ہربدعت گمراہی ہے

پروفیسر چوہدری عبدالحفیظ

 عن عائشة رضی اللہ عنھا قالت : قال رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم : من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد (رواہ البخاری ومسلم)

 ترجمہ:حضرت عائشہ رضى الله عنها  سے روایت ہے ،فرماتی ہیں: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایاکہ جس نے ہمارے اس دین میںکسی نئی چیز کو ایجادکیا جو اس میں نہیں ہے وہ ناقابلِ قبول ہے “۔

تشریح: قرآن مجیدمیں بہت واضح طورپر بیان کیاجاچکا ہے کہ میں نے تمہارے دین کو مکمل کردیا اوراس دین کے ناطے تمہیں اپنی تمام نعمتیں عطاکردیں اورتمہارے لیے دینِ اسلام کو بحیثیت ضابطہ حیات منتخب کیا (سورة المائدة : 3 ) مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اس میںکسی قسم کی کمی بیشی کرنے کا اختیار کسی انسان کو حاصل نہیں۔خودرسول اللہ ا بھی دین اورشریعت کے معاملے میںاپنی مرضی سے کوئی ترمیم یا اضافہ نہیں کرتے جیسے قرآن مجید نے فرمایا: ”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اپنی مرضی اور خواہش سے دین کے معاملہ میں کوئی گفتگو نہ فرماتے مگروہی کچھ بتاتے ہیں جو انہیں اللہ کی طرف سے وحی کی جاتی ہے ۔“  

دین کا ہرحکم بڑا صاف اورواضح ہے ۔اس میں کوئی پیچیدگی یا الجھاؤ نہیں ہے ۔اسی لیے رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: لقد ترکتُکم علی مثل البیضائِ لیلُھا کنھارِھا لایزیغ عنھا الا ھالک (ترغیب وترھیب ) ”تحقیق کہ میں نے تمہیں صاف اورسیدھے راستے پر چھوڑا جس کی رات کی سیاہی بھی دن کی روشنی کی مانند ہے ، اس صراط مستقیم سے وہی منحرف ہوگا جو اپنے آپ کو ہلاک اورتباہ کرنا چاہے گا۔“

 دین اسلام ہرلحاظ سے کامل اورمکمل ہے ،لہذا قرآن اورسنت میں اپنی طرف سے کسی نئی شے کا اضافہ بدعت(ایجادبندہ) ہے ۔ بدعت کے بارے میں حضورنبی اکرم  صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا: کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار (مسلم) ”دین کے معاملے میں ہر نئی شے بدعت ہے اورہربدعت گمراہی ہے اورہرگمراہی کا ٹھکانہ جہنم ہے “۔

امام مالک  رحمه الله  نے بڑی خوبصورت بات کہی ہے : ”جوآدمی دین کے اندراپنی طرف سے کوئی پچر لگائے یاکسی نئی شے کااضافہ کرے گویا اس نے یہ سمجھا کہ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے اللہ کا حکم پہنچانے میں غلطی کی اورپورا پورا دین نہیں پہنچایا، اس کے احکامات کو من وعن پہنچانے سے گریزکیا۔

ہمیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشیں کرلینی چاہیے کہ بظاہر کوئی کام کتنی بڑی نیکی ہی کیوںنہ ہو جب تک اسے رسول اللہ ا کی تصدیق اورسند حاصل نہ ہو (یعنی سنت کے مطابق نہ ہو) وہ کبھی بھی نیکی قرار نہیں پائے گا اورنہ ہی اللہ کے قرب کا باعث بن سکے گا ۔

ہمارے ہاں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگوں نے بہت سی بدعات ایسی گھڑ رکھی ہوتی ہیںجن کا قرآن وسنت سے دورکا واسطہ بھی نہیں ہوتا ۔ہمارے ملک میں خصوصاً جورسم ورواج شادی مرگ اورنذرونیاز کے سلسلے میں ہندو معاشرے سے اخذ شدہ ہیں وہ سب بدعات میں شمار ہوتے ہیں۔

آخرمیں ایک غلط فہمی کا ازالہ کرنا ضروری ہے کہ آج کل کچھ لوگوں نے دین کے اندر”بدعت حسنہ“ کے نام سے بہت سے نئے اعمال کو گھڑکردین کا حصہ بنادیا ہے ۔ لہذا بدعت حسنہ ہو یا بدعت سیئہ ان میں کوئی فرق نہیں ہے ۔بدعت کا معنی ہی ”ایجادِبندہ“ہے اوردوسرے الفاظ میں بدعت حسنہ سے مراد وہ عمل ہوگا جو (نعوذباللہ ) حضور صلى الله عليه وسلم کی سمجھ یافکر میں نہ آیاہو۔اور خواہ مخواہ اسے شریعت کاحصہ بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے ہرخطبہ میں فرمایا: کل بدعة ضلالة …. (لفظ ’کل‘پر بہت زوردیا)اورہربدعت کو گمراہی قراردیا اور ہرگمراہی کا ٹھکانہ جہنم بتایا ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*