بالآخر وہ داعی بن گئی

        فضیلة الشیخ نبیل العوضی

وہ ایک عیسائی خاتون تھی، اس نے اپنی ایک مسلمان سہیلی جو اسلامی اخلاق کی پابند تھی کو عیسائیت کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا،لیکن خود مسلم سہیلی کے اخلاق اور کردار سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اس کے دین کو گلے لگالیا ۔

کہتی ہے : ”میں اپنی سہیلی کے اخلاق سے بیحد متاثر ہوئی اوراسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیالیکن اہل خانہ کا خوف مجھے کھائے جارہا تھا جس کی وجہ سے اسلام کا اعلان تو نہ کیا تاہم دل میں اسلام چھپائے رکھی ۔ “

ملازمت کے غرض سے کویت آئی تو مجھے IPCکا پتہ چلا جس نے خواتین کے لیے باضابطہ الگ سے خاص شعبہ قائم کر رکھا ہے جو نو مسلم خواتین کی دینی ،اجتماعی اور نفسیاتی تربیت کا اہتمام کرنے کے ساتھ غیرمسلم خواتین کو اسلام کی طرف دعوت دینے میں ہمہ وقت مشغول ہے ۔

میں بیتابانہ IPCپہنچ گئی تاکہ اسلام سیکھ سکوں،کلاس میں حاضر ہوکر اسلام کی بنیادی تعلیم حاصل کرنے لگی،بالآخر اس قابل ہوگئی کہ اپنے اہل خانہ کو اسلام کی طرف دعوت دے سکوں، چنانچہ میں نے اپنی ماں، اپنی بہن اور گھر کے افراد کو اسلام کی دعوت دی اور الحمدللہ انہوں نے اسلام قبول بھی کر لیا ….کیاآپ جانتے ہیں….میں اسلام میں کیسے آئی ؟ سہیلی کے اخلاق اورکردار کی بنیاد پر ….

جی ہاں! ہمارا دین‘ اسلام حسن اخلاق کا پیکر ہے،اللہ کے رسول ا نے فرمایا: انما بعثت لأتمم مکارم الاخلاق ” مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ مکارم اخلاق کی تکمیل کردوں “۔ ہم لوگوںسے عمدہ اخلاق، اچھے رویہ سے معاملہ کرتے ہیں، انہیں دل پذیر اسلوب میں اسلام کی دعوت دیتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا: ”آخراس شخص کی بات سے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے جس نے اللہ کی طرف بلایا،نیک عمل کیا اورکہا کہ میں مسلمان ہوں“۔

 فی الواقع اس خاتون کا معاملہ عجیب ہے ….اس نے اپنی مسلمان سہیلی کو دین کی دعوت دینے کے لیے پلاننگ کی جبکہ کتنے ایسے مسلمان ہیں جو اسلام کو وراثت میں ملی ہوئی جائداد سمجھ رہے ہیں، کبھی انہیں توفیق نہ ہوئی کہ غیرمسلموں کو اسلام کی آفاقی تعلیمات سے روشناس کرائیں ۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*