جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا

    اعجازالدین عمری (کویت)

amagz@ymail.com

کویت کے ایک بازار میں سے گزرتے ہوے میری نظر ایک دوکان کے کتبہ اشتہار (سائن بورڈ )پر پڑی ، جس پرOTHER CARE M کے الفاظ لکھے تھے۔ اس دکان میں بچوں کے استعمال کی وہ ساری ضروری اور غیر ضروری چیزیں موجود ہیں مائیں عام طور پر جن کا اہتمام کرتی ہیں۔ ان اشیاءکا تعلق بچوں کے تن سے ہے ۔ ان کے گرم نرم کپڑے، ان کے جوتے اور موزے ، ان کے کھیل اور کھلونے وغیرہ

اس دوکان اور اس کے سائن بورڈ کو دیکھنے کے بعد مجھے لگا کہ زمانے کے اعتبار سے کتنا مناسب نام اس دوکان کے لیے اختیار کیا گیا ہے ۔ پھر یہ بھی سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ اس ملت کی یہ حالت کیوں کر ہوی ؟ اقبال نے کہاتھا

ترے صوفے ہیں افرنگی ، ترے قالیں ہیں ایرانی

لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

ایک دوسرے موقعہ پر فرمایا

رہزن ہمت ہوا ذوق تن آسانی ترا

بحر تھا صحرا میں تو، گلشن میں مثل جو ہوا

آج کی مائیں اپنے بچوں کے تن بدن کی ضرورتوں کی تکمیل ہی کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں ۔ ان کی دنیا ہی اس کی توجہ کا مرکز بنی ہوی ہے ۔ ان کی زندگی کو لے کر سو سو جتن کرتی ہیں ۔ دنیا میں ان کے مستقبل کی خاطر ہزاروں اندیشے دل میں لیے رہتی ہیں ۔

بچوں کا دل کائنات کے افق پر تجلی بکھیرنے والی سپیدی سحر کی مانند صاف و شفاف ہوتا ہے ۔ اس دل کی تختی میںجو لکھا جائے گااسی کو پڑھ پڑھ کر وہ جوان ہوتے ہیں۔ اس آئینہ میں جو نقش بنایا جائے گا اسی کا عکس اس کی شخصیت پر پڑتا ہے ۔

عہد طفولیت سے ہی ہر بچہ اس بات کی مسلسل کوشش کرتا ہے کہ وہ ایک ” مکمل انسان “ بن کر اپنی پہچان بنائے ۔ ماں باپ بچوں کو ان کی اسی منزل کی جانب رہنمائی کرنے والے سب سے پہلے رہبر و رہنما ہوتے ہیں ۔ اس پہلو سے ماں کا امتیازی مقام ہوتا ہے ۔ نپولین بوناپارٹ اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں شہرت یافتہ فرانسیسی سیاستداں اور حکمراں رہا ہے ۔ وہ کہا کرتا تھا ” تم مجھے اچھی مائیں دو ، میں تمہیں اچھی قوم دوںگا“ ۔ایک مشہور عربی شاعر نے نپولین کی اسی بات کو یوں دہرایا ہے

الامُّ مَدرَسَة اِذَا اَعدَدتَھا

اَعدَدتَ شَعبا طَیِّبَ الاَعراقِ

”ماں ایک درسگاہ ہے اگر تونے اسے تیار کرلیا تو گویا تونے اچھی نسلوں کی بنیاد ڈال دی“

اقبال نے اپنی ماں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوے کہا تھا

تربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہوا

گھر مرے اجداد کا سرمایہ عزت ہوا

دفترِ ہستی میں تھی زرّیں ورق تیری حیات

تھی سراپا دین ودنیا کا سبق تیری حیات

ماں بچوں کو زندگی کے اسرار سکھاتی ہے ۔ وہ ان کے دل کی زمین میں ایمان و یقین کا بیج بوتی ہے ۔ انگلی تھام کر رشد و ہدایت کی راہ میں انہیں چلاتی ہے ۔ ان کے سینوں میں غیرت کی روح پھونکتی ہے ۔ اللہ اور رسول سے ان کا رشتہ جوڑتی ہے ۔ سچائی کا دیپ جلا کر ان کے من کے اندھیروں کو دور بھگاتی ہے ۔ ان کے ارمانوں میں صدق و صفا کا چھڑکاو کرتی ہے ۔

ہماری مائیں یہی سب کرتی تھیں ۔ انہیں بنیادوں پر بچوں کو تربیت دے کر پروان چڑھاتی تھیں ۔ پھر اچانک ہمارا طرزِ فکر بدل گیا ۔ جن قدروں کی ہم جان دے کر حفاظت کیا کرتے تھے وہ قدریں پامال ہوگئیں ۔ مادہ پرستی نے ہمارے فکر و نظر کو دیمک بن کر چاٹ ڈالا ۔دنیا کو منزل مقصود بنا لیا تو دین بیزاری ہم میں عام ہوگئی۔ تن مطمح نظر بنا تو روح گھائل ہوکر رہ گئی ۔

 پہلے اس قوم میں ”کم پڑھی لکھی ‘ اور ’گنوار‘ عورت ماں ہوا کرتی تھی ۔ وہ اتنا نہیں جانتی تھی جتنا آج کی ماں جانتی ہے ۔ مگر اُس کے جہل نے اُسے اتنا نقصان نہیں پہنچایا تھا جتنا اِس کے علم نے اسے برباد کیا ہے ۔ تب وہ ایسی پختہ تر نسلوں کی معمار ہوا کرتی تھی جن کے قدم کارزار حیات میںکبھی نہ ڈگمگاتے تھے ۔ اس وقت سماج میں قدریں پنپتی تھیں ۔ وہ ہم سے زیادہ نصیب ور ہوتے تھے ۔۔وہ سب مل جل کر رہتے تھے ۔ تب دین تھا ، کردار تھا اور گلشن حیات میں رنگ و نور کے ملن کا سماں بنتا تھا ۔ ہر سو گلہائے محبت کی مہک رہتی تھی ۔

وہ مائیں اپنے بچوں کو چھاتی کا دودھ پلاتی تھیں اور زندگی کے آداب سے انہیں روشناس کراتی تھیں ۔ ان کے منہ میں تر نوالے رکھتی تھیں اور ان کے کردار و گفتار کو سدھارتی تھی۔ خوش منظر و خوش رنگ لباس انہیں پہناتی اور خیر و شر اور نیکی و بدی میں تمیزبھی سکھاتی تھیں ۔ انگلی پکڑ پکڑکر زمین پر قدم رکھنے کا ہنر سکھاتی تھی تو سبک روی اور نرم چال کی تعلیم بھی دیتی تھیں ۔ اس کے کھلونوں کا انتظام بھی کرتیں اور انہیں چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کی عزت کے جذبات سے بھی آشنا کراتی تھیں۔

اب ’ماں‘ بدل چکی ہے ۔اس نے ذوق نظر کی ’نفاست‘ کھودی ہے۔ اس کے جذبات کی ’لطافت‘ ختم ہوچکی ہے ۔ اس کے احساسات میں’ پاکیزگی‘ باقی نہیں رہی ۔ وہ ’تہذیب حاضر‘ کی عاشق بنی ہوی ہے۔ اب اس ’ہرجائی‘ میں اپنے دین و ایمان سے ’وفا‘ کا رشتہ کمزور پڑچکا ہے ۔ اپنے دین اور اپنی روایتوں سے وہ منہ موڑ چکی ہے ۔ ایسی زندگی سے وہ رشتہ جوڑ بیٹھی ہے جہاں روحانیت دم توڑ چکی ہے ۔مغرب کی جانب بڑھنے والااس کا ہر قدم اسے اپنی منزل سے بعیدترکررہا ہے ۔ جس کا پورا اثر اس کی گود ی میں پلنے والے بچوں پر پڑ رہا ہے ۔

شور ہوتا رہا مے خانوں میں

حسن لٹتا رہا ایوانوں میں

رات ڈھل جانے کو تھی جب فقری

سسکیاں مل گئیں آذانوں میں

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*