نكهت گل

اعجاز الدین عمری (کویت)

ششش خموش
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے دو دروازے بنائے ہیں ۔ مگر زبان کے لیے چار چار محافظ بنائے ہیں اندر دو طرف سے دانتوں کا پہرہ ہے تو باہر دوطرف سے ہونٹوں کی نگرانی ہے۔ (علی بن بکار)
ایک شخص حضرت عمررضي الله عنه کی مجلس میں ہمیشہ حاضری دیتا آپ کی باتوں کو غور سے سنتا اور خاموش چلا جاتا ۔حضرت عمر رضي الله عنه نے اس پر نظر رکھی اور ایک دن اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے کہ تم ہماری مجلس میں بلا ناغہ آتے ہو ساری باتیں دھیان سے سنتے ہو مگر کبھی کچھ کہتے نہیں ہو اور چلے جاتے ہو“ اس نے کہا:
” میں آپ کی مجلس میں حاضری دیتا اس لیے ہوں کہ اپنی بچاؤ کا سامان کر سکوں اور روح وبدن کو پاک کروں اور میں کچھ کہے بنا اس لیے جاتا ہوں کہ خود محفوظ رہوں“
کسی بزرگ کا قول ہے کہ ” عافیت کے دس حصّے ہوتے ہیں ان میں سے نو خاموشی کے ہوتے ہیں“
حضرت ابو درداء رضي الله عنه فرماتے ہیں : حقیقی معنوں میں زندگی سے خیر صرف دو آدمیوں ہی کو ملتا ہے۔ ایک سُن کر محفوظ کرنے والا اور دوسرا جان کر بات کرنے والا۔
گلہائے رنگ رنگ
(1) بچپن انسانی زندگی کا وہ عرصہ ہے جب وہ غیروں کے حساب سے جیتاہے۔
(2) زندگی کی کٹھنائی اور زمینی حقائق سے آگہی ہی شاید بچے کو دنیا میں روتے روتے آنے پر مجبور کرتی ہے۔
(3) وہ لمحہ کتنا حسین ہوتا ہے جب کسی کی آنکھیں تو اشکبار ہوں مگر ہونٹوں پر کلی کھل رہی ہو ۔ اور کوئی ہنس تو رہا ہو مگر پلکیں بھیگ رہی ہوں ۔
(4) یاد داشت تیز ہو اور یادیں کڑوی کسیلی تو زندگی کتنی مشکل ہوتی ہے!
(5) اتنی بلندی پر مت پہنچو کہ لوگ بہت چھوٹے دکھائی دینے لگیں اور مت بھولو کہ ان کی نظروں میں تم بھی بہت چھوٹے ہوتے ہو۔
(6) گرنا بری بات نہیں ہے مگر گرنے کے بعد اُٹھنے کی کوشش نہ کرنا بہت بری بات ہے۔
جب ایمان زندہ تھا
وہ دو نوجوان تھے ایک شخص کو ہانکے لا رہے ہیں ۔ امیر المؤمنین کا دربار لگا ہوا دیکھا تو اسے دھکیل کرآگے کردیا اور کہنے لگے : اے امیر المؤمنین اس نے ہمارے ابو کی جان لی ہے ۔ امیر المؤمنین نے اس سے پوچھا کیا یہ سچ ہے ؟ اس نے کہا ’ہاں!‘ ان کے باپ کو میں نے ہی مار ڈالا ہے۔ امیر المؤمنین نے پھر سوال کیا کہ آخر کیوں اور کیسے؟ اس نے جواب دیا ”یہ شخص اپنے اونٹ لیے میری زمینات میں گھس آیا۔ میں نے روکا اور ڈانٹا مگر اس نے سنی ان سنی کردی تو مجھے غصہ آیا اور میںنے ایک پتھر اس کی طرف پھینکا جو اس کے سر پر جا لگا اور وہ جان کھوبیٹھا۔ امیر المؤمنین حضرت عمررضي الله عنه نے فیصلہ صادر فرمایا ” تو پھر جان کے بدلے جان دینے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اس آدمی نے کہا : اے امیر المؤمنین ! آپ کو اس ذات کا واسطہ جس نے آسمانوں اور زمیں کو تھامے رکھاہے ،آج ایک رات مجھے بیوی بچوں سے مل آنے کی اجازت دیجیے،وہ دور ایک گاؤں میں رہتے ہیں ۔ میں اُنہیں خبر تو کر آؤں کہ آپ مجھے سزائے موت دینے والے ہیں ۔ اُنہیں بتاکر میں واپس آجاؤںگا۔قسم بخدا ،اللہ کے بعدمیرے سوا اُن کا کوئی ذمّہ دار نہیں ہے۔
امیر المؤمنین نے جواب دیا : کیا کوئی تمہاری ضمانت دیگا کہ تم گاؤں جاکر واپس آجاؤگے؟ لوگ سبھی چپ ہوگئے ،کوئی آگے نہیں بڑھا۔ امیر المؤمنین نے ان دو نوجوانوںکی طرف نظر کی اور ان سے پوچھا : ”کیا تم اسے معاف کردوگے؟ “انہوں نے جواب نفی میں دیا اور کہا کہ جس نے ہمارے باپ کی جان لی ہے ہم اس سے بدلہ ضرور لیں گے۔تبھی مجمع میں سے ایک آواز گونجی”امیر المؤمنین ! میں دیتا ہوں اس کی ضمانت “ ہر اک کی نظر آواز کا پیچھا کرنے لگی سب نے دیکھا کہ ابوذرغفاری رضي الله عنه بھیڑ میں سے نکل کر آگے آگئے ہیں ۔ امیر المؤمنین حضرت عمرؓ نے زور دیتے ہوے کہا : ” ابوذر ! وہ قاتل ہے “ حضرت ابو ذررضي الله عنه نے جواب دیا ” اگر اس نے قتل کیا ہے تب بھی میں اس کی ضمانت دینے کے لیے تیا رہوں “۔ امیر المؤمنین نے پوچھا :”کیا تم اسے جانتے ہو؟“انہوں نے کہا ”نہیں ، میں اُسے نہیں جانتا“ ۔ امیر المؤمنین نے پوچھا :”پھرکیسے تم اُس کی ضمانت کے لیے تیار ہوگئے؟“اُنہوں نے کہا ” میں نے ا سمیں اہلِ ایمان کی نشانی دیکھی ہے ۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولے گا۔اللہ نے چاہا تو وہ لوٹ آئے گاضرور“۔
امیر المؤمنین نے کہا : ” ابو ذر! تم کیا سوچتے ہو کہ تین روز بعد جب اس کو آنے میں تاخیر ہوگی تو کیا میں تمہیں چھوڑ دوںگا ؟“ ابوذر رضي الله عنه نے کہا” امیر المؤمنین ! اللہ تعالیٰ جو ہے مددگار تو پھر کیا ڈر ہے؟ وہ شخص چلا گیا۔ امیر المؤمنین نے اسے تین دن کی مہلت دی تھی۔ تاکہ ان تین دنوں میں وہ خود کو تیار کر لینے کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی بچوں کا مناسب انتظام کرلے ۔ جب ا ن سارے کاموں سے وہ نمٹ لے تو آئے اور قصاص میں اپنی جان پیش کرے۔
تین دن گذرگئے ، عصر کی نماز کے بعد شہر میں اعلان کیاگیا ۔ وہ دونوں نوجوان پہنچ گئے ۔ لوگ جمع ہونے لگے ۔حضر ت ابوذر رضي الله عنه بھی حاضر ہوگئے اور امیر المؤمنین حضرت عمرؓ کے روبرو بیٹھ گئے۔حضرت عمررضي الله عنه نے پوچھا : ”آدمی کہاں ہے؟“ حضر ت ابوذر رضي الله عنه نے کہا ” پتا نہیں امیر المؤمنین “ مجمع پر سکتہ طاری تھا ۔ ہر کسی کی پیشانی پر شکنیں اُبھر آئی تھیں ۔ کسی کو نہیں خبر تھی کہ کیا ہونے والا ہے ۔ سب کی پریشانی کا سبب ظاہر تھا۔ اگر غروب آفتاب تک وہ شخص نہیں آیا تو پھرباری حضر ت ابوذر رضي الله عنه ہی کی تھی ۔ اُن کی جان خطرے میں تھی۔ سورج دھیرے دھرے پچھم کی جانب اُتر رہا تھاابھی صرف چند لمحے ہی باقی تھے کہ دفعتاً وہ اجنبی شخص نعرہء تکبیر بلند کرتے ہوے مجمع میں گھس آیا ۔ اُسے دیکھ کر حضرت عمررضي الله عنه نے بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ پھر دیکھتے دیکھتے سارا مجمع تکبیر کے نعروں سے گونج اُٹھا۔پھر وہ شخص آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے ہوے امیر المؤمنین حضرت عمررضي الله عنه کے سامنے کھڑا ہوگیا۔امیر المؤمنین نے کہا : ” اے آدمی ! تو اگر نہ آتا اور اپنے گاؤں میں ہی رہتا تو ہمیں تو کچھ خبر بھی نہ ہوتی ۔ ہم تمہیں کیسے تلاش کرتے ۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ تمہارا گاؤں کہاں ہے اور یہاں کوئی تمہیں جانتا تک نہیں ! پھر تم نے اپنی جان بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟“
اس نے کہا ”امیر المؤمنین! قسم بخدا میں آپ سے تو چھپا رہتا مگراُس سے کیسے چھپتا جو کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے ۔امیر المؤمنین میں اپنے بال بچوں کو صحرا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑکر یہاں مرنے کے لیے آیا ہوں ۔ کون کرےگا اب ان کے دانہ پانی کا انتظام؟ آدمی کہتا جارہا تھا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری تھی۔ حضرت عمررضي الله عنه نے ان دو جوانوں کی جانب دیکھا اور پوچھا ”اب تمہارا کیا خیال ہے ؟“ وہ دونوں بھی آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ پارہے تھے۔ انہوں نے کہا ”امیر المؤمنین! ہم نے اُسے معاف کردیا “

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*