شیخ محمدارشدبن بشیر احمدمدنی کے ساتھ ایک ملاقات

 سید احمد محمدی (کویت)

 ’آسک اسلام ویکی پیڈیا‘ کے بانی وسرپرست اوراردوزبان میں ہندوستان اوربیرون ہندکے مختلف ٹی وی چینلوں پر ’سوال وجواب ‘ کے پروگرام میں ظاہر ہونے والے شیخ محمد ارشد بشیر احمد مدنی ایک جو اںسال ہردلعزیز شخصیت ہیں جنہوں نے مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد ایم بی اے کرکے ایک قلیل عرصے میں دینی ودنیوی دونوں میدانوں میں اپنا لوہا منوایا ہے ، اپنی انتھک محنت،لگن اورجانفشانی کے ذریعہ بڑی مقبولیت حاصل کرلی ہے ،ٹیلیویژن پرآپ کے جوابات نہایت ٹھوس ، مدلل اور حوالوں سے پُر ہوتے ہیں ، آپ کی کویت آمد کی مناسبت سے راقم سطورنے ایک مجلس میں ان سے تفصیلی گفتگو کی تھی جسے بذریعہ ریکارڈر IPC کے داعی برادر عزیز جناب سید محمدی صاحب نے نقل کیا ہے۔ (ایڈیٹر)

 سوال: سب سے پہلے آپ کا تعارف ؟

جواب: میراتعلق ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع کرنول سے ہے، والد صاحب حیدرآباد میں سرکاری ملازم تھے،اس لیے یہیںآکرسکونت اختیار کرلی ۔ میرے والد کا خیال یہ تھا کہ ہر گھر میں ایک دینی طالب علم ضروری ہے، اسی بناپر میری ولادت سے قبل ہی مجھے عالم بنانے کاعزم کرچکے تھے، مگرمعاشرے کے عام چلن کے مطابق انھیں یہ فکر پریشان کررہی تھی کہ بچہ یہ نہ سونچنے لگے کہ تمام بھائی دنیوی اعتبار سے مضبوط ہیںجبکہ مجھے کمزورکردیاگیا۔ بفضلہ تعالی آج میں اپنے والد کابہت مشکور ہوں کہ انہوںنے میرے لیے دونوںجہاںکی کامیابی والا راستہ منتخب کیا۔

میری ابتدائی تعلیم اردوزبان میںہوئی، پھر 1986 میں شعبہ حفظ میںداخل ہوکر1990میںحفظ سے فراغت حاصل کرلی، اور1990میں اعلی تعلیم کی خاطرجنوب ہند کے معروف ادارہ جامعہ دارالسلام عمرآبادکا رخ کیااور 1996 میںجامعہ سے فراغت حاصل کرنے کے بعد طلب علم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کاسفر کیا، جہاںمیں نے حدیث فیکلٹی سے چارسالہ کورس کیا ۔ ہندوستان لوٹنے کے بعد میری خواہش ہوئی کہ زمانے کے تقاضے کے مطابق عصری علوم میں بھی دسترس حاصل کروں چنانچہ میں نے انگریزی سیکھی،پھر ایم بی اے کیا ۔

سوال:مدینہ یونیورسٹی سے فاضل کی ڈگری حاصل کرنے کے بعدآپ کا ذہن عصری علوم کی طرف کیسے مائل ہوا ، اورکیا اس راہ میں آپ کودقت پیش نہیں ئی؟

جواب: مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد جب میں نے معاشرے کا جائزہ لیاتوپتہ چلا کہ علماءکے پاس بہت علم ہے مگرعوام تک پہونچنے کےلئے زبان کا مسئلہ بہت بڑی رکاوٹ ہے ،جس کی وجہ سے صحیح علم سے عوام کا بڑاطبقہ اور عصری اداروںمیںزیرتعلیم طلباءمحروم ہیں۔

دوسرا مسئلہ یہ کہ عوام کے پاس جب کسی مفکر،مصنف کی طرف سے کوئی بات پیش کیجاتی ہے توانگریزی کے حوالے سے عوام میں بہت مقبول مانی جاتی ہے جبکہ اسکے حقائق کچھ اور ہوتے ہیں علماءان حقائق کا انکشاف کرناچاہیں تو زبان ہی کا مسئلہ درپیش ہوتاہے جسکی بنا پر جہالت کو علم کے کے طور پر پیش کیاجاتاہے،اسی وجہ سے میںنے عزم کر لیا کہ پہلی فرصت میںعصری تعلیم حاصل کروںگا۔اس کے لیے میں نے ذاتی رجحان کے مطابق ایم بی اے کا انتخاب کیا،مگراندیشہ یہ لاحق تھا کہ یہا ں زبان بھی الگ ہے اورمیدان بھی الگ ‘اور میرا شروع سے ممتاز طلباء میں شمار ہوتا رہا ہے،کہیں اس میدان میںآنے کے بعد ناکام نہ ہوجاؤں۔ لیکن میں نے ہمت نہ ہاری، خوب محنت کی، اورکامیابی کے لیے اللہ تعالی سے دعا کرتا رہا۔

الحمدللہ چند سالوں میں ایم بی اے مکمل کرلیا اور ملازمت کی تلاش میں نکلا تو ایک انٹرویومیں 200 طلباء شریک تھے جن میں صرف4 کامیاب ہوئے،ان خوش نصیبوں میں ایک میرا نام بھی تھا۔

سوال:اسلامی مدارس وجامعات کے فارغین کے لیے کیا آج کے دورمیں ملازمت کی راہیں مسدود ہیں کہ اکثر بچے احساس کمتری کا شکار ہوتے جارہے ہیں؟

جواب:ایسی کوئی بات نہیں ہے، میرا تجربہ کہتا ہے کہ کامیابی کے لیے اللہ کی توفیق کے بعد سچی لگن اور محنت درکارہے، دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو چاہیے کہ عملی میدان میں قدم رکھنے سے پہلے عصری تعلیم سے بھی بہرہ ورہولیں، ظاہر ہے اس کے لیے شروع میں تھوڑی اجنبیت محسوس تو ہوگی مگر کامیابی طے ہے ،زیادہ کامیاب عربی مدارس کے طلباءہی ہوںگے، کیونکہ وہ باشعورہوتے ہیں،کئی طلباء نے عصری تعلیم حاصل کی توان کے لیے برسرروزگار ہونا بہت آسان ہوگیا ۔ کیونکہ وہ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں پرعبوررکھتے ہیں اورآج کے زمانہ میں خلیجی ممالک میںایسے لوگوں کی بڑی مانگ ہے ۔

سوال: مسلمان معاشی اعتبارسے غیروں کے مقابلہ میں بہت پچھڑے ہوئے ہیں، آخروہ کون سی تدبیر ہے جسے اپنانے سے مسلمانوں کی معیشت ٹھیک ہوسکتی ہے؟

جواب: اصولی بات یہ ہے کہ ہرمیدان میں اونچے مناصب کے لیے جگہیں خالی ہوتی ہے ،البتہ نیچے کے کاموں میں کمپٹیشن زیادہ ہوتا ہے ۔ اور مسلمانوں کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ اونچی سونچ نہیں رکھتے ،یا پھر خود کو اس قابل نہیں بناپاتے ، اور اللہ کی مشیت تو یہ ہے کہ جو محنت کرے گا وہی پائے گا، چاہے وہ کافر ہویا مسلم۔ یہ اللہ کی سنت ہے ، اور اللہ کی سنت بدلتی نہیں ۔

بحیثیت مسلمان ہماراتوکل اللہ پرمضبوط ہونا چاہیے ، میرا ذاتی ایک تجربہ ہے، ایم بی اے ختم ہونے کے بعد انڈیا مارٹ کمپنی کی جانب سے مجھے انٹریو کے لیے بلایا گیا تو میں انٹرویومیں شریک ہونے کے لیے تیارہو گیا،لیکن اکثر لوگوںکی رائے یہ تھی کہ انڈیا مارٹ کمپنی ایک معیاری کمپنی ہے، اس کا انٹرویو کافی معیاری ہوتاہے اور مارکیٹنگ کے لیے اچھی انگریزی کی ضرورت ہے ،انٹرویومیں آپ کی شرکت بے فائدہ رہے گی ۔ مگر میرا مزاج یہ ہے کہ میں کسی سے گھبرا کر پیچھے نہیں ہٹتا۔ اور ہر ایک کو چاہیے کہ انٹرویو فیس کرنے کی عادت ڈالے،اگرکامیاب نہ بھی ہوسکے تو کم ازکم اس سے اس کی صلاحیت میں اضافہ ضرور ہوگا۔ بہرکیف میںنے انٹرویومیں شرکت کی ، شرکاء کی مجموعی تعداد پچاس تھی جبکہ سیٹ صرف ایک تھی ، جب انٹرویو کا وقت آیا تو انٹرویو لینے والے مجھے گھور کر دیکھنے لگے کیونکہ میری پینٹ ٹخنوں سے اوپرتھی اور چہرے پر داڑھی تھی، مجھ سے کہا گیا کہ شاید آ پ غلط جگہ آگئے ہیں؟ میں نے اطمینان سے جواب دیا: نہیں میں صحیح جگہ پر آیا ہوں، آپ گھبرائیں مت ، پہلے انٹرویو لیں،اس کے بعد فیصلہ کریں۔ انٹرویو کے بعد پچاس افراد میں‘ میں ہی وہ خوش نصیب تھا جسے منتخب کیا گیا۔ یہ میری پہلی ملازمت تھی، جس کی ٹریننگ کے لیے مجھے دہلی (گورے گاؤں ) بھیج دیا گیا ۔ یہاں اللہ نے میرے ذہن کو مزید کھولا ،جب میں نے کمپنی کی پالیسی پر غور کیا کہ وہ اپنی کمپنی اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال نہایت منصوبہ بندی کے ساتھ کررہے ہیں، اسی وقت میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ وسیلہ اسلام کے فروغ کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے، اس سلسلے میں مزید معلومات حاصل کرتا رہا ، پھر مجھے آئی ٹی ( IT)فیلڈ میں ملازمت مل گئی جہاں مجھے سوفٹ ویر کی معلومات ہوئی، بالآخر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ انٹرنیٹ پرویکی پیڈیا کے جیسے ’اسلام ویکی پیڈیا‘ ہونا چاہیے،یہ 2008ءکی بات ہے،اورالحمدللہ اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام بھی شروع ہوچکا ہے ۔

سوال: ’ویکی پیڈیا‘اصل میں کیا ہے اور آپ نے اسلامی ویکی پیڈیا‘کا جومنصوبہ بنایا ہے،اس کی شکل کیا ہوگی ؟

جواب : ویکی پیڈیا ایک فری اور پورٹل آن لائن انسائیکلوپیڈیا ہے جو ہائی ٹیکنالوجی پر چلتا ہے اوریہ متعدد زندہ زبانوں میں دستیاب ہے ۔اس ویکی پیڈیا کی اہمیت کا انکارنہیں کیا جاسکتا، تاہم اسلامی انسائیکلوپیڈیا کے تعلق سے مسلمانوںنے کوئی پیش رفت نہیں کی تھی، حالانکہ آج دنیا ٹیکنالوجی کے جس دور میں داخل ہوچکی ہے،اس میں شدت سے اس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔اسی ضرورت کو پیش نظررکھتے ہوئے اللہ کے فضل وکرم سے میں نے اراد ہ کیا کہ آٹھ ہزار علما اور پروفیشنل افراد پر ایک نیٹ ورک بناؤں جو چالیس زبانوں پر مشتمل ہو۔ اس میں شرعی اور عصری دونوںعلوم کا امتزاج ہوگا،اس کے سارے مواد ابھی ڈیٹا کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہیں، ا ن شاءاللہ رسمی طورپر اس کا جلدازجلد افتتاح ہوگا۔

’آسک اسلام ویکی پیڈیا‘موجودہ ویکی پیڈیاکے مقابلے میں مزید چند امتیازی خوبیوںکا حامل ہوگا ،مثلاً :

٭ آڈیو مواد کی فراہمی ، تاکہ نابینا بھی اس سے استفادہ کرسکیں ۔

٭ بذریعہ (SMS) جواب طلبی کی سہولت ۔

٭ بذریعہ ٹیلفون جواب حاصل کرنے کی سہولت ۔

٭ بذریعہ فیس بک اسلامی اصولوں کے مطابق تنقید و تبصرہ کرنے کی سہولت ۔

سوال: آپ بیشتر ٹی وی چینلوں پر آتے ہیں ، اور دنیا بھر میں لوگوں کو فائدہ پہنچارہے ہیں،حالانکہ آپ کی عمر کوئی خاص نہیں ہے ، یہ آپ کے لیے کیسے ممکن ہوسکا ؟

جواب : مجھے موسی ںکا واقعہ حوصلہ دلاتا ہے ، اللہ چاہتا تولفظ ’کن‘کے ذریعہ سمندر میں راستے بناسکتا تھا لیکن موسی ںکو لاٹھی مارنے کا حکم دیا ۔

 وقت میں برکت کے لیے بجائے مسائل میں الجھ کر ڈگمگانے کے انسان کو اللہ کی طرف رجوع ہونا چاہیے ۔ میں ایسے حالات میںدورکعت نماز ادا کرکے اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں ۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا :واستعینوا بالصبر والصلاة دوسری اہم چیز یہ ہے کہ آدمی کو اصول کا پابند ہونا چاہیے ، کام کو صحیح ترتیب دینااور مسائل کو اچھی طرح برتنا بہت ضروری ہے ۔ مجھے عباس ص کا یہ قول جو الابانة میں ہے یاد آتا ہے کہ الاھم فالاھم ۔یعنی ترجیحات کا خیال رکھتے ہوئے کاموںکو اس کی اہمیت کے مطابق ترتیب دینا چاہیے ۔اسلام میںمنجمنٹ ایک اہم شعبہ ہے جس کے تعلق سے ہمیں اسلامی تاریخ میںبڑی رہنمائی ملتی ہے ۔ علامہ شبلی نعمانی ’الفاروق ‘میں ذکر کرتے ہیں کہ عمر ص نے اپنے عہدخلافت میں یونانی زبان کی چالیس سے زیادہ کتابوں کو عربی میں ترجمہ کروایا ۔  اور عربی میںیہ کتا ب  الادارة فی عھد عمر کے نام سے معروف ہے ۔

سوال: نوجوان طبقہ کسی بھی قوم کے لیے سرمایہ افتخار ہوتا ہے ،دعوت کے مختلف شعبوں میں نوجوانوں سے کیسے کام لیاجاسکتا ہے ؟

جواب :بالکل صحیح بات ہے کہ ہمیں نوجوانوںکی سوچ کو صحیح رخ دینا چاہیے اور ان کی صلاحیتوںسے استفادہ کرناچاہیے۔اوراس سلسلے میں اصولی بات یہ ہے کہ کلموا الناس  على  قدر عقولھم    ”لوگوں کے ساتھ ان کی عقل وسمجھ کے مطابق بات کرو“ ۔ اور حکمت کے ساتھ دعوت کا کام کریں جیساکہ اللہ نے فرمایا:ادع الی سبیل ربک بالحکمة ….اور یہ بھی حکمت میں شامل ہے کہ کام کو گرامرس ورڈ میں اور پروفیشنل انداز میں پیش کیا جائے ۔ 

نوجوانوں کو ان کی نوجوانی کی اہمیت کا احساس دلائیں، ان کے سامنے انبیاءکی زندگی کا نمونہ پیش کریں، انہیںاپنی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے دعوتی کام پر اُبھاریں ان کی عزت واحترام کریں اور ان کا صحیح استعمال کریں ۔

سوال:آپ اپنے تجربہ کی روشنی میں بتائیں کہ غیرمسلموںکے سامنے نہایت مختصر وقت میں دعوتی پیغام کیسے پہنچایاجاسکتا ہے ؟

جواب : اس سلسلے میںیوٹیوب پر میرا ایک ویڈیو کلپ دستیاب ہے جو کافی کامیاب ہے ۔ وہ اس طرح کہ:

” اسلام ایک سچادین ہے، اللہ کے نزدیک اس کے علاوہ کوئی دین مقبول نہیںہے ، میںنے اسے اپنا رکھا ہے ، البتہ میں خود غرض بننا نہیں چاہتا، آپ کوبھی اس سچے دین کی طرف دعوت دیتا ہوں تاکہ آپ بھی جنت میں داخل ہوسکیں “۔

سوال: عیسائی مشنریوں سے مسلمانوں کو کیسے بچایا جائے۔

جواب: جس طرح ہم کہتے ہیں کہ یورپ میں اسلام مقبول ہوتا جارہا ہے ویسے ہی یورپی کہتے ہیںکہ عیسائیت ہندوستان میں بہت مقبول ہوتی جارہی ہے۔اورواقعی جہالت کی بنیاد پربہت سے لوگ اس باطل دین کے دام فریب میںپھنس کراپنی عاقبت خراب کررہے ہیں۔

مسلمانوں کو ان مشنریوں کے خطرات سے بچانے کا ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ ان کے ذہن ودماغ میںاسلام کی آفاقیت کا تصور بٹھایاجائے،انہیں دعوت کی اہمیت اور اس کے طریقہ کارسے روشناس کرایاجائے تاکہ وہ یہ محسوس کریںکہ وہ مدعو نہیں بلکہ خود داعی ہیں ۔ جس سے ان کے اندرایمان کی حفاظت کاہی تصورپیدا نہ ہو بلکہ دوسروں کے ایمان کی بھی فکر پیدا ہوسکے ۔

سوال:اخیرمیں آپ ہمارے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟

جواب:سورہ عصر کا پیغام کہ ایمان ، عمل صالح ، دعوت اور ان کاموں پر صبر ۔ جو خسارے سے بچنے کا انتہائی مختصر اور جامع پیغام ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*