ہماری زندگی کا مقصد

سید عبد السلام عمری (کویت)

 ”سو جس شخص کو اللہ تعالی راہ راست پر ڈالنا چاہتاہے اسکے سینہ کو اسلام کے لےے کشادہ کردیتاہے اور جس کو بے راہ رکھنا چاہتاہے اس کے سینہ کو بہت تنگ کر دیتاہے جیسے کوئی آسمان میں چڑھتاہے۔ “( الانعام:125)

آئيے  ہم ان اسباب کی جانکاری حاصل کرتے ہیں جن کو اپنا کر دنیوی و اخروی کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں۔

1) ) توحید خالص کا اثبات :

اللہ تعالی کو اس کے اسمائے حسنی اور صفات علیا کے ساتھ جاننے کی کوشش کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے، اور یہ علم دلوں کی سچی لگن کے ساتھ ہوناچاہےے۔ اللہ تعالی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور اس کی قدرت کا سکہ ہر چیز پر چلتاہے،وہ ہمارے شہ رگ سے زیادہ قریب ہے، اس کا علم ہر شے کو محیط ہے ۔ وہ کھلے کو جس طرح جانتاہے اسی طرح چھپے کا بھی علم رکھتاہے، وہ دل و دماغ میں اٹھنے والے جذبات و خیالات سے باخبر ہے۔ چنانچہ جب ہم لا الہ الا اللہ کا ورد کریں تو ہمارے دل اخلاص کی دولت سے مالامال ہوں، تشبیہ،کیفیت،بے جا تاویل سے اور باطل نظریات سے پاک ہوں۔

ایک آدمی نے جب امام مالک بن انسؒ سے اللہ کے فرمان الرحمن علی العرش استوی کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ” استواءتو معلوم ہے البتہ اس کی کیفیت مجہول ہے(عقل میں آنے کی نہیں) اور اس پر ایمان لانا واجب ہے ، اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے اور اے سوال کرنے والے!میرے خیال میں تو بدعتی ہے۔“ اور یہی سوال امام شافعیؒ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ” میں تشبیہ کے راستے پر چلے بغیر ایما ن لایا اور میں نے متشابہ آیات کی تمثیل کے بغیر ا ن کی تصدیق کی“ ۔

 امام احمد بن حنبلؒ سے استواءکے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” استواءاسی طرح ہے جیسے اس کی خبر دی گئی ہے،اس طرح نہیں جیسے بعض لوگوں کے دلوں میں کھٹکتاہے“۔

 عالم ازل میںجو عہد و توثیق ہم نے اللہ تعالی سے ” بلیٰ “ کہہ کر کی، اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اپنی عبدیت کے مقام کو پہچاننا ہی بندگی ہے ۔ بندگی اوامر کو بجالانے،اور نواہی سے اجتناب کرنے اور ان دونوں امور میں تواضع و انکساری اختیار کرنے کا نام ہے ۔ اوامر کی بجاآوری ہمیں اللہ سے قریب کرتی ہے اور نواہی سے اجتناب ہمارے اندر خشیت الہی پیداکرتا ہے۔ بغیر نیک اعمال کے اللہ کا قرب حاصل ہونا محال ہے۔ جس کو اس کا عمل پیچھے چھوڑدے اس کا نسب اس کے کچھ کام نہیں آتا۔ ہمیں اپنے اعمال کو ان پانچ ارکان پر اچھی طرح استوار کرلینا چاہےے جن پر اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ رسول اکرم ا نے ارشاد فرمایا :”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں او ر محمد ا اللہ کے رسول ہیںاور نماز قائم کرنا،زکوة ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا ، اوربیت اللہ کا حج کرنا“۔

ہمیں ہر عمل کو اللہ کے لےے خالص کرنا چاہےے، اللہ تعالی کے ساتھ خشیت سے آراستہ ہوکر معاملہ کرنا چاہےے اور مخلوق کے ساتھ سچاء،ر وفاداری، اچھے اخلاق اوربلند کردار سے متصف ہوکر معاملہ کرنا چاہےے،اور ہمارے نفوس کے ساتھ خواہشات کی مخالفت کو اپنا کرمعاملہ کرنا چاہےے اور اللہ کی قائم کردہ حدود کے پاس ہم سب کو رک جانا چاہےے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : وما آتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا۔ ”اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں اس کو لے لو اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز آجاﺅ۔“ ( الحشر : 7 )

 (2)  اتباع سنت اور احترام رسول :

”اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو،یقینا اللہ تعالی سننے والا ہے اور جاننے والاہے۔ اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے او نچی آوازسے بات کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو کہیں ( ایسا نہ ہو کہ ) تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو، بے شک جو لوگ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کے حضور میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے ليے چانچ لیا ہے، ان کے ليے مغفرت ہے اور بڑا ثواب ہے۔( الحجرات : 3۔1)

 آپ صلى الله عليه وسلم اللہ کے برگزیدہ بندے اور اس کے حبیب و خلیل ہیں۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم اور مخلوقات کی بنسبت کامل ترین ہیں۔ اللہ کے رسولوں میں سب سے افضل و اعلی ہیں ، اللہ تعالی کی طرف رہنمائی کرنے والے، اللہ کی طرف بلانے والے، اللہ کے بارے میں خبر دینے والے، اللہ کی رحمتوں والی بارگاہ کی طرف لے جانے والے ہیں،جس نے آپ کی سنت کو لازم پکڑ لیا وہ اللہ کا ہوگیا اور جس نے آپ کی سنتوں سے بے تعلق ہوا وہ اللہ تعالی سے بھی بے تعلق رہا۔ آپ ا کا فرمان ہے : لا یؤمن أحدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ ( مسند احمد)” تم میں کوئی شخص اس وقت تک (پوری طرح) ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں“۔

اور یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہےے کہ ہمارے لےے نبی ا کی نبوت آپ کے وصال کے بعد بھی باقی ہے اور یہی شریعت روز قیامت تک باقی رہے گی اور گذشتہ تمام شریعتوں کو منسوخ کرنے والی آپ کی شریعت ہی قیامت تک بنی نوع انسان سے مخاطب رہے گی ۔ اور قرآن آپ صلى الله عليه وسلم ہی کا باقی رہنے والا معجزہ ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے : قل لئن اجتمعت الانس والجن علی أن یاتوا بمثل ھذا القرآن لا یأتون بمثلہ….( الاسراء: 88) ”کہہ دیجئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل لا نا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا نا ممکن ہے گو وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔ “

حضرات گرامی قدر ! ہم سب فقیر ہیں ، اللہ کے محتاج ہیں، اور ہمارا ہر سانس قیمتی ہے، ہمیں اوقات کو ضائع نہیںکرنا چاہےے۔ اس لےے کہ وقت ایسی تلوار ہے کہ اگر ہم نے اسے قابومیںنہ کیا تو وہ ہمیں دولخت کردے گی۔ (جاری)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*