سنئے ! آپ کا بچہ آپ سے کیا چاہتا ہے ؟ (5)

   تحریر و تحقیق: اشتیاق احمد

بچوں کی چاہت،بچوںکی شکایتیں اوربچوںکے جذبات کی عکاسی پرمشتمل تجزیہ کی یہ چوتھی قسط پیش خدمت ہے جسے بچوں کی زبانی نقل کیا گیا ہے، تو لیجئے بغور پڑھئے اور بچوںکے تئیں اپنے رویہ پر نظرثانی کیجئے:

اسلامی تہواروں اور خوشی و کامیابی کے دیگر موقعوں پر مجھے اپنے دوستوں /سہیلیوں کو تحفہ دینا اچھا لگتا ہے۔

اپنی رہنمائی میں کبھی کبھی مجھے چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے کی اجازت دیا کریں۔

تجسس اور جستجو میری فطرت میں شامل ہے۔اِس پر بے جا قد غن نہ لگائیں۔

اگر آپ کو میرے بارے میں کوئی غلط فہمی ہو تو یہ کہنے کی جسارت کروں کہ میری قابلیت اور صلاحیت کسی سے کم نہیں ہے۔

آپ کا مجھے نظر انداز کرنا۔مجھے احساس کمتری میں مبتلا کر سکتا ہے۔

میں تو موم کی ایک گڑیا ہوں آپ جِس طرف چاہیں مجھے موڑ سکتے ہیں۔

خبر دار !اگر آپ نے میری خاطر رشوت لی یا نا جائز طریقے سے ایک بھی پیسہ وصول کیا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔کم کھانا منظور ہے مگر حرام کھانا منظور نہیں۔

مہمانوں کی آمد سے قبل چند ضروری ہدایات دیں تا کہ اِن کے سامنے کوئی غلطی سر زد نہ ہو۔اور اگر ہو جائے تو اِن کی عدم موجودگی میں اچھے طریقے سے سمجھا دیں۔

 مجھے پڑھاتے ہوئے آپے سے باہر نہ ہوں کیونکہ غصے میں مجھے آپ کی باتیں بہت کم سمجھ آتی ہیں۔

اس وقت مجھے بہت افسوس ہوتا ہے جب آپ میرے پاس ہوتے ہوئے بھی پاس نہیں ہوتے۔

مجھے سمجھاتے ہوئے دلیل مضبوط مگر آواز مدھم رکھیں۔

مجھے معلوم ہے آپ میرے ساتھ کھیلتے ہوئے جان بوجھ کر ہا ر جاتے ہیں مگر کبھی مجھے بھی ہرائیں تا کہ میں ہار کر برداشت کرنا بھی سیکھوں۔

آپ دونوں کو ہنستے مسکراتے دیکھ کر میری طبیعت بھی ہشاش بشاش ہو جاتی ہے۔

میرے ذہن کی صاف شفاف تختی پر جو کچھ بھی لکھا جائے گا۔ اِس کی سب سے زیادہ ذِمہ داری آ پ پر عائد ہو گی۔

میرے ذہن کی صاف شفاف تختی پر ابھی سے بہت اچھی باتیں لکھ دیں۔جب میں بڑ ا ہو جاوں گا اور اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہو گا تو ممکن ہے آپ کے لکھنے کے لئے جگہ نہ بچے۔

میرے سامنے میرے /میری ٹیچر کو برا مت کہیں۔ہاں اگر کوئی مسئلہ ہو تو خود ملاقات کا اہتمام کر لیں۔

آپ کا حکم سر آنکھوں پر !مگر کسی قدر اختلاف کا حق مجھے بھی دیں۔

میری بہت سی ان کہی باتیں بھی سمجھنے کی کو شش کریں جنہیں میں صحیح طریقے سے الفاظ کا روپ نہیں دے سکتا۔

آپ کی طرح مجھے بھی اچھے کپڑوں میں عزت محسوس ہوتی ہے۔

چھوٹے موٹے سفر پر اگر مجھے اپنے ساتھ لے جا یا کریں آپ کی بڑی مہربانی ہو گی۔

سائیکل،موٹر سائیکل یا گاڑی آہستہ اور احتیاط سے چلائیں اور اپنا خیال رکھیں کیونکہ آپ ہی تو میرا سب کچھ ہیں۔

ہر ملنے والے سے میرا شکوہ نہ کریں میری شخصیت کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں براہ ِمہربانی ان کو بھی مد نظر رکھیں۔

میرے دل و دماغ سے لوگوں کا سامنا کرنے کا خوف دور کریں یہ خوف میری کامیا بی اور ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

میری غلطیوں کو اپنی ذہن پر سوار نہ کریں۔سونے سے پہلے ان کو معاف کر دیں یہ ہم سب کی صحت کے لیے مفید نسخہ ہے۔

لفظ مسلمان ہی میری پہچان کے لئے کافی ہے یہ فرقہ وارانہ لیبل مجھے اچھے نہیں لگتے۔

حد سے زیادہ لاڈ پیار مجھے بگاڑ سکتا ہے۔

مجھے میرے اچھے اور اصل نام سے پکاریں۔

سکول جاتے وقت اور سکول سے آ تے وقت اگر آپ کو سلام کرنا بھول جاوں تو یاد کروا دیں۔

امی ایک بات کہتی ہیں تو ابو اس کے بالکل الٹ۔سمجھ نہیں آتی میں کس کی بات مانوں ؟آپ دونوں ایک ہی بات پر متفق کیوں نہیں ہو جاتے ؟

 مجھے اللہ میاں کا تفصیلی تعارف کروائیں نیز یہ بھی بتائیں کہ وہ کن باتوں سے خو ش اور کن سے ناراض ہوتا ہے۔

اصول اچھے لگتے ہیں مگر تلخ مزاجی اچھی نہیں لگتی۔

کبھی کبھی مجھے اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی جگہ پر لے جائیں تا کہ میں دیکھوں کہ آپ کیا کرتے ہیں ؟ اور کس طرح کرتے ہیں ؟

آپ کو کتنی مرتبہ سمجھایا ہے کہ ہم چھوٹوں کے چھوٹے چھوٹے جھگڑوں میں نہ کو دا کریں۔پتہ نہیں آپ سمجھتے کیوں نہیں ؟

آئیں کبھی کوئی تربیتی اور معلوماتی فلم اکھٹے دیکھیں اور پھر اس پر تبصرہ کریں۔

اپنے اصولوں پر مستقل مزاجی سے عمل کریں مصلحتوں کے تحت انہیں بدلتے رہنا اچھا نہیں۔

یاد رکھیں تنقید زیادہ دیر تک کام نہیں آتی۔

سکول میں میرا نتیجہ اگر آپ کی توقع سے کم رہے تو پریشان ہونے اور مجھے ڈانٹنے کی بجائے میری حوصلہ افزائی اور مدد جاری رکھیں۔

آپ میرے ساتھ کمزور اور معذرت خواہ لہجے میں بات نہ کریں کیونکہ اس لہجے سے مجھے یہ پیغام ملتا ہے کہ آپ کی بات کو سنجیدگی سے نہ لوں۔آپ پر اعتماد اور با وثوق لہجے میں بات کریں۔

میں آپ کی طرف سے ناں کم اور ہاں زیادہ سننا  چاہتا /چاہتی ہوں۔

انگریزی ضرور سکھائیں لیکن میری قومی زبان سے نفرت کی قیمت پر نہیں۔کیونکہ میں آزاد قوم کا فرد ہوں اور ذہنی غلامی مجھے ہر گز گوارا نہیں۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آپ غصے کہ وقت انگریزی کیوں بولنا شروع کر دیتے ہیں ؟ کیا غصے کے وقت اردو کی تاثیر کم ہو جاتی ہے ؟ یہ غیر فطری اور ذہنی مر عو بیت کا عمل مجھے پسند نہیں۔

مجھے خوشگوار موڈ میں ہی پڑھائیں،تھک جاوں تو کھیلنے کودنے کا موقع ضرور دیں۔

رو کر اپنا مطالبہ منوانے سے مجھے آپ کی شخصیت کے کمزور پہلو سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل جاتا ہے۔

آپ کا جارحانہ انداز گفتگو میری عزت نفس مجروح کرتا ہے اور مجھ میں نفرت کے جذبات پیدا کرتا ہے۔براہ مہربانی اسے بدل ڈالیں۔

کسی دن ہم سب مل کر گھر کی صفائی کریں۔کتنا مزہ آئے اگر ہم سب کے بال اور کپڑے مٹی سے اٹ جائیں اس میں ہچکچاہٹ کی کون سی بات ہے ؟ کیا ہمارے پیارے رسول انے نہیں فرمایا کہ صفائی نصف ایمان ہے ؟ (جاری )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*