ہماری زندگی کا مقصد

 سید عبد السلام عمری (کویت)

abdussalamsyed@ymail.com

 تدبر قرآن

اللہ رب العالمین نے بیان فرمایاLتاب انزلناہ الیک مبارک لیدبروا ایاتہ و لیتذکر اولوا الالباب﴿ (سورة ص : 92) ’ یہ با برکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لےے نازل فرمایا کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں ‘۔

 سرفراز اورسرخ رو وہی لوگ ہوںگے جو قرآن کے احکام کو بجالائیںگے اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کریںگے، نبی رحمت ا نے ارشاد فرمایا : ان اللہ یرفع بھذا الکتاب اقواما و یضع بہ آخرین ( مسلم) ”اللہ تعالی اس کتاب (قرآن مجید) کی بدولت لوگوں کو سرفراز فرمائے گا اور اسی(قرآن سے بے نیازی) کی وجہ سے دوسروں کو ذلیل کردے گا۔“

یقینا مسلمانوں کو اللہ تعالی نے ابتدائی صدیوں میں ہر جگہ اورہر میدان میں سرخرو کیا اور انہیں عزت بخشی کیونکہ وہ قرآن کے حامل اور عامل تھے، اس پر عمل کی برکت سے وہ دین و دنیا کی سعادتوںسے بہرہ ور ہوئے۔ علامہ اقبال رحمہ اللہ نے کیا خوب کہاہے

  وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر

 اور ہم خوار ہوے تارک قرآن ہوکر

 ہمیں قرآن کے احکامات و قوانین کو چھوڑکر اغیار کی بنائے ہوئے قوانین کی طرف دیکھنے سے ڈرنا چاہےے،ساری کائنات سے منہ موڑکر ایک اللہ کے بندے بن کر زندگی گذارنی چاہےے۔ بھلا آپ ہی بتائیںکہ جس کو اللہ مل گیا اس نے کھویا کیا ؟اور جس نے اللہ کو کھودیا اس نے پایا کیا ؟

جو اللہ کے لےے سب کچھ قربان کردے گا اس سے کئی گنازیادہ وہ اللہ کے ہاں پالے گا۔ اور جو شریعت ربانی کو پرے ڈال کر سب کچھ حاصل کرنا چاہتاہے وہ سب کچھ کھو بیٹھے گا،جس کو اللہ تعالی کی رضا نصیب ہوگئی سمجھو کہ وہ  با مراد ہوا،اور جس کو اللہ کی رضا نصیب نہیں ہوئی وہ دنیا و آخرت میں بے مراد رہا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :” جو عقل دین کو نہیں سمجھتی وہ عقل کہلانے کی حقدار نہیں اور جو دین عقل کو اہمیت نہیں دیتا وہ مکمل دین نہیں ہے۔“ اسلام نے ہمیں بعض امور سے اجتناب کا حکم دیا ہے ان امور سے بچنے والوں کو مغفرت و جنت کا وعدہ ہے، اور نہ بچنے والوں کے لےے جہنم کی سزاوں کی وعیدیں ہیں۔ اور جب عقل اسلامی احکام پر عمل پیرا ہوجائے گی تو اجر کے وعدوں اور سزا کی وعیدوں میں پنہاں حکمتوں کوسمجھ لے گی۔

 قارئین کرام ! ذرا سوچیں تو سہی! کیا فطرت سلیمہ سے ملی ہوئی کوئی بھی روشن عقل شرعی احکام میں پوشیدہ حکمتوں سے بے خبر رہ کر ان کی اہمیت کا انکار کرنے والی ہوسکتی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ سلیم الفطرت انسان کی عقل کی شعاعیں اوامر و نواہی کی چوکھٹ پر اس اعتراف کے ساتھ کھڑی ہوںگی کہ دنیا و آخرت کی بھلائی اللہ تعالی کے احکامات کی پیروی اور منہیات سے بچنے میں ہے ، اگر ہم فطرت سلیمہ اور روشن عقل کے مالک ہوں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ اللہ تعالی نے جو ثواب کا وعدہ کیا ہے یہ اس کا فضل و کرم ہے اورجو عذاب کی وعیدیںسنائی ہیںیہ اللہ تعالی کا عدل ہے۔ اور اسباب گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کی پکڑ کا باعث ہماری سرکش طبیعت اور غافل نفس ہے ۔ جبکہ فضل و کرم کا باعث اللہ کے احکام کو بجالاناہے،اللہ ہمیں دعوت دے رہا ہے کہ ہم کائنات کے بارے میں سوچیں، مگر ہم کائنات کی جتنی آسمانی یا زمینی چیزیں دیکھتے ہیں ان کی حقیقت تک ہم رسائی نہیں پا رہے ہیں؟ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے تمام جہانوں کے لےے سراپا رحمت بن کرآنے والے رسول ا کے قول و فعل کی پرواہ نہیں کی،ہمارے پاس وہ تقوی شعاری، بلند کرداری اور پرہیزگاری نہیں ہے جوہماری غفلت کا علاج کرسکے۔ جب دل کی بصیرت کا آئینہ رب کے ذکر سے غفلت کے تہہ بہ تہہ زنگ سے آلودہ ہوجائے تو حق کے چہرے عقلوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں اور ان عقلوں میں الہام کا نور اُتر نے سے رک جاتاہے، ایسے انسان کی قوتِ بیان خیالات کی ژولیدگی کے باعث تاریک ہوجاتی ہے، جی ہاں! سورج اپنی تابناکیوں کے باوجود اندھے کو کیا فائدہ دے سکتا ہے….؟

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :﴾ افلم یسیروا فی الارض فتکون لھم قلوب یعقلون بھا اوآذان یسمعون بھا فانھا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور﴿ ( الحج : 46) ”کیا انہوںنے زمین کی سیر و سیاحت نہیں کی جو ان کے دل ان باتوں کو سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان (واقعات) کو سن لیتے، بات در اصل یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہيں۔“

 ایک حدیث میں آپ ا نے ارشاد فرمایا : ان الذی لیس فی جوفہ شیءمن القرآن کالبیت الخرب (ترمذی)”بیشک وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ(یاد) نہ ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“ یعنی جیسے ویران گھر سے وحشت ہوتی ہے اور وہ خیر و برکت اور رہنے والوں سے خالی ہوتاہے، بعینہ اس شخص کا دل بھی خیر و برکت اور روحانیت سے خالی رہے گا۔

 موت کا فرشتہ ہمارے آگے پیچھے دائیں بائیں پکارتا پھرتاہے ﴾اینما تکونوا یدرکم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدة﴿( نسائ:78) ”تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آپکڑے گی، گو تم مضبوط قلعوںمیں ہو۔“ ہماری عقلیں ہماری دنیاوی ضروریات پورا کرنے میں لگی ہوئی ہیں، جبکہ ہماری قبروں کی تاریکیاں ہمارے اجسام کو اپنی آغوش میں لینے کے منتظر ہیں اور یہ ہیں کہ اپنی غفلتوں میں گم اور اپنی خواہشات کے نشے میں مست ہیں ۔

 پیارے بھائیو ! ہم کب تک اپنی جانوں کو نجات کے راستے سے پھیر کر ہلاکتوں اور بربادیوں کے راستے پر ڈالتے رہیںگے؟ کب تک اپنے نفوس کو اطاعت کی راہ سے موڑکر نافرمانیوں کی راہ پر ڈالتے رہیں گے؟ اپنے اوپر کب تک ظلم کے پہاڑ توڑتے رہیںگے؟ اپنے نفوس کو کب تک خطاﺅں کے جام اور برائیوں کی گندگی پلاتے رہیں گے؟ کب تک ان کوفتنوں اور آفتوں کی جگہوں پر لے جاتے رہیںگے؟

پیارے بھائیو! عمر مختصر ہے اور جزا و سزا کا مالک بہت زبردست قوت والاہے، ندا دینے والا ہمیں ندا دے رہا ہے : یاایھا الانسان ما غرّک بربک الکریم  ( الانفطار : 6) ”اے انسان ! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے بہکایا ؟“ اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من نطفة ثم سواک رجلاً ( کہف : 37 ) ”کیا تو اس ( معبود) سے کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تجھے پورا آدمی بنادیا“ ۔

 ارشاد ربانی ہے : (لا یغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد متاع قلیل ثم ماواھم جھنم و بئس المھاد)آل عمران: 197۔196)

 ”تجھے کافروں کا چلنا پھرنافریب میں نہ ڈال دے ، یہ تو بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے اس کے بعد ٹھکانا تو جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے“ ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ :﴾ورحمة ربک خیر مما یجمعون ولولا ان یکون الناس امة واحدة لجعلنا لمن یکفر بالرحمن لبیوتھم سقفا من فضة و معارج علیھا یظھرون ولبیوتھم ابوابا وسررا علیھا یتکﺅن و زخرفا وان کل ذلک لمتاع الحیوة الدنیا و الآخرة عندربک للمتقین﴿ (الزخرف:32۔35) ”جسے یہ لوگ سمیٹے پھرتے ہیں اس سے آپ کے رب کی رحمت بہت ہی بہتر ہے، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ پر جائیںگے تو رحمن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ہم چاندی کی بنادیں ، اور زمینوں کو (بھی) جن پر چڑھا کرتے ہیں اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت جن پر وہ تکیہ لگالگا کر بیٹھتے ہیں اور سونے کے بھی، اور یہ سب کچھ یونہی دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے ، اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک (صرف) پرہیزگاروں کے لےے ہی ہے ۔ “

 چنانچہ ہمیں چاہےے کہ ہم اللہ تعالی کی مخلوقات کو اپنی نگاہوں کا مرکز نہ بنائیں، مخلوق میں بادشاہ،عوام، درمیانی درجے اور چھوٹے درجے کے سبھی لوگ بے بسی، ضرورتمندی اور مسکینی میں برابر ہیں :﴾ یا ایھا الناس انتم الفقراءالی اللہ﴿ یہ ایک اٹل حقیقت ہے، عقلمند وہی ہے جو اس حقیقت کو سمجھے، اس ذات کی طرف یکسوئی کے ساتھ متوجہ ہو جو ہمیشہ سے ہے ، جسے نہ تو اونگھ آتی ہے اور نہ ہی نیند، تخلیق اور حکومت اسی کے ہاتھ میں ہے ، وہ جس کو چاہتا ہے بادشاہت سے نوازتا ہے اور جس سے چاہتاہے جاہ و منصب چھین لیتاہے، وہ جس کو چاہتاہے عزت و احترام سے سرفراز کرتاہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت و رسوائی کا شکار بناتاہے، ہر چیز پراس کو قدرت حاصل ہے ۔ یاد رہے کہ کبھی ہم زندیقوں کی جرا¿ت اور کافروں کے فسق و فجور کو موقع نہ دیں، اور جب ہم خود زبان کھولیں تو اپنے اعضاءاور دلوں کو ایسے امور سے روکیں جوہمارے رب کو ناراض کرنے والے ہوں، اللہ تعالی اور اس کی مخلوق کے ساتھ تعلق کو بہتر بنائیں، اپنی خلوت و جلوت میں ، جیتے مرتے،اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، ہمیشہ ہمارے دل اللہ کے ذکر سے اور آخرت کی فکر سے معمور رہیں۔

 طالب علم

 ارشاد باری تعالی ہے : ﴾یرفع اللہ الدین آمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات ﴿ ( مجادلة : ۱۱ ) ”اللہ تعالی تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور علم دئے گئے ہیں درجے بلند کرتاہے۔“

 اللہ تعالی کی بارگاہ تک پہنچنے کا کامیاب ترین اور قریب ترین راستہ یہ ہے کہ شریعت کے ستونوں کو علم و عمل کے ساتھ مضبوط کریں، اس کے بعد علم و عمل میں پائی جانے والی گہرائیوں کے لےے کمرہمت باندھ لیں۔

 اللہ تعالی کا ارشاد ہے :﴾ہل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون﴿ ( زمر : ۹) ”بتاﺅ تو! علم والے اور بے علم کیا برابر ہیں ؟“ ﴾ھل تستوی الظلمات والنور﴿( رعد : 16) ”کیا اندھیریاں اور روشنی برابر ہوسکتی ہے ؟“

جی ہاں! علم و معرفت رکھنے والا انسان اللہ تعالی سے خوف کھاتاہے، اور اپنے اوقات کی منظم منصوبہ بندی کرتاہے، اپنے دل کی نگرانی کرکے اپنے معاملات کو بحسن وخوبی سنوارتاہے۔ وہ جب بھی کوئی بات کہنے کا ارادہ کرتاہے تو اسے زبان تک لے آتاہے ورنہ خاموش رہتاہے کیونکہ بزرگوں نے کہا ہے : ”تیری زبان تیرا شیر ہے ، اگر تونے اس کی حفاظت کی تو وہ تیری حفاظت کرے گا اور اگر تونے اسے کھلا چھوڑدیا تو وہ تجھے پھاڑ کھائے گا ۔

 معززقارئین ! ایک لمحہ کے لےے سوچیں اللہ تعالی کل قیامت کے دن ہم سب کو برہنہ پا، برہنہ جسم اور غیرمختون اٹھائے گا اور پھر ہم سے مخاطب ہوکرکہے گا َ: لمن الملک الیوم؟ آج بادشاہت کس کی ہے ؟ میں بدلہ لینے والا بادشاہ ہوں، میرے ہاں ظلم نہیں ہے، مجھے میری عزت و جلال کی قسم !آج کے دن کسی ظالم کا ظلم میری پکڑ سے بچ نہیں سکے گا۔ میں سینگ والے جانور سے  بے سینگ والے جانور کا بدلہ لوںگا اس دن جانوروں کا یہ حال ہوگا تو بہر حال ہم تو انسان ہیں ہمارا کیا حال ہوگا ؟….۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*