ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن

اعجازالدین عمری (کویت)

amagz@ymail.com

 وہ جہالت کے اندھیروں کا بسیرا ہے ۔ رسم حیات میں کافرانہ روش ہی ابھی تک اس کا مذہب ہے ۔ اس کے سامنے ایک بکری کا دودھ پیش کیا گیا ۔نہ جانے اسکے پیٹ میں وہ کیسی آگ لگی تھی کہ اس نے غٹا غٹ اسے نوش کر لیا ۔ وہ دنیا کے سب سے بہتر مہمان نواز کے گھر میں آیا تھا ، میزبان کی نگاہ مردم شناس نے تاڑ لیا کہ اس دودھ سے وہ شکم سیر نہ ہوسکا ہے تو دوسری بکری کا دودھ اس کے سامنے رکھ دیا ۔ اس نے ایک ہی سانس میں اسے بھی حلق سے اتار دیا ۔ نگاہ رسالت نے پھر دیکھا کہ وہ ابھی آسودہ نہیں ہو سکا ہے تو تیسری بکری کا دودھ پینے کے لیے دیا گیا ، اس نے یکبارگی اسے بھی پی لیا یہ سلسلہ اس وقت رُکا جب وہ ساتویں بکری کا دودھ بھی ہضم کر گیا اب اس نے سکون کی ٹھنڈی سانس لی وہ آسودہ خاطر ہو چلا تھا ۔اس رات اس نے آستانہ نبوت ہی میں قیام کیا ۔ قرب و وصال کے ان چند لمحوں میں نہ جانے اس نے حسن کردار و رعنائی گفتار کے کیا کیا جلوے دیکھے کہنگاہوں کے پردے چاک ہونے لگے تھے ۔ دربار رسالت کی پر نور فضاؤں میں دل کی تیرگی مٹنے لگی تھی

تلووں سے راستہ چمن دل کشا بنا

 جلووں سے آئینہ در و دیوار ہوگئے

رات اندھیری تھی مگر یہاں کوئی گم گشتہ راہ مہرو محبت کی تجلیوں میں منزل کی جانب قدم بڑھا رہا ہے ۔ جو آفتاب کی روشنی میں دیدہ بینا نہ رکھتا تھا وہ شب کی تاریکیوں میں نورِ سحر سے آشنا ہو رہا تھا۔ ادھرصبح کی سپیدی کیا نمودار ہوی اُدھر اس کے نہاں خانہ دل کے اندھیرے بھی چھٹ چکے ۔ پو پھٹتے ہی اس نے اپنے ایمان کا اعلان کیا گذرتے وقت کے ساتھ مہربان میزبان نے اس کے سامنے پھر دودھ سے بھرا برتن رکھ دیا ایک بکری کا پورا دودھ اس نے گھونٹ گھونٹ اسے پی ڈالا میزبان کریم نے دوسری بکری کا دودھ بھی اس کے سامنے رکھ دیا ابھی اس میں سے چند ہی چسکیاں بھری تھیں کہ اس نے بس کردیا رسول رحمت صلى الله عليه وسلم نے اس واقعہ پر تبصرہ فرماتے ہوے فرمایا ” کافر سات معدے کھاتا ہے اور مومن ایک ہی معدہ کھاتا ہے “ (ماخوذ از روایت مسلم)

وہ کل جو کچھ تھا آج وہ نہ رہا تھا ۔ ایک شب کے فاصلے سے اس کی زندگی میں حیرت انگیز انقلاب آگیا تھا ۔ کل تک زندگی کا جومحدود تصور اس کے ذہن و شعور میں متمکن تھا آج وہ لا متناہی بن چکا تھا ۔ کل تک اس کی نظر میں دنیا منزل تھی اور آج محض ایک رہگذر سے بڑھ کر اس کی کوئی وقعت نہیں تھی کل تک وہ کھانے کے لیے جی رہاتھا اور آج اس نے جان لیاتھا کہ زندہ رہنے کے لیے کھانے کا فلسفہ کیا ہے ؟۔

کفر ، ایمان کی ضد ہے ۔ کفر انسان کو اس طرح زندگی گذارنے کی ترغیب دیتا ہے جو اسے جانوروں کی سطح پر لے آتی ہے ۔ کفر انسان کو زندگی کا وہ تصور دیتا ہے جہاں زندہ رہنا ہی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہوتا ہے ۔”اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں ، جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں ، اور ان کا آخری ٹھکانہ جہنم ہے “ (محمد : 12)

اس کی تمام جد و جہد اور تگ و دو کا محور دنیائے فانی ہوتاہے اور اس کی ساری کوششوں کا منتہی متاع دنیا کا حصول ہے ۔کفر انسان کو صرف خواہشات کا بندہ بنا کر رکھتاہے ۔ کفرشیطان کا راستہ ہے اور جو اس راستہ پر چلتاہے وہ اسے اپنا دوست بناتا ہے ۔ اور جو شیطان کا دوست بنا وہ ہمیشہ اندھیروں میں رہا وہاں روشنی کا گزر ممکن نہیں ہے ۔ ”اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے حامی و مددگار طاغوت ہیں ۔ وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں ۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے “ (البقرة : 257)

اس کے برعکس ایمان اسے زندگی کا اعلی و ارفع تصور دیتا ہے ۔ ایمان اسے یہ باورکراتا ہے کہ وہ روئے زمین پر احسن الخالقین کی اشرف ترین تخلیق ہے ، اس نے اسے زمین پر اپناخلیفہ بنایا ہے ۔اس محفل رنگ و بو میں وہی شمع محفل ہے ۔ ایمان اسے خو دکے لیے جینے کی بجائے انسانیت کی خاطر زندہ رہنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ وہ اسے آمادہ کرتا ہے کہ اگر ضرورت محسوس ہو تو وہ خود بھوکا رہے اور دوسروں کو کھلاکر صبر و شکر کا ثبوت دے ۔ ایمان اللہ تعالی کا راستہ ہے ۔ جو اس راہ کو چلنے کے لیے چن لیتے ہیں وہ انہیں اپنا دوست بنا لیتا ہے ۔ اور اللہ تعالی جنہیں دوست بناتا ہے وہ کبھی تنہا نہیں ہوتے ۔وہ انہیں کبھی بے یا ر و مددگار نہیں چھوڑتا بلکہ انکی حفاظت و حمایت کا ذمہ  خو داپنے ہاتھوں میں لیتا ہے ۔ وہ ہمیشہ روشنی میں ہوتے ہیں۔ اندھیرے نہ انہیں ڈرا سکتے ہیں اور نہ ان کے قریب پھٹکنے کی ان میں ہمت ہوتی ہے ۔ ”جو کوئی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا ، اس نے ایسا مظبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ۔ اور اللہ سب کچھ سننے والااور جاننے والا ہے ۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ، ان کا حامی مددگار اللہ ہے ۔ اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے “ (البقرة : 254۔257 )

”ایمان“ بڑی عجیب چیز ہے ۔ جس دل میں جگہ بناتا ہے اس کی دنیا ہی بدل جاتی ہے ایمان سے دل کی بیقراری کو قرار آجاتاہے ۔ اس سے انسان کی سوچ کا دھارا ہی نہیں بدلتا زندگی کے رکھ رکھاؤاور عادات و اطوار میں بھی نمایاں تبدیلی رونما ہوجاتی ہیں ۔

 خودی کی معرفت کی راہ سے خدا کا عرفان حاصل کرنے کا نام ’ایمان‘ہے ۔موجودات کی دنیا میں نظر آنے والی حقیقتوں کے درمیان نظر نہ آنے والی پر اسرار قوت کا ادراک اور اس کی تصدیق ’ایمان‘ ہے ۔ اللہ اور رسول پر دل کاوہ یقین ہی ایمان ہے جس کے بعد کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ شعور کی بیداری اور آگہی کی آخری منزل ”ایمان“ہے

”ایمان “ انسان میں جو تبدیلی لاتا ہے کوئی زبان نہ اس کے اظہار کی سکت رکھتی ہے اور نہ کسی کا قلم اس کی تفسیر کی قدرت رکھتا ہے خنساء(رضی اللہ عنہا) عرب کی مشہور خاتون تھیں ، شاعری ان کا شغف تھا ۔ یہ عجیب طبیعت کی خاتون تھیں ۔ اپنے دونوں بھائی صخر اور معاویہ کو بے انتہا چاہتی تھیں ۔ ان دونوں کے مارے جانے کی خبران کے دل میں بجلی بن کر گرتی ہے ۔ اس نے ان کے غم میں دسیوں مرثیے کہے وہ ان کی جدائی میں آہ و بکا کرتی ، واویلا مچاتی اور غم انگیز شعر گنگناتی گلی کوچوں میں دیوانہ وار گھومتی تھی ۔ لوگوں نے اسے اس حال میں بھی دیکھا ہے کہ وہ صخر کے جوتے اپنی اوڑھنی میں باندھ رکھی ہے اور سر منڈائے گالوں کو پیٹتے ہوے کعبہ کا طواف کر رہی ہے ۔

یہی خاتون جب ایمان لاتی ہے تو زمانہ شاہد ہے کہ وہ یکسر بدل چکی ہے ۔ جب قادسیہ کی جنگ کا اعلان ہوا تو وہ اپنے چار وں جگر گوشوں کو جمع کرتی ہے انہیںجنگ کے لیے آمادہ کرتی ہے اورجہاد فی سبیل اللہ پر اکساتی ہے تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ جب انہیں اپنے چاروں جگر کے ٹکڑوں کی شہادت کی خبر ملتی ہے تو واویلا مچاتی ہے اور نہ سینہ کوبی کرتی ہے ، گال پیٹتی ہے اور نہ کپڑے پھاڑتی ہے ۔ بلکہ متانت و سنجیدگی اور پورے وقار اور سکون کے ساتھ کہتی ہے ” تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے انہیں جام شہادت پلا کر مجھے رتبہ بلند عطا کیا ، میں اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ مجھے ان کے ساتھ قرار رحمت میں جمع کردے “

اس میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے کہ ”ایمان“ نے انہیں زندگی کی نئی تعبیر عطا کی تھی نئی سمت سفر اورنئی منزل سے وہ آشنا ہو چکی تھیں موت اور حیات کا نیا معنی اور مطلب سے وہ آگاہ ہوچکی تھیں ۔

ایمان حاکم کو عادل اور محکوم کو بے خوف و نڈر بنا دیتا ہے ۔ ایمان فقیر کو بے نیاز اور غنی کو میانہ رو بنا دیتا ہے ۔ایمان انہونی کو ہونی اور ناممکن کو ممکن بنانے کی قوت رکھتاہے ۔

مکہ کے کچھ لوگ کفر کی ستم ریزیوں سے مجبور ہوکر سمندر پار ملک حبشہ کی جانب ہجرت کر جاتے ہیں ۔ کفار قریش کو یہ بھی منظور نہ تھا ۔ انہوں نے عمرو بن عاص اور عمارة کو اپنا نمائندہ بناکرحبشہ روانہ کیاکہ ان ”بھاگے ہوے‘ ‘ لوگوں کو واپس لے آئیں۔ یہ دونوں شکایت لے کر پہنچ جاتے ہیں ۔ شاہ حبش اپنے دربار میں تخت شاہی پر براجمان ہیں ، عمروکو داہنے جانب اور عمارہ کو بائیں جانب ہمنشینی کاشرف حاصل ہے اور آگے زعمائے ملک و علمائے نصاری اپنی نگاہیں جھکائے قطار میں بیٹھے ہوے ہیں ۔ مہاجرین کو دربار میں پیشی کا حکم مل چکا ہے ۔ اس سے پہلے کہ وہ دربار میں حاضری دیتے قریش کے ان دونوں نمائندوں نے بادشاہ کے کان بھردئے ہیں کہ یہ لوگ جب داخل ہونگے تو آپ کے سامنے نہیں جھکیں گے ۔ مہاجرین کا قافلہ حضرت جعفرؓ کی قیادت میں دربار میں حاضر ہوتا ہے ۔ حاضرینِ دربار انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ بادشاہ کی تعظیم میں جھک کر سلام کریں مگر وہ شان بے نیازی کے ساتھ اندر آتے ہیں اور حضرت جعفرؓ انہیں جواب دیتے ہیں کہ ”ہم اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں جھکتے “

یہ مجبور ،مہاجر اور پردیسی لوگ تھے پناہ کی تلاش میں یہاں پہنچے تھے ، بادشاہ کے رحم و کرم پر ان کی سلامتی وابستہ تھی وہ اس کے دائرہ اختیار میں تھے مگر ان سب کے باوجود اللہ تعالی کی ذات پر ان کا مضبوط ایمان ہی تھا جووہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے رویے میں سمجھوتا کرنے کو تیا ر نہیں تھے۔

ایمان والے کا دل دنیا کا سب سے پر سکون مقام ہوتا ہے۔ اس میں نہ دنیا کا غم چمٹا رہتاہے اور نہ اہل دنیا کا ڈر ہی جگہ بناتا ہے ۔ یاس و قنوطیت کو یہاں داخلہ ممنوع ہوتا ہے ۔مومن کبھی نہیں کہتا کہ ” اگر میں ایسا کرتا تو اس کا نیتیجہ یہ ہوتا بلکہ وہ اس بات پر مطمئن رہتا ہے کہ یہی اللہ تعالی کا فیصلہ ہے اور وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتاہے “

 حضرت ابوطلحہ ؓ کا شمار مشہور انصاری صحابیوں میں ہوتا ہے ۔ ام سلیم ان کی زوجیت میں تھیں ۔ ان دونوں میاں بیوی کو علم و عرفان اور ایمان و تقوی میں امتیازی مقام حاصل تھا ۔ ایک بار ان کا ایک لڑکا ابو عمیر وفات پاگیا ۔ ابو طلحہ گھر پر نہیں تھے ۔ ام سلیم نے پڑوس کی عورتوں کو خبردار کیا کہ کوئی ابو طلحہ کو اس کی خبر نہ دے ، انہیں میں خود بتاؤں گی ۔ رات جب وہ گھر آئے تو انہوں نے حسب معمول ان کا کھانا لگایا ۔ وہ کھاپی کر شکم سیر ہوگئے تو ام سلیم ان کے سامنے اور دنوں کی بنسبت کچھ زیادہ ہی بن سنور کر آئیں جس سے وہ ہمبستری پر آمادہ ہوے اور جب ام سلیم کو اطمینان ہوا کہ وہ پوری طرح سیر ہوچکے ہیں تو وہ بڑے ہی دلنشین انداز میں ان سے کہنے لگیں کہ ” کچھ لوگوں نے کسی اہل خانہ کے پاس کوئی چیز کچھ مدت کے لیے امانتاََ رکھ دی تھی اب وہ ان سے مطالبہ کرتے ہیں تو آپ کے خیال میںکیا انہیںاسے روک لینے کا حق حاصل ہے ؟“انہوں نے جواب دیا کہ” نہیں “ ۔ تو وہ کہنے لگیں آپ اپنے بیٹے کے بارے میں بھی ایسا ہی سمجھیں( اللہ تعالی نے ہمیں جو امانت دی تھی اسے واپس مانگ لی ہے ) (مسلم کی طویل روایت سے ماخوذ)

” ایمان “ نہ ہو تو کس کو مقدور ہے کہ صبر و شکیبائی کی ایسی مثالیں پیش کرے ؟

Ronald Victor Courtenay Bodley وفات : ۴۴۹۱ء  نے 1918 میں افریقہ کے شمال مغربی علاقوں کا سفر کیا ۔ یہاں عرب بدو رہتے تھے ۔ اپنی زندگی کے سات سال انہوں نے عرب صحرا نشینوں کے ساتھ گزارے ۔ ان کے ساتھ انہیں کی زبان بولتے ، ان کا لباس پہنتے ، انہیں کی غذا کھاتے ، ان کے ساتھ خیموں میں سوتے ، ان کے ساتھ مل کر بکریوں کا ریوڑلیے صحرا نوردی کرتے انہیں کی طرز زندگی میں گزارے یہ سات سال ان کے لیے نا قابل فراموش تھے یہاں رہ کر انہوں نے اسلام کے اندرون میں جھانک کر دیکھا ، اس کا گہرائی سے مطالعہ کیا ۔ اسی مدت میں انہوں نے سیرت رسول ا پر ایک کتاب The messenger: the life of Mohammadکے نام سے تصنیف کی ۔ وہ ” اللہ کی جنت میں چند روز “ کے زیر عنوان لکھتے ہیں کہ” میں نے ان بادیہ نشینوں سے غم و اضطراب پر قابو پاناسیکھا ہے ۔ یہ مسلمان کی حیثیت سے جانے جاتے تھے اور ان کا ایمان قضاءو قدر پر تھا ۔ اس ایمان نے انہیں حیات پر سکون کی سوغات بخشی تھی ۔اس ایمان کے طفیل سے ان کی زندگی اک جوئے نغمہ خواں کی البیلی لہروں کی مانند جانب منزل رواں دواں تھی

وہ کہتا ہے کہ ”وہ لوگ کبھی کسی معاملہ میں اپنے آپ کو رنج و غم کے حوالے نہیں کرتے ، انہیں اس بات پر مکمل یقین تھا کہ وہی ہونے والا ہے جو تقدیر میں لکھا جا چکا ہے ، اس کا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ وہ تقدیر کا بہانہ بنا کر تدبیر سے کنی کتراتے تھے اور پیش آنے والے حوادث میں ہاتھ باندھ کر بیٹھ جاتے تھے ایک مثال سے اسے یوں سمجھ لیں

  ”ایک بار شدید طوفانی ہوائیں چلنے لگیں ، صحرامیں چلنے والی یہ ریتیلی تند و تیز ہوائیں بحیرہ روم اور فرانس میں وادی رون تک پھیل گئیں ۔سخت گرم ہواؤں کے ان جھونکوں کی شدت سے مجھے محسوس ہونے لگا کہ میرے سر کے بال اکھڑ جائیں گے ۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ گرم ہوائیں مجھے پاگل بنا دیں گی ۔ مگر مجھے حیرت تھی کہ ان عرب بدوؤں کو سرے سے کوئی شکایت ہی نہیں تھی ۔وہ کاندھے جھٹک جھٹک کر اپنا وہی موروثی جملہ دہرا رہے ہیںکہ ”یہ تو خدائی فیصلہ ہے “ میں نے دیکھا کہ اس گرم بادِ طوفانی میں وہ اور بھی تیز اور چست سوچکے ہیں ان کے کام کی رفتار نسبتاََ تیز ہو چکی ہے ۔ قبل اس کے کہ شدیدگرم ہوا کی لو ان کے بھیڑوں کو ہلاک کردیتی انہوں نے ان میں سے کمزور و ناتواں کو ذبح کر ڈالا اور باقی ماند ہ مویشیوں کو لےکر جنوب کی طرف چل پڑے جہاں پانی موجود تھا یہ سارے کا م وہ نہایت ہی سکون اور اطمینان سے کر رہے ہیں ، کسی لب میں کوئی شکایت نہیں تھی او ر نہ کسی کو کوئی افسوس ہی تھا سردار قبیلہ اسی بیچ اعلان کرتا ہے کہ ” ہم نے کچھ زیادہ نہیں کھویا ہے جبکہ ہمیں وجود بخشا ہی اس لیے ہے کہ ہم ہر چیز کھو دیں ، مگر الحمد للہ شکر ہے پروردگار کا کہ چالیس فیصد مویشی اب بھی ہمارے پاس ہیں اب ہم نئے سرے سے اپنے کام کا آغاز کرسکتے ہیں “ ( یوسف القرضاوی کی کتاب ’الایمان و الحیاة ‘سے ماخوذ)

ایمان اہل ایمان کو موت اور حیات کا نیا فلسفہ سکھاتا ہے ۔ ایک معنی دگر انہیں سجھاتا ہے ۔مومن زندگی کو بندگی کا ذریعہ مانتا ہے ۔ زندگی کی بندگی اس کا شیوہ نہیں  ہوتا۔ اہل ایمان زندگی سے نہ اتنا دل لگاتے ہیں کہ اس کا فراق انہیں رنجیدہ کردے اور نہ وہ موت کو زندگی کا خاتمہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ڈر جائیں ۔

کشادِ درِ دل سمجھتے ہیں اس کو ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں

مومن زندگی سے پیار اس لیے کرتا ہے کہ وہ اسے اپنے رب کی عطامانتاہے۔ وہ اسے رب کی خوشنودی کو پانے اور بھلائیوں کو پروان چڑھانے کے لیے دی گئی فرصت سمجھتا ہے ۔ وہ زندگی سے پریشان ہوکر اسے ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔ اس کے لیے زندگی کبھی بوجھ نہیں بنتی ہے جسے اتار پھینکنے کی فکر اسے لاحق  ہو ۔ زندگی اس کے لیے امید کا دیا ہے جسے وہ جلائے رکھتا ہے ۔ پیارے نبی ا کایہ فرمان ہمیشہ اس کا حوصلہ بڑھاتا ہے کہ: ” تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے اور نہ اس کے آنے سے پہلے اسے مانگے ، کیونکہ موت کے ساتھ ہی کام کرنے کی فرصت بھی ختم ہوجاتی ہے ۔ اور مومن کے لیے تو اسکی عمر میں فراوانی خیر کا سبب بنتی ہے “

مومن موت سے بھی اتنا ہی پیار کرتا ہے جتنا پیار وہ زندگی سے کرتا ہے ۔ مومن موت کو رب سے ملاقات کا وسیلہ گردانتا ہے ۔ حضرت بلال ؓ جب بستر مرگ پر جانکنی کے عالم میںتھے تو ان کی اہلیہ نے چلا کر کہا وا کرباہ ! ( ہائے زود رنج) تو انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں بلکہ واطرباہ! ( ہائے وقت مسرّت) کل میں اپنے محبوبوں (محمدا اور آپ کے صحابہؓ )سے ملنے والا ہوں

شاید ایسے ہی موقع کے لیے اقبال رحمه الله نے کہا تھا

نشانِ مرد مومن با تو گویم  چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست

 آ تجھ کو بتاؤں کہ مومن کی نشانی کیا ہے

جب موت آتی ہے تو اس کے ہونٹوں پہ مسکان سجی ہوتی ہے –

 

 

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*