روز ِقیامت کی ہولنا کیاں

  اسلام الدین عبد الحکیم ریا ضی( کویت )

islamuddinmakki@gmail.com

 عن المقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : تدنی الشمس یوم القیامۃ من الخلق حتی تکون منھم کمقدار میل ۔(قال سلیم بن عامر:فواللہ ما ادری ما یعنی بالمیل،امسافة الارض اوالمیل الذی تکحل بہ العین۔قال 🙂 فیکون الناس علی قدر اعمالھم فی العرق فمنھم من یکون الی کعبیہ ومنہم من یکون الی رکبتیہ ومنہم من یکون الی حقو یہ ومنہم من یلجمہ العرق الجاما قال واشار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدہ الی فیہ (رواہ مسلم:2864 )

ترجمہ: سیدنامقدادبن اسودرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا،آپ فرمارہے تھے:”قیامت کے دن سورج کو مخلوق سے قریب کردیا جائے گاحتی کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلے پررہ جائے گا (سلیم بن عامر کہتے ہیں ! میں نہیں جانتا کہ میل سے مراد زمین کی مسافت ہے یااس سے مرادوہ میل (سلائی)ہے جس کے ذریعہ آنکھ میں سرمہ لگایا جاتاہے ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا! ) لوگوں میں سے ہر ایک اپنے اپنے عمل کے مطابق پسینے میں ڈوبا ہو ا ہو گا ۔ان میں سے کسی کا پسینہ اس کے ٹخنوں تک ہو گا، کسی کا پسینہ اس کے گھٹنوں تک ہوگا ، کسی کا پسینہ اسکی کوکھ تک ہو گا، او ر ( آپ انے اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر کے فر مایاکہ)کسی کا پسینہ اسکولگا م دے رہا ہو گا ۔یعنی اس کے منہ تک ہوگا“۔

تشر یح: ذرا سوچئے جب قیامت قائم ہو گی اس دن ہماری کیا حالت ہو گی ۔ وہ دن یقینا ہولناک دن ہو گا جب ایک ماں اپنے دودھ پیتے بچے کو بھلا دے گی۔جب خوف ودہشت سے ایک حاملہ عورت کا حمل ضائع ہوجا ئے گا۔ جب لوگ بے ہو شی کے عالم میں ہوں گے اور ان پر شدید خوف طاری ہو گا۔جس دن دوست اپنے دوست کا حال تک نہ پوچھ سکے گا ۔ رشتہ دار اپنے رشتہ دارکو دیکھ کراس سے دور بھاگے گا۔ہر شخص کو صرف اپنی فکر دامن گیر ہوگی ، حتی کہ دنیامیں جو شخصیات اس سے پیار کیاکرتی تھیں ، جس نے نوماہ تک اس کوپیٹ میں رکھا، ولادت کے وقت کتنی تکا لیف کا سامنا کیا اگر اس کو کوئی پریشانی آتی تو اسے اپنے آگوش میں دبالیتی تھیں آج وہ بھی اس سے منہ موڑ لیں گی۔ اس شدید خوف ودہشت سے نجات دینے والی چیز اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت وفرمانبر داری ہے اور اس کی نافرمانی سے بچنا ہے۔اس کے علاوہ او رکوئی چیزاس سے نجات نہیں دلاسکے گی ۔

 اس دن مجرم یہ چاہے گا کہ جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولادکو،بیوی کو، بہن بھائیوں کو اور اپنے پورے قبیلے کو حتی کے روئے زمین کے تمام انسانوں کو بطور فد یہ پیش کردے،لیکن ایسا ہر گز نہیں ہو سکے گا۔اس دن کی آگ ایسی شدید ہو گی کہ گوشت کو ہڈیوں سے جدا کر ڈالے گی۔

کل قیامت کے دن خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عزیزوںحتی کہ اپنی پھو پھی اور اپنی لخت جگر کے کام نہ آئیں گے توپھر دوسرے کس کھیت کی مولی ہوتے ہیں، اس سے یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ اس دن انسان کا نجات دہندہ محض اس کا عمل صالح ہو گا؟ لہذاہمیں عمل صالح کر کے فلاح دارین حاصل کرنے کی ممکنہ جدوجہد کرنی چاہیے، اپنے رب کی جنت کا مستحق بننے کی کوشش میںلگے رہناچاہیے۔اور اسکے قہرو غضب سے ڈرتے ہوئے اس کی رحمتوں کا امید وار ہونا چاہیے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*