مولانا غلام محمد وستانوی

  محمد خالد اعظمی (کویت)

khalid.azmi64@gmail.com      

مہتمم جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اور سابق مہتمم جامعہ دارالعلوم دیوبند سے ایک ملاقات

 ممبئی سے 400کیلومیٹردور ایک بے آب وگیاہ میدان اکل کوامیںدینی وعصری علوم کاوہ مرکز ہے جس میں صبح سے شام تک علمائے کرام قرآن وحدیث کے دروس دے رہے ہیں تو دوسری طرف عصری علوم کی لیبارٹری میں پروفیسر صاحبان لکچرزبھی دےتے ہیں ، یہ ادارہ شرعی اور عصری علوم کا ایسا سنگم ہے جس کی مثال ہندوستان میں نہیں پائی جاتی۔  دراصل ہندوستان کی معروف علمی شخصیت،ماہر تعلیم اورعالمی شہرت یافتہ دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبندکے سابق مہتمم مولانا غلام محمد وستانوی کی 30 سالہ جدوجہد کا نتیجہ ہے ۔مولانا وستانوی کو جب دارالعلوم دیوبندکا مہتمم بنایا گیاتو عام طور پر اس کاخیرمقدم کیا گیاتھا، مولانا وستانوی نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔اس لیے سمجھا جارہاتھاکہ اس مشہور زمانہ اورتاریخی دینی درسگاہ میں جدید علوم کی تازہ ہوا کے جھونکے بھی آئیں گے۔لیکن حالات نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اس شخص نے اتنی کم مدت میں جس طرح کا تعلیمی ادارہ قوم کے حوالے کیاہے وہ واقعی قابل رشک ہے، ہماری قوم کے پاس مال ودولت کی کمی نہیں ہے اگر کمی ہے تو مناسب منصوبہ بندی کی ۔ آپ کی کویت آمد کی مناسبت سے راقم سطور نے ان سے ملاقات کی اور ماہنامہ مصباح کے لیے ایک انٹرویو لیا جسے ذیل کے سطور میں پیش کیاجارہا ہے ۔

سوال:آپ کا تعارف اورآپ کی ابتدائی اور اعلی تعلیم کہاں ہوئی؟

جواب: میرا نام غلام محمد بن الحاج وستانوی ہے، میں گجرات کے ضلع سورت کے گاؤں کوداڈیہ کارہنے والا ہوں ، اس کے قریب ’وستانہ‘ گاؤں میں میرے والد نے کچھ زمین خریدی تھی ، جو اس وقت ایک چھوٹاسا گاؤں تھا، جہاں نہ اسکول تھا اور نہ ہی کوئی مدرسہ لہذا میں نے اپنی تعلیم ننھیال میں حاصل کی، لیکن’ وستانہ ‘اب بہت بڑا گاؤں ہوگیاہے، اسی کی طرف نسبت کرتے ہوئے میں ’وستانوی‘ لکھتاہوں۔میری ابتدائی تعلیم گجرات کے ضلع بڑودہ کے مدرسہ شمس العلوم میں ساتویں کلاس تک ہوئی ، مزید تعلیم کے لیے جامعہ فلاح الدارین ترکیسور اور دورہ حدیث کے لیے جامعہ مظاہرالعلوم سہارنپور گیا، جہاں سے1973ءمیں فراغت کی۔

سوال:اکل کوا میں ادارہ قائم کرنے کا ارادہ کیسے آیا؟۔

جواب: اپنے ایک شاگرد کی دعوت پر اکل کوا کا سفرکیا، جب وہاں پہونچا تو گاؤں کی غربت وافلاس دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا۔اللہ تعالی نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ کیوں نہ میں اس گاؤںمیں سکونت اختیار کرلوں، لہذا اللہ کا نام لے کر رہنا شروع کردیا ، ساتھ ہی گاؤں کے حالات قلمبند کرکے اکابرین کی خدمت میں بھیجتارہا، حسن اتفاقکہ تمام اکابرین نے اسی گاؤں میں رہنے کی تلقین کی، لہذا میں نے گاؤں والوں کے سامنے یہ بات رکھی کہ اس گاؤںمیں ایک ادارہ قائم کرنا چاہتاہوں، اتنا سننا تھا کہ ایک صاحب نے کہا کہ میں ادارہ کے لیے تین ایکڑزمین وقف کرتاہوں، دوسرے ہفتے ایک دوسرے صاحب نے بھی تین ایکڑ زمین دینے کا وعدہ کیا، اس طرح زمین کا مسئلہ حل ہوگیا۔ اب جہاں تک کمرہ بنانے کا مسئلہ تھا تو یہ مسئلہ بھی بآسانی حل ہوگیا۔واقعہ یوں ہے کہ میرے ناناجان ساؤتھ افریقہ مقیم تھے، وہ ہندوستان تشریف لائے اور میرے عزائم کو دیکھا اور لوگوں سے سنابھی تو انہوں نے 18ہزار روپئے ادارے کے لیے دیے،میں نے ابتداءاً کچھ کمرے بنواکر تعلیم شروع کردی اور اپنے بھائی حافظ محمد اسحاق کو استادمقرر کردیا۔ اسی زمانہ میں رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے بھی مدرسہ کو کچھ رقم دی تھی جس کی وجہ سے مزید مدرسہ کا کام ہوگیا۔جب میں1981ءمیں ساؤتھ افریقہ گیا تھا وہاں ہمارے علاقہ کے لوگوں نے کافی تعاون کیا۔اس طرح باضابطہ ادارہ کا سنگ بنیاد حافظ قاری صدیق باندی رحمہ اللہ کے ہاتھوں رکھوایا۔

سوال:جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم کا تعارف ؟

جواب: جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا، نندربار مہاراشٹر، کا قیام اس وقت عمل میں آیا جب میں 1979ءمیں ایک دعوتی سفر پر ست پڑا کے علاقے میں آباد مسلم بستی کا علمی وعملی جائزہ لینے گیا تو وہاں کی بدعات ورسومات اور جہالت کی تاریکیوں کو چھانٹنے کے لیے ایک مدرسے کے قیام کا فیصلہ کرلیا۔

1979ءمیں اکل کوا کی سرزمین پر جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم کاقیام عمل میں آگیا، عزم تھا کہ دیہی اور پس ماندہ علاقوں کے مسلمان بچوں کو ابتدائی بنیادی تعلیم دلاکران کا اسلامی عقیدہ پختہ کردیں۔ تاکہ وہ خوداپنے علاقہ میں واپس جاکر اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے نونہالوں کو دین کی بنیادی تعلیم سے آراستہ کرسکیں۔ نورانی قاعدہ ، قرآن کی صحت وتجوید کے ساتھ تلاوت ، مختصر مگر جامع احادیث ،نماز روزے سے متعلقہ مسائل اور زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے آگاہ کرکے انھیں اپنے وطن واپس لوٹانے میں جامعہ کامیاب رہا ۔ ابھی جامعہ کی کل عمر 30سال سے قدرے متجاوز ہوگی ، اس دوران جامعہ کی حیرت انگیز کامیابی صرف اللہ پاککی غیبی مدد اور معاونین ومخلصین کی توجہ کا نتیجہ ہے۔

سوال: جامعہ کی تاسیس کے مقاصد کیا تھے؟۔

جواب:جامعہ قائم کرنے کا میرا مقصدصرف یہ تھاکہ کسی طرح قوم وملت کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھایا جائے ، بنیادی تعلیم کے ساتھ فنون معاش سے بھی آراستہ کیاجائے اور عوام کے لیے سوشل ریلیف کے ساز وسامان مہیا کرائے جائیں۔

سوال:آپ نے اپنے ادارہ کی جانب سے اشاعتی خدمات بھی انجام دی ہیں؟

جواب: جامعہ اکل کوا اپنے دینی، سیاسی اورسماجی مقاصد کو تمام لوگوں تک پہونچارہاہے ، ٹھیک اسی طرح تحریر ی شکل میں اپنا پیغام انمٹ بنانے اور لوگوں کو دنیا وآخرت میں مفید تر شخصیت میں اجاگر کرنے کے لیے کتابوں،رسالوں اور مختلف النوع لٹریچرکی شکل میں اپنی مہم کو تیز ترکئے ہوئے ہے ۔

اس کے لیے جامعہ گجراتی زبان میں ایک ماہنامہ  ’بیان مصطفی‘ کے نام سے نہایت محدود شکل میں نکالاتھا، جس کا دائرہ کار اور دائر ہ اثر اب بڑھ کر اتنا وسیع ہوچکاہے کہ ہر ماہ ’بیان مصطفی‘ بارہ ہزار کی تعداد میں چھپ کر قوم وملت کے پیاسے افراد کی علمی وعملی تشنگی دورکرتاہے ۔

اس کے علاوہ عرب ممالک کو اپنی سرگرمیوں سے واقف کرانے کے لیے ہم نے عربی زبان میںسہ ماہی مجلہ ’النور‘نکالاہے۔اور اردو زبان میں ’شاہراہ علم ‘کے نام سے سہ ماہی مجلہ بھی نکالا جس کی تعداد دوہزار کے قریب ہے۔

سوال:اس وقت جامعہ کی کیا صورت حال ہے ؟

جواب: اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت جامعہ تناور درخت بن گیا ہے ، اور لوگ اس کا اعتراف ہر طرح سے کرنے کے لیے تیار ہیں ۔

سوال: عام طور پر دیکھا گیاہے کہ لوگ لڑکوں کوتعلیم وتربیت کے زیورسے آراستہ کرتے ہیں لیکن لڑکیوں کو نظر انداز کرتے ہیں آپ کا کیا خیال ہے؟

جواب: الحمدللہ میں نے لڑکیوں کی تعلیم کی طرف خاص توجہ دی ہے ، لڑکیوں کی تعلیم کے لیے 20 ادارے بنوائے ہیں جس میں8000 طالبات باضابطہ ہوسٹل میں رہتی ہیں۔آٹھ سال کی عمرمیںبچیوںکا داخلہ لیاجاتاہے اور بلوغت سے پہلے ان بچیوں کو ان کے والدین کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اس طرح کے ادارے ملک کے مختلف صوبوں میں قائم ہیں۔

سوال:مسلم قائدین کی صورتحال کیسی ہے ؟

جواب:مقامی سطح کی قیادت تو ہمارے معاشرے میں موجود ہے لیکن قومی قیادت کا فقدان ہے جس کی وجہ سے مسلم مسائل کو قومی سطح پر اٹھانا مشکل ہوتاہے ۔

سوال: مسلمانوں کے لیے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ؟

جواب: مسلمان جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ سب پر عیاں ہے ، اس کا واحد علاج یہ ہے کہ ہم کتاب اللہ اور سنت رسول ا کی طرف لوٹ آئیں۔پھرتعلیم حاصل کریں کیوں کہ تعلیم کے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا، اگر لوگوں سے مقابلہ کرنا ہے تو تعلیم کو ہتھیار بنائیں، اسی طرح ہم پہلے سچا مسلمان بنیں اور فضولیات سے دوررہیں۔ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ فرمایا کرتے تھے کہ” اگرمسلمان باعزت زندگی گزارنا چاہتاہے تو وہ بااخلاق بنے “۔

سوال:آپ کے ذریعہ اب تک کیا کیا کام ہوئے ہیں ؟

جواب: اللہ کا شکر ہے کہ میرے ذریعہ بہت سارے کام ہوئے ہیں بالخصوص پسماندہ علاقوں میں تعلیمی بیداری لانے کی کوشش کی ہے، اس کا نتیجہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کے ماتحت 2500 مکاتب ملک کے مختلف علاقوںمیں چل رہے ہیں جس میں ڈیڑھ لاکھ طلباءوطالبات علم سے بہرور ہورہے ہیں۔اور ان مکاتب کا ماہانہ خرچ ڈھائی کروڑ ہے ۔ پانچ ہزار مساجد میری سرپرستی میں بن کرتیار ہوچکی ہیں جس میں پنج وقتہ نمازیں ہورہی ہیں۔ اور بہت ساری وہ مساجدجو مکمل نہیں تھیں ا نہیں مکمل کروائی ہیں۔ میڈیکل کیمپ بھی ہماری سرپرستی میں چل رہے ہیں، تین سو سے زائد افراد کے موتیابند کے آپریشن بھی کروائے گئے ہیں۔

سوال:آپ کے ادارے کے طلباءدعوت وتبلیغ کا کام کس طرح انجام دیتے ہیں ؟

جواب: آپ کا یہ سوال بہت ہی اہم ہے کیونکہ دعوت وتبلیغ ہم سب کا بنیادی فریضہ ہے،ہمارے ادارے کے طلباءچاہے وہ مدرسہ سے منسلک ہوں ،یا کالج سے سبھی چھٹیوں کے ایام میں قرب وجوار کے علاقوں میں جاتے ہیںاوردعوت وتبلیغ کا فریضہ بحسن خوبی انجام دیتے ہیں۔

سوال:آپ کی سب سے بڑی خواہش کیاہے ؟

جواب: میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ کسی طرح سے میڈیکل کالج کا قیام عمل میں آئے اور قوم کے بچے اعلی جدیدتعلیم سے آراستہ ہوکر قوم وملت کے کام آسکیں۔

ان شاءاللہ ماہ جون سے میڈیکل کے لیے طلباءکا داخلہ شروع ہوجائے گا۔

سوال:خلیج میں رہنے والے مسلمانوں کو کیا مشورہ دیں گے؟

جواب:خلیج میں رہنے والے مسلمانوں سے میں یہی کہوںگاکہ وہ قرآن وحدیث کی تعلیمات سے وا قف ہوں، اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کی طرف توجہ دیں۔ اور فضول خرچی سے پرہیز کریں ، کیونکہ خلیج میں رہنے والے افراد اپنے پیسوں کو پانی کی طرح بہاتے ہیں جس کا نتیجہ بڑا خراب نکلتاہے۔اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی اسکیمیں بنائیںاوراپنے اطراف میں رہنے والوں کوفائدہ پہنچائیں۔ اور قرآنی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے مکاتب کا قیام عمل میں لائیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں میں قوم وملت کے تئیں بیداری لائے ۔آمین

٭٭٭

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*