کل سے کل تک کا سفر

    یاسین سامی۔ کویت

انسان ہمیشہ اپنے ماضی کے دریچے میںجھانکتا رہتا ہے، ویسے ہر آدمی کا گزرا ہوا ہر لمحہ اپنی ترش وشیریں یادوں اور بد نما وخوش نما واقعات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنی اپنی شش وپنج کے ان گنت زاویوں سے اسے دیکھتا ہے۔ جب صورتحال خوشگوار ہو، آسائش وآرام کی سانس لے رہا ہو تو اسے دنیا بہت دلکش نظر آنے لگتی ہے، اور ماضی کے سنہرے اوراق الٹنے، ٹٹولنے اور پلٹنے لگتا ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کن جمیلا تری الوجود جمیلا ” خود خوبرو بن جا اپنے ارد گرد کی دنیا بھی سندر لگے گی“۔

بصورتِ دیگر اگر آفتوں کی آندھی چلنے لگی، آلائش وآلام کے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں تو نیندیں اڑ جاتی ہیں، زمین پاوں تلے سے کھسک جاتی ہے اور دنیا اپنی وسعت کے باوجود تنگ وتاریک اور ظلمت کدہ نظر آنے لگتی ہے۔

اب جو وقت گزر گیا سو گزر گیا اسے کوئی واپس نہیں لا سکتا “گزشت آنچہ گزشت “، مگر اس سے سبق ضرور حاصل کرنا چاہئے۔ حتی الوسع اپنی کوتاہیوںکا ازالہ کرتے ہوئے مستقبل کے لیے مثبت لائحہ عمل اور پلاننگ کے ساتھ ہمت ومصمم ارادے کے بل بوتے کھڑا ہونا ہو گا اور آگے بڑھنے کے لیے اولوالعزمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تاکہ ماضی کی بھول پھر سے مستقبل میں نہ دہرائی جائے۔

اگر ہم چند منٹ کے لیے اپنی عقل وخرد کو جنبش دیں تو دماغ ودل سے افکار وتخیلات اور جذبات وتجربات کے چشمے اور افشار پھوٹ پڑتے ہیں۔ تجربات کے امواج موجزن ہوتے ہیں، اس گھڑی میں قلم وقرطاس کو اٹھا کر تخیلات کے میدان کا شہسوار بنیں اور جہاندیدہ کے متعلق آراءقائم کرنے لگیں، گرد وپیش کی صورتحال کے نشیب وفراز کے واقعات کی تجسیم وتمثیل کریں، ان کی تصورانہ جسامت میں بواسطہ قلم وکاغذ سیاہی کی روح پھیریں تو یقینا زمانے کی گردش کے ساتھ ساتھ اپنے پاس گوناگوں موضوعات پر متنوع باتیں محفوظ ہو جائیں گی، متعدد اقسام کے تجربات ملیں گے جو ہمارے آنے والے اوقات کے لیے کارآمد ثابت ہوں گے، ہم اپنے کل سے سبق سیکھ کر اپنے کل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

یہ مسلم حقیقت ہے کہ زندگی صرف کامیابیوں کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں ناکامیاں بھی ہوتی ہیں، صرف خوشیوں کی نوید نہیں آتی ہے بلکہ غموں کے اندوہناک طوفان سے بھی گزرنا پڑتا ہے، فقط بلندیوں سے تعبیر نہیں ہے بلکہ گہرائیوں کی تہ تک لڑھکنی کھانے کا امکان بھی برابر ہے۔ مختصر یہ کہ زندگی آس ونراش، نشیب وفراز، خوشی وغمی، کامیابی وناکامی، شب وروز، بہار وخزاں کا نام ہے، مختلف مراحل ومواقف عمری سے گزرنا ہوتا ہے۔ جس طرح سرمدی دن کا ہونا نا ممکن ہے اور گردشِ لیل ونہار ضروری ہے اسی طرح زندگی کی بھی ایک ہی حالت ہونا محال ہے، جیسا کہ عربی مقولہ مشہور ہے دوام الحال محال ”حالت ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی ہے بلکہ کروٹیں کھاتی رہتی ہے“۔ اس مناسبت سے ایک عربی شعر یاد آرہا ہے کہ یوم لنا ویوم علینا ویوم نساءویوم نسر یعنی ایک دن ہمارے حق میں اچھا ثابت ہوتا ہے تو دوسرا روز ہمارے لیے بری خبر لے کر آتا ہے، ایک دن خوشی میسر آتی ہے تو دوسرے دن غمی۔ اور بیم ورجا کے سہارے جینے کا نام زندگی ہے۔

انسان کی زندگی تین دن کا نام ہے کل، آج اور کل۔ جو گزر گیا سو گزر گیا اس میں رد وبدل کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی، آنے والے دن کے بارے میں صرف اللہ تعالی جانتا ہے، البتہ جو وقت اس کے ہاتھ میں ہے وہ آج، یہی وقت اور ساعت ہے۔ اسے چاہئے کہ اپنے گزرے کل سے آج اور آنے والے کل کے لیے فائدہ حاصل کرے، جس سوراخ سے ڈسا گیا ہو یا جس کھائی میں اوندھے منہ گرا ہو ان کے قریب بھی اپنے آپ کو پھٹکنے نہ دے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ تعالی کا قول مشہور ہے کہ الدنیا ثلاثة ایام: امس قد ذھب بما فیہ، وغد لعلہ لیس من عمرک، ویوم انت فیہ۔ ۔ ۔ فاعمل فیہ الخیر ”دنیا تین روزکی زندگی ہے، کل جو گزر چکا، کل (آنے والا) شاید وہ تمہاری عمر کا حصہ نہ بن سکے اور آج کا روز جو تم گزار رہے ہو، اس میں جتنا ہو سکے نیکی کے کام کریں۔

عقلمند اور صاحب فہم وفراست وہی ہے جو اپنے ماضی کے تجربات کو مستقبل کے لیے مشعل راہ بنا لے، اپنے کل سے کل تک کا سفر بخیر وخوبی انجام دینے کے گر سیکھے۔ کیونکہ جو اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتا وہ دوسروں سے کبھی کچھ سیکھنے کے قابل نہیںہوتا ہے۔ 

٭٭٭

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*