نہ مجبورکرو

 

مجھ کو بے پردہ نکلنے پہ نہ مجبور کرو

اے میرے ہمدم ودمسازورفیق وسرتاج

آپ کہتے ہیں کہ پردہ تو ہے فرسودہ رواج

شرم وغیرت کے کچلنے پہ نہ مجبور کرو

قدرنسوانیتِ زن کی نہیں کیا معلوم ؟

اپنے جلووںکی نمائش پہ جو اتراتی ہوں

اپنی غیرت کو جو بازار میں لے آتی ہو ں

خودہوسناک نگاہوںمیں الجھ جاتی ہوں

رنگِ پاکیزگی¿ حسن سے جو ہوں محروم

بے حجابانہ پھروں سیرگہوںمیں تن کر

میرے دمساز کبھی ہو نہ سکے گا ایسا

اپنی عفت کو کروں آپ ذلیل ورسوا

دینِ فطرت کے تقاضوںکو بھلا کر، توبہ !

میںبھی سڑکوںپہ چلوں مردِ مونث بن کر؟

اپنی خودداری وغیرت کو نہیں کھو سکتی !

میرے سرتاج میں بے پردہ نہیں ہوسکتی !

     (ابوالمجاہد زاہد)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*