سمجھالہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر

اعجازالدين عمري (كويت )

زندگی انسان کی دل کی مرہون منت ہے ۔ دل پاور ہاوس ہے جہاں سے جسم میں برق حیات کی لہریں دوڑتی ہیں ۔وہ قید بدن بھی ہے اور ہیکل جسمانی سے پرے بھی ہے ۔بدن کی حرکتیں ، جسم کی ساری سرگرمیاں دل ہی کے سبب ہیں ۔ دل، تن انسانی میں تضادات کا عجائب گھر ہے ۔ دل طوفانِ موج رنگ بھی رکھتا ہے اور حسرتوں کی موج خوں بھی رکھتا ہے وہ ۔یہاں بلبل کے نالے بھی ہیں اور گلوں کی خندانی بھی ۔ یہ اگر کھل جائے تو باغ شگفتہ ہے اور اگر تنگ ہو تو مثل زنداں ہے ۔ دل ، جسم انسانی میں احساس و شعور کی آماجگاہ اور افکار انسانی کی جائے پیدائشہے ۔ دل، انسان کے بدن میں وہ دنیا ہے جس کے مشرق و مغرب اور پورب پچھم کا کسی کو ادراک نہ ہوسکا ہے ۔علامہ اقبال خودی دل کی زندگی سے تعبیر ہے ۔ اور اس کی بیکرانی کی ترجمانی کرتے ہوے کہتے ہیں

خودی کیا ہے رازِ درون حیات  خودی کیا ہے بیداری کائنات
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے  نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے
زمانے کی دھارے میں بہتی ہوی ستم اس کی موجوں کا سہتے ہوے
ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر  ہوی خاک آدم میں صورت پذیر
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے  فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے

اس دھرتی پر دل سے بڑھ کر کرشماتی شے شاید کوئی اور نہ ہو بشر کا بدن اگر سلطنت ہے تو دل اس میں سلطان ہے ۔ وہ دل جس میں تخیلات پلتے ہیں ، احساسات ابلتے ہیں اور جذبات امڈتے ہیں ، وہ دل جس سے نالہ و آہ نکلتے ہیں ، جو دکھ سہتا ہے اور درد اُٹھاتا ہے ، جو بار غم سے ڈھے جاتا ہے اور جو خوشیوں میں جھوم اُٹھتا ہے وہ دل جو انسان کو خوابوں کی نگری کی سیر کرائے جو یادوں کے پرانے گیت سنائے ، جو یاس کی اندھیری راتوں میںامیدوں کا دیپ جلائے وہ دل نہ ہاتھوں میں سماتا ہے اورنہ آنکھوں کو نظر آتا ہے ۔ کوئی نہ اس کی گہرائی کا اندازہ کر سکتا ہے اور نہ اسکی حدوں کا احاطہ کرنا کسی کے بس کی بات ہے ۔ اس دل کی تفسیر اقبال کے پاس کچھ اس طرح ہے

سمجھالہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر  دل آدمی کا ہے فقط اک جذبہ بلند
گردش مہ و ستارہ کی ناگوار اسے  دل آپ اپنے شام و سحر کا ہے نقش بند
جس خاک کے ضمیر میں ہے آتش چنار ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند

 انسان کادل ، کشاکش و کشمکش کا مرکز ہے ۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی رزمگاہ ہے ۔جہاںدو متضاد طاقتوں کے درمیان گھمسان کا رن جاری ہے ۔ یہ نہ تھمنے والی جنگ خیر و شر اور نیکی و بد ی کی طاقتوں کے درمیان ہے ۔ ہر دو قوت نفس انسانی کولے کر کھینچاتانی کر رہی ہیں ۔ دل کس کے پاس جاکر دم لے گا ؟ اسی پر اسکی زندگی اور موت کا فیصلہ ہوگا ۔ہر گھڑی دل امتحان کے دور سے گزرتا ہے ۔ ہر لمحہ اسے فیصلہ کن موقف اختیار کرنے کی آزمائش کا سامنارہتا ہے ۔
دنیا میں سر اُٹھانے والی ہر جنگ اور ہر کشمکش ، رونما ہونے والے سارے مسائل ، امن کی کوشش اور بد امنی کے اسباب ، سچ اور جھوٹ ، حق اور ناحق ، دھرم اور ادھرم دل ہی سب کا محور ہے اور دل ہی سب کا مرکز ہے ۔ دل میں جاری جنگ کی ہار جیت پر ہی ان سارے امور کے فیصلے مضمر ہیں ۔ دل کی طاقت اور اس کی قدرت کو ماپنے کا کوئی آلہ ایجاد ہوا ہے اور نہ اس کا مستقبل میں کوئی امکان ہی ہے ۔ سویت یونین نے پہلی بار 1961میں 100 میگاٹن طاقت والاہائڈروجن بم” آیوَن “ ایجاد کیا اس کو ( KING OF BOMBS) یعنی ”شاہ بم“ بھی کہا جاتا ہے اور پھر اس سے ہونے والی عام تباہی اور ہلاکت خیزی کے ڈر سے اس کی طاقت کو گھٹا کراسے پچاس میگا ٹن میںمحصور کردیا ۔ انسان کا دل کسی بھی تباہ کن اور ہلاکت خیز ’بم‘ سے زیادہ تباہی مچانے کی طاقت رکھتا ہے ۔ صرف ایک بم ہی نہیں بلکہ دنیا میں ظہور پانے والی ہر تصویر ، وجود پانے والا ، عمل کا ہر روپ پہلے دل کے کینوس میں خیال اور تصور بن کے ابھرتا ہے ۔ تعمیر و تخریب ، بناو¿ اور بگاڑ میں دل کا ارادہ ہی فیصلہ کن ہوتا ہے ۔ اس لیے دل پر قابو پانے والے ہی تاریخ انسانی کے ہیرو بن گئے ۔ دل کو تھامنے والا ، اُسے روکنے والا اور اس کو زیر کرنے والاہی طاقتور انسان ہوتا ہے ۔ ا سی لیے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا ” پہلوان وہ نہیں جو دشمن کو پچھاڑ دے بلکہ بلوان تو وہ ہے جس نے غضب کے وقت اپنے دل کو قابو میں رکھا “ (بخاری و مسلم)
اللہ تعالی نے انسان کے دل کو خیر و شر اور نیکی و بدی کے عناصر کو مساوی مقدار میں رکھ کراُسے دنیا کی امتحان گاہ میں بھیجا ہے ﴾وَ نَف´سٍ وَّ مَا سَوَّا ھَا فَاَل´ھَمَھَا فُجُو´رَھَا وتَق´واھَا﴿” اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی جس نے اُسے ہموار کیا پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری اس پر الہام کردی“ پھر اس کو تاکید کی گئی کہ جو اپنے نفس کا تزکیہ اور اس کی تربیت کرکے جبلت تقوی کو جبلت فجور پر غالب کرنے کی سعی و کوشش کرے گا اور بہیمی جذبات کو روند کر ملکوتیت کو پروان چڑھائے گاوہی دراصل کامیاب ہوگا اور جو ایسا نہیں کرے گا وہ نامراد ہوگا ۔ ﴾قَد  اَفلَحَ مَن زَکّٰھَا وَقَد خَابَ مَن دَسّٰھَا ” یقینا فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبایا “
نفس سے لڑنا ، دل کو زیر کرنا ، اس کو ملکوتی مقاصد کے تابع بنانا اور اسے نیکی کی راہ پر چلانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔ اس کے لیے چیتے کا جگر درکار ہوتا ہے ۔ یہ جوئے شیر لانے لانے سے بھی مشکل کام ہے ۔ بزدلوں سے یہ کام نہ ہوپایا ہے اور نہ ہونے والا ہے ۔ یہ ہمت اور جوانمردی کا کام ہے ۔

مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

اپنی خواہشوں کو بے لگام رکھنے والے کے لیے تو یہ ناممکن ہے ۔ اس کے لیے اقبال کے شاہین کی صفات اپنانے کی ضرورت ہے ۔ اقبال کا شاہین کچھ ان خصلتوں کا حامل ہے 

نہ باد بہاری ، نہ گلچیں، نہ بلبل  نہ بیماری نغمہ عاشقانہ
خیابانوں سے ہے پرہیز لازم  ادائیں ہیں ان کی دلبرانہ
ہواے بیاباں سے ہوتی ہے کاری  جوانمرد کی ضربتِ غازیانہ

ایمان حصولِ جنت کے لیے شرط لازم ہے توجنت کی درجہ بندی بھی ایمانی قوت کے اعتبار سے ہوگی ۔ ایمان کی طاقت دل کی ہمت پر انحصار کرتی ہے ۔ دل میں جس طرح کا ایمان جاگزیں ہوگا اسی تناسب سے نیکیوں کے ساتھ لگاو¿ اور برائیوں سے نفرت ہوگی ۔ پیارے نبی صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا :  ” اگر تم میں سے کسی نے کوئی برائی دیکھی تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھ سے اسے بدل ڈالے اور اگر اس کے لیے یہ ممکن نہ ہو تو پھر اپنی زبان سے (اس کو بدل ڈالنے کی کوشش کرے ) اور اگر یہ بھی نہ ہوسکا تو اسے چاہیے کہ اپنے دل سے ( اس برائی کو محسوس کرے اور اس سے دوری بنائے رکھے ) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور مقام ہے“ (مسلم)
انسان کو اس طرح کا دل صرف توفیق الہی سے پانا ممکن ہے ۔ آسمان والے رب کا لطف و کرم نہ ہوتو کوئی بھی اس ”تاریک گھر“ میں روشنی نہیں پہنچا سکتا ۔ اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا ” ابن آدم کا دل اللہ تعالی کی انگلیوں کے درمیان ہے ۔ اگر اس نے اسے ہدایت کی طرف موڑنا چاہا تو اس طرف اسے موڑ دیتا ہے اور اگر اسے گمراہی کی جانب پلٹ دینے کا اس کا ارادہ ہوا تو وہ اسے اس جانب پلٹ دیتا ہے “ اسی لیے اللہ کے پیغمبر صلى الله عليه وسلم  کثرت سے دعا فرماتے ”یَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلبِی عَلَی دِینِکَ “ جس کے معنی ہیں ”اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جمائے رکھیو “ (ترمذی) اور مومنوں کو اس دعا کی آپ وصیت بھی فرماتے تھے ۔
 دل ، آدمی کی شخصیت کا آئینہ ہے ۔ اگر کسی شخص کے بارے میں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ کیا سوچتا ہے ، اس کے دل میں کیسے خیالات جنم پاتے ہیں اور پلتے ہیں تو اس آدمی کو پہچاننا کوئی مشکل کام نہ ہوگا ۔اگر کسی نے کسی شخص کی سوچ کی ڈگرمعلوم کرلی ہے گویا اس نے اس کی بیوگرافی پڑھ ڈالی۔ ایمرسن امریکن شاعر تھا ۔ وہ کہا کرتا تھا ۔” انسان کی سوچ ہی اس کی کنجیاں ہیں آدمی ہمیشہ جس چیز کے بارے میں سوچتا ہے وہ آدمی وہی ہوتا ہے “

یہ مری روح کا احساس ہے آنکھیں کیا ہیں
یہ مری ذات کا آئینہ ہے چہرہ کیا ہے

اگر یہ سچ ہے کہ دل آدمی کی شخصیت کا آئینہ ہے تو پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی دل کا آئینہ ہے ۔ آدمی کا اُٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا ، سونا جاگنا ، کھانا پینا ، اس کے اخلاق و عادات ، اس کی فکر و نظر ، اس کی تہدیب و تمدن ، اس کی سیا ست و معاشرت، اس کی محبتیں اور اس کی نفرتیں ، اس کی قربتیں اور اس کی دوریاں ، اس کا ملنا اور بچھڑنا ، اس کے آنسو اور اسکی مسکان یہ سب کتاب دل کی تفسیریں ہیں، یہ اسی کے خیالوں اور ارادوں کی ترجمانی ہی تو ہیں ؟! غالب کے اس شعر میں شاید یہی مطلب پوشیدہ ہے

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

اقبال نے اسی نکتہ کو اس شعرمیں واضح کیا ہے جس میں انہوں نے غالب کی قدرت کلام پر انہیں خراج تحسین پیش کیا تھا۔

لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہمنشیں

چلنا انسان کی ضرورت ہے ۔ یہی اس کا مقدر بھی ہے ۔ مگر انسان کے چلن کا ڈھنگ اور اس کی کیفیت اس کا دل متعین کرتا ہے ۔ اسی لیے قرآن مجید کہتا ہے ” اور تو زمین میں اکڑ کر نہ چل ، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا ۔ بلکہ تو اپنی چال میں اعتدال اختیار کر“ (لقمان : ۸۱، ۹۱)
”اور رحمن کے( اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں “ (الفرقان : ۳۶)
” زمین میں اکڑ کر مت چل ، تو زمین کونہ پھاڑ سکتا ہے اور نہ پہاڑ وں کی بلندی کو پہنچ سکتا ہے “ ( الاسراء: ۷۳)
چال کی طرح انسان کا لباس اور خورد و نوش بھی اس کے دل کے ارادوں کی عکاسی کرتا ہے ۔ اسی لیے پیغمبر انقلاب  صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا ” تم کھاو پیو اور پہنو اور (دوسروں کو بھی) صدقہ کرو مگر(احتیاط برتوکہ) اس میںفضول خرچی اور کبر و نخوت کا شائبہ تک نہ ہو“ ( بخاری)
مسلم کی روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ”جس کے دل میں ذرّہ برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں نہ جائےگا ۔ “کسی نے پوچھا : ”(اے اللہ کے رسول ) آدمی تو چاہتا ہی ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو اور اس کے جوتے اچھے ہوں ؟ “آپ صلى الله عليه وسلم نے جواب دیا ” (اس میں کوئی حرج نہیں ) اللہ تعالی بھی خوبصورتہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے ۔ کبر تو یہ ہے کہ (آدمی) حق کو مسترد کردے اور لوگوں کو حقارت سے دیکھے“
پیار کے رنگ ہزار ،اظہار محبت کے ڈھنگ بے شمار بچوں سے کس کو پیار نہیں ہوتا ایک دیہاتی نے پیارے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ ایک بچے کا بوسہ لے رہے ہیں ، اس کے لیے یہ منظر برا عجیب سا لگا ، اس نے کہا ” یا رسول اللہ کیا آپ بچوں کا بوسہ لیتے ہیں ہم بچوں کا بوسہ نہیں لیا کرتے!! “ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ” اگر اللہ تعالی نے تمہارے دلوں سے رحمت (جذبہ محبت) چھین لی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں “ ( بخاری)
دل ہی زندگی میں رنگ بھرتا ہے ۔ زندگی بے رنگ بھی دل ہی سے ہوتی ہے ۔ زندگی کے سارے معاملات میں دل ہی فیصلہ کن ہوتاہے ۔ دل ہی آدمی کے سر کامیابی کا سہرا باندھتا ہے اوردل ہی انسان کے نام ناکامی کابٹہ لگاتا ہے ۔دل ہی انسان کی جنت اور دوزخ کی راہ ہموار کرتا ہے ۔مسلم کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالی تمہارے جسموں کو اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں پر نظر رکھتا ہے “
ایک اور روایت میں ہے کہ ” جان لو ، بلاشبہ جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے اگر وہ درست رہا تو اس سے سارا جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ بگڑگیا تو اس سے سارا جسم بگڑجاتا ہے ، سن لو ، وہ دل ہی ہے “ ( بخاری و مسلم)
آخرت میں جزا و سزا بھی دل کی کار کردگی پر منحصر ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے ۔ ” جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھالیا کرتے ہو ، ان پراللہ گرفت نہیں کرتا ، مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو ، ان کی باز پرس وہ ضرور کرےگا “ ( البقرہ : 225)
پیارے نبی صلى الله عليه وسلم کا یہ فرمان ” عمل کا دار و مدار نیتوں پر ہے ۔ آدمی کو وہی کچھ ملنے والا ہے جس کا اس نے ارادہ کیا ہے “ بھی اسی امر کی وضاحت ہے ۔
جدید انسان کو اپنی ترقی پر ناز ہے ۔ اس نے دنیا کی وسعتوں کو سمیٹ کر اسے گاو¿ں کی شکل دی ہے ۔ اس نے اسکی مسافتوں کو لپیٹ کر رکھ دیا ہے ۔ مگر وہ اپنے ہی دل کی باتوں سے انجان بنا ہوا ہے ۔

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا  اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا  آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کے شعاعوں کو گرفتار کیا  زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا

جدید طرز زندگی نے انسان کے دل کو بکھیر کر رکھ دیا ہے ۔نفس انسانی میں اسی سے افراتفری کا عالم ہے ۔انسان جدیدیت کا غلام بنتا جا رہا ہے ۔ نئی نئی ایجادات انسانی دل و دماغ پر حکمرانی کر رہی ہےں۔کائنات کو انسان کے لیے مسخر کیا گیا تھا ۔ لیکن انسان انہیں کی بندگی میں لگ گیا تو دل نے اپنا اصل جوہر کھودیا ۔ اور اسی لیے

نہ عشق با ادب رہا نہ حسن با حیا رہی
ہوس کی دھوم دھام ہے نگر نگر گلی گلی

 جب روح پر مادیت کا غلبہ ہوا تو دل میں زندگی کے آثار ختم ہی ہوگئے ۔ حرص و ہوس کی آتش نے ارمان بڑھائے اور جینے کی آرزو نے دل میں ’غم مسلسل‘ کے لیے دروازے کھول دئے ۔ اور اس کے نتیجہ میں انسان کو کیا ملا ؟! بس یہی کہ

غم مسلسل کی تلخیوں نے ، بدل دیا ہے مزاج دل کا
امنگ ہے آرزو نہیں ہے، تلاش ہے مدعا نہیں ہے

روشنی جتنی تیز ہوی اندھیرے اور بڑھے ۔ ظاہر کی چمک دمک جتنی بڑھی اندروں تاریک تر بنتا گیا ۔ بناوٹوں نے حقیقتوں کو ایسے چھپادیا کہ انسان نے پھر انہیں دھونڈنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ مٹی کا مول بڑھا تو آدمی کی قیمت گھٹ گئی ۔ آرائش و زیبائش پر نگاہیں ایسے گڑھگئیں کہ انسان کو پہچاننے کے لیے کوئی نظر نہ اُٹھ سکی ۔ انسان ضرورتوں کی جھرمٹ میں گھرگیا تو قدریں قصہ¿ پارینہ بن گئیں ۔

معیارِ زندگی کو اُٹھانے کے شوق نے
کردار پستیوں سے بھی نیچے گرا دیا

بدن پر اتنا زور دیا گیا کہ دل کا کوئی پرسانِ حال ہی نہ رہا ۔ دل کو مار مار کے سانسیں چلتی رہیں اوربدن جیتا رہا ’عروج‘ کی بلندیوں کی پرواز میں’ انسان‘ اوجھل ہوتا گیا اور دل کی بے ضمیری پستیوں کی زمین چھوتی رہی

نہ اضطراب ، نہ درد و خلش، نہ سوز و گداز
دل خراب ہمیں تیری موت کا غم ہے

حضرت ابن مسعود رضي الله عنه  کا مشہور قول ہے
 تین موقعوں پر اپنے دل کوٹٹول جب تو قرآن سنے ، جب تو ذکر کرنے بیٹھ جائے اور جب تو خلوت میں رہے اور اگر ان تین مقامات میںتجھے دل کی حضوری کا احساس نہ ہوپائے تو پھر اللہ تعالی سے اپنے لیے ایک دل مانگ کیونکہ تو دل کی دولت سے محروم ہے“ بقول اقبال

 گرچہ تو زندانی اسباب ہے

   قلب کو لیکن ذرا آزاد رکھ

بانگ اسرافیل ان کو زندہ کر سکتی نہیں

 روح سے تھا زندگی میں بھی تہی جن کا جسد

اور بقول عامر عثمانی

 
بے سوز و تپش ، بے درد و خلش، ہے عمر ابد بھی لا حاصل
آغاز وہی ہے جینے کا جب دل کو تڑپنا آجائے

 اور غالب کے الفاظ میں

ہے ننگِ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو
ہے عارِ دل نفس اگر آذر فشاں نہ ہو

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*