عظمت اسلام اورمسلمان

  چوہدری محمد اعظم مدیر تجاری (کویت)

 محمد صلى الله عليه وسلم اللہ رب العزت کی طرف سے انسانوں کے ليے رشد و ہدایت کی شمع بن کر تشریف لائے ، آپ صلى الله عليه وسلم کی بعثت کے وقت عرب معاشرہ دنیا کا بد ترین معاشرہ تھا۔  اہل عرب میں ہر قسم کی خرابی اور برائی موجود تھی۔ کفر و شرک، والدین کی نافرمانی، شراب نوشی، زناکاری،  بے حیائی، فحاشی،فتنہ وفساد،قتل و غارتگری، حرام خوری، ناپ تول میں کمی، ڈکیتی، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، ظلم و زیادتی، سود خوری،چوری اور دہشت گرد ی عروج پر تھی۔ تمام دنیا پر کفر،ضلالت،بت پرستی کا دور دورہ تھا،لوگ ایک اللہ کو چھوڑکر پتھروں،حیوانوں ، درختوںاور دیوی دیوتاؤں کی پرستش کرتے تھے۔ حق اور صداقت پر کفر کی تاریکیاں پردہ ڈال چکی تھیں۔ انسانیت گمراہی کے ہلاکت خیز طوفانوں میں غرق ہورہی تھی۔ آگ کے اجالے میں دل و دماغ پر اندھیرا چھا رہا تھا۔

 کائنات کی اس زبوں حالی کو دیکھ کر رب کعبہ،مالک کل ، رب کریم نے گمراہ انسانوں کی ہدایت و رہبری کے ليے فخر کائنات،معلم اخلاق، رحمة للعالمین نبی صلى الله عليه وسلم کو مبعوث فرماکر رہتی دنیا تک کے انسانوں کی رہنمائی فرمائی۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے : ”بےشک تمہارے لےے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ۔ “

 محسن انسانیت نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا سب سے عظیم کارنامہ یہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے نہایت قلیل عرصے میں اسی معاشرہ کو جو دنیا بھر کی برائیوں کا مجموعہ تھا،ایسے مثالی اور معیاری معاشرہ میں تبدیل فرمادیا کہ دنیا آج تک اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ اصلاح معاشرہ کے لےے نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے دو طریقے اختیار فرمائے۔ ان میں سے ایک قلیل المدت اور دوسری طویل المیعاد تھا۔ یوں سمجھئے کہ ایک طریقہ جلد نتائج حاصل کرنے کے لےے اور دوسرا دیر میں نتائج دینے والا تھا ۔

 کلمہ طیبہ کے ذریعے پہلی بات یہ ذہن نشیں کرائی گئی کہ دنیاکی ساری مخلوق کا مالک،خالق ایک رب العزت ہے ۔ وہی اللہ سب کا رب ہے ۔ ( رب کے معنی ہیں پالنے والا،حفاظت کرنے والا، نگرانی کرنے ولا،اور سب کی پرورش و تربیت کرنے والا) لہذا صرف اسی کی عبادت ہوسکتی ہے ،اس کے علاوہ کسی اور کے سامنے جنین نیاز خم نہیں ہوسکتی ۔کلمہ طیبہ جس کی صداقت پر ایمان لاکر ہر شخص دائرہ اسلام میں داخل ہوتاہے، ان الفاظ کے پوشیدہ مفہوم تک رسائی کے بغیر کوئی شخص بھی اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔

کلمہ طیبہ کے ذریعے دوسری بات یہ ذہن نشین کرائی گئی کہ اسلام میں رنگ و نسل،ذات پات اور اونچ نیچ کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ اسلام نے اس کلمہ حق کے ذریعے ان تمام امتیازات کو حرف غلط کی طرح مٹا ڈالا۔

 جب لوگ ایک مرتبہ یہ کلمہ پڑھ لیتے تھے تو وہ تمام تکلیفیں اور اذیتیں تو برداشت کر لیتے لیکن اس کلمہ سے روگردانی ہرگز نہ کرتے تھے۔ اس پہلو پر غور کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ معاشرے میں جن لوگوں کا کوئی مقام نہ تھا جب وہ یہ پاکیزہ کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوگئے تو اس کی برکت سے وہ زمین کی پستی سے اٹھ کر آسمان کی رفعتوں تک جا پہنچے۔ اسلامی معاشرہ میں بلند سے بلند مقام رکھنے والا شخص بھی ایک حبشی غلام کو  ” سیدنا بلال “ کہہ کر نہایت ادب و احترام کا اظہار کرتا تھا اور انہیں عزت کی نظر سے دیکھتا اور ان کو اپنے سینے سے لگاتا تھا۔

کلمہ طیبہ کا اقرار معاشرہ کو خرابیوں سے پاک کرتا ہے ۔ جو شخص اللہ رب العزت کی وحدانیت اور جناب محمد رسول اللہا کی رسالت پر صدق دل سے ایمان رکھتا ہے اس کے لےے ممکن ہی نہیں کہ وہ اللہ کے بندوں کی حق تلفی کرے یا ان کے حقوق ادا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی کرے یا ان پر ظلم اور زیادتی کرے ۔ نبی کریم ا نے اس کلمہ طیبہ کے ذریعے معاشرہ کی اصلاح کا آغاز فرمایا ۔ خرابیوں کو دور فرماکر بے شمار خوبیاں پیدا کردیں۔

توحید پر ایمان لانے کے بعد کلمہ طیبہ کا دوسرا جزءرسالت پر ایمان لانا ہے ۔ حضوراکرم صلى الله عليه وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں آپ کی اطاعت اور فرماں برداری کی جائے ، کوئی کام بھی ایسا نہ کیا جائے جس میں آپ صلى الله عليه وسلم کی نافرمانی کا شائبہ پایا جاتا ہو۔ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ اگر بندہ چاہتا ہے کہ اس سے رب کعبہ پیار کرے اور اس کے گناہوں کو معاف کردے توحبیب کی ہر بات میں پیروی کرنی ہوگی۔علامہ اقبال فرماتے ہیں 

  کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

 یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

 رسالت مآب صلى الله عليه وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ دوسروں کے ليے وہی کچھ پسند کیا جائے جو آدمی خود اپنے ليے پسند کرتاہو، اور جب آدمی اس تعلیم پر عمل کرے گاتو معاشرہ میں کوئی برائی باقی نہیں رہے گی۔

 بنیادی عقائد میں سے تیسرا عقیدہ قیامت پر ایمان لانا ہے اس کے بغیر کوئی شخص بھی مسلمان نہیں کہلا سکتا، یہ عقیدہ آدمی کے اندر آخرت کی جوابدہی کا احساس پیدا کرتاہے، جب آدمی کے دل میں یہ یقین راسخ ہوجائے کہ اس دنیا میں رہتے ہوے اچھا یا برا جو کام بھی کیا جائے گا،مرنے کے بعد اس کا نتیجہ جزا اور سزا کی شکل میں سامنے آ کررہے گا، تو آدمی ہر قدم اٹھانے سے پہلے اور ہر کام کرنے سے پیشتر بہت کچھ سوچے گا اور اس کے انجام پر بھی اس کی نظر رہے گی۔ یہ چیزبندے کو ہر طرح کی برائیوں سے روکے گی اور اس کو نیکیوں اور اچھائیوں کی طرف راغب کرے گی۔ بہ الفاظ دیگر”اللہ تعالی اور آخرت کا خوف معاشرے کی اصلاح میں بنیادی کردار اداکرتاہے “۔

 اعمال میں سب سے زیادہ نماز پر زور دیا گیا ہے ،نماز ادا کرکے ظاہری او ر باطنی طہارت حاصل کرکے تزکیہ نفس حاصل کر سکتے ہےں، دل کو آئینہ کی طرح کینہ،بغض،حسد و نفرت سے صاف کرکے جب نماز ادا کریںگے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر ظاہر ہوںگے۔ پیار اور محبت کا جذبہ پروان چڑھے گا، وہ شخص ایک دوسرے کا ہمدرد اور خیرخواہ ہوگا جس کے نتیجہ میں صاف ستھرا اور پاکیزہ معاشرہ جنم لے گا۔ قرآن حکیم میں نماز کے ساتھ ساتھ زکوة کی ادائیگی پر بھی بہت زور دیاگیا ہے، زکوة کی ادائیگی سے ایک فلاحی معاشرہ وجود میں آتاہے جس میں کسی غریب کو دوسرے کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت پیش نہیں آتی بلکہ صاحب ثروت حضرات تنگ دست اور نادار افراد کی ضرورت کو پورا کرنے میں از خود بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اسلامی قانون کی نظر میں سب لوگوں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے، قانون کی نظر میںسب کو ایک سطح پر رکھا گیا ہے ۔ حضور اکرم ا نے اصلاح معاشرہ کی بنیاد اللہ تعالی کے خوف و خشیت اور خوف آخرت پر رکھی ہے ۔ جس کے سبب صحابہ رضى الله عنهم بارگاہ رسالت صلى الله عليه وسلم میں از خود آکر اپنی غلطی کا اقرار کرتے اور اس پر اصرار کرتے کہ انہیں سزا دے کر غلطی سے پاک کردیا جائے،چاہے اس سزا کے نتیجے میں انہیں اپنی جان ہی سے کیوں نہ ہاتھ دھونے پڑجائے۔ یہ تو تھا وہ قلیل المدت طریقہ کار جسے اختیار کرکے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلى الله عليه وسلم نے معاشرے کی اصلاح کا آغاز فرمایا اور اسے خرابیوں سے پاک صاف کرنے کا کام شروع کیا ۔

اصلاح معاشرہ کے ليے دوسرا طویل المدت طریقہ کار جسے رسالت مآب صلى الله عليه وسلم نے اختیار فرمایا اس کے تین اہم اجزاءہیں :

(1) تعلیم حاصل کرنا : چونکہ تعلیم اصلاح معاشرہ میں کلیدی اور بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ رب جلیل نے اپنی سب سے پہلی وحی ( سوره اقرا) کی ابتدائی آیات میں اشارہ فرمادیا کہ تعلیم کے ذریعہ ایک صحیح قسم کا پائیدار انقلاب بر پا کیا جاسکتا ہے ۔ تعلیم غلط اور صحیح میں امتیاز کرنا سکھاتی ہے ۔ حق او رباطل کے فرق کوواضح کرتی ہے، ذہنوں کو سنوار کر معرفت الہی اور احکام الہی سے واقفیت پیدا کرتی ہے ۔ ارشاد نبوی صلى الله عليه وسلم کے مطابق تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مردوعورت پر فرض اور واجب ہے ۔ تعلیم لوگوں کے ذہنوں کو ،ان کی سوچ کو ،ان کی فکر و نظر کو درست رخ پر ڈال سکتی ہے :

 پڑھ کر آنکھوں والے بن جاﺅگے تم   رہ کے ان پڑھ اندھے کہلاﺅگے تم

(2) معاشیات اور اقتصادیات : اسلام میں اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں جگہ جگہ نماز کے ساتھ زکوة کا ذکر کیاگیا ہے اس کے علاوہ صدقات اور اللہ تعالی کی راہ میں مال خرچ کرنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ یہ بھی ارشاد ربانی ہے کہ اللہ کے بندوں پر خرچ کرنا ایسے ہے جیسے تم اللہ کو قرض دے رہے ہو ، اسلام میں معاشی اور اقتصادی امور میں بھی اعتدال اور توازن کو بر قرار رکھا گیا ہے ، اسلام میں صرف حقوق ہی پر زور نہیں دیا گیابلکہ فرائض کی ادائیگی کی بھی تلقین کی گئی ہے ۔ اسلام کے اقتصادی اور معاشی نظام کے نمایاں پہلو یہ ہیں : ٭سود ہر شکل میں حرام ہے٭ رزق حلال کے لےے تگ و دو اور جد و جہد اسلام میں بہت بڑی عبادت ہے ۔ ٭ہر شخص سادہ زندگی بسر کرے۔٭ٹیکس بچت پر لگایا جائے آمدنی پر نہیں ۔ ٭کمانے کے ليے  بھی حلال اور جائز ذرائع اختیار کيے جائیں۔ ٭ رشوت، بد دیانتی، چور بازاری، ذخیرہ اندوزی اور نا جائز منافع خوری وغیرہ سے اجتناب کیا جائے ۔ ٭چادر دیکھ کر پاﺅں پھیلانے کی عادت ڈالی جائے۔ ٭ قناعت اور تقوی کو اختیار کیا جائے۔

(3) نظام حکومت اور سیاست : قرآن حکیم میں اس نظام کو خلافت کا نام دیا گیا۔ نظام خلافت کا مطلب یہ ہے کہ اولاد آدم اللہ رب العزت کے خلیفہ اور نائب ہیں اصل حکم اور قانون اللہ تعالی کا ہے ۔ قانون سازی کا حق بھی اسی کا ہے ۔ اولاد آدم کا کام اللہ رب العزت کے احکامات کی تعمیل اور اس کا نفاذہے۔ نظام خلافت میں طاقت اور قوت کا سر چشمہ ذات الہی ہے ، حضور اکرم ا جو دین لے کر آئے وہ کامل ہی نہیں بلکہ دین اکمل ہے۔ ہر شعبہ زندگی سے متعلق اس میں تفصیلی ہدایات موجود ہیں خود حضور اقدس ا نے ان ہدایات پر عمل کرکے ہمیں عمل کرنے کی تلقین فرمائی، آپ صلى الله عليه وسلم کا اسوئہ حسنہ ہمارے ليے اور پوری انسانیت کے لےے مشعل راہ ہےں۔ معاشرے کی ہر برائی اور خرابی نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی سیرت پاک پر عمل پیرا ہونے اور آپ کے بتائے ہوے عالمی منشور پر چلنے سے دور ہوگی۔

آخر میں دعا ہے کہ امت مسلمہ اور بلاد مسلمین پر رب تعالی رحم فرمائے۔ اسلام کا بول بالا ہو،ہمیں متحد کرے اور ہماری پریشانیوں کو راحت و سکون میں بدل دے ۔ آمین ثم آمین۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*