کیا اللہ کے سوابھی کوئی معبودہے ؟

محمد آصف ریاض

asif343@gmail.com

 انسان بتوں کو جانوروں کو اشجار، پہاڑ،سورج ، چاند ستارے اور زمین و آسمان کوخدا ماننے کے لیے تیار ہے، حالانکہ بتوں نے انسان کی رہنمائی کے لیے کوئی کتاب نہیں اتارا، اور نہ ہی کوئی نبی اور رسول بھیجا۔ اور نہ انسانوں سے یہ کہا کہ لوگو! تم ہمیںاللہ مانو ،نہیں تو ہم تمہیں عذاب شدید میں مبتلا کریں گے۔لیکن انسان ان بتوں کو پوج رہا ہے ۔ وہ اللہ کواللہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے جو خود پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ لوگو! میں تمہارا خدا ہوں ،میری عبادت کرو۔ اور سنو کسی کو میرے ساتھ شریک مت کرنا ۔ سنو،تم لوگ ایک اللہ کے علاوہ جنھیں بھی پکارتے ہو وہ تمہا ری پکار نہیں سنتے ،نہ وہ تمہیں کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ خود اپنے رب کے سامنے سجدے میں گرے ہوئے ہیں۔

 ”کیا تو نہیں دیکھ رہا ہے کہ اللہ کے سامنے سجدہ میں ہیں،سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے ،اور سورج اور چاند اورستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی ، ہاں بہت سے وہ بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ثابت ہوچکا ہے،جسے رب ذلیل کرے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔(سورہ الحج آیت 18)

سورج، چاند، ستارے، زمین ،آسمان ، پہاڑ درخت جانور اور کائنات کی ہر چیز پکار پکار کرکہہ رہی کہ میںخدا نہیں ہوں۔ لیکن انسان ان چیزوںکومعبودبنائے ہوئے ہے ، اور اللہ کہہ رہا کہ میںخدا ہوں تو انسان اس پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیوں؟

وجہ صاف ہے۔ انسان جب بتوں کی پوجا کرتا ہے ، یاسورج چاند ستارے پہاڑ یا جانور کی پوجا کرتا ہے تو وہ اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالتے۔جبکہ اللہ ان پر ذمہ داری ڈالتا ہے ۔ مثلاً یہ بت ان سے نہیں کہتے کہ لوگو! بدکاری مت کرو ،جھوٹ مت بولو،یتیموں کا مال نا حق مت کھا ﺅ ،کمزوروں کو مت دباﺅ ،بے گناہوں کو قتل مت کرو۔لڑکیوں کو ماں کے پیٹ کے اندر مت مارو ، سود مت کھاﺅ ،زناکاری مت کرو۔اس کے برعکس جب انسان ایک اللہ پر ایمان لاتا ہے تو اس پر فوراً ہی وہ تمام ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں۔ اب انسان اپنی من مانی نہیں کر سکتا۔

 اللہ پر ایمان لانے کا مطلب ہے ایک ڈسپلین میں بندھ جانا اور بتوں پر ایمان لانے کا مطلب ہے من کی پکار پر چلنا ۔جو لوگ بھی بتوں کی پوجا کرتے ہیں وہ در حقیقت خود اپنی پوجا کرتے ہیں وہ اپنی پسند کی چیزوں کو پوجتے ہیں۔ وہ خود اپنے من کی پکار پر چلتے ہیں۔وہ اپنی سہولت کے اعتبار سے بتوں کو بدلتے رہتے ہیں۔

انسان بتوں کو پوج رہا ہے ،وہ پہاڑ ،چاند، ستارے، سورج اور جانوروں کو پوج رہا ہے، حالانکہ انھوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ لوگو! تم ہمیں پوجو ہم تمہارے خدا ہیں۔ اس کے بر عکس اللہ کہہ رہا ہے کہ لوگو! میری عبادت کرو میں تمہارا رب ہوں ، تو انسان اپنے اس رب کوماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انسان بتوں سے ڈرتا ہے اور اللہ سے نہیں ڈرتا ۔ قرآن کا ارشاد ہے ”اللہ کے سوا، انھیں پکارتے ہیں جو نہ انھیں نقصان پہنچا سکیں اور نہ نفع ،یہی تو دور کی گمراہی ہے“۔(سورہ الحج،آیت 12)

اگر انسان بتوں کی پوجا نہ کرے تب بھی وہ انسان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ،اس لیے کہ وہ اللہ نہیں ہیں۔ ان کا اللہ نہ ہونا اسی زمین پر ثابت ہوچکا ہے۔ وہ بت آپ سے مرنے کے بعد سوال و جواب کر نے نہیں آئیں گے ،اور مان لیجئے کہ وہ مر نے کے بعد ظاہر ہو بھی گئے ،تب بھی آپ ان سے نمٹ سکتے ہیں۔ مثلاً جب وہ بت آپ سے پوچھیں گے کہ تونے ہمیںاللہنہیں مانا تو آپ ان سے کہہ سکتے ہیں کہ بت دیوتا! آپ نے کب ہمیں یہ بتا یا تھا کہ ہم اللہ ہیں اور یہ کہ تم ہم پر ایمان لاﺅ ۔آپ نے نہ خود ہمیں بتا یا تھا اور نہ ہی کوئی اپنا دوت بھیجا تھا اور نہ ہی آپ نے ہم سے کوئی وعدہ لیا تھا اور نہ ہی آپ نے ہمیں کوئی کتاب دی تھی ؟ آپ تو دغاباز ہیں۔ آج جب کہ ہم مر کر یہاں پہنچے ہیں تو آپ ہم سے الٹے سیدھے سوال پوچھ رہے ہیں۔ لیکن کیا یہی جواب آپ اپنے رب کو دے سکیںگے ؟ نہیں ،بالکل نہیں !

 جب آپ اپنے اس رب کے سامنے حاضر کئے جائیں گے اور جب وہ آپ سے سوال کرے گا کہ تم نے مجھے اپنا رب کیوں نہیں مانا تو آپ کیا جواب دیں گے؟ کیا آپ کہہ دیں گے کہ الٰہی! میں آپ کو نہیں جانتا ۔ آپ نے اپنے بارے میں مجھے کچھ نہیں بتا یا ؟اللہ فرمائے گا :

  • وکیا میں نے تم سے پیدائش سے قبل یہ وعدہ نہیں لیا تھا کہ میرے علاوہ کسی کو اپنا معبود مت بنا نا ۔
  • کیا میں نے اس بات کی یاد دہانی کے لیے تمہارے پاس نبی اور رسول نہیں بھیجے تھے ؟
  • کیا میں نے کتابیں نہیں اتاری تھیں ؟
  • کیا میں نے پوری دنیا میں مسلمانوں کو نہیں پھیلا دیا تھا تاکہ وہ تمہیں اللہ کے معاملہ سے آگاہ کردیں؟
  • کیا میں نے اپنی آخری کتاب قرآن کریم کو تم لوگوں کے لیے ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں کردیا تھا؟
  • کیا میں نے اس قرآن کو دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں ترجمہ نہیں کروادیا تھا تاکہ تم پڑھتے اور اللہ سے ڈرنے والے بنتے؟

 بات یہ ہے کہ تم جھوٹے ہو ۔ اب اپنے جھوٹ کی سزا کاٹو۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے ،جہاں ہمیشہ کے لیے رونا اور دانت پیسنا ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*