بدلہ نہ لینا

عالم اسلام کے ایک بہت بڑے عالم اور محدث حضرت میاں صاحب گزرے ہیں ، آپ کا نام تو ”سید نذیرحسین دہلوی “ تھا لیکن لوگ آپ کو ”میاں صاحب“ کہتے تھے ۔ آپ نے دہلی میں ستر سال تک قرآن وحدیث کا درس دیا ،آپ بہت نیک اور بزرگ تھے ، بڑے بڑے دشمن آپ کے قابو میں آئے لیکن آپ نے کبھی ان سے بدلہ نہ لیا بلکہ انہیں معاف کردیا اور ان کی بخشش کی دعا بھی فرمائی ۔
ایک دن کی بات ہے ۔ ایک صاحب نے حضرت میاں صاحب کی دعوت کی ۔ میاں صاحب کھانے کے وقت ان کے گھر پہنچے ، جب کھانا سامنے آیا تو میاں صاحب کو متلی اور قے ہونے لگی اور طبیعت ایسی خراب ہوئی کہ آپ کھانا نہ کھا سکے ۔ جب آپ گھر واپس آئے تو میزبان کے نوکر کے پیٹ میں سخت درد شروع ہوا ۔ اسی نے کھانا بنایا تھا ۔ اس کی تکلیف اتنی بڑھی کہ وہ تڑپنے لگا اور اپنے مالک کو بلاکر عرض کیا کہ آپ میاں صاحب سے میری غلطی معاف کرادیجیے ۔ دراصل یہ درد نہیں ہے بلکہ خدا کی طرف سے مجھے اپنے جرم کی سزا مل رہی ہے ۔ مجھے میاںصاحب سے بڑی دشمنی تھی ۔ اس لیے میں نے بکرے کے گوشت کی بجائے سور کا گوشت پکا دیا تھا کہ میاں صاحب کو یہ حرام گوشت کھلا دوں مگر اللہ تعالی نے انہیں بچا لیا اور مجھ کو اس جرم کی یہ سزا دی ہے ۔
وہ صاحب نوکر کو ساتھ لیے میاں صاحب کے پاس پہونچے اور سارا ماجرا بیان کیا اور اس کے لیے معافی چاہی ، میاں صاحب نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ تعالی نے حرام غذا سے بچا لیا ۔ پھر نوکر کو معاف کردیا اور اللہ تعالی سے اس کے لیے بخشش کی دعا کی ۔ آپ کے دعا کرتے ہی اس کی تکلیف دور ہوگئی اور وہ بھلا چنگا ہوگیا ۔

2 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*