مرنے کے بعد مردوں کو فائدہ پہنچانے والے اعمال

 مولانا محمد انور محمد قاسم سلفی (کویت)

انسان کی زندگی چند روزہ ہے ،اس زندگی کے اختتام کے بعد وہ برزخی زندگی میں قدم رنجہ ہوتا ہے ، جہاں پر انسان کے کئے ہوئے اعمال نعمت یا عذاب کی شکل میں اس کے سامنے آتے ہیں، اس زندگی میں قدم رکھنے کے بعد انسان نیک اعمال کرنے کی حسرت کے باوجود کچھ بھی نہیں کر سکے گا ۔ لیکن اﷲ تعالیٰ کا مومنوں پر یہ بھی بے پایاں کرم واحسان ہے کہ اس نے انہیں ثواب پہنچانے کی اجازت دے رکھی ہے جس سے انہیں قبر میں نعمتیں ملتی ہیں، درجات بلند ہوتے ہیں اور عذاب سے راحت ملتی ہے ۔ میت کو ثواب پہچانے کا موضوع زندوں اور فوت شدگان سب کے لیے اہم ہے، زندوں کے لیے  خصوصاً اس لیے کہ وہ اپنی عمر کے لمحات کو غنی مت جانیں اور دنیائے فانی سے اپنا حصہ حاصل کرتے ہوئے آخرت کے لیے عمل کریں ۔اور فوت شدگان کے لیے بھی اس معنی میں اہم ہے کہ ہر زندہ شخص کے کوئی نہ کوئی ایسے رشتہ دار مثلاً ماں باپ ، بہن بھائی وغیرہ ضرور موجودہیں جو اس سے پہلے انتقال کرچکے ہیں، تو انہی کی طرح اس کو بھی ایک نہ ایک دن اس دار فانی سے کوچ کرنا ہے ، اس لیے زندوں کوچاہیے کہ وہ ایسے کام کریں جو مرنے کے بعد بھی ان کے لیے نفع بخش ہوں ۔مثلاً صدقہ جاریہ اور علم نافع وغیرہ،تاکہ وہ ان اعمال صالحہ کے ساتھ قبر میں داخل ہو۔ اور زندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے قریبی مرحوم بھائیوں کے لیے نیکی کریں ، اس لیے کہ جیسا عمل ہو گا ویسا ہی صلہ ملے گا ، اگر آپ نے اپنے مرحومین کے لیے کارِ خیر کیا تو آنے والی نسل آپ کے لیے نیک کام کرے گی ۔

 میت کے ایصالِ ثواب کی خاطر اتنے مسنون کام ہیں جو ہمیںہرقسم کے خرافات سے بے نیاز کرنے والے ہیں جن کے متعلق لوگوں کا گمان ہے کہ وہ میت کو فائدہ پہنچانے والے ہیں، جبکہ درحقیقت وہ میت کو فائدہ نہیں بلکہ اذیت پہنچانے والے ہیں ۔

 دوسروں کے عمل سے نفع پہنچانے والے کام

٭ نمازِ جنازہ : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” جس مسلمان میت کی نمازِ جنازہ چالیس ایسے مسلمان ادا کریں جو اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے ،تو اﷲ تعالیٰ اس میت کے حق میں ان کی سفارش کو ضرور قبول فرماتاہے “ ۔ [مسلم ] دوسری روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” جس میت کی نمازِ جنازہ امت مسلمہ کے سو افرادادا کرکے اس کی شفاعت کرتے ہیں تو ان کی سفارش اس میت کے حق میں قبول کی جاتی ہے “۔ [مسلم]

امام ابن قیم رحمہ اﷲ فرماتے ہیں : ” نمازِ جنازہ کا مقصد میت کے لیے دعا ہے “ ۔ [ زاد المعاد :1/505]

٭ قبر کے پاس کھڑے ہوکر دعا اور طلبِ مغفرت کرنا : حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کو قبر میں رکھتے تو فرماتے :(بِسمِ اﷲِ وَعَلٰی سُنَّةِ رَسُولِ اﷲِ) :” اﷲ تعالیٰ کے نام سے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر “۔ [رواہ ابوداؤد وصححہ البانی ]

نیز حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ :” جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میت کی تدفین سے فارغ ہوتے تو قبر پر کھڑے ہوکر فرماتے : ” اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو، اور اس کے لیے ( اﷲ تعالیٰ سے ) ثابت قدمی مانگو ، اس لیے کہ ابھی اس سے سوال کیا جائے گا “ ۔ [ ابوداؤد ، اورعلامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ]

٭ قبرستان کی زیارت اور میت کے لیے دعائے مغفرت: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب قبرستان تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے :اَلسَّلاَمُ عَلٰی اَھلِ الدِّیَارِ مِنَ المؤُ مِنِینَ وَالمُسلِمِینَ وَیَرحَمُ اللّٰہُ المُستَقدِمِینَ مِنَّا وَالمُستَاخِرِی وَاِنَّا اِن شَائَ اللّٰہُ بِکُم لاَحِقُونَ ۔

ترجمہ :”سلامتی ہو اِن گھروں میں رہنے والے مومنوں اور مسلمانوںپر، اوراللہ تعالی رحم کرے ہم سے پہلے فوت ہونے والوں پر اور پیچھے رہنے والوں پر۔ اور ہم بھی اگراﷲ نے چاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔“[رواہ مسلم]

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ” تمام علماءکا اس بات پر اتفاق ہے کہ دُعا مُردوں کے لیے فائدہ مند ہے اور اس کا ثواب انہیں پہنچتا ہے “

شیخ جما ل الدین القاسمی  فرماتے ہیں : ” دوستی اور بھائی چارگی کا حق یہ ہے کہ میت کی زندگی اور وفات کے بعد بھی اس کے لیے ہر اس چیزکی دعا کرے جسے انسان اپنے آپ ، اہل وعیال اور اپنے متعلقین کے لیے پسند کرتا ہے ، اور اسی طرح دعا کرے جس طرح وہ اپنے لیے کرتا ہے “۔

٭ میت کے حق میں مسلمانوں کی دعا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ”ایک مسلمان کی دعا،اپنے مسلمان بھائی کے لیے، اس کی عدم موجودگی میںمقبول ہوتی ہے ، اس کے پاس ایک فرشتہ متعین کردیا جاتا ہے ، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے کسی بھلائی کی دعا کرتا ہے تو متعین فرشتہ آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تجھے بھی اسی طرح ملے “۔[رواہ مسلم]

بلکہ نمازجنازہ خود اس کی سب سے بڑی مثال ہے ، اس لیے کہ اس کا اکثر حصہ میت کے حق میں دعا اور استغفار پر مشتمل ہے ۔

٭ میت کے قرض کی ادائےگی : رسول صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے : ” مومن کی روح اسکے قرض کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے ، حتی کہ اس کی جانب سے وہ قرض ادا کردیا جائے “ [ بخاری ]

اور حضرت ابو قتادة رضی اللہ عنہ کی روایت جو ایک میت کی جانب سے قرض کی ادائیگی کے بارے میں ہے ، جب انہوں نے اس کی جانب سے اس کا قرض ادا کردیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب اس پر اس کی چمڑی ٹھنڈی ہوگئی “۔ ( یعنی اب اس کے جسم کو سکون ملا ہے ) [ رواہ الحاکم وصححہ البانی ]

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں : ”اس حدیث سے  معلوم ہوا کہ قرض کسی بھی شخص کی جانب سے ادا کیا جاسکتا ہے ، قرض کی ادائیگی اولاد ہی کے لیے مخصوص کرنا ضروری نہیں“۔[ مجموع الفتاویٰ : 24/311]

٭ نذر اور روزہ وغیرہ کی قضا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” جو شخص اس حال میں انتقال کرجائے کہ اس کے ذمہ روزے ہوں، تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزہ رکھے گا “ ۔ [ متفق علیہ]

 ٭ میت کی جانب سے صدقہ ادا کرنا :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے : ” ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : ”میری ماں کا اچانک انتقال ہوگیا ، اور وہ وصیت نہیں کرسکی ، اور مجھی یقین ہے کہ اگر اسے بات کرنے کا موقعہ ملتا تو وہ ضرور صدقہ کرتی، اگر میں اس کی جانب سے صدقہ کروں تو کیا اسے اور مجھے ثواب ملے گا ؟“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ! “ پھرانہوں نے اپنی ماں کی جانب سے صدقہ کیا “۔ [ متفق علیہ]

٭ میت کی جانب سے غلام یا لونڈی آزاد کرنا :

” عتق“سے مراد غلام یا لونڈی کو غلامی سے آزادی دلاناہے ۔حدیث میں ہے کہ : ” جو شخص کسی مومن کی گردن کو آزاد کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کردےتا ہے ، حتی کہ اس کے ہاتھ کے بدلے ہاتھ ، پاوں کے بدلے پاوں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ “۔[ متفق علیہ ]

٭میت کی جانب سے حج کرنا :

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت نے پوچھا تھا : ” میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی ، لیکن وہ وفات تک حج نہیں کرسکی، کیا میں اس کی طرف سے حج کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کی طرف سے حج کرو ، پھر فرمایا : ذرا بتلا ! اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں ؟ اﷲ کا حق ادا کرو ، کیونکہ اﷲ زیادہ حقدار ہے کہ اس کا حق ادا کیا جائے “۔ [ متفق علیہ]

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : ” ایک عورت نے کہا : ”یا رسول اﷲ ! میری ماں کا انتقال ہوگیا اور وہ حج نہیں کرسکی، اگر میں اس کی جانب سے حج کروں تو اس کی جانب سے حج ادا ہوجائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں “۔ [مسلم]

 اپنے اعمال سے حاصل ہونے والے فوائد

٭ میت کے نیک اثرات اور صدقہ جاریہ:

فرمانِ الٰہی ہے : ﴾ وَ نَکتُبُ مَاقَدَّمُوا وَآثَارَہُم ﴿ [ےٰس ٓ: 12]ترجمہ : ” اور جو کام انہوں نے کیے ہےں اور جو کچھ آثار انہوں نے پےچھے چھوڑے ہےں ، وہ سب ہم لکھتے جارہے ہےں “۔

امام ابن کثیررحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : ” جو کام انہوں نے خود کئے ہیں اور جن کاموں کے اثرات انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ، وہ سب ہم لکھتے جارہے ہیںاور اسی پر ہم انہیں بدلہ دیں گے ، اگر اچھے ہوں تو اچھا ، اگر برے ہوں تو برا بدلہ دیا جائے گا “۔

٭ نیک اولاد کے اعمال ِ صالحہ :

نیک اولاد جو نیک اعمال کرتی ہیں ان کے ثواب میں کمی کئے بغیر ا ن کے والدین کو بھی ان ہی کے برابر ثواب دیا جائے گا، اس لیے کہ اولاد بھی والدین کی کوشش اور کمائی کا ایک حصہ ہیں ، جےسا کہ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴾ وَ اَن لَیسَ لِلاِنسَانِ اِلاَّ مَا سَعٰی ﴿[النجم : 39] :” اور يہ کہ انسان کو صرف اسی کے عمل کا بدلہ ملے گا“۔

اور رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے : ” سب سے پاکےزہ مال وہ ہے جو انسان اپنی کمائی سے کھاتا ہے اور اس کی اولاد بھی اسی کی کمائی کا اےک حصہ ہے “۔[ ابوداؤد : اور علامہ البانی  نے اس روایت کوصحیح قرار دیاہے[

٭ صدقہ جاریہ ، علمِ نافع ، اور دعا کر نے والی نیک اولاد :

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

 ” جب انسان مرجاتا ہے تو اس سے اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے ، سوائے تےن چےزوں کے :صدقہ جاریہ یا وہ علم جس کے ذریعے [ مخلوق کو ) فائدہ حاصل ہو یا اس کے لیے دعا کر نے والا نیک لڑکا “۔ [ مسلم ]

 ٭ قرآن مجید وقف کرنا، مسجدیں اورسرائے تعمیر کرنااور نہریں جاری کرنا : رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ” مومن کو اس کی موت کے بعد اس کے جس عمل اور جن نیکیوں کا ثواب ملتا رہے گا( وہ یہ ہیں ) : علم ، جو اس نے سکھایا اور اسے پھیلایا ، یا نیک اولاد جسے اس نے اپنے پیچھے چھوڑا ، یا قرآن مجید جو ورثہ میں چھوڑا، یا مسجد کی تعمیر کی، یا مسافرخانہ بنایا، یا نہر جاری کی، یا اس نے اپنی زندگی میں صحت کی حالت میں کوئی صدقہ کیا ، اس کا اجر اس کی موت کے بعد بھی ملتا رہے گا “ ۔[ ابن ماجہ ، وحسّنہ الالبانی]

٭ میت نے کسی نیک کام کی بناءڈالی ، یا دعوت ہدایت دی :رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ” جس نے اسلام میں کسی اچھے کام کی (بشرطےکہ وہ کتاب وسنت سے ثابت ہو ) بنیاد ڈالی ، اسے اس( نیک کام )کا بھی ثواب ملے گا، اور اس کے بعد اس کارِ خیر پر عمل کرنے والوں کے عمل کابھی، اوران کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی “۔[ مسلم]

٭پودا لگانا یا کھیتی کرنا :

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے  مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مسلمان کوئی پودا لگاتا، یا کھیتی کرتا ہے ، اس سے پرندے ، یا انسان ، یا جانور جو کچھ کھائیں گے ، اسکی وجہ سے ا سکو صدقہ کا ثواب ملے گا “ [متفق علیہ ]

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے، تو اس درخت سے جو کچھ کھایا جائے گا اس کے حق میں صدقہ ہوگا ، اور جو اس سے چُرا یا جائے گا وہ بھی صدقہ، اوراس سے درندے جو کچھ کھائیں گے وہ بھی صدقہ ،اور جوکچھ پرندے کھائیں گے وہ بھی صدقہ، اور اس سے جو بھی کچھ لے گا تو وہ اسکے حق میں صدقہ ہوگا “ [ مسلم ]

وہ امور جو میت کے لیے بے فائدہ ہیں

 ٭ گال پیٹنا اور گریبان چاک کرنا :

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے، جس نے (اظہارِ رنج کے لیے) گریبان کو چاک کیا ، اور گالوں کو پیٹا اور جاہلیت کی باتیں کیں“ ۔[ متفق علیہ]

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ” میت کو اس پر نوحہ خوانی کی وجہ سے قبر میں عذاب دیا جاتا ہے “ ۔[ مسلم ]

اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ میت کواپنے گھر والوں کے رونے کی آواز سن کر اذیت پہنچتی اور وہ رنج وغم میں مبتلا ہوتا ہے۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”اس معاملے میں آپ صلی اللہ کی عادتِ مبارکہ خاموشی اور اﷲ کی تقدیر پر رضا مندی، اور اﷲ کا شکر بجا لانا اور ”ا نّا ﷲ وانّا الیہ راجعون“ پڑھنا تھی اور آپ صلی للہ علیہ وسلم  ہر اس شخص سے اپنی لا تعلقی کا اظہار فرماتے جس نے مصیبت کی وجہ سے اپنے کپڑے پھاڑ ے ، یا نوحہ خوانی کرتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کیا ، یا اپنے سر کو منڈوالیا “ ۔ [ زاد المعاد : 1/527]

٭ جنازہ کے ساتھ بلند آواز سے ذکر کرنا، یا تلاوتِ قرآن کرنا:

 امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ” جنازہ کے ساتھ بآواز بلند ذکر کرنا یا قرآن وغیرہ پڑھنا مستحب نہیں ہے ، یہی ائمہ اربعہ کا مذہب ہے ، اور یہی اسلاف میں صحابہ کرام  اور تابعین  عظام سے منقول ہے ، اور اس بارے میں مجھے کسی کے اختلاف کا علم نہیں ہے “۔ [ مجموع الفتاویٰ : 24/293]

٭ قبر پر میت کو تلقین کرنا اور قرآن پڑھنا :

تلقین سے مرادمیت کو دفنانے کے بعد اسے شھادتین اور ان سوالات کے جواب کی تلقین کرنا جو اس سے عنقریب پوچھے جائیں گے اور وہ ہیں: ” تیرا رب کون ہے ؟ تیرا دین کیا ہے ؟ اور تیرا نبی کون ہے ؟“ ۔    [ الدرر السنیة : 5/86 الروض : 2/122]

امام ابن قیم رحمہ اﷲ فرماتے ہیں : ” قبر پر بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور میت کو تلقین کرنا ، جس طرح آج کل لوگ کرتے ہیں ، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ نہیں تھی، اور اس تعلق سے امام طبرانی نے اپنی معجم میں حضرت  ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی جو مرفوع روایت ذکر کی ہے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ثابت نہیں۔ اور نہ ہی آپ صلی اللہ وسلم کی تعلیمات میں سے یہ ہے کہ لوگ( میت کے گھر ) کھانے کے لیے جمع ہوں ، اور اس کے لیے اس کی قبر کے پاس یا اور کسی جگہ اکٹھے ہوکر قرآن پڑھیں، یہ تمام نئی اور مکروہ بدعات ہیں “۔ [ زاد المعاد : 1/522-527]

٭ سورہ فاتحہ اور یٰس ٓ وغیرہ کی تلاوت کرنا

 مُردوں پر سورہ فاتحہ اورقبرستان میں سورہ یٰس ٓ پڑھنا اور اسی طرح گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنا بدعت ہے ۔       [ احکام الجنائز للالبانی : 325]

شیخ ابن باز رحمہ اﷲ فرماتے ہیں : ”میت کی تدفین کے بعد یا اس سے پہلے سورہ یٰس ٓ یا اسکے علاوہ اور کسی سورت کی تلاوت مشروع نہیں ہے، اور نہ ہی قبرستان میں تلاوت مشروع ہے ، اس لیے کہ نہ تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے اور نہ ہی خلفائے راشدین نے،یہ تمام امور بدعت ہیں “۔[ فتاویٰ اسلامیة : 1/52]

اورشیخ ابن عثیمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”احادیثِ مبارکہ میں مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کا کوئی ثبوت مجھے معلوم نہیں ہے ، اسی لیے اس سے بچنا چاہئے ، اس لیے کہ عبادات میں اصل منع ہے، جب تک کسی عبادت کی مشروعیت کا ثبوت کسی صحیح دلیل سے نہ ملے اس وقت تک وہ مشروع نہیں ہوسکتی “[فتاویٰ اسلامیة : 1/52]

٭قبر پر پودا یا کھجور کی ٹہنی لگانا :شیخ عبد العزیز بن باز  فرماتے ہیں : ” قبروں پر درخت یا ٹہنی لگانا، یا ان پر گیہوں یا جو وغیرہ بونا مشروع نہیں ہے، اس لیے کہ یہ کام نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور نہ خلفائے راشدین  نے ،اور وہ حدیث جس میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قبروں پر ٹہنی لگائی، وہ اس لیے کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرمادیا تھا کہ یہ دونوں عذابِ قبر میں مبتلا ہیں، چنانچہ یہ کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ان دونوں قبروں کے ساتھ خاص ہے، اس لیے کہ آپ ا نے ان دونوں قبروں کے علاوہ اور کسی کے ساتھ یہ معاملہ نہیں فرمایا، تومسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی اےسی بدعت کو نہ شروع کریں جسے اﷲ عز وجل نے مشروع نہیں کیا ہے “۔  [ فتاویٰ اسلامیة : 2/52 ۔احکام الجنائز للالبانی :3 25 ]

٭ قبر کے پاس اذان دینا :شیخ عبد الرحمن بن حسن  کہتے ہیں : ” قبر کے پاس اذان دینا ایک بری بدعت ہے ، اﷲ نے اس کی کوئی دلیل نہیں اتاری ہے اور نہ ہی اسے کسی ایسے امام نے کیا ہے جن کی اقتداءکی جاتی ہے“۔         [ الدرر السنیة : 5/142]

٭ قبروں کے پاس تلاوت کے لیے قرآن رکھنا :

 شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”اور قبروں کے پاس اس لیے قرآن مجید رکھنا کہ جو لوگ وہاں قرآن پڑھناچاہیں توپڑھ سکیں،یہ ایک قبیح بدعت ہے اور اسے سلف صالحین میں سے کسی نے نہیں کیا “۔        [ مجموع الفتاویٰ : 24/293]

٭ تلاوت، نوافل اور ذکرکے لیے جائےدادیں وقف کرنا اور اس کا ثواب میت کو پہنچانا:

علامہ البانی رحمہ ا ﷲ فرماتے ہیں : ” بدعات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جائےداد ، بالخصوص روپیہ پیسہ، تلاوتِ قرآن یا نوافل کی ادائیگی یا ذکر یا درود شریف پڑھ کر وقف کرنے والے کی روح ، یا جس[ولی یا بزرگ ) کی زیارت کے لیے زائر آیا ہوا ہو اس کی روح کو ثواب پہنچانے کے لیے وقف کرنا “۔[ احکام الجنائز للالبانی :321 ]

٭ میت پر قرآن پڑھنے کےلئے لوگوں کواجرت پر حاصل کرنا: شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اﷲ فرماتے ہیں :

 ”میت پر قرآن پڑھنے اور اس کا ثواب میت کو پہنچانے کے لیے لوگوں کواجرت پر حاصل کرنامشروع نہیں ہے ، اور نہ ہی علماءمیں سے کسی نے اسے مستحب قرار دیا ہے ، اسی طرح صرف تلاوت اورایصالِ ثواب کی غرض سے قرآن پڑھنے والوں کو کرایہ پر حاصل کرنا بھی درست نہیں ہے۔اور اگر میت کی طرف سے ان لوگوں پر صدقہ کیا جائے جو قرآن پڑھتے (یا حفظ کرتے ) ہیں تو اس سے میت کو فائدہ ہوگا اور اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے “ ۔      [ مجموع الفتاویٰ : 24/300-316]

نیز دوسری جگہ فرماتے ہیں : ” اس کے باوجود اسلاف کی یہ عادت نہیں تھی کہ جب وہ نفلی نماز، یا روزہ ، یا حج ، یا تلاوتِ قرآن کرتے تو اس کا ثواب اپنے عام یا خاص مرحومین کو پہنچاتے، اس لیے لوگوں کو چاہی یکہ وہ سلف صالحین کے طریقے سے نہ ہٹیں ، اس لیے کہ ان کا طریقہ افضل اور اکمل ہے ۔ واﷲ اعلم “۔ [مجموع الفتاویٰ : 24/323]

٭ ختم دلانے کے لیے جمع ہونا :

شیخ ابن عثیمین رحمہ اﷲ فرماتے ہیں : ” اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ لوگ قرآن خوانی کرکے اس کا ثواب میت کی روح کو پہنچانے کے لیے گھروں میں جمع ہوں، سلف صالحین رضوان اﷲ علیہم اجمعین یہ کام نہیں کیا کرتے تھے ، اور قرآن خوانی کے لیے میت کے گھر میں جمع ہونا اور  ( فاتحہ خوانی کے بعد ) کھانا وغیرہ کھلانا ، بدعات وخرافات میں سے ہے “۔[ فتاویٰ اسلامیة : 2/52 ]

٭ قبروں کو بلند کرنا اور انہیں پختہ بنانا وغیرہ:

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” لَا تَدَع قَبرًا مُشرِفًا ِاالَّا سَوَّےتَہُ وَلَا تِمثَالًا اِلاَّ طَمَستَہُ   [ مسلم ]ترجمہ : ” ہر اونچی قبر کو زمین کے برابر کردو ، اور ہر بت کو مٹا دو “۔

”عَن جَابِرٍرضی اللہ عنہ قَالَ نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ان تُجَصَّصَ القُبُو وَان یُکتَبَ عَلَیہَا وَان یُبنٰی عَلَیہا وَان یُقعَدَ عَلَیہا“ [رواہ مسلم]

”حضرت جابررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے اوران پر کتبے لگانے اور ان پر عمارت (قبہ، گنبد، مقبرہ وغیرہ) بنانے سے منع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا“- (قبر پر بیٹھنے کی نہی سے قبر پر مجاور بن کر بیٹھنا یا قبر پر چلہ کشی کرنے کیلئے بیٹھنا، یا یوں ہی قبر پربیٹھنا، سب صورتیں منع ہوگئیں۔)

امام ابن قیم رحمہ اﷲ فرماتے ہیں : ”قبروں کو بلند کرنا، اینٹ اور پتھر سے اس کی تعمیر کرنا ، اس کو مضبوط کرنا ، اس کو مٹی کا لیپ دینا یا اس پر قبے تعمیر کرنا،رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں ہے ، بلکہ یہ مکروہ بدعت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مخالف ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس طرح کی تمام اونچی قبروں کو زمین کے برابر کرنا ہے“ ۔[ زاد المعاد : 1/524]

٭دسواں ، بیسواں ، چہلم اور برسی وغیرہ :

در حقیقت یہ قومِ فرعون کی رسمیں ہیں جو اسلام سے پہلے ان میں تھیں اور پھر ان سے دوسری قوموں میں پھیلیں، یہ نہایت بری بدعت ہے جس کی کوئی اصل اسلام میں نہیں ہے ، اور نہ ہی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ اور نہ ہی سلف صالحین سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے میت کے گھر میں کوئی محفل برپا کی، نہ اس کی وفات کے وقت ، نہ ایک ہفتے کے بعد ، نہ چالیس ویں دن ، اور نہ ہی سال گذرنے کے بعد ، بلکہ یہ بدعت اور بری عادت پہلے زمانے کے اہلِ مصروغیرہ کی ہے “۔[ فتاویٰ اسلامیة : 2/56 ۔احکام الجنائز للالبانی :3 2 3]

٭ قبرستان کی زیارت کے لیے عید کادن یا رات، مخصوص کرلینا : شیخ ابن عثیمین رحمہ اﷲ فرماتے ہیں : ” عید کی رات کو قبرستان کی زیارت کے لیے جانا بدعت ہے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبرستان کی زیارت کے لیے عید کی رات یا دن کوخاص کرنا ثابت نہیں ہے ، بلکہ آپ صلی اللہ نے فرمایا : ” تم (دین میں ) نئے نئے کام سے بچو ، اس لیے کہ ہر نیا کام بدعت ، اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی دوزخ میں ( لے جانے والی ) ہے “۔ [ نسائی بسند صحیح ]

لہٰذا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی عبادات میں ، اور ہر ایسے عمل میں جس کے ذریعے وہ اﷲ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنا چاہتا ہے ، احتیاط سے کام لے “۔   [ فتاویٰ اسلامیة : 2/57 ۔الدرر السنیة : 5/160]

1 Comment

  1. نبی کریم ﷺ کا ایک کام نہ کرنا کیا یہ کسی کام کی حرمت کے لیے کافی ہے؟ اس کا جواب میرے ای میل پر کر دیں شکریہ مجھے انتظار رہے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*