چمکتا جو نظرآے وہ سب سونا نہیں ہوتا

 مولانا اسلام الدين عبد الحكيم الرياضي

حضرت ابو سعيد خدری رضى الله عنه بیان کرتے ہيں کہ ایک روزہم رسول صلى الله عليه وسلم کے پاس بیٹھے تھے اور آپ کچھ مال تقسيم کررہے تھے۔اسی دوران بنی تمیم کا ایک شخص ذوالخویصرہ آیااور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! آپ عدل وانصاف کریں،آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تیری ہلاکت ہو، اگر میں انصاف نہیں کروں گا تواورکون کرے گا ،اگرمیں نے انصاف نہیں کیا تومیں خائب و خاسرہوا“ 

”انکی نشانی یہ ہے کہ ان ميں ايک آدمی سياہ رنگ کا ہو گا جس کاايک بازو عورت کے پستان کی ما نند ہوگا، یاتھل تھلا تے گوشت کے لو تھڑے کے مثل ہو گا ،اور يہ لوگ اس وقت ظاہر ہوں گے جب لو گوں میں افتراق پيدا ہو جا ئے گا“۔

حضرت ابو سعيد رضى الله عنه بيان کرتے ہيں کہ ميں اس بات کی گوا ہی دےتا ہوںکہ مےںنے ےہ حديث خودرسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سنی تھی ۔اور مےںاس بات کی بھی گواہی ديتا ہوں کہ يہ لو گ حضرت علیؓ کے عہد خلافت ميں ظہور پذيرہوئے اور حضرت علیؓ نے ان سے قتال کيااور ميں خود بھی ان کے ساتھ شامل تھا۔ حضرت علیؓ نے حکم ديا کہ اس شخص کوڈھونڈا جائے،چنانچہ اسے لايا گيا يہاں تک کہ ميں نے ديکھا کہ اس کا حليہ بالکل وہی تھا جوکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بيان فرماياتھا۔“ (البخاری:163 ،مسلم:164)

اس واقعہ سے ہم کويہ سبق حاصل کرناچاہیے کہ بعض اوقات ایک انسان بظاہر بڑانمازی ، متقی، پرہیزگار،خشوع وخضوع کا پیکر،اورشریعت کا پابند معلوم ہو تاہے،لیکن اس پر باطل افکارو نظریات کی گھنگھور گھٹا ئیں چھائی ہوتی ہیں،وہ اپنے اس باطل عقیدے کو حق سمجھ رہا ہوتا ہے اور اس کے فروغ میں بڑی چستی کا مظاہرہ کرتا ہے،حتی کہ کلام ربانی مےںتحریف لفظی ومعنوی پر بھی اُترآتاہے،اس طرح وہ خود گمراہ ہوتا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا سبب بنتا ہے ۔ اور محکم التنزیل کی من مانی تاویل کرکے دین متین سے ایسے نکل جاتاہے جیسے تیرشکار سے نکلتا ہے ۔

آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے نبی امی نے یہ پیشین گوئی کی تھی جوآج حرف بحرف صحیح ثابت ہورہی ہے جس کا نمونہ آج کے سماج میں دیکھا جاسکتا ہے ۔

امام مالک رحمه الله نے ایک ایسے راوی سے روایت کی جس سے کسی نے بھی روایت نہیں کی  تھی ،جب ان سے اس راوی سے روایت کرنے کی وجہ پوچھی گئی تویہ عذرپیش کياکہ مجھے مسجد میں اس کی بکثرت گریہ وزاری اور رونے نے دھوکے میں ڈال دیا۔  (میزان الاعتدال صفحہ883ج4)

  نہ جا ظاہر پرستی پراگر کچھ عقل ودانش ہے   

چمکتا جونظرآے وہ سب سونا نہیں ہوتا 

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*