آپ کے مسائل اور ان کا حل

صفات عالم محمد زبير التيمي

نمازمیں بُرے خیالات کا آنا
سوال:جب میں نماز شروع کرتا ہوں تو نماز میں بُرے خیالات آنے لگتے ہیں ،اب تو حال یہ ہوگیا ہے کہ میری نمازیں بھی چھوٹنے لگی ہيں حالانکہ پہلے میں پنجوقتہ نمازوں کا پابند تھا ؟    (عبدالعلیم ۔ اندلس، کویت )
جواب: سب سے پہلے آپ یہ بات ذہن نشیں کر لیں کہ آپ کی نمازوں کے فوت ہونے کی بنیادی وجہ گناہوں اور معاصی کاارتکاب کرناہے یہ ایساہتھیار ہے جس کے ذریعہ شیطان بندے کو بآسانی اپنا یرغمال بنا لیتا ہے اور اسے شعور بھی نہیں ہوتا ، اسی طرح ٹیلیویژن اور انٹر نیٹ کے فحش پروگرام دین سے دوری پیدا کرنے میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں ۔ اور جب ایک آدمی گناہ کرتا ہے تواس کا براہ راست اثر دل پر پڑتا ہے جوانسانی جسم کا مرکزی عضو ہے، اگر یہ ٹھیک رہا تو جسم کی ساری کارگزاریاں ٹھیک رہتی ہیں اور اگر یہ خراب ہوگیا تو جسم کی ساری کارگزاریاں خراب ہو جاتی ہیں ۔
اور ہرشخص اپنے دل کا حال بذات خود اچھی طرح جانتا ہے، اس لیے ہم آپ کو ناصحانہ مشورہ دیںگے کہ پہلی فرصت میں اپنے دل کا جائزہ لیں اس میں جو بُرے خیالات بیٹھے ہیں انہیں کھرچنے کی کوشش کریں،نماز اللہ تعالی سے مناجات اور سرگوشی ہے اورسرگوشی کی لذت آخر گنہگار بندے کو کیوں کر نصیب ہوسکتی ہے ۔کیا یہ ممکن ہے کہ آگ اور پانی دونوں ایک ساتھ اکٹھا ہوجائے ….؟
اگر ہم گناہوں سے باز آجائیں ، قرآن کریم کی تلاوت کرنے لگیںاور موت کو ہروقت ذہن میں تازہ رکھیں توکوئی وجہ نہیں کہ ہماری یہ حالت برقرار رہے جس سے فی الوقت دوچار ہیں۔پھر اس کے بعد نماز کی ادائیگی بے حد آسان ہوجائے گی اور ذہن میں بُرے خیالات بھی راہ نہ پائیں گے ۔
بہرکیف نماز میں بُرے خیالات سے بچنے کے لیے تین باتیں دھیان میں رکھیں :
(1) جب نماز کے ليے کھڑے ہوں تو اللہ کی عظمت وجلال کو دل پرطاری کرلیںکہ ہم ایک عظیم ہستی کے سامنے کھڑے ہیں، جب بندہ اللہ اکبر کہتا ہے تو آخر یہی اعتراف کرتا ہے نا کہ اللہ سے بڑھ کر کوئی ذات نہیں ۔
(2) نماز کے اذکار واوراد، سورتوں اور دعاو ¿ں کے معانی کو ذہن میں ازبر رکھیں اور پڑھتے وقت ان کے معانی پر بھی غورکریں ۔
(3) اس کے باوجود بھی اگر وسوسہ بدستورقائم ہے تو اللہ کے رسول انے اس کا خاص علاج بتادیا ہے کہ نماز کی حالت میں اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دیں اور شیطان رجیم سے پناہ مانگیں ۔حضرت عثمان بن ابی العاص ص کا بیان ہے میں نے کہا: یا رسول اللہ ا شیطان میرے اور میری نماز کے بیچ حائل ہوجاتا ہے اور میری قرأ ت کومجھ پر خلط ملط کردیتا ہے ، آپ نے فرمایا : ذَاکَ شَیطَان یُقَالُ لَہ خَنزَب فَاِذَا أحسَستَہ فَتَعَوَّذ بِاللّٰہِ مِنہ وَاتفِل عَلیٰ یَسَارِکَ ثَلاثاً ”یہ شیطان ہے جسے خنزب کہا جاتا ہے ، جب ایسا احساس پیدا ہو تو اس (کے شر) سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنے بائیں جانب تین بار تھوک دو “ حضرت عثمان بن ابی العاص ص کا بیان ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا چنانچہ اللہ تعالی نے میری شکایت دور کردی ۔ (صحیح مسلم)
گری پڑی چیز کا حکم
سوال: اگر کسی کو راستے میںگری پڑی چیز ملے تو اُسے کیا کرنا چاہیے ؟ ( محمد طالب : کویت )
جواب: راستے میںکوئی بھی گری پڑی چیزتین حالتوں سے خالی نہیں ہوسکتی
(1) معمولی چیز جس کی بالعموم لوگ پرواہ نہیں کرتے : ایسی چیز کو اٹھایا جاسکتا ہے اور اسے استعمال بھی کیا جا سکتا ہے
(2) وزنی اور ثقیل چیز جس کا عادتاً بآسانی منتقل ہونا ممکن نہ ہو: ایسی چیز کو اٹھایانہیں جاسکتا بلکہ اسی جگہ پر چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ مالک آکر اٹھالے جائے
(3) قیمتی چیز یا ایسی چیز جس کوعادةً معمولی نہیں سمجھا جاتا : ایسی چیزکو اٹھانا اسی کے لیے جائز ہوگا جو اس کا اعلان کرسکتاہو ، یہ اعلان مسلسل ایک سال تک کرنا ہے ۔ اگر ایک سال گزرنے کے بعد بھی سامان کے مالک کا سراغ نہ لگ سکے تو سامان کی پہچان اور اس کی قیمت کا تعین کرکے اعلان کرنے والا اسے استعمال کر سکتا ہے اس شرط پرکہ سامان والا جب کبھی آجائے اسے اس کی قیمت چکانی ہوگی اور اگر نہ آیا تو سامان اعلان کرنے والے کی ملکیت ہوگا ۔
ریڈیو کی تلاوت پر سجدہ ءتلاوت
سوال:جب ہم گاڑی میں بیٹھ کر تلاوت قرآن سنتے ہیں تو کیا اس پر سجدہ تلاوت کرنا چاہیے اور اگر کرنا چاہیے تو کس وقت ؟
( محمد طالب: کویت )
جواب:سجدہء تلاوت اسی وقت مستحب ہے جب کہ آدمی خود تلاوت کررہاہو یا براہ راست تلاوت سن رہا ہو ، کیسٹ ، سی ڈی ، ریڈیواور ٹیلیویژن کی تلاوتیں ہمارے لیے براہ راست نہیں ہوتی ہیںاس لیے انہیںسن کر سجدہ ¿ تلاوت کرنے کی ضرورت نہیں ۔
والدین کی رضامندی سے شادی
سوال: میرے رشتہ دار میں ایک لڑکی ہے جس سے میں شادی کرنے کا خواہشمند ہوں تاہم میرے والدین اس سے شادی کرنے پر راضی نہیں ہیں ‘ وہ بضد ہیں کہ میں اس سے شادی نہ کروں؟ ( رضوان : کویت )
جواب:مغربی تہذیب کے اثرات اور مردوزن کے آزادانہ اختلاط کے نتیجے میں آجکل اس طرح کے معاملات بہت زیادہ سامنے آرہے ہیں ۔ لڑکے اور لڑکیوں کی پسند الگ ہوتی ہیںجبکہ ان کے والدین کی پسند الگ۔
اس سلسلے میں اصولی بات یہ ہے کہ لڑکی کی شادی میں ولایت کی شرط رکھی گئی ہے ،بغیر ولی کے لڑکی اپنی شادی نہیں کرسکتی جبکہ لڑکا اپنی شادی کا کلی اختیار رکھتا ہے ، وہ جہاں چاہے اپنی شادی کرسکتا ہے ،والدین کا کام تعاون کرنا ہے اور بس ۔ ہر والدین کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنے لڑکے کے لیے عمدہ اور نفیس کپڑا چن سکتے ہیں، لذیذ اور مزیدار کھانے کا انتخاب کر سکتے ہیں لیکن کوئی ضروری نہیں کہ وہ اپنے لاڈلے کے لیے ایسی بیوی اختیار کرپائیں جس سے اسے پُرسکون اور خوشگوار ازدواجی زندگی میسر ہو ۔
آپ بھی یاد رکھیں کہ ہروالدین اپنے جگرگوشے کی خیرخواہی ہی چاہتے ہیں، ممکن ہے مذکورہ لڑکی سے شادی پررضامند نہ ہونے کی کوئی معقول وجہ ہوجس کی طرف آپ کا دھیان ابھی نہیں جا رہا ہے، اس لیے افضل یہی ہے کہ آپ ایسی دوشیزہ سے شادی کریں جسے والدین پسند کرتے ہوں تاکہ شادی کے بعد والدین اور بیوی میں ہم آہنگی کی صورت پائی جائے تاہم والدین کی بات رکھنے کے لیے ایسی لڑکی سے شادی کرنے پر حامی نہ بھریں جسے آپ پسند نہ کرتے ہوں ۔ اس سلسلے میں میری رائے یہ ہوگی کہ آپ اپنے والدین کو لڑکی کے تئیں قائل کرنے کی کوشش کریں،اپنے چچا، اپنی پھوپھیوں ، اپنی خالاؤں یا رشتے دار میں جو والدین کی نظر میں باعزت سمجھے جاتے ہوں ان کے ذریعہ والدین تک اپنے دلی جذبات پہنچائیں ۔
اگر ہرطرح کی کوشش کے باوجود والدین بضد ہیں توان کی رضامندی کو ترجیح دیں اور انہیں ناراض کرکے مذکورہ لڑکی سے شادی نہ کریں یا کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جو والدین کی ناگواری کا باعث بنے ۔اسی میں دین ودنیا کی بھلائی مضمر ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*