ، اللہ تعالی نے مشرکوں کو جاہل کہا اور فرمایاکہ ان کے نیک اعمال برباد ہیں اور وہ نقصان اور گھاٹے کا کام کررہے ہیں۔ قل افغیر اللہ تا مرونی ا عبد ا یھا الجاھلون ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن ا شرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخاسرین ۔ ”آپ کہہ دیجیے اے جاہلو! کیا تم مجھے اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کا حکم دیتے ہو، یقینا آپ کی طرف بھی اور آپ سے پہلے (تمام نبیوں ) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو بلاشبہ آپ کا عمل ضائع ہوجائے گا اور بالیقین آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاو  گے۔“

 قومِ نوح کے بعض جاہل اور مشرکوں نے اپنے متبعین سے کہا تھا کہ : وَقَالوا لَا تَذَرُنَّ آلِھَتکم وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا یَغُوثَ وَیَعوقَ وَنَسرًا.[سورة نوح:23]. اور انہوں نے کہا : تم ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا ، اور نہ ہی ود، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر کو چھوڑنا۔

 یہ حالت اس وقت پیش آئی جب توحید کاعلم ختم ہوچکا تھا اورلوگ اللہ کو چھوڑ کر اپنے نیک لوگوں کے بت بنا کر ان کی عبادت کرنے لگ گئے تھے۔

ابن عباس رضى الله عنه اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

”یہ قوم نوح کے نیک لوگ تھے جب یہ مرگئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ بات ڈا ل دی کہ ان کے بیٹھنے کی جگہوں پر ان کے ناموں کی مورتیاں بنا کر رکھ دو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا لیکن انہوں نے ان کی عبادت یا پوجا نہیں کی حَتَّی اِذَا ھَلَکَ اولَئِکَ وَتَنَسَّخَ العِلمُ عُبِدَت البتہ جب یہ نسل ختم ہوگئی اورتوحیدکاعلم مٹ گیا تو ان کی عبادت شروع ہوگئی۔ (بخاری)۔یعنی جب جہالت عام ہوگئی تو لوگ شرک میں مبتلا ہوگئے۔

 * سنت کی ضد بدعات وخرافات ہیں: یہ بھی بہت بڑی جہالت اور اعمال کی بربادی کا سبب ہے ، اللہ تعالی نے فرمایا : یاایھا الذین آمنوا ا طیعوا اللہ وا طیعوا الرسول ولا تبطلوا ا عمالکم۔ (محمد: 33)۔

 ”اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد مت کرو۔ رسول اللہ ا نے فرمایا : من عمل عملاً لیس علیہ امرنا فھو رد۔ ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو مردود ہے۔“( بخاری ،مسلم )۔

 ۰ وہ تین شخص جو نبی کریم ا کی عبادت کا حال سن کر مزید عبادت میں محنت کرنے کا عزم کیا ان میں سے ایک نے کہا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھتا رہوں گا کبھی روزہ نہیں چھوڑوں گا، دوسرے نے کہا کہ میں نکاح نہیں کروں گا، یعنی دنیا سے اپنا تعلق ہی کاٹ لوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں کبھی رات میں نہیں سووںگا،ہمیشہ تہجدپڑھتا رہوں گا۔ان تینوں نے نیک کام کا ہی عزم کیا تھا، کسی گناہ کا نہیں ،لیکن سنتِ رسول کے خلاف تھا، اسی لیے رسول اللہ انے ان کے عزائم کو سن کر فرمایا : میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور روزہ ترک بھی کرتاہوں ، میں رات میں سوتا بھی ہوں اورجاگ کر تہجد بھی پڑھتا ہوں ، میں نکاح بھی کرتا ہوں۔ یعنی یہی میری سنت اور میرا طریقہ ہے: فمن رغب عن سنتی فلیس منی۔ جو میرے اس طریقے سے ہٹ گیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔ ( بخاری،مسلم )۔

 ۰ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی وفات کے بعد ایک بار ابوموسی اشعری ص نماز فجر سے پہلے مسجد نبوی میں پہنچے دیکھا کہ لوگ نماز کا انتظار کرتے ہوئے مختلف گروپ میں بیٹھے ہیں، ان کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں، ہرگروپ میں ایک شخص ہے جو ان سے کہتا ہے کہ سو بار سبحان اللہ پڑھو، تو وہ کنکریوں پر گنتے ہوئے سوبار سبحان اللہ پڑھتے ہیں ، پھر وہ کہتا ہے کہ سو بار لاالہ الا اللہ پڑھو، تو وہ کنکریوں پر گنتے ہوئے سوبار لاالہ الا اللہ پڑھتے ہیں، پھر وہ کہتا ہے کہ سو بار اللہ اکبر پڑھو تو وہ کنکریوں پر گنتے ہوئے سوبار اللہ اکبرپڑھتے ہیں، ابوموسی اشعری ص نے عبداللہ بن مسعودص سے بیان کیا وہ مسجد پہنچ کر ایک گروپ کے پاس کھڑے ہوئے فرمایا کہ یہ تم کیا کررہے ہو ، انہوں نے کہا : یہ کنکریاں ہیں جن پر ہم تسبیح تہلیل اور تکبیر پڑھ رہے ہیں ، ابن مسعودرضى الله عنه نے فرمایا فَعُدُّوا سیِّئاتِکُم فا نا ضامن لکم ا ن لا یضیع من حسناتکم شیء ویحکم یا ا مَّة محمد، ما ا سرع ھلکتم! ھو لاءصحابة نبیکم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم متوافرون، وھذہ ثیابھم لم تبل وآنیتھم لم تکسر، والذی نفسی بید ہ انکم لعلی ملَّةٍ ا ھدی من ملَّة محمَّدٍ ا ومفتتحو باب ضلالةٍ؟ ۔”تم اپنے گناہوں کو شمار کرو میں تمہیں ضمانت دیتاہوں کہ تمہاری کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی، افسوس ہے تم پر اے امت محمد! تم کتنا جلد برباد ہوگئے !یہ تمہارے نبی کے صحابہ ابھی بکثرت موجود ہیں ، ان کے یہ کپڑے ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے اور ان کے برتن ابھی ٹوٹے تک نہیں۔قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کیا تمہارا طریقہ زیادہ علم وہدایت والا ہے یا محمدا کا طریقہ ؟! یا یہ کہ تم گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو؟!ان لوگوں نے کہا یا ابا عبد الرحمن، ما اردنا الا الخیر. اے ابوعبدالرحمن! ہم نیک کا م ہی تو کررہے ہیں۔ ابن مسعود رضى الله عنه نے فرمایا : وَکَم مِن مُرِیدٍ لِلخَیرِ لَن یُّصِیبَہ ”کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو نیک عمل توکرتے ہیں لیکن وہ ہرگز نیکی تک نہیں پہنچ سکتے۔“ (دارمی)۔کیونکہ وہ جہا لت اورسنت سے دوری کا نتیجہ ہے۔

 ۲۔ جہالت ؛انسان کو شہوات اور شبہات میں مبتلا کرتی ہے جو ہر قسم کے فتنے اور گناہوں کی جڑ ہیں ، شبہات سے عقیدہ میں خرابی پیدا ہوتی جبکہ شہوات سے اعمال اور اخلاق میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ جیسے جیسے زمانہ گزرتا جائے گا علم کم ہوتا جائے گا اور جہالت عام ہوتی جائے گی، اسی لیے قیامت کے قریب شہوات اور شبہات کے فتنے عروج پر ہوں گے۔ رسول اللہا نے فرمایا : انَّ بَینَ یَدَی السَّاعَةِ ایامًا یُر فَعُ فِیھَا العِلم وََیَنزِلُ فیھَا الجَھلُ وَیَکثُرُفِیھَا الھَرج ،وفی روایة: ویََظھَرُ الزِّنَا۔ (بخاری ومسلم). ”یقینا قیامت سے پہلے ایک ایسا زمانہ بھی ہوگاجس میں علم اٹھا لیا جائے گا ، جہالت پھیل جائے گی،قتل وخون ریزی بہت زیادہ ہو گی اور زنا کاری عام ہوگی۔ “

 شبہات اور شہوات سے بچنا؛ یہ دراصل عبادالرحمن کی صفات میں سے ہے، اللہ نے ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا : والذین لایدعون مع اللہ الھا آخر ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق    ولا یزنون.(فرقان:68)۔”اور وہ اللہ کے ساتھ کسی د وسرے معبود کو نہیں پکارتے،اورکسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ نے حرام کردیا ہے بجز حق کے قتل نہیں کرتے ، اور وہ زنا کے مرتکب نہیں ہوتے ۔ “ اس آیت میں ان کی پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ شبہات سے بچ کرعقیدہ اور توحیدکی حفاظت کرتے ہیں اور دوسری صفت یہ ہے کہ وہ ناجائز شہوات سے دور رہ کر قتل وخون ریزی، زنا اور بدکاری جیسی برائیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔

۳۔ جاہل خود بھی نقصان میں رہتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی نقصان دہ ہیں:

۰ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ان اللہ لا یقبض العلم انتزاعا ینتزعہ من الناس ولکن یقبض العلم بقبض العلماء حتی اذا لم ترعالماً اتخذ الناس رءوساً جھالاً فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا وا ضلوا۔(مسلم )۔

” اللہ تعالی علم کو لوگوں کے دلوں سے چھین نہیں لے گا بلکہ علماءکے ختم ہونے سے علم ختم ہوتا جائے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنالیں گے، ان سے فتوے پوچھے جائیں گے وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے، خود بھی گمراہ ہونگے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔                 

 ۰ جاہل اور عالم میں فرق کرنے کے لیے اس حدیث پر غور فرمائیں کہ رسول اللہ انے فرمایا کہ گزشتہ زمانے میں ایک شخص 99 آدمی کو قتل کرکے لوگوں سے پوچھا کہ مجھے روئے زمین کا سب زیادہ علم والا شخص بتاؤ، لوگوں نے اُسے ایک جاہل عابد کی رہنمائی کی، قاتل نے اُس سے پوچھا: میں 99آدمی کو قتل کرچکا ہوں کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں، قاتل (غصہ میں آگیا اور) اُسے بھی قتل کردیا، پھر اس نے لوگوں سے پوچھا : مجھے روئے زمین کا سب زیادہ علم والا شخص بتاؤ، چنانچہ اُسے ایک عالم کا پتہ بتایا گیا ، وہ اس کے پاس گیا اور اُس سے پوچھا :میں سو آدمی کو قتل کرچکا ہوں، کیا میری تو بہ قبول ہوسکتی ہے ؟عالم نے کہا کہ تمہارے اور توبہ کے درمیان کون رکاوٹ بن سکتاہے ؟! پھر اُس نے قاتل سے فرمایا کہ تم فلاں بستی چلے جاؤ جہاں ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں،لہذا تم ان کے ساتھ رہ کر اللہ کی عبادت کرتے رہو اور اپنی بستی کی طرف واپس نہ لوٹو کیونکہ وہ برے لوگوں کی بستی ہے۔ (بخاری، مسلم)۔

 ۴۔ جو عمل جہالت پر مبنی ہو گاوہ ضلالت اور گمراہی ہے اور جو عمل صحیح علم پر مبنی ہو گا وہ ہدایت ہے :

 اللہ نے قرآن کریم میں نصرانیوں کی مذمت اس لیے بیان فرمائی ہے کہ انہوں نے علم کے بغیر اپنے لیے جو عمل اچھا لگتا اسے اپنا تے تھے ، اللہ نے ہمیں ایسے لوگوں کے طریقہ سے ہر نماز میں پناہ مانگنے اور صحیح علم وعمل پر  ثابت قدم رہنے کی دعا سکھائی۔ بلکہ اس دعا کو نماز کا ایک رکن قرار دیا۔ تاکہ لوگ صحیح علم کی اہمیت اور جہالت کی خطرناکی کو اچھی طرح جان لیں: اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم   غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین۔ ”ہمیں درست راہ سمجھا دے اور اس پر جمادے (یعنی) ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا انعام ہوا ، نہ کہ ا ن لوگوں کی راہ جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ ان لوگوں کی راہ جو گمراہ ہوگئے۔ “

 ۵۔ جہالت فرقہ پرستی ، امت میں انتشار اور تفرقہ بازی کا سبب ہے :

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ”یہودی 71 فرقوں میں بٹ گئے نصاری 72 فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی؛ سب کے سب جہنمی ہیں سوائے ایک کے ، صحابہ نے پوچھا: یارسول اللہ وہ کونسا فرقہ ہے؟ آپ انے فرمایا : جو میرے اور صحابہ کے طریقے پرقائم رہے ، اور یہی ’جماعت‘یعنی متحد ومتفق ہیں۔“ (ترمذی ، ابوداود،صحیح ابن ماجہ)۔

 عبداللہ بن مسعود  رضي الله عنه نے صحابہ کے بارے میں فرمایا :

”جو شخص کسی کی پیروی کرنا چاہے تو اُسے چاہیے کہ وہ محمدا کے صحابہ کی پیروی کرے کیونکہ وہ اس امت کے بڑے نیک دل اور فرمانبردار لوگ ہیں ، سب سے زیادہ گہرے علم والے ہیں ، ان کے پاس کوئی تکلف نہیں ہے (یعنی ا ن کے اقوال اوراعمال علم وبصیرت پر مبنی ہوتے ہیں)، وہ سب سے زیادہ درست علم وہدایت پر ہیں ، وہ سب سے بہترین حالت والے ہیں ، وہ ایسے لوگ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے بنی کی صحبت اور دین کی اقامت کے لیے چن لیا ہے ، لہذا تم ان کے مقام اورمرتبہ کو جان لو ، ان کے نقش قدم کی پیروی کرو اس لیے کہ وہ درست علم وہدایت پر تھے۔ “(جامع بیان العلم لابن عبدالبر)۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*