خوشگوار زندگی کے رهنما اصول (1)

 ڈاکٹرحافظ محمد اسحاق زاہد (کویت )

 اس دور میں تقریباً ٰہر انسان پریشان حال اور سرگرداں نظر آتا ہے ۔ کسی کو روزگار کی پریشانی ، کسی کو مالی وکاروباری مشکلات کا سامنا ، کسی پر قرضوں کا بوجھ ، کسی کو جسمانی بیماریاں چین اور سکھ سے سونے نہیں دیتیں ، کسی کو خاندانی لڑائی جھگڑے  بے قرار کئے ہوئے ہیں ، کسی کو بیوی بچوں کی نافرمانی کا صدمہ ، کسی کو دشمن کا خوف اور کسی کو احباءواقرباءکی جدائی کا دکھ …. غرضیکہ تقریباً ہر شخص کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا نظر آتا ہے اور ظاہر ہے کہ ہر شخص ان دکھوں ، صدموں اور پریشانیوں سے نجات بھی حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ حقیقی وسائل واسباب کون سے ہیں جنھیں اختیار کرنے سے دنیا کی مختلف آزمائشوں سے نجات مل سکتی ہے ؟…. آپ میں سے ہر شخص یقینا یہ چاہتا ہو گا کہ اسے ان دونوں سوالوں کے جوابات معلوم ہو جائیں تاکہ وہ ایک خوشحال وباوقار زندگی حاصل کر سکے اور دنیا کی پریشانیوں سے چھٹکارا پا سکے ۔ تو آئیے ہم کامیاب اور خوشحال زندگی کے حصول اور پریشانیوں وآزمائشوں سے نجات حاصل کرنے کے چند اصول ذکر کرتے ہیں، مجھے یقین کامل ہے اگر ہم ان پر عمل کریں گے تو ضرور بالضرور اپنے مقصود تک پہنچ جائیں گے:

پہلا اصول : ایمان وعمل

خوشگوار زندگی کا پہلا اصول ” ایمان وعمل “ ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴾ مَن عَمِلَ صَالِحًا مِّن´ ذَکَرٍ اَو´ اُن´ثیٰ وَہُوَ مُو´مِن فَلَنُح´یِیَنَّہُ حَیَاةً طَیِّبَةً وَلَنَجزِیَنَّہُم´ اَجرَہُم´ بِاَحسَنِ مَا کَانُو´ا یَعمَلُونَ ﴿ [ النحل : 97]  ” جو شخص نیک عمل کرے ، مرد ہو یا عورت بشرطیکہ ایمان والا ہو تو اسے ہم یقینا بہت ہی اچھی زندگی عطا کریں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور دیں گے ۔ “

 اور فرمایا : ﴾ اَلَّذِینَ آمَنُو´ا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبیٰ لَہُم وَحُسنُ مَآبٍ﴿ [ الرعد : 29] ” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان کیلئے خوشحالی بھی ہے اور عمدہ ٹھکانا بھی ۔ “

ان آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالی نے ہر ایسے شخص کو بہت ہی خو شگوار وکامیاب زندگی اور خوشحالی عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے جس میں دو شرطیں پائی جاتی ہوں ۔ ایک یہ کہ وہ مومن ہو اور دوسری یہ کہ وہ عمل صالح کرنے والا، باکردار اور بااخلاق ہو ۔ اور اگر ہم ان دونوں شرطوں کو پورا کردیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں خوشگوار زندگی نصیب نہ ہو کیونکہ اللہ تعالی اپنے وعدے میں سچا ہے اور وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔ ارشاد باری ہے : ﴾ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُخلِفُ المِیعَادَ ﴿ [ آل عمران : ۹ ] ” یقینا اللہ تعالی وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔ “

ہمیں یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ تمام انسانوں کی خیر وبھلائی ایمان اور عمل صالح میں ہی ہے۔ اگر انسان سچا مومن ہو اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہو اور ساتھ ساتھ باعمل ، باکردار اور بااخلاق بھی ہو ، اللہ کے فرائض کو پورا کرتا ہو ، پانچ نمازوں کا پابند ہو ، زکاة ادا کرتا ہو،رمضان کے فرض روزے بلا عذر شرعی نہ چھوڑتا ہو ، والدین اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتا ہو ، لین دین میں سچا اور وعدوں کو پورا کرتا ہو ۔ بد دیانتی ، دھوکہ اور فراڈ سے اجتناب کرتا ہو، حلال ذرائع سے کماتا ہو تو اللہ تعالی دنیا میں اسے ہر قسم کی خیر وبھلائی عطا کرتا ہے اور آخرت میں جنت کی نعمتیں اور اجر وثواب الگ ہے ۔

اِس کے بر عکس اگر کوئی انسان فاسق وفاجر ، بد کردار اور بد اخلاق ہو ۔ نہ نمازوں کی پروا کرتا ہو اور نہ زکاة دیتا ہو ، رمضان کے روزے مرضی کے مطابق رکھتا ہو اور طاقت ہونے کے باوجود حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کرنے کیلئے تیار نہ ہو ، والدین اور قرابت داروں سے بد سلوکی کرتا ہو ، اللہ کے بندوں کے حقوق مارتا ہو ، لین دین میں جھوٹ بولتاہو دھوکہ دہی اور بد دیانتی سے کام لیتا ہو اور حرام ذرائع سے کماتا ہو تو ایسے انسان کے متعلق ہمیں یقین کرلینا چاہئے کہ اسے لاکھ کوشش کے باوجود خوشگوار زندگی نصیب نہیں ہو سکتی ۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴾ وَمَن اَعرَضَ عَن ذِکرِی فَاِنَّ لَہُ مَعِیشَةً ضَنکًا ٭ وَنَحشُرُہُ یَومَ القِیَامَةِ اَعمیٰ ٭ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرتَنِی اَعمیٰ وَقَد کُنتُ بَصِیرًا٭ قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتکَ آیَاتُنَا فَنَسِیتَہَا وَکَذٰلِکَ الیَومَ تُنسیٰ ﴿ [ طہ : ۴۲۱ ۔ ۶۲۱ ]

 ” اور جو شخص میرے ذکر سے روگردانی کرے گا وہ دنیا میں یقینا تنگ حال رہے گا اور روزِ قیامت ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے ۔ وہ کہے گا : اے میرے رب ! تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا ہے ؟ دنیا میں تو میں خوب دیکھنے والا تھا ۔ اللہ کہے گا : اسی طرح تمھارے پاس میری آیتیں آئی تھیں تو تم نے انہیں بھلا دیا تھا اور اسی طرح آج تم بھی بھلا دئے جاو گے۔ “

ان آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالی نے خبردار کیا ہے کہ جو شخص میرے دین سے منہ موڑے گا اور میرے احکامات کی پروا نہیں کرے گا میں دنیا میں اس کی زندگی تنگ حال بنا دوں گا اور اسے خوشحال زندگی سے محروم کردوںگا ،پھر قیامت کے دن میں اسے اندھا کرکے اٹھاوں گا۔ وہ مجھ سے اس کی وجہ پوچھے گا تو میں کہوں گا : جیسا تم نے کیا آج ویسا ہی بدلہ تمھیں دیا جار ہا ہے ۔ تمھارے پاس میرے احکام آئے ، اہلِ علم نے تمھیں میری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائیں اور میرے نبی ( ا ) کی صحیح احادیث کو تمھارے سامنے رکھا لیکن تم نے ان سب کو پسِ پشت ڈال کر من مانی کی اور جو تمھارے جی میں آیا تم نے وہی کیا ۔ اسی طرح آج مجھے بھی تمھاری کوئی پروا نہیں ۔

اگر ہم واقعتا یہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمیں ایک باوقار اور خوشحال زندگی نصیب ہو تو ہمیں دین الہی کو مضبوطی سے تھامنا ہو گا اور من مانی کرنے کی بجائے اللہ تعالی کے احکام پر عمل کرنا ہو گا …. اور اللہ کا سب سے بڑا حکم یہ ہے کہ ہم صرف اسی کی عبادت کریں اور اس میں کسی کو شریک نہ بنائیں ۔ صرف اسی کو پکاریں ، صرف اسی کو نفع ونقصان کا مالک سمجھیں ، صرف اسی کو داتا ، مدد گار ، حاجت روا ، مشکل کشا اور غوث اعظم تصور کریں ۔ اگر ہم خالصتا ًاللہ تعالی کی عبادت کریں گے تو وہ یقینا ہمیں پاکیزہ اور خوشگوار زندگی نصیب کرے گا ۔ ورنہ وہ لوگ جو اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کے در پر جبینِ نیاز جھکاتے اور غیر اللہ کیلئے نذرو نیاز پیش کرتے ہیں ، غیر اللہ کو داتا ، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں اور انہیں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں توانہیں در در کی ٹھوکریں ہی نصیب ہوتی ہیں اور ذلت وخواری کے سوا اور کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴾ وَمَن یُّشرِک بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخطَفُہُ الطَّیرُ اَو تَہوِی بِہِ الرِّیحُ فِی مَکاَنٍ سَحِیقٍ ﴿ [ الحج :31]

 ” اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناتا ہے وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گراہو ، پھر پرندے اسے فضا میں ہی اچک لیں یا تیز ہوا اسے کسی دور دراز جگہ پر پھینک دے ۔ “

یعنی مشرک کاانجام سوائے تباہی وبربادی کے اور کچھ نہیں،

اللہ تعالی کا دوسرا بڑا حکم یہ ہے کہ ہم اس کے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کریں اور آپ کی نافرمانی سے بچیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ تعالی ہم سے راضی ہو گا کیونکہ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے ۔ اور جب اللہ تعالی راضی ہو گا تو یقینا وہ ہمیں خوشحال اور باوقار زندگی نصیب کرے گا ۔ اور اگر ہم رسول اللہا کی نافرمانی کریں گے اور آپ اکی سنت سے منہ موڑ کر دین میں ایجاد کردہ نئے امور (بدعات ) پر عمل کریں گے تو دنیا میں ( نعوذ باللہ ) ہم پر آزمائشیں ٹوٹ پڑیں گی اور قیامت کے روز ہمیں نبی کریم اکے ہاتھوں حوض کوثر کا پانی نصیب نہیں ہو گا اور آپ اکی شفاعت سے محرومی سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ، اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴾ فَلیَحذَرِالَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَن اَمرِہ اَن تُصِیبَہُم فِتنَة اَو یُصِیبَہُم عَذَاب اَلِیم ﴿ [ النور :63] ”لہذا جو لوگ اس ( رسول صلی اللہ علیہ وسلم )کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ کہیںوہ کسی مصیبت میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے ۔ “

اس آیت میں اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنے اس فعل سے باز آجائیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے ان پر کوئی آزمائش یا اللہ کا دردناک عذاب آ جائے ۔

 خلاصہ یہ کہ ایمان اور عمل صالح کی بناءپرہی ہمیں ایک کامیاب زندگی نصیب ہو سکتی ہے ۔ اور ایمان باللہ کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم عقیدہ توحید پر قائم رہیںاور ایمان بالرسل کا ایک لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہم رسول اللہ اکی اطاعت وفرمانبرداری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں اور آپ اکے اسوہ حسنہ کی روشنی میں زندگی بسر کریں ۔ اس طرح ہمیںدنیا کے دکھوں اور صدموں سے چھٹکارا ملے گا اور ہماری زندگی کامیابی کی راہ پر گامزن ہو جائے گی۔

دوسرا اصول : نماز

کامیاب اور خوشحال زندگی کا دوسرا اصول ” نماز “ ہے جو اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ رسول اکرم اکا ارشاد گرامی ہے : ( اَقرَبُ مَا یَکُونُ العَبدُ مِن رَبِّہ وَہُوَ سَاجِد فَاَکثِرُوا الدُّعَاءَ ) [مسلم : 482] ” بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہے ۔ لہذا تم (سجدے کی حالت میں ) زیادہ دعا کیا کرو ۔ “

جب بندہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے تب وہ جو چاہے اس سے طلب کر سکتا ہے ، اسی لیے اللہ تعالی نے نماز کے ذریعے مدد طلب کرنے کا حکم دیا ہے ۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں : ﴾ یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اس نُوا بِالصَّبرِ وَالصَّلاَةِ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِینَ ﴿ [ البقرة : 153] ” اے ایمان والو ! ( جب کوئی مشکل درپیش ہو تو ) صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو ۔ یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ “

اس آیت میں اللہ تعالی نے اہلِ ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ ہر قسم کی مشکل اور پریشانی کے ازالے کیلئے صبر اور نماز کے ذریعے اس سے مدد طلب کریں ۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالی صبر کرنے والے اور نماز پڑھنے والے بندہ مومن کی مدد فرماتا ہے اور اسے تمام مشکلات سے نجات دیتا ہے ۔ گویا نماز دکھوں اور صدموں کا مداوا ہے ، نماز ادا کرنے سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے اور غموں کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے ۔

اسی لیے رسول اللہ ا نے فرمایا : وَجُعِلَت قُرَّةُ عَینِی  فِی الصَّلاَةِ یعنی ” میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے ۔ “ [ احمد ، نسائی ۔ صحیح الجامع للا لبانی : ۴۲۱۳ ]

ایک عبرتناک قصہ

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے تاریخ دمشق میں ذکر کیا ہے کہ ایک فقیر آدمی اپنے خچر پر لوگوں کو سوار کرکے دمشق سے زیدانی پہنچاتا اور اس پر کرایہ وصول کرتا تھا ۔ اس نے اپنا ایک قصہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ میرے ساتھ ایک شخص سوار ہوا اور وہ راستے میں مجھ سے کہنے لگا : یہ راستہ چھوڑ دو اور اُس راستے سے چلو کیونکہ اس سے ہم اپنی منزل مقصود تک جلدی پہنچ جائیں گے ۔ میں نے کہا : نہیں میں وہ راستہ نہیں جانتا اور یہی راستہ زیادہ قریب ہے۔ اس نے کہا : وہ زیادہ قریب ہے اور تمھیں اسی سے جانا ہو گا ۔ چنانچہ ہم اسی راستے پر چل پڑے ۔ آگے جاکر ایک دشوار گذار راستہ آگیا جو ایک گہری وادی میں تھا اور وہاں بہت ساری لاشیں پڑی ہوئی تھیں ۔ اس نے کہا : یہاں رک جاو ۔ میں رک گیا ۔ وہ نیچے اترا اور اترتے ہی چھری سے مجھ پر حملہ آور ہوا ۔ میں بھاگ کھڑا ہوا ۔ میں آگے آگے اور وہ میرے پیچھے پیچھے ۔ آخر کار میں نے اسے اللہ کی قسم دے کر کہا : خچر اور اس پر لدا ہوا میرا سامان تم لے لو اور میری جان بخش دو ۔ اس نے کہا : وہ تو میرا ہے ہی ، میں تمھیں قتل کرکے ہی دم لوں گا ۔ میں نے اسے اللہ تعالی سے ڈرایا اور قتل کی سزا یاد دلائی لیکن اس نے میری ایک بھی نہ سنی ۔ چنانچہ میں نے اس کے سامنے رک کر کہا : مجھے صرف دو رکعت نماز پڑھنے کی مہلت دے دو ۔ اس نے کہا : ٹھیک ہے جلدی پڑھ لو ۔ میں نے قبلہ رخ ہو کر نماز شروع کردی لیکن میں اس قدر خوفزدہ تھا کہ میری زبان پر قرآن مجید کا ایک حرف بھی نہیں آرہا تھا اور اُدھر وہ بار بار کہہ رہا تھا : اپنی نمازجلدی ختم کرو ۔ میں انتہائی حیران وپریشان تھا ۔ آخر کار اللہ تعالی نے میری زبان پر قرآن مجید کی یہ آیت جاری کردی : ﴾اَمَّن´ یُّجِیبُ المُضطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکشِفُ السُّوئَ ﴿ ” بھلا کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کردیتا ہے ؟“ پھر میں نے اچانک دیکھا کہ ایک گھوڑ سوارہاتھ میں نیزہ لیے وادی کے منہ سے نمودار ہو رہا ہے ۔ اس نے آتے ہی وہ نیزہ اس شخص کو مارا جو مجھے قتل کرنے کے درپے تھا ۔ نیزہ اس کے دل میں پیوست ہو گیا اور وہ مر گیا۔ میں نے گھوڑ سوار کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا : تم کون ہو ؟ اس نے کہا : ” مجھے اس نے بھیجا ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کردیتا ہے ۔ “ پھر میں نے اپنا خچر پکڑا اور اپنا ساز وسامان اٹھا کر سلامتی سے واپس لوٹ آیا ۔

یہ قصہ اس بات کی دلیل ہے کہ بندہ مومن جب نماز کے ذریعے اللہ تعالی سے مدد طلب کرتا ہے تو وہ اس کی مدد ضرور کرتا ہے اور مشکل کے وقت اسے بے یارومددگار نہیں چھوڑتا ….

یاد رہے کہ نمازوں میں سب سے پہلے فرض نمازوں کا اہتمام کرنا ضروری ہے جو کہ دین کا ستون ہیں ۔ اس کے بعد سنت اور نفل نماز ، خصوصاً فرائض سے ماقبل اور مابعد سنتیں اور پھر تہجد کی نماز ….نمازتہجد کے دیگر فوائد کے علاوہ اس کا ایک عظیم فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی تہجد گذار کو جسمانی بیماریوں سے شفا نصیب کرتا ہے ۔ لہذا وہ لوگ جو علاج کرکر کے تھک چکے ہوں انہیں یہ نبوی علاج ضرور کرنا چاہئے ۔ رسول اللہاکا ارشاد گرامی ہے :

 عَلَیکُم بِقِیَامِ اللَّیلِ، فَاِنَّہُ دَابُ الصَّالِحِینَ قَبلَکُم،وَہُوَ قُربَةالٰی رَبِّکُم،وَمُکَفِّرا لِلسَّیِّئَاتِ،وَمَنہَاةالِلآثَام ِ، وَمَطرَدَة لِلدَّائِ عَنِ الجَسَدِ [ احمد والترمذی : صحیح الجامع للالبانی: 4079]

” تم رات کا قیام ضرور کیا کرو کیونکہ یہ تم سے پہلے صلحاءکی عادت تھی ۔ اور رات کا قیام اللہ کے قریب کرتا ہے ، گناہوں کو مٹاتا ہے ، برائیوںسے روکتا ہے اور جسمانی بیماری کو دور کرتا ہے ۔“

خلاصہ یہ ہے کہ جب آپ کی طبیعت میں پریشانیوں ، دکھوں اور صدموں کی وجہ سے تکدر آجائے اور آپ سخت بے چین ہو ں تو وضو کرکے بارگاہِ الہی میں آ جائیں اور ہاتھ باندھ کر اس سے مناجات شروع کردیں ۔ پھر بادشاہوں کے بادشاہ اور رحمان ورحیم ذات کے سامنے جھک کر اپنے گناہوں پر ندامت وشرمندگی کا اظہار کریں ، اس کے بعد اس سے مشکلات کے ازالے کا سوال کریں ۔ یقینا آپ کی بے چینی ختم ہو جائے گی ، سکون واطمینان نصیب ہو گا اور اللہ تعالی آپ کو خوشحال بنا دے گا ۔(جاری)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*