امام حرم ڈاکٹرشیخ سعود بن ابراہیم الشریم کا دورہ ہند

محمد خالد اعظمی

khalid.azmi64@gmail.com

اسلام سسکتی ہوئی انسانیت کے لیے سب سے بہترین نظام حیات پیش کرتاہے

1906ءمیں قائم ہونے والی ہندوستان کی قدیم ترین مسلم تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے زیر اہتمام دہلی میں دو روزہ اکتیسویں اہل حدیث کانفرنس بعنوان ’عدالت صحابہ‘ منعقد ہوئی ، جس کا مقصد کتاب وسنت کی اصل تعلیمات کی نشرواشاعت اور معاشرے میں پھیلی ہوئی شرک وبدعات اورغیر اسلامی رسومات کے خاتمہ اورقیام امن وبھائی چارہ اوردیگر خدمت انسانی ہے ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے ناظم عمومی مولانااصغر علی امام مہدی سلفی کی پرخلوص لگن ،شب وروزکی محنت ومشقت نے پروگرام کو کامیاب بنانے اورجمعیت کو چار چاند لگانے میں اہم رول ادا کیا۔

ایک پریس کانفرنس میں مولانا مہدی نے فرمایا کہ مسلکی اختلافات دراصل زہر پھیلانے کی منظم شازش ہیں اس کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے ، ہم اپنے پلیٹ فارم سے اس کی حتی المقدر کوشش کررہے ہیں اور ہم ایک دوسرے کے قریب آئیں ،تاکہ ہماری غلط فہمیوں کا ازالہ ہو،وہیں تنظیمی کارکنان کو باہم مل بیٹھنے کا موقع بھی میسر آئے اورجو غلط فہمیاں دور رہ کرپیداہورہی ہیں وہ قریب آکر ختم ہوجائیں۔

کانفرنس کے مہمان خصوصی امام حرم مکی ڈاکٹرسعود بن ابراہیم الشریم کا یکم مارچ کو نئی دہلی کے اندراگاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرصبح11 بجے پرتباک استقبال کیا یہاں تک کہ پھولوں نے امام حرم کواپنی آغوش میں لے لیا۔امام حرم نے دہلی کے رام لیلاگراؤنڈمیں خطبہ جمعہ میں فرمایاکہ آج جب کہ پوری انسانیت مختلف مسائل اورمصائب سے دو چار ہے ، اسلام سسکتی ہوئی انسانیت کے لیے سب سے بہترین نظام حیات اوردین رحمت کے طور پر تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے

ڈاکٹرالشریم نے ہندوستان کے مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پر عمل میںہی ہماری نجات ہے ۔ اور بدعات وخرافات گمراہی کے راستے ہیں ، لہذا ان سے گریز کیا جائے۔ مسلمان قرآن وسنت اور صحابہ کرام کی اتباع میں ایک ہوسکتے ہیں امام حرم نے ”صحابہ کرام اخلاق و کردار کے حقیقی معیار اور انسانیت کے سچے معمار“ کے موضوع پر گفتگوکرتے ہوئے فرمایاکہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: میرے صحابہ کو گالی مت دو ، قسم ہے اللہ کی اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑکے برابر بھی سونا خرچ کردے تو وہ ان کے دو ڈھائی کلو اناج کے برابر بھی ثواب حاصل نہیں کرسکتا۔شیخ الشریم نے امام مالک رحمہ اللہ کایہ قول بھی بیان کیا کہ مخالفین اسلام جب کتاب وسنت کی تنقیص پرقادر نہیں ہوسکے توانہوں نے اس وسیلہ یعنی صحابہ کرام ہی کو ناقابل اعتبار بنانے کی کوشش کی جو لوگوں تک دین کوپہونچانے کا ذریعہ ہیں۔

امام حرم نے یہ بھی کہاکہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بدعتوں سے بچتے ہوئے اسلام کو اس کی حقیقی شکل میں پیش کیا جائے اور اس کا عملی نمونہ معاشرے کے سامنے لایاجائے جس سے معاشرے میں امن وآشتی کا فروغ ہو۔ ساتھ ہی ضرورت ہے کہ صحابہ کو رول ماڈل کے طور پر بلاتفریق مذہب وملت ہرشخص کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان کی آئیڈیل تعلیمات سے ہر کوئی استفادہ کرسکے

 امام حرم نے دہلی جامع مسجد میں اپنے ولولہ انگیز خطاب میں فرمایا کہ ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی رشتے اور تعلقات ہزاروں سال پرانے ہیں اور یہ رشتے مستقبل میں بھی قائم رہیں گے ،ان شاءاللہ۔آپ نے وضاحت کی کہ حقوق انسانی ، مساوات ، خواتین کا احترام ، انسانوں کے ساتھ حسن سلوک اورماحولیات کے تحفظ کاسب سے پہلے اسلام نے ہی درس دیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام ہی انسانی حقوق کا علمبردار ہے ۔امام حرم نے یہ بھی کہاکہ آج دنیا بھر میں مسلمان متعدد مسائل و پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہیںاوربدحالی کا شکار ہیں کیونکہ انہوں نے اسلام اور قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑدیاہے۔

امام حرم صدر جمعیة علماءہند مولانا ارشد مدنی کی دعوت پر سرزمین دیوبند بھی گئے وہاں دارالعلوم کا معائنہ فرمایا، اساتذہ کرام اور ارباب انتظام سے تبادلہ خیال فرمایانیز مسجد رشید میں نماز ظہرکی امامت کے ساتھ جلسہ عام سے خطاب بھی کیا۔ امام حرم نے کہا کہ دار العلوم دیوبند کے متعلق سنا تھا ،لیکن آج قریب سے مشاہدہ کرکے خوشی ہوئی اورس کی عظمت کااعتراف کرتاہوں ، اس ادارے کی علمی عظمت کے چرچے دنیا کے گوشے گوشے میں گونج رہے ہیں۔

وہیں ڈاکٹرالشریم ہندوستان کی سب سے منظم جماعت مرکز جماعت اسلامی ہند ابو الفضل بھی تشریف لے گئے وہاں عوام سے خطاب میں فرمایاکہ ہماری نجات اسوہ رسول صلى الله عليه وسلم اور صحابہ کرام رضى الله عنهم اجمعين  کے طریقے کو مضبوطی سے پکڑنے میں ہی ہے۔ اس کے بعد نماز عشاء مرکزکی مسجد اشاعت اسلام میں پڑھائی۔ اس طرح امام حرم کا یہ دورہ کافی تاریخ ساز اور کامیاب رہا ، اور اتحادواتفاق کا نادرموقع قریب سے نظر آیا۔ اللہ تعالی آئندہ بھی اسی طرح کی یکجہتی قائم ودائم رکھے۔

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*