ایک قدم ، جانب منزل بس ایک قدم

اعجازالدين عمري (كويت )

کاروانِ زندگی ازل سے جانب منزل رواں دواں ہے ۔ روئے زمیں پر جوبھی آیا مسافر بن کے آیا۔ بشر کو اپنے سفر میں ہر لحظہ یہاں ایک نیا مرحلہ درپیش رہتا ہے ۔ قافلے راہ بھٹکتے بھی ہیں رہ پہ چلتے بھی ہیں اس سفر میں منزل بہر صورت مقدر ہے ۔ نادان و کم عیار و کم ہوش ہیں وہ جو مرحلوں کو منزل سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں ۔ ہوش مند و اہل خرد ہر حال میں راز حیات سے آگہی رکھتے ہیں ۔ جن کے حوصلے بلند ہوتے ہیں وہ شمع جلاکر بھی تیرگی کا مقابلہ کرتے ہیں مگر جن کی آنکھیں بیمار ہیں آفتاب کی روشنی بھی ان کے اندھیروں کو مٹا نہیں سکتی ۔کتنے ہیں جو خوابوں کو پلکوں پر سجائے رکھتے ہیں مگر وہ ان کی تعبیر تلاش کرنے کی ہمت نہیں کرپاتے ، کل کی ناکامی سے دل گرفتہ اورمستقبل کے اندیشوں میںگرفتاریہ لوگ اپنے ’آج‘ کو بھی کھو دیتے ہیں ۔اور کتنے ایسے ہیں جن کے دل و دماغ پر صرف سفر کا دھن سوار رہتا ہے ۔ راہ کے خاراور سنگریزے ، کوئی چٹان ، کوئی پہاڑ ، دریا و منجدھار ، موجہائے سرکش اور طوفان بلا خیز ان کا قدم نہیں روک سکتے ۔ان کی روح عقابی ہوتی ہے اور جن کی روح عقابی ہوتی ہے ” نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں “۔ وہ ایک نشیمن کے کھوجانے کے غم میں دل برداشتہ نہیں ہوتے بلکہ نئے آشیانوں کی جستجو میں لگ جاتے ہیں ۔ ان کا مسلک شاہینی ہوتاہے جن کا مقصد آسمان کی بلندیوں کو چھوناہے ۔
 زندگی کے سفر میں اپنے خوابوں کی سمت میں آگے بڑھنے کی سب سے بہترین تدبیر یہ ہے کہ آدمی منزل مقصود کی جانب قدم بڑھائے اور ایک وقت میں صرف ایک قدم بڑھائے اور سوئے منزل چلتا رہے ۔ چلنا انسان کا مقدر ہے اور جب چلنے کا عمل رک جاتا ہے تو امکانات کے دروازے بھی بند ہوجاتے ہیں ۔

چلتے ہی رہو چلنا انسان کا مقدر ہے
ٹہروگے تو پیروں میں زنجیر جنم لے گی

آدمی اپنے کاندھوں میں اتنا ہی بوجھ لاد سکتا ہے جتنا اس کا بدن برداشت کر سکتا ہے ۔ مگر جن کے عزائم پہاڑی اور جن کا یقین چٹّانی ہو وہ اپنے کاندھوں میں ایک دنیا کا بو جھ ڈھوتے ہیں۔ ان کی زبان کبھی ناتوانی کی شکایت نہیں کرتی ۔

پونچھ لے اپنے آنسو کو ، دیکھ ہر سو بکھری تری روزینہ ہے
تھام لے اپنے ارمانوں کو ، زہر ہے ارماں جو دیرینہ ہے
روک لے اپنے سارے کل کو،کل اب قصہ  پارینہ ہے
 
کل کا فسانہ بھول بھی جا ، کل تاریخ کا حصہ بن بھی چکا ہے
سارے غموں کو آغوش میںلے کر کل کا سورج ڈھل بھی چکا ہے
سن لے ! کل توماضی کے بَن میں دورکہیں کھوبھی چکا ہے

اب کل کو نہیںبدلا جائے گا اب کل کوبدلا نہیں جاسکتا
کل تیرا آئینہ ہے اس آئینہ کو کبھی توڑا نہیں جاسکتا
قسام ازل کی تحریروں کو کبھی مٹایابھی تو نہیں جاسکتا

اندیشوں سے ڈرتا کیا ہے ، کیوں کتراتا ہے چلنے سے ؟
”موت کا اک دن معین ہے “ ! تو مر نہیں جائے گا چلنے سے 
تو کیا جانے رستہ کیسے بنتا ہے ؟ پوچھ لے بہتے پانی سے

مت سوچ کیا آگے ہونے والا ہے، کیا پیش آنے والا ہے ؟
صحرا ہے کہ دریا ہے یا کیا طوفان بھی اُٹھنے والا ہے ؟
کیوں پیچ و تاب کھاتاہے ؟ہونے دے جوہونے والا ہے

تیرے پاس چند لمحے ہیں، وہ بھی مائل بہ فنا رہتے ہیں
سیمابی طبیعت رکھتے ہیں ، روکے سے کب رکتے ہیں ؟
برق ہو جیسے جب چلتے ہیں اورمانند برف پگھلتے ہیں
 
تاریخ بنی ہے ان لمحوں سے، ہوتا ہے تو بھی ان سے پیدا
تہہ کر غفلت، اُٹھ بھی جا ، وہ دیکھ سحر ہے افق سے پیدا
نفَس ہو تیرا شعلہ بار، آنکھوں میں چمک ہویقیں سے پیدا

علم الغیب کا دانا وہ ہے تو بس آگے بڑھتا جا
عزم و توکل کی دولت لے اور قدم بڑھاتا جا
امیدوں کی شمع جلائے یاس کی رات میںچلتا جا

چل کہ اب راہ کی کوئی موڑ تجھے موڑ نہ پائے بھی
چل کہ اب کوئی ڈراؤنا خواب تجھے روک نہ پائے بھی
چل کہ اب کوئی بھی جلوہ تیرا ہوش اڑا نہ پائے بھی

بدلے گی یہ دنیا بھی اک دن ، تو دل میں ذرا ٹھان تو لے
بدلیں گے تیرے سارے حالات پہلے زادو سامان تو لے
لیس للانسان الا ما سعی کا سُن خدائی فرمان تو لے

ایک قدم بڑھانا بس ایک قدم جانب منزل، پھر دیکھنا
تو کہیںہو تجھے ڈھونڈتی آئے گی زندگی لاچار سی، دیکھنا
ڈال دے گی دامن میں تیر ی ،ساری خوشبختیاں دیکھنا

گھٹ گھٹ کے جینا بھی کیا جینا ہے ؟ اب تو کہرام مچا
کب تک خاموش رہے گا ، چلاکر بول اور کہرام مچا
پھرسب کی نظریں ہوںگی تجھ پر، بس ایک بارکہرام مچا

 بزم جہاں ویراں تھی پہلے تجھ سے اس میں رونق آئی
تیرے نام کا پھول کھلا جب ، گلشن ہستی میں رونق آئی
تو ”جوہر آئینہ¿ ایام “بنا تو اس آئینہ میں رونق آئی

مٹی سے تیری تخلیق ہوی ہے ، اور مٹی کی طبیعت تخلیقی ہے
ہر روز نیا اک سورج تو اُگا کہ تیری طبیعت تخلیقی ہے
پھرکیا مصرف ایسے جینے کا جب کام نہ کوئی تخلیقی ہے

اُٹھ باندھ کمر کہ جیون ،سادہ تو ہے آسان نہیں ہے
اس باغ کا ہر پھل میٹھا ہے، اس کو پانا آسان نہیں ہے
ساحل کا نظارہ تو ہے رومانی ، گوہر پانا آسان نہیں ہے

 مت بھول کہ موقع دروازے پر اک بار ہی دستک دیتا ہے
جب بھی دستک دیتا ہے فتنے بھی ساتھ میں لاتا ہے
 اک ذرّہ سونابھی سو من مٹی کے انبار کے نیچے ہوتا ہے

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*