شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ اسلامی انقلاب کا پہلا علمبردار

 مولانا سعید احمد اکبر آبادی ایم اے

انقلاب پیدا کرنے والی شخصیتیں یا تو سپاہیانہ اوصاف کی مالک ہوتی ہیں اور تلوار کے زور سے قوموں کی تقدیریں بدلتی ہیں، یا پھر ان کی زبان میں اتنا اثر اور جادو ہوتا ہے کہ قوم کے دل و دماغ میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔ ہندوستان کی مسلم سوسائٹی اس عالمگیر قانون سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ لیکن مسلم انقلابی شخصیتوں اور مصلحین کو ہمیشہ دل و دماغ کی ان دونوں خوبیوں سے آراستہ ہونے کا امتیاز حاصل رہا ہے۔ ان کے ایک ہاتھ میں جادو اثر قلم اور دوسرے ہاتھ میں امن عالم کی بقا کے لیے تیغ براں رہی ہے۔ میدان جنگ میں تو وہ سپاہیانہ جوہر دکھاتے تھے۔ لیکن اخلاقیات کے میدان میں بہت بڑے مصلح کی حیثیت سے جلوہ گر ہوتے تھے۔

ہندوستان کی مسلم انقلابی شخصیتوں میں حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کا درجہ بہت بلند ہے۔ انہوں نے ایک ایسی تحریک کی بنیاد رکھی جس کا مقصد اسلام کی سربلندی تھی۔ نیز وہ تمام ذرائع کلیہ اسلامی تھے جو اس انقلاب کو پیدا کرنے کے لیے استعمال کئے گئے۔ ان کا مقصد ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت قائم کرنا نہ تھا بلکہ وہ تو اس سرزمین میں اللہ کی حکومت کا قیام چاہتے تھے جو عدل و انصاف، حق و صداقت اور خدا دوستی کی مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو۔ وہ انسانیت کو پستی سے نکال کر بلندی کی طرف لے جانا چاہتے تھے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ اپنے ان مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہوئے بلکہ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ آیا ہندوستان کی تاریخ میں مسلم انقلابی شخصیتوں میں کوئی اور شخصیت ایسی نظر آتی ہے، جس نے اس بہادری اور بے جگری سے ایسے بلند نصب العین کے حصول کے لیے اپنی جان تک کی قربانی پیش کی ہو۔

پیدائش اور تعلیم:

آپ1193 ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد شاہ عبدالغنی رحمہ اللہ تھے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کے صاحبزادے تھے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ آپ کے چچا تھے۔ آپ کے والد بزرگوار صوفی منش ہونے کے علاوہ اسلامی علوم کے بہت بڑے ماہر اور دینیات کے استاد تھے۔ شاہ اسماعیل رحمہ اللہ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ لیکن ان کی وفات کے بعد آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے چچا عبدالعزیز کے سپرد ہوئی۔ استاد اپنے شاگرد کی ذہانت اور فطانت سے بہت خوش تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آپ نے نہ صرف اسلامی علوم و فنون کی تعلیم حاصل کی، بلکہ علوم مروجہ میں بھی کمال پیدا کر لیا۔ آپ کے تمام سیرت نگار اس بات میں متفق الرائے ہیں کہ جغرافیہ سے اتنا شغف تھا کہ کئی کئی گھنٹے ہندوستان کے نقشے کا مطالعہ کرتے رہتے۔

اللہ نے آپ کو زبان اور قلم کی تمام خوبیوں سے سرفراز کیا تھا۔ آپ انتہائی طور پر سخت مزاج اور پتھر دل انسان کو بھی قائل کر لیتے۔ اسلامی عظمت و سربلندی کیلئے جو نور آپ کے سینے میں روشن تھا، وہ دوسروں کے دلوں میں بھی حرارت اور گرمی پیدا کرتا۔ چونکہ آپ کوایک بہت بڑی انقلابی تحریک کی قیادت سرانجام دینی تھی، اس لیے آپ محض علمی سرگرمیوں سے مطمئن تھے۔

آپ صحیح معنوں میں باعمل بننا چاہتے تھے، اس لیے آپ ہر قسم کی فوجی ورزش کرتے۔ آپ نہایت عمدہ شہسوار اور بہترین تیر انداز تھے۔ نیزہ بازی میں کمال حاصل تھا اور کشتی لڑنے میں بھی بند نہ تھے۔ آپ بلا کے تیراک تھے۔ جمنا میں دہلی سے آگرہ تک تیرتے ہوئے جاتے اور پھر تیرتے ہوئے واپس آتے۔ تکالیف اور مصائب سے محبت کا یہ عالم تھا کہ گرمیوں میں جامع مسجد کے تپتے ہوئے صحن میں گھنٹوں ننگے پاوں چلتے رہتے۔ آپ کئی کئی دن تک بھوک پیاس کی کوفت سہتے تا کہ آپ میں قوت برداشت پیدا ہو۔

اسلامی جھنڈے کی سربلندی آپ کی علمی اور فوجی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو اس ذلت و نکبت سے نکالا جائے جو افلاس، جہالت اور سیاسی اقتدار کے خاتمہ کے باعث پیدا ہو گئی تھی۔ جب آپ نے اسلام کے ہندی مریض کی نبض پر ہاتھ رکھا تو معلوم ہوا کہ یہ قوم جہالت، افلاس، بے بسی اور بے چارگی کے خوفناک مرض میں مبتلا ہے۔ سیاسی اقتدار کے خاتمہ نے ان کی روح کو کچل دیا ہے۔ ان میں زندگی کی حرارت ختم ہو چکی ہے۔ آپ نے وحدت خیال اور وحدت عمل پیدا کرنے کے لیے اخلاقی اصلاح کا کام ہاتھ میں لیا۔ کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ اخلاقی جرات دنیا میں حیرت انگیز کارنامے سرانجام دینے کی قوت رکھتی ہے، اور دل و دماغ کی غیر تربیت یافتہ اور غیر منظم صلاحیتوں کو برانگیختہ کیا جائے تو کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ دیرپا نہیں ہوتی۔ اس چیز کے پیش نظر آپ نے جگہ جگہ تقریروں کا جال پھیلا دیا۔ لوگوں کواللہ اور رسول کی طرف بلاتے۔ ان کو غیر اسلامی اور مشرکانہ رسوم و اوہام سے منع کرتے۔

لیکن صدیوں کی عادتیں دنوں میں نہیں مٹ سکتیں۔ لوگوں نے آپ پر کفر کے فتوے لگائے اور آپ کو ہر قسم کی تکلیف میں مبتلا کیا۔ لیکن اس مصلح صادق نے یہ تمام چیزیں خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیں۔ کوئی سختی اور تکلیف انہیں اپنے بلند مقصد سے نہ ہٹا سکی۔ آخر کار ان کی کوششیں بار آور ہوئیں اور مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہوئے۔

انہیں اپنی کمزوریوں کی اصلاح کا خیال پیدا ہوا۔ حضرت شہید کی دعوت و ارشاد پر سینکڑوں بیوگان نے دوبارہ نکاح کر کے خدائی احکام کی اطاعت کی، اوہام پرستی ختم ہو گئی، قحبہ خانے اور قمار خانے بند ہو گئے، لوگوں کی طبیعتوں میں انقلاب پیدا ہوا۔ اور انہوں نے اللہاور رسول اکی طرف رجوع کرنا شروع کیا۔

اسی اثنا میں شاہ اسماعیل رحمہ اللہ نے حضرت مولانا سید احمد بریلوی سے بیعت کی۔ آپ وقت کے امام اور مجدد مانے جاتے تھے۔ شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ نے ان کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کیا اور روحانیت کے مختلف مدارج طے کئے۔ آخر کار آپ اپنے روحانی پیشوا کے ساتھ پنجاب تشریف لائے، اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ ان کا مقصد سکھوں کو غلام بنانا نہیں تھا، بلکہ وہ اللہ کی حکومت قائم کر کے ظلم اور استبداد کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے۔ حضرت شاہ اسمٰعیل شہید ؒنے یہ عقیدہ اپنے دادا بزرگوار اور عم محترم سے حاصل کیا جنہوں نے آخری مغل بادشاہ کی موجودگی میں ہی ہندوستان کو دارالحرب قرار دے دیا تھا۔ میرا یقین محکم ہے کہ شاہ اسمٰعیل شہید اور ان کی جماعت اللہکی حکومت قائم کر کے امن، انصاف اور سچائی کی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔

اس ضمن میں یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی انقلابی سرگرمیوں کے لیے پنجاب کو کیوں منتخب کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کو سر کرنے کے بعد صوبہ سرحد کو فتح کیا جا سکتا تھا، اور اس طرح اسلامی صوبوں کی تبلیغ بلا کسی رکاوٹ کے ہو سکتی تھی۔ دوسرے پنجاب میں سکھوں کے مظالم کے باعث بہت بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ مسلمانوں کی مذہبی روایات خطرے میں تھیں۔ شاہ شہید اور ان کی جماعت اس بارود میں چنگاری پھینکنے کا انتظار کر رہی تھی۔ انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا، اور رنجیت سنگھ کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔

میدان جنگ میں حضرت شاہ شہید کی بہادری اور دلیری و استقامت نے حضرت خالد بن ولید، حیدر کرار اور طارق بن زیاد کی یاد تازہ کر دی۔ ابتدا میں بہت سے مقامات فتح ہوئے لیکن قدرت کو مسلمانوں کی بدبختی کا خاتمہ منظور نہ تھا۔ ان کی قسمت میں مصائب تکالیف کے امتحانات ابھی باقی تھے۔ چنانچہ اس اسلامی تحریک کا بھی وہی حشر ہوا جو میسور میں ٹیپو سلطان اور بنگال میں سراج الدولہ کا ہوا تھا۔ دوسری تحریکوں کی طرح اس تحریک کی ناکامی کے اسباب میں بھی مسلمانوں کی غداری کا ہاتھ نمایاں تھا۔

فتح و شکست تو نصیب کی بات ہے اور یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس شکست میں کونسی مصلحت پوشیدہ تھی۔ لیکن اگر شاہ شہید کی شاندار کوششوں پر نظر ڈالی جائے تو آپ سے بڑا ہیرو دکھائی نہ دے گا۔ ایک طرف وہ غیر اسلامی رسوم و عقائد کے خلاف قلمی اور لسانی جہاد میں مصروف تھے۔ اور دوسری طرف میدان جنگ میں تلوار لیے گھوڑے پر سوار۔ ایسی پاکیزہ صفات کا ذات واحد میں مجتمع ہونا بہت نادر چیز ہے۔

شاہ شہید کو شہرت اور دولت سے محبت نہ تھی۔ وہ حقیقی خدائی خدمت گار تھے۔ وہ اللہ کے جھنڈے کو بلند کرنا چاہتے تھے۔ رضائے الٰہی کی اطاعت اس درجہ موجود تھی کہ معرکہ کارزار میں جب آپ کا سر جسد مبارک سے علیحدہ ہوا تو خون کا ہر قطرہ زبان حال سے پکار رہا تھا

جان دی دی ہوئی اسی کی تھی 

 حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*