حبیب خدا کی اطا عت کروگے

 اسلام الدین عبد الحکیم ریا ضی (کویت)

 فلاَ وَرَبِّکَ لاَ يومِنُونَ حَتَّیَ یُحَکِّمُوکَ فيمَا شَجَرَبينہُم ثُمَّ لاَ یَجِدُوافِی أنفُسِہِم حَرَجاً مِّمَّا قَضَیتَ وَیُسَلِّمُواتَسلِیما  (النساء ۵۶)

ترجمہ:”سوقسم ہے تيرے پروردگارکی، یہ ایمان دار نہیں ہوسکتے،جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ(صلى الله عليه وسلم) کو حاکم نہ مان لیں ،پھر جو فےصلے آپ ان میں کردیں اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخو شی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں“۔

تشریح : اس آ یت کے شان نزول میں ایک یہودی اورمسلمان کا واقعہ عمو ماً بیان کیا جا تا ہے جوبارگاہ رسالت کے فےصلے کے باوجود حضرت عمررضى الله عنه سے فیصلہ کروانے گیا جس پر حضرت عمررضى الله عنه  نے اس مسلمان کا سر قلم کردیا۔ سندا ًیہ واقعہ صحیح نہیں ہے،جیسا کہ حافظ ابن کثیر رحمه الله نے بھی وضاحت کی ہے۔

صحیح واقعہ جو اس آیت کے نزول کا سبب ہے ،یہ ہے کہ حضرت زبیرؓ کا جو رسول اللہ کے پھو پھی زادتھے اور ایک آدمی کا کھیت کو سیراب کرنے والے نالے کے پانی پر جھگڑا ہو گیا۔   معاملہ نبی صلى الله عليه وسلم تک پہونچا،آپ انے صورت حال کا جائزہ لے کر جو فيصلہ دیا وہ اتفا ق سے حضرت زبیر کے حق میں تھا ، جس پر دوسرے آدمی نے کہا کہ يہ فيصلہ آپ نے اس لیے کیا ہے کیوں کہ وہ آپ کا پھو پھی زاد ہے،اس پر ےہ آےت نازل ہوئی ۔(صحیح بخا ری تفسیرسورہ النساء)

 آیت کا مطلب یہ ہوا کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی کسی بات یا فیصلے سے اختلاف تو کجا،دل میں انقباض بھی محسوس کرنا ایمان کے منا فی ہے۔

یہ آیت منکر ین حدیث کے خلاف حجت تو ہے ہی ، اس میں دیگر افراد کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے جوقول امام کے مقا بلے میں حدیث صحیح سے انقباض ہی محسوس نہیں کرتے بلکہ یا توکھلے لفظوں میںاسے ماننے سے انکارکر دیتے ہیں یااسکی دوراز کار تاویل کرتے ہیں یاثقہ راویوںکو ضعیف باور کراکے مسترد کرنے کی مذموم سعی کرتے ہیں۔

قرآن عظیم فرقان حمید میں آپ کو رب کائنات کی قسم کھا نے کے مختلف انداز ملےں گے، کہیں (والعصر)کا تذکرہ ہے،کہیں(والتین والزیتون)کا بیان ہے توکہیں (والضحی واللیل)کااعلان ہے، تو کہیں (والذاریات ذروا)کا مفصل خطاب ہے۔ مگر اپنی کبریائی کی قسم کھا کر خطاب نہیںکیا،لیکن جب کونین کے تاج دارکی حکم عدولی کا معاملہ پیش آیاتووہاں  خالق کا ئنات نے اپنی کبریائی کی قسم کھاکر یہ اعلان عام کردیاکہ جو شخص میرے محبوب کے فیصلے کو نہ مانے وہ حلاوت ایمان نہ چکھ سکے گااور صرف اسی پر اکتفاءنہیں کیا بلکہ جس کے دل میں ذراسی حرج بھی محسوس ہوئی تو وہ بھی اسی حکم میں ہو گا۔

اور بزبان ناطق وحی بھی :لایو من ا حدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ کاپیغام اٹل بھی دلا دیاکہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن ہوہی نہیں سکتاجب تک وہ اپنی خواہشات نفسانی کو میری لائی ہوئی شریعت کے مطا بق نہ ڈھال دے۔                                           

آیت قرآنی اورفرمان مصطفی سے پتہ یہ چلاکہ جس نے ایک ہاتھ میں رب کا قرآن تھا م لیا اور دوسرے ہاتھ میں محمدا کا فرمان تو اس کی نیا پار اتر جا ئے گی اور جس نے اپنی رہبری ورہنمائی کے لیے ان دونوں کو مشعل راہ نہیں بنایا وہ کفر وشرک کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میںبھٹکتا رہے گا

   اٹھومومنو! آج سے عہد کرلو  حبیب خدا کی اطا عت کروگے

   خبر دے رہا ہے محمد كا اسوہ  کہ آساں نہیں ہے مسلمان ہونا

   وہ تابندہ اسلام جورہ گیا ہے  کتابوں کے اوراق ميں دفن ہو کر

   وفا کیشیوں سے جفا کوشیوں سے زما نے میں اسکی اشا عت کروگے

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*