کویت فرینڈ شپ مشاعرہ 2012 ء

رپورٹ : کاشف کمال

kashif_librarian@yahoo.com

کویت پاکستان فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام ایک خوبصورت محفلِ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔جس میں کویت کے معروف شعرائے کرام نے شرکت کی۔مشاعرہ کی صدارت معروف دانشور ڈاکٹر صالحہ جواد الموسیٰ نے کی۔مہمان خصوصی کینڈا سے تشریف لائے ہوئے خوبصورت لب و لہجہ کے شاعر و ادیب و سابق سفیر  پا کستان جناب کرامت اللہ خان غوری تھے۔ جبکہ مہمان اعزازی سفیر پاکستان کویت،جناب افتخار عزیز عباسی تھے۔ انٹرنیشنل سکول و کالج آف پاکستان خیطان، کویت کے مرکزی ہال میں منعقدہ مشاعرے کے لیے اسٹیج کو بہت ہی خوبصورت انداز سے سجایا گیا تھا۔کویت پاکستا ن فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جناب ثاقب آفتاب نے تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا ۔ تلاوت قرآن پاک کی سعادت حافظ محمد حسان نے حاصل کی۔اس کے بعد کویت پاکستان فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے صدر ،رانا اعجاز حسین کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا۔انہوں نے حاضرین محفل کو اپنے سحر خطابت سے خوش آمدید کیا اور کینڈا سے آئے ہوئے مہمان شاعرکرامت اللہ خان غوری جن کے لیے اس بزم کا اہتمام کیا گیا تھا ،ان کے فن اور شخصیت کے حوالے سے جامع گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ کویت میں بہت سے سفارت کا ر آئے اور اپنی اپنی بولیاں بول کر رخصت ہوئے شاید آج ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کویت کے سپیلنگ بھی فراموش کر چکے ہوں ، جناب کرامت یہ آپ کی کرامت ہے کہ آپ کویت میں مقیم اپنے یارانِ باصفا کو نہ صرف یاد رکھتے ہیںبلکہ  شرف ملاقات سے بھی نوازتے ہیں محبت کا یہ جذبہ یک طرفہ نہیں دو طرفہ ہے جس کا ثبوت آج کی محفل کے شرکاءہیں جو انتہائی مختصر وقت میں آپ کی محبت میں جمع ہیں ،اس کے بعد جناب کرامت اللہ غوری کو اسٹیج پر  خیر سگالی گفتگو کے لیے مدعو کیا گیا۔ ہال میں موجود خواتین و حضرات غوری صاحب کے دلچسپ انداز گفتگو سے محظوظ ہو تے رہے۔ انہو ں نے کہا کہ یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ کویت میں اب بھی مشاعرے منعقد ہوتے ہیں اورKPFA اپنی روایات کو نبھاتے ہوئے باقاعدگی سے ایسے پروگرام ترتیب دے رہی ہے، اس پر میںKPFA کے صدر اور تمام حاضرین ِ محفل کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ مشاعرے ہماری اقدار کا حصہ ہیں۔

  مشاعرے میں سب سے اہم اور پرتکلف ماحو ل اس وقت دیکھنے میں آیا جب ڈاکٹر صالحہ جواد الموسیٰ خطبہ صدارت کے لیے اسٹیج پر تشریف لائیں تو انہوں نے جناب کرامت اللہ غوری کو ڈالروں کاہار پہنایا، یہ ایک منفرد اور پرتکلف روایت ہے جس کا سہرا ڈاکٹر صالحہ کے خلوص اور ادب دوستی کے سر جاتا ہے۔

اس کے بعد مشاعرے کا باقاعدہ آغاز ناظم مشاعرہ معروف ادبی شخصیت جناب فخر عالم نے کیا۔ تمام شعرائے کرام نے خوب کلام سنایا اور سامعین محفل سے خوب داد سمیٹی ۔ باذوق حاضرین محفل جن میں کویت کی علمی و ادبی شخصیات کی کثیر تعداد موجود تھی شعرائے کرام کو بھر پور داد دے کر محفل کو گرماتے رہے ۔

 تنگی وقت کے پیش نظر بہت سے شعرائے کرام سے معذرت کرنی پڑی، مشاعرے میں جن شعرا ئے کرام نے اپنا کلام پیش کیا ان میں جناب محمد حنیف کاتب ،جناب اصغرعلی اعجاز چشتی ،جناب عامر قدوائی، جناب فیاض وردگ، جناب عیسیٰ بلوچ ، جناب ڈاکٹر منظر عالم منظر، جناب بدر سیماب، جنا ب ظہیر مشتاق، جناب افروز عالم ، جناب پروفیسر تسلیم اکبر، محترمہ شاہجان جعفری ،جناب کاشف کمال اور کرامت اللہ خان غوری شامل ہیں ۔

مشاعرے کے اختتام پرKPFAکے صدر رانا اعجاز حسین سفیر پاکستان جناب افتخار عزیز عباسی ، کرنل انجم مسعود پرنسپل انٹرنیشنل سکول و کالج پاکستان، اورKPFAکی ایگزیکٹیو باڈی نے مہمان شاعر کرامت اللہ غوری اور ڈاکٹر صالحہ جواد موسیٰ کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ بعد میںKPFA انچارج کمیونٹی آفیئرز جناب احسان الحق نے تمام حاضرین محفل کا شکریہ ادا کیا ۔ السید عبداللہ راشد الحفیتی کی طرف سے مہمانوں کی تواضع پرتکلف عشائیہ سے کی گئی۔مشاعرے میں بے حد پسند کیے جانیوالے اشعار کچھ یوں ہیں:

 بس دو گھڑی سکون کی خاطر

    میں نے ہر درد آزما ڈالا                    ظہیر مشتاق

 میں زخم خوردہ کلائی کو کیوں نہ چوموں اب

 کل اُس کے ہاتھ سے چُوڑی یہیں تو تھی ٹُوٹی           شاہجان جعفری

ہم ماں سے جدا ہو کے گھر آ کے بہت روئے

 روتے ہوئے بچوں کو سمجھا کے بہت روئے           عامر قدوائی

یونہی چُپ سادھ کے لیٹا رہا خاموشی سے

  میں نے تو اپنے جنازے میں بھی شرکت نہیں کی              کاشف کمال

جنگ تو جنگ ہے ٹل جائے تو اچھا ہو گا

   اب یہ ماحول بدل جائے تو اچھا ہو گا ۔            ڈاکٹر منظر عالم منظر

 بھلے ہی رات انہی پانیوں پہ کٹ جائے

  سحر کے پا ر ہمیں دوسرے کنارے کر۔           محمد حنیف کاتب

میں آپ ہی تھا وہاں کوئی نہ تھا

میں نے جو پردہ الٹ کے دیکھا۔           اصغر علی اعجاز چشتی

   راہی غلط خطیب غلط رہنما غلط   

 تعبیر خواب کی جو ملی با خدا غلط

        فیاض وردگ

 زرہ زرہ میری دنیا کا نمایاں تم سے

  کتنی بے نور فضاءتم سے بچھڑ کر ہو گی۔   

          افروز عالم

 مجھے معلوم جو ہوتا تو میں منصف نہیں بنتا

زمیں کیا بانٹ دی میں نے وہ پیارے بانٹ آیا ہوں ۔

      بدر سیماب

ہم نے بدلی نہیں رفتار زمانے کی طرح

ہم نے بیچی نہیں دستار زمانے کی طرح

تم نے دیکھی ہی کہاں میری کرامت ورنہ

تم بھی ہو جاتے گرفتار زمانے کی طرح

     کرامت اللہ خان غوری

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*