اسلام میں اہل وعیال کے حقوق

احتشام الحق سلفی

shaz_bazmi@yahoo.co.in

 دنیائے انسانیت پر اسلام کے بے شمار احسانات میں ایک خاندانی نظام بھی ہے۔ اس نے” خاندان کا مفصل نظام پیش کیا۔ مردوزن کا رشتہ عدل وانصاف کی بنیاد پر استوار کیا، افراد خاندان کے حقوق وواجبات کا ٹھیک ٹھیک تعین کیا اور ان کے درمیان ہم دردی، محبت اور حسن سلوک کا ماحول پیدا کیا۔ “ (اسلام کا عائلی نظام ، صفحہ 10)چنانچہ قرآن مجید اور احادیث میں کہیں قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی ، کہیں والدین کے ساتھ حسن سلوک اور اطاعت وفرمانبرداری، کہیں بال بچوں اور ماتحتوں کے سلسلے میں تاکید تو کہیں بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کے احکامات کے ذریعہ خاندان کے حقوق کی ادائیگی پرہر مسلمان مرد وعورت کو مامور کیا گیا ہے اور یہ تاکید کی گئی ہے کلکم راع وکلکم مسؤل عن رعیتہ” تم میں کا ہر شخص نگہبان ہے اور اپنے ماتحت کے سلسلہ میں جوابدہ ہے۔ “ اسلام نے خاندان کے ہر فرد کے حقوق کو واضح طور پر متعین کردیا ہے۔ خاندان کے رشتوں کی تین قسمیں ہیں ۔(۱) والدین (۲) بیوی /شوہر (۳) بچے

 والدین کے حقوق:

رشتوں میں سب سے اہم رشتہ والدین کا ہے اور یہ اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک اہم نعمت ہے ۔ کیونکہ یہ انسان کے دنیا میں وجود پذیر ہونے کا ذریعہ ہے۔ قرآن اور احادیث میں مختلف پیرائے میں ان کے حقوق بیان کئے گئے ہیں۔ اللہ تعالی نے ان کے حقوق کو اپنی عبادت کے ساتھ بڑی تفصیل اور تاکید کے ساتھ بیان کیا ہے:

 اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴾ وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا اما یبلغن عند ک الکبر احدھما او کلاھما فلا تقل لھما اف ولا تنھر ھما وقل لھما قولا کریما واخفض لھما جناح الذل من الرحمة وقل رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا)

  ترجمہ :” اور تیرے پروردگار نے حکم دے رکھا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو، اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہاری موجودگی میں بڑھاپے کو پہنچیں تو ان کو اُف بھی نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو ، اور ان کو عزت سے مخاطب کیا کرو اور محبت سے ان کے آگے جھک جایا کرو اور ان کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کرو اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے لڑکپن میں میری پرورش کی۔“

اس آیت کی روشنی میں والدین کے کئی حقوق متعین ہوتے ہیں:

(1) حسن سلوک:

ان میں سب سے پہلا حق یہ ہے کہ ان کے ساتھ  حسن سلوک کیا جائے۔حسن سلوک کابڑا وسیع مفہوم ہے ۔ اس میں ہر وہ بھلائی اور نفع داخل ہےں جو انسان کی قلبی طمانیت ، ذہنی سکون اورآسودہ زندگی گزارنے کے لیے لازمی ہیں۔مثلا:

(الف) محبت وموانست: محبت ایک ایسا جذبہ ہے جس کے بغیر کسی بھلائی کا امکان نہیں ہے۔ ایک انسان کا دوسرے انسان سے تعلق اسی وقت تک قائم رہ سکتا ہے جب تک ان میں باہم محبت کا جذبہ موجزن ہو۔ یہ جذبہ جتنا قوی ہوگا تعلقات اتنے ہی مضبوط ہوں گے اور انسان اسی قدر ایک دوسرے کاخیال رکھے گا۔ حسن سلوک میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ ان کے ساتھ حد درجہ محبت رکھی جائے۔ اسی طرح انسان کی بنیادی خصوصیت موانست ہے۔ زندگی کے ہر دور میں والدین کے ساتھ موانست کا برتاؤ ہونا چاہیے تاکہ انہیں تنہائی ، بیزاری اور اکیلا پن کا احساس نہ ہو۔جبکہ دور حاضر میں بزرگوں کے ساتھ یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ان کے ساتھ بےزاری اور ان میں تنہائی اور اکیلاپن کا احساس عام مسئلہ بن گیا ہے۔ اسلام والدین کی خبر گیری اور حد درجہ موانست کی تعلیم دے کر والدین کے ساتھ اس رویہ سے روکتا ہے۔

(ب) توقیر وتعظیم:دنیا میں انسان کی عزت وتکریم کی اہمیت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ عزت وتکریم کا فقدان تعلقا ت کی نااستواری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی علامت یہ ہے کہ ان کی عزت وتکریم کی جائے۔ ان سے نرم لہجہ میں بات کی جائے۔ انہیں جھڑکا اور ڈانٹا نہ جائے۔ان سے جھگڑا اور لڑائی نہ کیا جائے، انہیں گالی نہ دی جائے۔ والدین کوگالی دینے کو اسلام کبیرہ گناہوں میں شمار کرتا ہے۔ گالی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایک شخص دوسرے کے والدین کو گالی دے اور اس رد عمل میں اس کے والدین کو گالی دی جائے ۔

اگر ایسی صورت حال پیدا ہوجائے جس میںوالدین سے اختلاف رائے کی گنجائش ہو تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنی رائے کو آہستہ روی کے ساتھ بڑے احسن طریقے سے ان کے گوش گزار کی جائے اور کسی طرح کی زبردستی کا رویہ نہ اپنا یا جائے۔ ان کے ساتھ عاجزی اور درماندگی کے ساتھ پیش آیا جائے۔

(ج)احتیاجات کی تکمیل :والدین کے ساتھ حسن سلوک میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کی ضروریات کی تکمیل کی جائے۔ انسان جب توانا اور تندرست ہوتا ہے تو اپنی ضروریات کی تکمیل اپنے دست وبازو سے کرلیتا ہے لیکن وہ جب بوڑھا یا کمانے سے عاجز ہوجاتا ہے تو  ایسی صورت میں اسلام ایک انسان کی زندگی کو Unsecured نہیں چھوڑتا ہے بلکہ یہ اس کے وارثین کا فرض ہے کہ ان کی تمام تر احتیاجات کی تکمیل کرے۔ والدین اس کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔

 اللہ تعالی فرماتا ہے: یسئلونک ماذا ینفقون قل ما أنفقتم من خیر فللوالدین والأقربین  اگر بچوں میں استطاعت ہوتو والدین کو ایسے مواقع بھی فراہم کئے جانے چاہئیں کہ وہ اگر مالی استطاعت نہیں رکھتے ہوں تب بھی صدقات وعطیات دے سکیں۔ والدین کے اخراجات کی تکمیل اپنے اصل مال سے ہونی چاہئے۔ والدین پر زکوة اور صدقات کی رقم خرچ نہیں کی جاسکتی ہے۔ اگر بچے یا اس کے دیگر وارثین اس کی استطاعت نہ رکھتے ہوں یا وارثین موجود نہ ہوں توایسی صورت میں اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کرے ۔ اگر ریاست کا وجود نہیں ہےتو یہ ذمہ داری اسلامی سماج کی ہے۔ اسلام اس کے لئے زکوة اور سماجی نظام کا نظریہ پیش کرتا ہے۔

(د) والدین کے اعزہ واقارب کے ساتھ حسن سلوک:انسان جب تک اس دنیا میں رہتا ہے اس کے اپنے تعلقات ہوتے ہیں وہ اپنی زندگی میں ان کو باقی رکھنا چاہتا ہے۔والدین کے ساتھ حسن سلوک میں شامل ہے کہ اولاد انہیں ایسا ماحول فراہم کرے جن میں وہ اپنے دوستانہ تعلقات اور رشتہ داریوں کو قائم اورمضبوط رکھ سکےں۔

اس کے علاوہ جب وہ انتقال کرجائیں تو ان کے ان اعزہ کے ساتھ بساط بھر اچھے تعلقات رکھے، ان کی عزت کرے اور جہاں تک ممکن ہو حسن سلوک کا معاملہ کرے۔

اگر والدین کے والدین زندہ ہوں اور والدین کا انتقال ہوجائے ان کی خبر گیری اسی طرح کی جانی چاہیے جس طرح والدین اپنے والدین کی خبر گیری کرتے اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔

(2) اطاعت وفرمانبرداری:

والدین کا دوسرا حق یہ ہے کہ ان کی اطاعت وفرمانبرداری کی جائے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: واخفض لھما جناح الذل من الرحمة اس ٹکڑے میںجہاں عاجزی وانکساری کی ترغیب ہے وہیں جذبہ اطاعت کے ساتھ پیش آنے کا اشارہ بھی ملتا ہے۔ احادیث میں والدین کی اطاعت کی تاکید آئی ہے اور اسے جہاد جیسی افضل ترین عبادت پر فوقیت حاصل ہے۔ عبد اللہ بن مسعو دص فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ا سے دریافت کیا :ای العمل احب الی اللہ؟ ”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے“ تو آپ ا نے فرمایا : الصلوة علی وقتھا، قال: ثم ای ؟قال: ثم برالوالدین، قال: ثم ای؟ قال :الجہاد فی سبیل اللہ۔ ”وقت پر نماز ادا کرنا“پوچھا: پھرکونسا عمل ؟ آپ نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ،پوچھا: پھر کونسا عمل؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔

والدین کی اطاعت کرنے والوں کے لیے مستجاب الدعوة ہونے کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک طویل حدیث ہے جس میں ان تین اشخاص کے واقعات کا ذکر جو ایک غار میں چھپے ہوئے تھے اور اس کے منہ پر ایک بھاری پتھر آگرا ۔ ایسے وقت میں ان لوگوں نے اللہ کے سامنے اپنے اپنے اچھے اعمال پیش کرکے اس پتھر کے ہٹ جانے کی دعا کی۔ اس میں ایک شخص ایسا بھی تھا جو والدین کا فرمانبردار تھا۔

والدین کی نافرمانی کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ نبی انے فرمایا حرم علیکم عقوق الامھات بلکہ شرک کی سنگینی کے بعد والدین کی نافرمانی سنگین گناہ ہے۔ البتہ والدین کے ایسے حکم کی اطاعت نہیں کی جاسکتی جس میں کسی گناہ کا عمل ہو۔

 (3)  دعا:والدین کا یہ بھی حق ہے کہ ان کے حق میں دعا کی جائے۔ اگر وہ زندہ ہوں تو ان پر رحم کی دعا کی جائے جیسا کہ مذکورہ آیت میں اس کا ذکر ہے۔ اگر وہ غیر مسلم ہوں تو ان کے حق میں جہاں رحم کی دعا کی جائے وہیں ان کی رشد وہدایت کی دعا بھی کی جانی چاہیے۔ اگر وہ مر گئے ہوں تو ان کے حق میں دعائے مغفرت کرنا چاہیے جیساکہ آپ ا نے فرمایا کہ مرنے کے بعد انسان کے تمام اعمال منقطع ہوجاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے ‘ ان میں ایک عمل نیک اولاد ہے جو والدین کے لیے دعائے مغفرت کرے۔ البتہ اگر وہ غیر مسلم مرے ہوں تو ان کے حق میں دعائے مغفرت درست نہیں ہے۔

(4)مالی حقوق: اسلام والدین کو مالی حقوق دو طرح سے عطا کرتا ہے۔ ایک یہ کہ اولاد کا فرض ہے کہ وہ اس کی تمام تر احتیاجات کی تکمیل کرے۔ دوسری صورت اولاد کے ترکہ میں ان کی حصہ داری ہے۔ اگر کسی شخص کا بچہ اس کی زندگی میں فوت ہوجاتا ہے اور وہ اگر صاحب مال ہوتو اسلام ان کو بچے کی ملکیت سے صاحب اولاد کی صورت میں چھٹا حصہ اور بے اولاد ہونے کی صورت میں ایک تہائی کا حقدار بناتا ہے ۔ اتفاق سے اس کا دوسرا کوئی وارث نہ ہوتووالد اس کا عصبہ ہوکربچے ہوئے کل مال کا حقدار ہوجاتا ہے۔

البتہ والدین کے درمیان ماں کو اسلام نے والد سے تین درجہ فضیلت دی ہے۔

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*