اسلام میں میاں بیوی کے حقوق

 

احتشام الحق سلفی

shaz_bazmi@yahoo.co.in

والدین کے بعدانسان کا جو سب سے قریبی تعلق قائم ہوتا ہے وہ زوجین کا تعلق ہے۔ ایک مرد کاایک عورت سے اور ایک عورت کا ایک مرد سے ازدواجی رشتے کی بنیاد پر محبت والفت کا اٹوٹ رشتہ قائم ہوتا ہے۔ قرآن نے اس رشتہ کو قدرتی نشانیوں میں شمار کیا ہے:﴾ ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودة ورحمة ان فی ذلک لآیات لقوم یتفکرون﴿ (ترجمہ):”اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے۔ تاکہ تم ان کے ذریعے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غورو فکر کرتے ہیں۔“

اسلام میں اس رشتے کی بنیاد انتہائی پائیدار ہے۔ اس کے لیے مرد وعورت دونوںپر ذمہ داریاں اور ایک دوسرے پر دونوں کے جائز حقوق متعین کئے گئے ہیں جن سے خاندان کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور معاشرہ میں امن وسکون کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

بیوی کے حقوق:  اسلام نے بیوی کو درج ذیل حقوق عطا کیے ہیں:

(0)    حسن معاشرت: اس میں ہر وہ برتاو شامل ہے جو ایک عورت کے لیے ذہنی سکون کا باعث ہے۔ اسلام شوہر کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کا برتاو کرے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:﴾وعاشروھن بالمعروف فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا﴿ (ترجمہ) ”ان کے ساتھ معروف کے مطابق زندگی گزارو۔ اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ نے اس میں بڑی بھلائی رکھی ہو۔ “

حسن معاشرت کے لیے ضروری ہے کہ بیوی کے احترام انسانیت کو ملحوظ رکھا جائے، ان کے لیے لباس ، رہائش ، کھانے پینے ،علاج ومعالجہ میں ، دوستوں اور رشتہ داروں سے تعلقات قائم رکھنے میں وہی پسند کیا جائے جو شوہر اپنے لیے پسند کرے۔ حسن معاشرت کا مفہوم بڑ اوسیع ہے۔مولانا جلال الدین عمری اپنی کتاب اسلام کا عائلی نظام میں لکھتے ہیں: ”….بیوی کے ساتھ اس کی معاشرت ’معروف ‘ کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کیے جائیں اور اس کی جائز اور معقول ضروریات پوری کی جائیں۔ اس کے ساتھ ناروا سلوک نہ کیا جائے، بلکہ پیار اور محبت کا برتاو کیا جائے۔ ترش روئی اور سخت کلامی سے اجتناب کیا جائے۔ یہ سب باتیں معروف میں آتی ہیں۔ اس کے خلاف جو رویہ اختیار کیا جائے گا وہ غیر معروف اور منکر ہوگا۔“

حسن معاشرت میں یہ بھی داخل ہے کہ بیوی اپنے والدین کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے، ان سے ملنا جلنا باقی رکھے ، اس کے لیے شوہر کی جانب سے اسے حق ہے کہ وہ ان فرائض کو بجا لائے،نیز اپنی ملکیت سے بااختیار طور پراور شوہر کی ملکیت سے اجازت لے کر والدین کی مالی امداد بھی کر سکتی ہے اور اگر والدین محتاج ہوں تو اس کی ہمدردی کے سب سے زیادہ حقدار خود اس کے والدین ہی ہیں۔

(۲) تر بیت: اسلام ہر مرد پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ جس طرح وہ اپنی بیوی کے مصالح دنیوی کا خیال رکھے اسی طرح اس کے اخروی مصالح کا بھی پورا پورا انتظام کرے۔ اگر اس کی تربیت میں کسی طرح کی کمی رہ گئی ہے تو مرد اس کی تربیت کرے تاکہ وہ دنیا میں ایک اچھی زندگی گزار سکے۔

(۳) عدل ومساوات:اسلام نے ایک مرد کو چار شادی تک کرنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کے درمیان عدل ومساوات سے کام لے۔ ہر ایک کے حقوق برابر ادا کرے۔ اخراجات اور دیگر ضروریات کی ادائیگی اور تعلق میں کسی قسم کے امتیازی سلوک سے کام نہ لے۔ اگر شوہر ان کے درمیان عدل سے کام نہیں لیتا ہے تو بیوی کو حق ہے کہ وہ اس حق کی پامالی کے خلاف دعوی دائر کرے۔

(۴) مالی حقوق: اسلام عورت کو بیوی کی حیثیت سے کئی ذرائع سے مالی حق عطا کرتا ہے۔ اس کا سب سے پہلا مالی حق مہر ہے ۔ جو شادی کے بعد اسے سب سے پہلے حاصل ہوتا ہے۔ مہر کی مقدار متعین نہیں ہے۔ یہ عورت اور اس کے ولی کا اختیار ہے کہ وہ شادی کے لیے جتنے پر رضامند ہوجائےں۔ البتہ یہ ملکیت ولی کو حاصل نہیں ہوگی۔ نہ شوہر کو یہ حق ہے کہ اس کی اس ملکیت یا کسی اور ملکیت میں دست درازی کرکے اسے بے اختیار کردے ۔

اسلام نے عورت کو معاشی تگ ودو سے آزاد رکھا ہے۔ یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ اس کا نان و نفقہ، رہائش اور دیگر لازمی ضروریات کو پوری کرے۔ بلکہ مرد کو عورت پر جو ایک درجہ فضیلت ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ مرد اس جوکھم کو بر داشت کرتا ہے۔

شوہر کی زندگی میں اسے جہاں مہر نفقہ اور رہائش کی شکل میں مالی حق حاصل ہے اسی طرح اسلام شوہر کی وفات کے بعد بھی اس کی زندگی کو غیر محفوظ صورت حال میں نہیں رکھتا ہے بلکہ شوہر کی چھوڑی ہوئی جائیداد سے اسے ترکہ کی شکل میں مالی حق عطا کرتا ہے اس کے علاوہ اولاد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ والدین کے نفقہ کو واجبی طور پر پورا کرےں۔

(۵)خلع:    اسلام پر اکثر یہ اعتراض عائد ہوتا ہے کہ اسلام مردوں کو تو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ جب تک چاہیں عورت کو اپنی زوجیت میں رکھیں اور جب چاہیں اسے طلاق دے دیں۔ حالانکہ یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ مرد جب چاہے طلاق دیدے ۔ لیکن جس طرح اسلام مرد کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ عورت سے نباہ نہ ہونے کی صورت میں اسے طلاق دیدے ، اسی طرح عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اگر نباہ کی صورت نہیں ہے اور مرد اسے چھوڑنے کے لیے راضی بھی نہیں ہے تو عدالت میں دعوی کرکے قاضی کے ذریعہ نکاح کو فسخ کرالے۔

شوہر کے حقوق:

(۱)اطاعت: اسلام نے عورت کو شوہر کا مطیع وفرمانبر دار بننے کا حکم دیا ہے اور اس کی نافرمانی سے روکا ہے۔ نافرمان عورت کے لیے سخت وعید سنائی ہے۔ البتہ اگر شوہرکا حکم شریعت کے احکام سے متصاد م ہو تو شریعت کا حکم شوہر کے حکم سے برترسمجھاجائے گا۔ شوہر کا حکم ٹھکرادیا جائے گا اور شریعت کی پیروی کی جائے گی۔ شوہر کا حق ہے کہ بیوی اس کی اطاعت وفرمانبرداری کرے۔

(۲) قلبی طمانیت اور ذہنی سکون:   بیوی کو اللہ نے سکون کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس لیے عورت کا یہ فرض ہے کہ وہ مرد کے لیے ایسا ماحول فراہم کرے جس میں اس کو ذہنی سکون اور قلبی طمانیت حاصل ہو۔ شوہر کو ذہنی سکون تب حاصل ہوگا جب بیوی اس کی پسندیدگی وناپسندیدگی کا لحاظ رکھے۔ اس کے غائبانہ میں گھر میں ایسے شخص کو نہ آنے دے جسے وہ ناپسند کرتاہے ۔ گھر کو اس طرح سے منظم رکھے جیسی اس کی خواہش ہے اور جہاں تک شریعت کی طرف سے حکم امتناعی نہیں ہے لباس وپوشاک اور جسم وچال ڈھال میں زیبائش اختیار کرے تاکہ اس کا شوہر اس کو دیکھے تو خوش ہوجائے۔ اس کے گھر اور املاک کی حفاظت کرے، اس میں کسی طرح کی خیانت سے کام نہ لے ۔ البتہ گھر کے نفقہ میں شوہر بخل سے کام لیتا ہو یا گھر کی لازمی اور بنیادی ضرورتیں پوری نہ ہوتی ہوں تو اسی قدر استعمال کرے جتنی ضرورت ہو۔ نیز شوہر کی قلبی طمانیت اور ذہنی سکون کے لیے اس کے والدین کی نگہداشت اور ان کی ضرورت کی تکمیل میں بیوی کوشوہر کا ہر ممکن تعاون کرناچاہیے۔

(۳) بچوں کی پرورش وپرداخت: معاش کی ذمہ اسلام نے مردوں پر رکھی ہے۔ عورت کو گھر کی ملکہ اور ذمہ دار بنایا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کی پرورش وپرداخت میں شوہر کا تعاون کرے۔ ایام شیر خوارگی میں اس کو دودھ پلائے۔ اس کی دیکھ ریکھ کرے۔ بڑے ہوں تو اس کی اچھی تربیت کرے۔ اس کو کھلائے پلائے، صاف صفائی کا خیال رکھے اور پڑھنے لکھنے میں اس کی توجہ مبذول کرائے۔

(۴) طلاق: اسلام ازدواجی رشتہ کو گھٹن کی حالت میں باقی نہیں رکھنا چاہتا ہے جس سے انسانی جان خطرے میں پڑ جائے۔ ایسی صورت کے پیدا ہونے اور بناو کی کوئی صورت نہ رہنے پر اسلام یہ اجازت دیتا ہے کہ رشتہ ختم کرکے سکون واطمینان کی زندگی اختیار کرلی جائے اور نئے سرے سے دونوں افراد اپنی زندگی بسالیں۔ اس کے لیے اسلام نے شوہر کوطلاق کا حق عطا کیا ہے۔ لیکن اسے حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ شے شمار کیا ہے۔ اس کا استعمال اس صورت میںہے جب بناو کی صورت باقی نہ رہے۔ پھر اس کا جو طریقہ بتایا ہے اس میں اس کی گنجائش پیدا کی ہے کہ انسان اگر اس اقدام پر مجبور ہو تو اقدام کرنے کے بعد اور قطعی فیصلہ سے قبل دونوں کو اس ازدواجی زندگی کی قدر کا احساس ہوسکے۔

(۵) ترکہ میں حصہ:جس طرح ایک عورت کو شوہر کی وفات کے بعد شوہر کی جائید اد سے مالی حق حاصل ہوتا ہے اسی طرح ایک مرد کو اس کی بیوی کی جائیداد سے اس کی وفات کے بعد مالی حق ملتا ہے۔

زوجین کے باہمی حقوق:

وظیفہ زوجیت:ازدواجی تعلق انسان کی ایک لازمی خواہش جنسی خواہش کی تسکین کا ذریعہ ہے۔ شادی کے بعد ایک عورت کا حق ہے کہ اس کی جنسی خواہش کی تکمیل کی جائے۔ مرد اگراس حق کو ادا کرنے کا اہل نہیں ہے تو اسلام عورت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اس سے اپنا رشتہ ختم کرلے ۔ کیونکہ اسلام میں عصمت کی پامالی دین کی پامالی ہے۔ اسلام آزادانہ جنسی تسکین کا قائل نہیں ہے۔ کسی مرد کی زوجیت میں رہتے ہوئے کوئی عورت آزادانہ جنسی تعلق نہیں قائم کرسکتی ہے بھلے ہی وہ اس کی تکمیل سے عاجز ہو یا اس کی ادائیگی نہ کرتا ہو۔ اسلام نے اس سلسلے میں سخت تاکید کی ہے۔نبی ا نے فرمایا : ان لربک علیک حقا، ولزوجک علیک حقا ولاھلک علیک حقا فاعط کل ذی حق حقہ ”بے شک تیرے رب کا تجھ پر حق ہے، تیرے زوج کا تجھ پر حق ہے اور تیرے اہل کا تجھ پر حق ہے پس ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو۔“

 جس طرح بیوی کا یہ حق ہے کہ شوہر کی جنسی خواہش کی تسکین کرے، اسی طرح شوہر کا بھی یہ حق ہے کہ بیوی اس کی جنسی خواہش کی تسکین کے لیے تیار رہے۔شوہر کی اس خواہش کو ٹھکرادینا یا اس سے انکار کرنا اسلام میں ممنوع ہے کیونکہ ایسی صورت میں ایک انسان فتنہ میں مبتلا ہوسکتا ہے اور اس کی عصمت پامال ہوسکتی ہے اور اسلام کے نزدیک عصمت کی اہمیت انسانی جان کے برابر ہے۔ شادی شدہ شخص کے ذریعہ اس کی پامالی کی سزا سنگساری یعنی موت ہے۔

بچے کی پیدائش :جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ شادی جنسی تسکین اور افزائش نسل کا جائز ذریعہ ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے جنسی خواہش ودیعت ہی اس لیے کی ہے کہ دنیا میں انسانی نسل کی بقا اور ارتقا کا عمل جاری رہے۔ اس کا ذریعہ شادی کو بنا یا گیا ہے۔ پھر یہ کہ انسان کے اندر اولاد کی فطری خواہش پائی جاتی ہے۔ اس لیے بچے کی پیدائش بیوی اور شوہر ددنوں کا حق ہے۔ دونوں میں سے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اس خواہش کا انکار کرے۔ خواہ اولاد کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ اولاد اللہ کی نعمتوں میں ایک ایسی نعمت ہے جو انسان کی نسل کو اس کے بعد باقی رکھتی ہے۔ اس طرح بچے کی پیدائش کی خواہش بھی زوجین کا باہمی حق ہے۔ جدیدتعلیم ، سرکاری اشتہارات اور بنیادی وجوہات کو غلط رنگ دے کر بڑھتی ہوئی عالمی آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل کی رپورٹوں کی وجہ سے مسلم گھرانوںمیں بھی ایسے خیالات جڑپکڑچکےہیں کہ چھوٹا گھرانا سکھی اور خوشحال ہوتا ہے۔ ظاہر ی طور پر چھوٹے گھرانوں میں مسائل کم پیدا ہوتے نظر آتے ہیں اس سے وقتی طور پر ایسے خیالات میں قدرے صداقت بھی نظر آنے لگتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی زندگی اور اس کے مسائل سے فرار کی ایک راہ ہے۔

لیکن بچوں کی پیدائش کے لیے کسی غیر فطری طریقہ کو اختیار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً اگر نا اہل ہو تو کسی دوسرے کا مادہ منویہ مستعار لے کر بیوی کی رحم میں طبی طریقے سے ڈال کر بچے کی افزائش کرنا۔ اسی طرح عورت بانجھ ہو تو مرد اپنے مادہ منویہ کو کسی دوسری عورت کے رحم میں ڈال کر بچے کی افزائش کرے۔ اسلام حرمت نسب کا خاص خیال رکھتا ہے۔ اور ایسے دروازوں کو بند رکھنا چاہتا ہے جو فساد کا باعث ہےں۔ اس طرح سے بچوں کی پیدائش سے جہاں نسب کا اختلاط ہوتا ہے وہیں ترکہ کی تقسیم میں فساد کا باعث ہے۔

 

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*